کھنگن کُھرکن وی پئے تو - خالد ایم خان

سندھ کے ایک گاؤں میں ایک دیہاتی نے ایک مرد قلندر کی باتوں کا بڑا اثر لیا کہ "روزی اللہ دیے تو"۔ اُس دیہاتی کے دماغ میں یہ بات نقش ہو گئی اور وہ جنگل میں جا کر ایک درخت کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ پورا دن گزر گیا، بھوک وپیاس کی شدت سے نڈھال ہو گیا لیکن کہیں سے کچھ نہ ملا۔ ساری رات اسی طرح گزر گئی۔ دوسرے دن علی الصُبح ایک قافلے کا وہاں سے گزر ہوا اور اتفاقاً اُس قافلے نے اُسی درخت کہ نیچے اپنا پڑاؤ ڈال لیا اور کپڑا بچھا کر کھانے پینے کا سامان نکال لیا۔ مسافر لوگ تھے، بھوک بھی شدت کی لگی تھی، ٹوٹ پڑے کھانے پر۔ دیہاتی بے چارہ نڈھال حالت میں اوپر سے دیکھ رہا تھا، جیسے ہی اُس نے محسوس کیا کہ یہ لوگ تو سب کچھ چٹ کرجائیں گے، زورزور سے کھانسنے لگ گیا۔ دیہاتی کے اس طرح زور سے کھانسنے پر سب نے گھبرا کر اوپر دیکھا تو اُنہیں ایک آدمی درخت کے اوپر ایک موٹی شاخ پر لیٹا نظر آیا۔ کہا اوپر کیا کر رہے ہو بھائی؟ نیچے آؤ۔ لیکن دیہاتی جو پوری طرح نڈھال ہو چکا تھا، نے کہا بھئی مجھ میں ہلنے کی بھی طاقت نہیں ہے، اس لیے مہربانی کرکے مجھے نیچے اُتارو۔ مسافروں نے اُس دیہاتی کو کسی نہ کسی طرح نیچے اتارا اور بچا کچھا کھانا پانی دیا، جس کو کھانے کے بعد دیہاتی کے جان میں کچھ جان آئی تو بے اختیار پکار اُٹھا"بے شک اللہ رزق دیے تو، پر کھنگن کُھرکن وی پئے تو( یعنی بے شک اللہ رزق دیتا ہے، لیکن کھانسنا وانسنا بھی پڑتا ہے)۔

اس "کھانسنے" کی بحیثیت قوم آج سب سے زیادہ ضرورت ہمیں ہے، کیوں کہ ہم لوگ بطور قوم کے خود کو ایک دیوار کے ساتھ لگاتے نظر آرہے ہیں، ہمارا ماضی کوئی شاندار نہیں تو قدرے بہتر ضرور تھا۔ ایک وقت تھا کہ ہم لوگ دنیا کوقرض دیا کرتے تھے جس کی مثال آج کا ترقی یافتہ جرمنی ہے۔ ایوب خان نے اپنے دور میں قریباً بیس لاکھ ڈالر بطور امداد کے دیے تھے۔ اس کے علاوہ چین کے کمیونسٹ رہنما ماؤ زے تنگ کے دور میں پاکستانی حکمرانوں اور اداروں نے، خاص کر پی آئی اے نے، چین کے اداروں کو مالی معاونت کے علاوہ ادارتی استحکام کی خاطر بے پناہ خدمات انجام دیں تھیں۔ ملائیشیا، انڈونیشیا کے ساتھ ساتھ عرب خطے میں نئی بننے والی حکومتوں کے معاشی استحکام کی خاطر پاکستان نے اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کیا تھا۔ کون نہیں جانتا ڈاکٹر محبوب الحق کو؟ جو دنیا کے نامور ترین معیشت دانوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ڈاکٹرمحبوب الحق کی کامیاب معاشی پالیسیوں کو گونج پوری دنیامیں سنائی دیتی تھیں۔ جنوبی کوریا کے اکابرین ڈاکٹر صاحب کی خدمات حاصل کرپانے کی جستجو میں ہاتھ جوڑے کھڑے نظر آتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   مثبت سوچ کا ہماری زندگی پر اثر - اقصیٰ عتیق

یہ تھا ہمارا ماضی اور حال کی کیا بات کریں جو اب تقریباً بے حال ہو چلا ہے۔ جیسے ہی ہم لوگوں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر چھلانگیں مارنے کی کوشش کی، اپنا آپ بھی گنوا دیا۔ بحیثیت قوم ہماری آج یہ حالت ہے کہ ہم آج گردن تک قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہیں، ہم نے اپنے قدرے بہترین ماضی کو فراموش کردیا اور دنیا کی ہوس میں بہتے چلے گئے۔ ہم نے آمدنی سے زائد اخراجات کو اپنا معمول بنا لیا اور اُن اخراجات کو پورا کرنے کے لیے قومی صلاحیتوں پر انحصار کو چھوڑ۔ اللہ کی غیبی مدد کو چھوڑ دنیا کے سب سے بڑے سود خوروں کا در کھٹکھٹاتے نظر آتے ہیں، جہاں سے ہمیں سود کے اوپر مزید سود در سود رقم فراہم کی جاتی ہے، جو اب آہستہ آہستہ ہمارے گلے کی ہڈی بنتی چلی جارہی ہے۔ آئی ایم ایف سے اس طرح بھاری شرح سود پر قرضے لے لے کر ہم نے اپنے لیے تباہی کا در کھول رکھا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان عنقریب ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے دوچار ہوچکاہے۔

