اسلام، داعش اور پرویز ہود بھوئے کا جھوٹ - شاہنواز فاروقی

پرویز ہود بھوئے پاکستان کے ان سیکولر دانش وروں میں ہیں جو اسلام، اسلامی تصورات اور اسلامی تہذیب کے مظاہر پر مسلسل حملے کرتے رہتے ہیں۔ وہ یہ ’’مقدس کام‘‘ ڈیلی ڈان میں پندرہ بیس سال سے کررہے ہیں۔

ہم ہود بھوئے سے دس بارہ سال قبل اس وقت متعارف ہوئے جب انہوں نے ڈان میں شائع ہونے والے اپنے ایک کالم میں اسلام کے ایک تصوّر کا دل کھول کر مذاق اُڑایا۔ انہوں نے لکھا کہ قومی ایئر لائن پی آئی اے کی جہالت کا یہ عالم ہے کہ وہ ہر پرواز سے پہلے اپنے مسافروں کو دعائے سفر سناتی ہے۔ انہوں نے پی آئی اے کے ذمے داران کو شرمندہ کرنے کے لیے کہا کہ بھارتی طیارہ دعائے سفر سے نہیں اپنے انجن سے اڑتا ہے۔ انہوں نے پی آئی اے کو یاد دلایا کہ بھارت کی حفاظت کا انحصار بھی مشین پر ہوتا ہے، دعائے سفر پر نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہود بھوئے اسلام کے اسلامی تصورات پر حملوں سے اکتائے نہیں ہیں اور وہ آج بھی پوری توانائی کے ساتھ اسلام کے خلاف ’’سیکولر علمی جہاد‘‘ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی گزشتہ ماہ شائع ہونے والا اُن کا کالم ہے۔ اس کالم میں انہوں نے اسلام، اسلامی تصورات اور خود مسلمانوں پر ایک نہیں کئی حملے کیے ہیں۔ مسلمانوں پر ان کا ایک حملہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے کالم میں داعش کا ذکر اس طرح کیا ہے جیسے اس کا کوئی پس منظر ہی نہیں اور داعش جو کچھ کررہی ہے اس کا اسلامی تاریخ اور مسلم معاشروں سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے۔ حالاں کہ اب یہ بات طے ہو چکی ہے کہ داعش امریکا کی تخلیق ہے۔

اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ حامد کرزئی افغانستان میں امریکا کے تخلیق کیے ہوئے حکمران تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں صاف کہا ہے کہ افغانستان میں داعش کو امریکا لایا ہے۔ ایران عراق پر حملے کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے تک امریکا کا اتحادی رہا ہے اور ایران کا اصرار ہے کہ عراق اور شام میں داعش امریکا کی تخلیق ہے۔ اس کا زیادہ بڑا اور زیادہ ٹھوس ثبوت یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر امریکا کے ممتاز سینیٹر جون مکین کی ایک تصویر موجود ہے۔ اس تصور میں جان مکین داعش کے ایک اہم رہنما کے ساتھ موجود ہیں۔ داعش کا یہ رہنما اصل میں ایک یہودی ہے اور اس کا نام سائمن ایلیٹ (Simon Elliot) ہے۔

پرویز ہود بھوئے یا ان جیسے دوسرے سیکولر دانش ور ان حقائق سے آگاہ ہیں مگر وہ داعش کے پس منظر کے حوالے سے ایک لفظ بھی لکھنے کے روا دار نہیں۔ پرویز ہود بھوئے نے اپنے زیر بحث کالم میں بھی یہی کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا کرنے سے داعش کے حصے کی بدنامی اسلام اور مسلمانوں کے کھاتے میں ڈالنا آسان ہو جاتا ہے لیکن یہ تو پرویز ہود بھوئے کے کالم کا محض ایک پہلو ہے۔

اگرچہ ہود بھوئے نے داعش کو ’’تکفیری‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اسلام کے مرکزی دھارے کی ترجمان نہیں ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے داعش اور اسلام کے بعض اہم تصورات کو باہم مربوط کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس طرح اسلام کے اہم تصورات داعش سے منسلک ہو کر ’’بھیانک‘‘ نظر آنے لگتے ہیں۔ مثلاً ہود بھوئے نے لکھا ہے۔

’’آئی ایس (داعش) کہتی ہے کہ مسلمان ایک اسلامی ریاست ہی میں اپنے عقائد کو صحیح طرح بسر کرسکتے ہیں۔ یہی بات مقبوضہ کشمیر کے رہنما سید علی گیلانی نے بھی کہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک مسلمان کے لیے ایک غیر مسلم معاشرے میں رہنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا پانی کے بغیر مچھلی کا رہنا‘‘۔

ان سطور میں ہود بھوئے نے اسلام، سید علی گیلانی اور داعش کو باہم منسلک کرکے تینوں کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ حالاں کہ سید علی گیلانی نے جو بات کہی ہے یا پرویز ہود بھوئے نے داعش سے جو بیان منسوب کیا ہے وہ نہ داعش کی ملکیت ہے، نہ سید علی گیلانی کی۔ یہ بات صرف اسلام کی ملکیت ہے۔ حضور اکرمؐ نے ایک حدیث شریف میں فرمایا ہے کہ دارالسلام میں جو کچھ ہے محفوظ ہے اور دارالشرک میں جو کچھ ہے وہ غیر محفوظ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مولائے روم رحمہ اللہ(آخری قسط) - محمد برھان الحق جلالی

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی دو بنیادی اصطلاحیں ہیں، ایک دارالسلام اور ایک دارالشرک، یا دارالحرب۔ دارالسلام میں مسلمان کا عقیدہ بھی محفوظ ہے، عبادات کا نظام بھی، یہاں تک کہ اس کی سماجیات، سیاسیات اور معاشیات بھی۔ اس کے برعکس دارالحرب میں مسلمان اپنے دین کے کئی اہم تقاضوں پر عمل نہیں کرسکتے۔ چناں چہ ایک مسلمان کے لیے دارالسلام ویسا ہی ہے جیسا ایک مچھلی کے لیے پانی۔ علی گیلانی نے بھی یہی بات کہی ہے۔

اب اگر اتفاق سے داعش کے کسی رہنما نے بھی یہی بات کہہ دی ہے تو اس میں اسلام یا علی گیلانی کا کیا قصور؟ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اسلام اور علی گیلانی کو داعش سے مربوط کرنے کا کیا جواز ہے؟

پرویز ہود بھوئے نے اپنے کالم میں اسلام کے تصور خلافت اور علامہ اقبال پر بھی حملہ کیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ داعش نہ صرف یہ کہ خلافت کی بات کررہی ہے بلکہ اس نے ابوبکر البغدادی کی صورت میں ایک عدد خلیفہ بھی ایجاد کر رکھا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس میں اسلام یا علامہ اقبال کا کیا قصور ہے؟ مگر ہود بھوئے چوں کہ اسلام، اس کے تصور خلافت اور اقبال کو بیک وقت بے وقعت کرنا چاہتے ہیں اس لیے انہوں نے ان تمام چیزوں کو داعش کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں۔

’’مزید حمایت پاکستان کے فلسفی شاعر علامہ اقبال کی جانب سے مہیا ہوئی جنہوں نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں کا حتمی ہدف خلافت کا قیام ہے۔ انہوں نے اپنے 1934ء کے خطبات میں کہا ہے۔ اسلام کی ایک موثر سیاسی وحدت تشکیل دینے کے لیے پہلے تمام مسلم ملکوں کو آزاد ہونا چاہیے، اور بعدازاں انہیں ایک کلیت کی حیثیت سے خود کو ایک خلیفہ کے تحت دے دینا چاہیے۔ کیا اس لمحہ موجود میں ایسا ممکن ہے؟ اگر آج نہیں تو ہمیں اس لمحے کا انتظار کرنا چاہیے‘‘۔

پرویز ہود بھوئے نے یہ کہہ کر سوال اٹھایا ہے کہ جب کہ خلافت کے تصور کو اقبال جیسی توانا آواز فراہم ہے تو کیا داعش کا تصور خلافت ’’مستند‘‘ ہے؟۔ آپ نے دیکھا ہود بھوئے نے کیسے اسلام، اس کے تصور خلافت اور اقبال کو کس طرح داعش کے دامن میں ڈال کر ایک ہی وار میں سب کا قصہ پاک کردیا؟

ظاہر ہے کہ خلافت کا تصور داعش کی ایجاد نہیں ہے۔ خلافت کا تصور قرآن و حدیث اور اسلامی تاریخ سے ثابت ہے۔ قرآن مجید میں ایک جگہ آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہے۔ دوسرے مقام پر آیا ہے کہ اللہ نے تم کو زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے۔

جہاں تک احادیث مبارکہ کا معاملہ ہے تو بعض احادیث میں مسلمانوں کے رہنما کے لیے امام کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے اور بعض میں خلیفہ کی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو خلیفۃ الرسول قرار دیا گیا۔ ابن خلدون نے اپنے مقدمے میں صاف لکھا ہے کہ خلافت عوام کو شرعی نقطہ نظر کے تقاضوں کے مطابق دنیوی و اخروی فلاح وبہبود کی طرف رہنمائی کا نام ہے۔ لیکن ہود بھوئے اور ان جیسے سیکولر دانش وروں کی کوشش ہے کہ خلافت کے تصور کو داعش سے وابستہ کرکے اسے گالی بنادیا جائے۔

یہاں ابن خلدون کا ذکر ہوا ہے تو یہ بھی سن لیجیے کہ پرویز ہود بھوئے صاحب نے اپنے کالم میں ایک کھلا جھوٹ بھی داغ دیا ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے

’’اسلام کے عظیم ترین ماہر عمرانیات اور سیاسی مفکر ابن خلدون (1332-1406) نے اسلامی ریاست کے تصور اور سیاست کے سلسلے میں مذہب کو بروئے کار لانے کی مخالفت کی ہے۔ البتہ الماوردی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا خیال اس کے برعکس ہے‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   مولائے روم رحمہ اللہ(آخری قسط) - محمد برھان الحق جلالی

پرویز ہود بھوئے کا یہ جھوٹ پڑھ کر ہم حیران رہ گئے۔ مگر پھر ہمیں خیال آیا کہ سیکولر اور لبرل دانش ور یہی تو کرتے ہیں۔ یعنی وہ لوگوں کی کم علمی یا لاعلمی کا فائدہ اٹھا کر، اسلام، اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ کے حوالے سے جو چاہے کہہ دیتے ہیں۔ اتفاق سے ابن خلدون کا مقدمہ ہمارے سامنے ہے۔ اس مقدمے میں ابن خلدون نے مذہب اور سیاست کے باہمی تعلق کے سلسلے میں جو کچھ لکھا ہے ملاحظہ کیجیے۔ ابن خلدون نے فرمایا ہے

