اصول مشرق، جواب "مغرب" – اسرار احمد خان

اگر معاملہ علم اور اصولوں کی دنیا کا ہو تو اس میں عموماً الزامات نہیں ہوتے ۔ ایک اہل علم نے کوئی نئے اصول دیے اور ان اصولوں پر نئے نتائج نکالے اور اس پر ایک نئی جھوٹی سچی دنیا کی بنیاد رکھی تو بھی اتفاق و اختلاف ان اصولوں اور ان نتائج پر ہی کیا جائے گا۔ ایسے ڈرائنگ رومی اختلافات اہل علم میں چلتے رہتے ہیں۔ لیکن معاملہ مشکوک تو تب ہو جاتا ہے جب اصول مشرق اور جواب مغرب نکل رہے ہوں یعنی جواب سارے کے سارے ایک غالب تہذیب کے حق میں نکلتے جا رہے ہوں اور اُن کا میڈیا پر صبح شام پرچار بھی کر رہا ہو تو پھر ظاہر ہے سوال نیّت پر بھی اٹھیں گے۔ نیت میں گڑبڑ شعوری بھی ہو سکتی ہے اور لاشعوری بھی، رائج فکر کے ذہن پر غالب آجانے یا رائج تہذیب کے ماننے والوں کو خوش کرنے کے لیے یا ان کی محفل میں بہت زیادہ بیٹھنے یا 'ٹریڈینشل اسلام' کے نمائندوں سے چڑ کی وجہ سے فکر اور فطرت کے مسخ ہونے کا امکان موجود رہتا ہے۔ پھر اصل دوڑ ان نتائج کے حصول کی ہے، باقی اصول و قانون وغیرہ بعد میں نتائج کو فراہم کیے جائیں گے حسب ضرورت ۔

اب یہ مثال لیں "یقین جانو کہ نبی عربی کو ماننے والے ہوں یا یہودی، عیسائی ہوں یا صابی،جو بھی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لائے گااور نیک عمل کرے گا، اُس کا اجر اُس کے ربّ کے پاس ہے اور اُس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے" (سورۃ البقرہ)

اس آیت کی بنیاد پر غیر مسلمانوں کو جنت میں بھیجنا پورے قرآن کے نظم اور اس مضمون کے نظم سے ایک آیت کو کاٹ کر مطلب پہنانے کی بدترین مثال ہے۔ اب کمال یہ ہے کہ یہ تفسیر وہ کرے جو نظم کے سب سے بڑے پرچارک ہیں،جو جگہ جگہ مضمون، قرآن، آیات، رکوع کے نظم پر لیکچر دیتے ہوں لیکن یہاں وہ سارے اصول پس پشت ڈال کر محض ایک آیت سے ایک عجیب و غریب نتیجہ نکال لیں ۔ اب معاملہ مشکوک تو ہو گیا نا؟ اب لوگ انہیں "مغربی اسلام" والے کہیں تو کیوں نہ کہیں؟

چلیں یہ بات کوئی وہ کرے جسے نظم قرآن کا پتا نہیں پھر بھی سمجھ آتی ہے جو نظم سے کاٹ کر لوح محفوظ، فرشتوں والی آیت سے وضو ثابت کرتے ہیں۔ یا چلیں یہ حدیث ہوتی جس کے وہ منکر ہیں تو بھی ہم سہ جاتے کہ کم سے کم اصول کے مطابق ہے ۔

یہاں صاف نظر آرہا ہے کہ اس آیت کا پورا سلسلہ کلام ہی بالکل مختلف چل رہا ہے، بنی اسرائیلیوں سے مخاطب ہو کر ان کی بدعقیدگیاں اور بداعمالیاں ایک ایک کر کے گنوائی جارہی ہیں اور اس آیت میں کلام اس پیک پر جاتا ہے جب ان کے جنتی ہونے کی خام خیالی کو ایڈریس کیا جارہا ہے کہ تم اپنے کو جو بھی کہتے رہو، نبیوں کی اولاد کہتے رہو، خود کو جنت کا ٹھیکے دار کہتے رہو، تمہارے کہنے اور سمجھ لینے سے کچھ نہیں ہو گا، اصل کام آنے والی چیز تو ایمان اور اعمال ہیں یعنی اس آیت میں ایمان کے دعوے داروں کو بھی جہنم سے ڈرایا جا رہا ہے اور جنت کی ٹھیکہ داری کی خام خیالی سے نکالا جا رہا ہے کجا یہ کہ اس سے بےایمانوں کو جنت بھیجنے کی گارنٹی دینا۔

ٹیگز

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */