کتنا وقت ہے؟ - وقاص احمد

اسلم آج بھی آفس سے آیا تو بہت تھکا ہوا تھا۔ آفس کے کام سے اس کو اتنی تھکن نہیں ہوتی جتنی ٹریفک جام میں اپنی صرف چار سال پرانی 1000 سی سی کار بیل گاڑی سے بھی کم رفتار پر چلانے سے ہوتی ۔ اکثر سوچتا کہ پاورسٹیرنگ اور آٹو میٹک کار لے لوں تو شاید تھوڑی آسانی ہوجائے اور نئی کا رکے بھرم الگ۔

اس بات کا تذکرہ جب اس نے بیگم سے کیا تو اس نے جلے ہوئے انداز میں کہا ’’ کوئی ضرورت نہیں ہے آپ آفس سے آکر اگر صوفے میں غرق ہونے اور ٹی وی کسی واجب عمل کی طرح دیکھنے کے بجائے ذرا ورزش کرلیں تو یہ آپ کی توند بھی کم ہوگی اور صحت بھی بہتر ہوگی‘‘۔ لیکن اسلم کپڑے تبدیل کرنے کے بعد سیدھا اپنی نئی بڑی LED ٹی وی کے سامنے پڑے صوفے پر لینڈ کرتا اور اپنا پسندیدہ انڈین کامیڈی شو لگادیتا۔ اس کے بعد ایک مشہور مشروب کے تعاون سے چلنے والامیوزک کا پروگرام اور ہاں ’’آج تو گیارہ بجے رئیل میڈرڈ اور بارسلونا کا میچ بھی ہے‘‘۔ خدمات کا سلسلہ اس دوران جاری رہتا۔ بیٹا پانی لے کر آتا، بیگم چائے، کیک، چپس سامنے رکھ دیتی اور بیٹی گود میں بیٹھ کر اپنے اسکول کے قصے سناتی۔ اسلم اپنی تھکن کھا پی کر اور ٹی وی پر تفریحی پروگرام دیکھ کر اتارنے کی کوشش کرتا۔ دس بجے کھانا اور پھر ٹی وی۔ بس سمجھیں کہ آفس سے واپسی اور اگلے دن آفس جانے سے پہلے یہ اسلم کا وقفہ ہوتا ہے ۔

جس طرح آؤٹ ڈور شوٹنگ میں اداکار ایک سین کے کٹ ہونے کے بعد دوسرے سین تک اپنے کیبن میں آرام کرتا ہے ۔ لیکن دل کے اندر کبھی کبھی اسلم یہ محسوس کرتا کہ ابھی وہ پورا چالیس کا بھی نہیں ہوا ہے اور آفس سے آکر گھر میں اس کا انداز ایسا ہوتا ہے جیسے کسی ۷۰ سال کے بزرگ سے کھیت میں ہل جتوالیا گیا ہو۔ عشاء کی نماز اکثر سونے سے پہلے ہی پڑھتا کہ پڑھنی تو ہے۔ گزشتہ چار سال سے جب سے وہ اپنے گھر میں شفٹ ہوا ہے، آٹھ بجے سے بارہ بجے تک، کھانا پینا، خبریں، کامیڈی، کرکٹ ، فٹبال دیکھنا اس کی عادت بن چکی تھی۔

’’وہ کاشف کی کی امی کو کینسر ڈائیگنوز ہوا ہے۔ آخری سٹیج پر ہے‘‘ چائے رکھتے ہوئے بیگم نے کہا۔ ’’ کیا؟ وہ تو بالکل بھلی چنگی تھیں چار مہینے پہلے، بیٹے کی شادی پر‘‘ اسلم حیرت اور تھوڑی سی پریشانی کے ساتھ بولا۔ ’’کچھ پتا نہیں ہوتا آجکل تو بس اللہ رحم کرے‘‘، ’’اور وہ جو سکینہ کے بھائی تھا نا ‘‘ ’’ہاں ہاں تو ‘‘ اسلم بولا ۔ ’’ گاؤں میں موٹر سائیکل پر جا رہا تھا صبح کی دھند میں ٹرک نظر نہیں آیا ، سر لگا لوہے پر، کومے میں ہے۔ چار دن بعد شادی تھی‘‘ بیگم نے مزید بتایا ۔ ’’ اوہ افسوس ہوا ‘‘ اس بار وہ چائے کا گھونٹ لینے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اور کامیڈین کی پنچ لائن سن کر ہلکا سا قہقہ لگانے پر بھی آمادہ ہوگیا تھا۔

بیگم دوبارہ کچن میں، بیٹا، بیٹی اپنے کمرے میں پڑھنے میں اور اسلم لاؤنج میں اکیلا ٹی وی دیکھنے میں دو بارہ مصروف ہوگیا۔ اچانک کہاں سے اسے کاشف کی امی کا خیال آگیا۔ کاشف اس کا یونیورسٹی کا دو ست تھا۔ اس کی امی کی عمر زیادہ نہیں تھی۔ یہی کوئی پچاس پچپن ہوگی۔ بہت با اخلاق اور ہنستی مسکراتی خاتون تھیں۔یونیورسٹی کے زمانے میں دیر تک پڑھائی کے دوران انکا وقتاً فوقتاً سموسے، رول اور چائے سے تواضع کرنا اسے آج تک یاد ہے اور اس کے گھر کام کرنے والی سکینہ کا بھائی جب کراچی آتا تو گھر میں بجلی کے سارے کام اور لان کی مکمل نگہداشت کرتا اور اصرار کرتا کہ اسلم اسے کوئی پیسے نہ دے کیونکہ اسکے بقول اس کے گھر والوں پر پہلے ہی بیگم صاحبہ کے بہت احسانات ہیں ۔

’’ دیکھو یار! یہ دونوں لوگ مشیّت الٰہی کی وجہ سے آج موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔‘‘ اس نے اپنے دل میں کہا۔ کامیڈین نے ایک اور پنچ لائن ماری اور دھماکے دار میوزک نے اس کی سوچ کا سلسلہ منقطع کردیا۔مگر اس انقطاع کا ایک فائدہ ہوا اور اس نے چینل تبدیل کردیا۔ نیوز کاسٹرکی مانوس آواز بتا رہی تھی کہ کاکسس بازار، بنگلہ دیش میں رو ہنگیا پناہ گزین میں شامل اسّی فیصد بچے کم خوراکی کا شکار ہیں اور اگر وافر مقدار میں امداد نہ پہنچی تو چند ہفتوں میں بھوک سے بچوں کی ہلاکت کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔

تصاویر دیکھ کر اسلم کا دل اور بھی مرجھا گیا۔چینل تبدیل کردیا۔ ایک اور آواز بتا رہی تھی کہ ہالا کے پاس باراتیوں سے بھری بس اور ٹریلر کے تصادم میں ۲۰ افراد ہلاک اور ۳۵ زخمی ہوگئے ہیں۔ دلہن چونکہ آگے ونڈ اسکرین کے پاس ہی بیٹھی تھی اس لیے موقع پر ہی ہلاک ہوگئی، دولہے کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔ ’’کیا ہو رہا ہے یار یہ؟‘‘ اس نے اپنے آپ سے احتجاج کرتے ہوئے ٹی وی بند کرنا چاہا تو نمبر ایک بٹن دب گیا اور اس سے پہلے وہ آف کا بٹن باقاعدہ دیکھ کر دباتا یہ جملہ اس کے کانوں سے ٹکرا چکا تھا۔

"کیا اہل ایمان پر اب بھی ایسا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے اور جو حق اترا ہے اس کے لیے پسیج جائیں۔"

اسلم نیم دراز پوزیشن سے اٹھ کر ا ب اس طرح بیٹھا تھا جیسے جوان کو اس کا افسر کبھی کبھی کرسی پر بیٹھنے کو کہہ دیتا ہے۔ چائے کی آدھی پیالی نیم گرم پڑی تھی۔ کیک پیس اور اس کے مرغوب چپس بھی لیکن اسلم کی توجہ ان آوازوں کی طرف تھی جو ٹی وی کے بند کرتے ہی اتنی بلند ہوگئی تھیں کہ اس کے کان پھٹے جا رہے تھے۔

روبوٹ کی طرح اٹھ کر اس نے کار کی چابی تھامی۔ ’’ایک گھنٹے میں آتا ہوں‘‘ اسلم نے مطلع کیا۔ ’’کہاں جارہے ہیں؟ کھانا تو کھالیں کل آپ نے کہا تھا نہ کہ نہاری بنانا‘‘ بیگم نے اس خلافِ توقع ایکشن پر شکوہ کیا۔ ’’ نہیں وہ بس آتا ہوں کاشف کے ہاں سے اور ہاں وہ سکینہ کو کہنا کہ شفیع کا بھرپور علاج کرائے۔ پیسوں کی فکر نہ کرے۔ یہ ہاسپٹل والے بندہ دیکھ کر آئی سی یو سے جلدی ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ابھی فون کرو سکینہ کو۔ اللہ کرم کرے گا‘‘۔ اسلم نے ہدایات دیں اور تیزی سے نکل گیا۔

کاشف سے ملاقات کافی دل سوز رہی۔ کاشف کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اسے اپنی امی یاد آرہی تھیں۔ اسلم نے اس کی ہمت بندھانے کی بہت کوشش کی۔ واپسی پر ڈرائیو کرتے ہوئے کاشف کا یہ جملہ بہت جھٹکنے کے باوجود اس کے ذہن سے نہیں نکل رہا تھا کہ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ زندگی جتنی لکھی ہے وہ تو انسان دنیا میں گزار کے ہی جائے گا لیکن طبی طور پر امی کے پاس چند مہینے سے زیادہ وقت نہیں ہے۔

’’کتنی دیر ہے؟ نہاری ٹھنڈی ہورہی ہے‘‘ ایس ایم ایس آیا۔ بیگم کے ایس ایم ایس کے نیچے ایک اور ایس ایم ایس تھا جس کی پہلی لائن تو وہ ایس ایم ایس بغیر کھولے بھی پڑھ سکتا تھا۔ اسلم نے کار دوسری سمت موڑ دی۔ ’’ اگر آج بھی نہیں کیا تو پھر کہیں سالوں نہ گزر جائیں‘‘ اسلم نے اپنے آپ سے دل میں کہا۔ کار روک کر وہ سیدھا تیر کی طرح بک اسٹال پر گیا اور کاؤنٹر پر کھڑے دوکاندارسے نہایت عجلت اور بے تابی سے پوچھا ’’ وہ آپ کے پاس ترجمے والے قرآن کا نسخہ ہے ؟‘‘

’’جی! ‘‘دوکاندار نے گردن ہلائی۔ اسلم نے جب اثبات میں جواب سنا تو دونوں ہاتھ شیشے کے کاؤنٹر سے ہٹا لیے اور ادب سے زمین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ’’ براہِ مہربانی دیجیے گا‘‘۔ دیر ہوجانے کی وجہ سے وہ اپنی آنکھوں کی نمی دوکاندار کو قطعاً دکھانا نہیں چاہتا تھا۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com