انگزیر خاتون اور ملائیشیا میں فروغِ اسلام - ابو یحییٰ

لنکاوی میں قیام کے دوران میں ایک روز ہم’’Seven Wells ‘‘ گئے ۔ یہ پہاڑی ندی سی تھی جہاں پہاڑوں سے آنے والا پانی سات چھوٹے چھوٹے تالابوں کی شکل میں جمع ہوتا اور پھر ایک آبشار کی شکل میں بلندی سے نیچے گرتا ہے ۔ اسے دیکھنے کے لیے کافی بلندی پر سیڑھیاں چڑھ کر جانا پڑتا ہے ۔ یہ راستہ ایک جنگل سے گزرتا ہے اور اس وقت وہاں بالکل سناٹا تھا۔ ہم جیسے ہی وہاں پہنچے انتہائی تیز بارش شروع ہوگئی۔ مقامی انتظامیہ نے وہاں ایسے ہی حالات کے لیے چند جگہیں بنارکھی تھیں، جن پر چھت ڈلی ہوئی تھی۔ ہم نے جس جگہ پناہ لی وہاں ایک انگریز خاتون بھی موجود تھیں ۔ کچھ دیر میں ان سے گفتگو کا آغاز ہو گیا جو کافی دیر تک جاری رہا۔

ان کا تعلق لندن سے تھا اور یہ ملائیشیا میں بغرضِ ملازمت مقیم تھیں ۔ یہ ایک برطانونی یونیورسٹی سے وابستہ تھیں اور داخلے کے خواہشمند، اس خطے کے طلبا کا انٹرویو کرتی تھیں ۔ اسی مقصد کے لیے یہ پاکستان بھی آ چکی تھیں ۔ ایسی ملاقاتوں میں میرا مقصد ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ غیر محسوس طریقے پر اسلام کا تعارف لوگوں تک پہنچاؤں ۔ اس لیے کافی دیر مقامی، مغربی اور پاکستانی حالات پر گفتگو کرنے کے بعد میں انھیں مذہب کے موضوع پر لے آیا۔

وہ خاندانی اعتبار سے کیتھولک تھیں ۔ مگر مغرب کے عام پڑھے لکھے افراد کی طرح مذہب سے بالکل غیر متعلق۔ بس خدا کا نام سن رکھا تھا۔ اسلام کا تعارف بس دہشت گردی کے حوالے ہی سے تھا۔ زیادہ دلچسپی بدھ مت سے تھی جس کا ظاہری دھوم دھڑکا (جس کی کچھ جھلکیاں بینکاک میں دیکھیں اور اس سے قبل سری لنکا کے سفر میں میں دیکھ چکا تھا) انھیں بہت پسند تھا۔ انھیں مذہبی لوگوں کے اس تصور سے سخت وحشت تھی کہ تمام انسان جہنم میں جائیں گے سوائے اپنے لوگوں کے ۔ مجھے یہی دروازہ نظر آیا جس کے ذریعے سے اسلام کی تعلیمات کا تعارف ان تک کروایا جا سکتا تھا۔ میں نے اس حوالے سے ان کے سامنے قرآن کی آیت رکھ دی جس میں نجات کا پیمانہ کسی خاص گروہ سے وابستگی نہیں بلکہ توحید اور آخرت پر ایمان اور عمل صالح کو قرار دیا گیا تھا۔ پھر اسلام سے متعلق کچھ اور چیزیں بھی ان کے سامنے رکھ دیں ۔ اس طرح کی ابتدائی گفتگو میں صرف اسلام کا مختصر تعارف ہی کروایا جا سکتا ہے جو میں نے کروانے کی کوشش کی اور میری باتیں انہوں نے توجہ سے سنیں ۔

دو گھنٹے بعد بارش ختم ہوئی تو وہ رخصت ہوگئیں ۔ مگر اپنے پیچھے یہ سوال چھوڑ گئیں کہ آخر کب مسلمان اپنی دعوتی غفلت سے بیدار ہوکر توحید و آخرت پر مبنی لائی ہوئی خاتم النبیین کی دعوت انسانیت کے سامنے پیش کریں گے ؟ مجھے اندیشہ ہے کہ جب تک مسلمان یہ نہیں کریں گے اسی طرح غیر مسلموں سے پٹتے رہیں گے ۔ ملائیشیا وہ جگہ ہے جو اسلام کی دعوتی قوت کا زندہ ثبوت ہے اور جہاں مسلمان تاجروں نے بغیر جنگ و فتح کے اس علاقے کو مفتوح کیا تھا۔

Comments

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ معرول ناول ”جب زندگی شروع ہوگی“ کے مصنف ہیں۔ علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز جبکہ سوشل سائنسز میں ایم فل کیا۔ ٹیلی وژن پروگرام، اخباری مضامین، پبلک اجتماعات کے ذریعے دعوت و اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ ماہنامہ "انذار" کے مدیر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */