لفظوں کے غلام - رومانہ گوندل

انسان کے اس دنیا میں دو طرح کے تعلق ہیں، ایک اللہ سے اور دوسرا بندوں سے۔اس کا عمل ان دونوں سے متاثر ہوتا ہے۔ انسان جتنا اللہ سے تعلق مضبوط کرتا ہے، اتنا ہی اس کا عمل مضبوط، خوبصورت اور بے لوث ہوتا ہے اور جتنا انسانوں پر بھروسہ کرتا ہے اس کا عمل اتنا ہی کمزور ہو جاتا ہے۔ کامیاب زندگی گزارنے کے لیے اللہ اور بندوں، دونوں سے تعلق کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے کیونکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان اس دنیا میں انسانوں سے کٹ کے نہیں رہ سکتا اور نہ ہی رہنا چاہیے۔ انسانیت کی تکمیل ہی وہاں ہوتی ہے جہاں وہ انسانوں کو عزت دینا اور ان کے ساتھ رہنا سیکھ جاتا ہے، وہیں جب سب کے ساتھ رہتا ہے تو ارد گرد والوں کے رویّے خوش بھی کرتے ہیں اور بعض اوقات پریشان بھی۔

ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ انسان کی تعریف کی جائے، اس کے کاموں کو سراہا جائے تو اس کی حوصلہ افزائی ہو تی ہے، جس سے صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوتا ہے اور اسی سے بڑے بڑے کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ کچھ لوگ بلکہ زیادہ تر لوگ خود کو مکمل طور پر اس کا محتاج کر دیتے ہیں کہ کوئی تعریف کر ے تو کچھ کر لیتے ہیں اور ا گر تعریف نہ ملے تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے بیٹھ جاتے ہیں اور جواز پیش کرتے ہیں کہ ہم کچھ بھی کر لیں، ارد گرد کے لوگ خوش ہی نہیں ہوتے، تو کچھ کرنے کا کیا فائدہ؟ بہت سے لوگ بظاہر لوگوں کے رویوں کی وجہ سے نیکی سے دور رہتے ہیں لیکن حقیقت یہ کہ ان کے اپنے اندر خیر نہیں ہوتی اور اپنے طور پر لوگوں کے رویے کا گلہ بے عملی کا جواز بنا لیتے ہیں، حالانکہ یہ کوئی جواز نہیں ہوتا، بلکہ انسان کی اپنی کمزوری کی گواہی ہوتی ہے۔

اگر چہ اس سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر انسان کے احساسات و جذبات کے ساتھ اس کا عمل بھی دوسروں کے رویوں سے متاثر ہوتا ہے۔ لیکن اپنے آپ کو صرف دوسروں کے الفاظ کا غلام بنا دینا غلط ہے۔ دوسروں کی تنقید برداشت کر کے بھی درست راستے پر چلتے رہنا ہی اصل عمل ہے۔ یہی تو ا متحان ہے کہ انسان کی کوششوں میں اپنے رب کا حصہ کتنا ہے؟ لوگوں سے تعریف مل رہی ہو تو عمل کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن جب لوگ تنقید کریں پھر بھی سیدھے راستے پر رہنا ہی ثابت کرے گا کہ اس کا اپنے رب سے رشتہ کتنا مضبوط ہے۔

انسان جو عمل اپنے رب کے لیے کرتا ہے وہ لوگ قبول کریں یا نہ کریں، تعریف کریں یا نہ کریں، اس پر ثابت قدم بھی رہتا ہے اور اس کا صلہ بھی پا لیتا ہے۔ کبھی سوچا ہے کہ کیوں خوشخبری دی جاتی ہے کہ قیامت والے دن وضو کرنے والے اور نیک کام کرنے والے کے چہرے روشن ہوں گے؟ کیونکہ جو کچھ انسان کرتا ہے، لوگ اسے قبول کریں یا نہ کریں، اس کا اپنا جسم، اپنا چہرہ اس کے عمل کا گواہ بن جاتاہے اور جب انسان ثابت قدمی سے اس پر قائم رہتا ہے تو اللہ اسے اس دنیا میں بھی عزت دے دیتا ہے، ایک دن ایسا آتا ہے کہ لوگ بھی اس کے اچھے عمل کے گواہی دینے لگتے ہیں لیکن ثابت قدمی شرط ہے۔ بس تھوڑے عرصے کا امتحان ہوتا ہے جو اس میں سروخرو ہو جائے، وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔

ہم سب کو اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہمارا اپنے رب سے رشتہ کتنا مضبوط ہے۔ اپنے رب کی خوشنودی کے لیے نیکی پر قائم رہ سکتے ہیں یا لوگوں کے منہ سے تعریف کے دو بول سن کے عمل کرنے والے ہیں۔ اگر مقصد صرف لوگوں کی نظر میں معتبر بننا ہے تو کیا ایسا عمل پل صراط سے گزارنے والا ہے۔