’’شریعت لوگوں کو زندگی کے تمام گوشوں میں دین پر اُبھارتی ہے۔ خواہ اعتقادات کی زندگی ہو یا عبادات کی یا معاملات کی۔ حتیٰ کہ وہ سیاست کو بھی جو انسانی معاشرے کے لیے ایک طبعی چیز ہے، دینی سانچوں میں ڈھالتی ہے، لہٰذا دین صرف اعتقادات، عبادات اور معاملات ہی سے تعارض نہیں کرتا بلکہ وہ سیاست بھی سکھاتا ہے اور انبیا نے دین میں سیاسی قوانین بھی پیش نظر رکھے ہیں تا کہ شارع کی نگاہ میں دین و دنیا کی ساری چیزیں محفوظ رہیں اور اللہ کی تمام مخلوق اللہ کی تابعدار بن کر اپنی دونوں زندگیاں سنوار لے۔ لہٰذا جو حکومت جورو استبداد اور تشدد سے حاصل کی گئی ہو اور اس میں قوت عصبیہ کی رعایت مدنظر نہ رکھی گئی ہو اسے شریعت جورو تعدی کا نام دیتی ہے اور شارع (یعنی صاحب شریعت) کی نظر میں مذموم اور قابل نفریں ہے جیسا کہ سیاسی حکمت کا تقاضا ہے۔ کیوں کہ شریعت اسی لیے آئی ہے کہ لوگوں کو جور و تعدی سے روکے اور انہیں عدل و انصاف کی راہ پر چلائے اور بادشاہ جن کاموں کو دنیوی سیاست کے تقاضوں سے انجام دیتے ہیں وہ بھی شریعت کی نگاہ میں برے ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی روشنی میں وہ کام انجام نہیں دیے جاتے۔ پھر جس کے پاس اللہ کی روشنی نہ ہو اس کے پاس روشنی ہی نہیں‘‘۔ (مقدمہ ابن خلدون۔ صفحہ451-452)

ابن خلدون کے اس اقتباس سے نہ صرف یہ کہ پرویز ہود بھوئے کا سفید جھوٹ عیاں ہوگیا بلکہ معلوم ہوگیا کہ 20 ویں صدی میں دین اور سیاست کے بارے میں جو کچھ مولانا مودودی نے کہا وہی الماوردی نے 11 ویں صدی میں کہا اور وہی 15 ویں صدی میں ابن خلدون نے فرمایا تھا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ان عظیم شخصیتوں نے دین اور سیاست کے بارے میں جو تصور پیش کیا وہ قرآن و سنت سے ماخوذ اور نبی اکرمؐ کے عہد اور خلافت راشدہ کے زمانے سے مربوط ہے۔ اس طرح دین اور سیاست کے تعلق سے مسلمانوں کی پوری تاریخ ایک وحدت ہے۔

پرویز ہود بھوئے نے اپنے کالم میں یہ شوشا بھی چھوڑا کہ نبی اکرمؐ نے اپنے جانشین کا تقرر فرمایا یا نہیں؟ یا یہ کہ نبی کریمؐ کے بعد مسلمانوں کے رہنما کے تقرر کا کوئی طریقہ کار تھا یا نہیں؟ پرویز ہود بھوئے کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مسلمانوں کے دین کا ایک اصول اجماع ہے۔ اجماع سے یہ بات مسلمان تک پہنچی ہے کہ نبی اکرمؐ نے ایک روز سیدنا عمرؓ اور سیدنا علیؓ کی موجودگی میں فرمایا کہ ایک کاغذ لاؤ میں اپنے جانشین کا نام لکھواتا ہوں۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا کہ ہمارے پاس قرآن موجود ہے۔ ہم اس کی روشنی میں اس امر کا فیصلہ کرلیں گے۔ چناں چہ نبی اکرمؐ نے کسی جانشین کا تقرر نہیں فرمایا۔ البتہ نبی اکرمؐ کے وصال کے بعد سیدنا ابوبکرؓ کو بربنائے فضیلت مگر اجماع سے خلیفہ منتخب کیا گیا۔

سیدنا عمرؓ کو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے نامزد کیا۔ سیدنا عمرؓ نے اپنے انتقال سے پہلے خلیفہ کے انتخاب کے لیے پانچ صحابہ کے نام تجویز کیے اور صحابہ کو موقع فراہم کیا کہ وہ ان پانچ میں سے جسے چاہیں اپنا خلیفہ بنالیں۔ سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے بعد سیدنا علیؓ کی خلافت اجماع کا حاصل تھی۔ مطلب یہ کہ پرویز ہود بھوئے اور ان جیسے لوگوں کے لیے اس دائرے میں بھی فتنہ پھیلانے کا کوئی امکان موجود نہیں۔