دنیا کی ایک بڑی اور دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت کو قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئي ہے۔ ڈالر کا ریٹ جانتے بوجھتے بڑھایا جارہا ہے، جس سے شرح سود میں بے پناہ اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ ملک کے دشمن نااہل حکمرانوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی معیشت کو تباہ کردینے پر تُلے ہیں اور عوام میں افراتفری اور بے چینی پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے جب اشیاء خوردونوش، تیل وگیس، بجلی وغیرہ کی قیمتیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو جائیں گی تو کیا ہوگا؟ پھر طبل جنگ بجے گا، دنگے ہوں گے، ہنگامے ہوں گے، لوگ سڑکوں پر ہوں گے، معاملات حکومت کے ہاتھوں سے باہر نکلتے دکھائی دیں گے۔ دنیا کے چند بڑے اقوام متحدہ کو استعمال کرکے اس افرا تفری اور انارکی کی صورتحال کا فائدہ اُٹھا کر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرنے کا پلان بنائے بیٹھے ہیں۔ عوام کو عدلیہ اور آرمی جیسے ادارے کے خلاف بھڑکانے جیسے معاملات بھی اسی پلان کا ایک حصہ ہیں۔ مختصریہ کہ ہم اس وقت چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرے ہیں، خونخوار خونی گدھ ہم لوگوں کے تعاقب میں ہیں، بس ذرا مدہوش ہونے کی دیر ہے، ہمارے جسموں کو نوچ کھائیں گے۔

اس تمام صورتحال سے باہر نکلنے کا اب ایک ہی راستہ باقی بچا ہے اور وہ ہے اسٹالن اور ماؤ زے تنگ والا احتساب! ہمیں بحیثیت قوم انتہائی قوت برداشت کا مظاہرہ کرنا ہوگا، ملک کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردینا ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان بھر سے اہل اور ایماندار اشخاص کو ڈھونڈ کر ان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے ۔ پھر ایک ایماندار شخص کو ملک کا حکمران بنایا جائے جو اس کمیٹی کے انڈر کام کرے۔ وہ کمیٹی سے مشاورت کے بعد ایک ایسی قانون سازی کرے جس کے تحت اس ملک کا ہر آدمی فقط اُتنا ہی اپنے پاس رکھے جتنی اُس کی ضرورت ہو۔ اُس کے علاوہ اپنا تمام مال ودولت حکومت کے حوالے کردے اوراگر نہیں تو پھراُس سے زبردستی سب کچھ چھین لیا جائے۔ بینک اکاؤنٹس فریز کردیے جائیں اور اگر کسی نے اپنا مال ودولت چھپا کر دنیا کے دیگر ممالک کے بینکوں میں رکھے ہیں یا کہیں آف شور جعلی کمپنیاں بنا رکھی ہیں تو اُس شخص کے پورے گھرانے کو گرفتار کرلیا جائے تاوقتیکہ ا ُس سے اس ملک اور قوم کی ایک ایک پائی نہ برآمد کرلی جائے۔ سب نے مل کر اسی ملک کا کھایا ہے کچھ نے ٹیکسوں میں گھپلے کیے تو کچھ نے ناجائز ذخیرہ اندوزی کے ذریعے اس ملک کی عوام کو بیوقوف بنایا ۔ کچھ نے زمینیں مٹی کے دام خرید کر تو کہیں حکومتی غنڈوں کے ذریعے غریب عوام سے زبردستی دھونس کے ذریعے خرید کر اپنے محلات بنائے اور بینک اکاؤنٹس کو وسعت دی۔ مل اونرز، فیکٹریوں کے مالکان،لینڈ گریبرز،سیاستدان سب کو عام عوام کے مقابل ایک صف میں لا کھڑا کریں۔ روپے کی قدر وقیمت تو آپ لوگوں نے ویسے ہی ختم کردی اب وقت آگیا ہے کہ اس نوٹ ہی کو ختم کردیں، سوچ لیں نوٹ تو دوبارہ بنایا جاسکتا ہے لیکن شاید ملک دوبارہ نہ بنایا جاسکے۔ ہم سب کو اب حقیقت میں سب سے پہلے پاکستان کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ پھر اگر روپے کو ختم نہیں کیا جاسکتا تو پھر ایسی اصلاحات بھی ممکن ہیں کہ جن سے روپے کی عالم منڈی میں قیمت کو مستحکم کیا جا سکے، عالمی بینک کی سود کی شرح کو گرایا جاسکے، عالمی بینک کی سود کی قسط ہمارے سروں کے اوپر منڈلا رہی ہے، اب سوچنے کا وقت بھی باقی نہیں بچا، اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ "کھنگن کُھرکن دی ضرورت ہے،" یقین جانیں ہماری کچھ سالوں کی قربانیوں کا صلہ اللہ ہمیں دنیا کی حکمرانی کی صورت عطا کرے گا۔ ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں، کمی ہے تو حوصلے کی۔ ہم اجناس میں خود کفیل ہو سکتے ہیں، ہم اسلحہ سازی میں خود کفیل ہو سکتے ہیں، ہم الیکٹرانک کی انڈسٹری میں ہنگامہ برپا کرسکتے ہیں، بہت اعلیٰ اور اچھے دماغ ہیں ہمارے پاس، بس یقین کی، ایمان کی طاقت کی ضرورت ہے۔