الیون الیون - بریرہ صدیقی

Lead and set a good example

Lead the world my shining star

This world needs your light

My hopes are pinned on you

انگریزی سب ٹائٹلز کے ساتھ وسیع وعریض آڈیٹوریم کی ملٹی میڈیا اسکرین پر دکھائی جانے والی ڈاکومنٹری کا یہ پشتو نغمہ جسے خیبر پختونخواہ کے ایک پسماندہ گاؤں میں فلمایا گیا تھا۔ "Denial of Woman’s Fundamental Rights" جیسے حساس موضوع کی منظر کشی کر رہا تھا۔ یواین انفارمیشن آفیسر نصرت رضوی کی زیرِ صدارت اس تین روزہ ورکشاپ کا سلوگن متاثر کن تھا۔"Say No, Unite, End Violence against Women"

نغمہ ابھی جاری تھا جب اگلی نشستو ں پر براجمان حاضرین محفل میں سے کسی کے ساتھ آئے ننھے بچے نے بآواز بلند روکر نغمہ سرائی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہا۔ پروگرام آرگنائز ر کسی ناگوار تاثر اور ماتھے پر شکن ڈالے بغیر، مائیک تھامے اسٹیج کی سیڑھیاں اتر کر روتے ہوئے بسورتےبچے کو لیے چند ساعتوں بعد اسٹیج پر دوبارہ جلوہ گر ہو کر گویا ہوئیں "بھرپور داد کی مستحق اور مکمل تعاون کی حقدار ہے آج کی عورت جو ننھے بچوں کے ساتھ بیک وقت تعلیم، جاب، گھرداری جیسے مختلف النوع محاذوں پر عزم و ہمت سے برسرِ پیکار ہے"۔ تالیاں پیٹنے کا نہ تھمنے والا سلسلہ بتا رہا تھا کہ ان کی ڈاکومنٹری سے کہیں زیاد ہ اس "فی البدیہہ" ادا نے شرکا، بالخصوص خواتین کے دل جیت لیے ہیں۔ ننھے شریک کارونا، مکمل ناسمجھی میں بھرپور تالیوں میں تبدیل ہو چکا تھا۔


اپنی پانچ سالہ بچی کی ناریل کی کچی گری کھانے کی ضد عجیب احساسِ جرم میں مبتلا کر دیتی ہے۔ بچوں کی بعض ضدیں مستقل جاری رہتی ہیں۔ جب تک ہر بار پورا نہ کر دیا جائے۔ اسے یاد آیا۔ بیاہ کر پردیس پہنچنے پر ٹیکسی سے اتر کر اپنے بلند و بالا مگر مختصر سے آشیانے سے متعارف ہوتے ہوئے اسے خود پر ٹائی ٹینک کی ہیروئن کا گمان تھا۔ اس فلم کے ٹریلر میں جس تمکنت سے ہیٹ اونچا کیے اس دیو قامت ٹائی ٹینک کو دیکھا تھا، کم و بیش اتنا ہی اعتماد اور تمکنت تھا تب اس کی نظروں میں تبھی اس آشیانے کا تعارف کروایا گیا۔ گیارہویں منزل کا فلیٹ نمبر 11، 11.11 الفاظ و معانی کے کھیل پر اس کا اعتقاد کبھی نہیں رہا تھا لیکن اس اتفاق پر مبہوت تھی۔ ان چار مماثل ڈجٹس سے اس کا زندگی میں کتنی ہی بار واسطہ پڑ چکا تھا۔ بالآخر ڈوب جانا ان کا بھی مقدر تھا۔ کیا قدرت کا کوئی اشارہ تھا؟ اس میں جسے وہ کبھی نہ سمجھ سکی؟ علم الاعداد پر عبور ہوتا تو کبھی کے قدم وہیں سے لوٹ آتے۔

اور پھر ایک دن جب محض ازراہِ تکلف آفس جانے سے پہلے پوچھ بیٹھی تھی کہ واپس تک کیا تیار کیا جائے؟ جواباً اتنی ہی سنجیدگی سے "کڑھی پکوڑوں" کی فرمائش سن کر سارا اعتماد ہوا ہوتا نظر آیا۔ کڑھی بنانے کے تمام سادہ بنیادی لوازمات گھر میں موجود تھے۔ یعنی انکار کی کوئی سبیل نہ تھی۔ پاکستان رابطے کی فوری سہولت موجود نہ تھی کہ "ہیلپ لائن" سے مدد طلب کر لی جائے۔ ناچارذہن پر زور ڈالتے ہوئے دہی اور بیسن کا مکسچر تیار کرنا شروع کیا جو کسی طور مطلوبہ معیار کا بنتا دکھائی نہ دیتا تھا۔ رنگت، کبھی یرقان زدہ مریض کی طرح انتہائی زرد پڑ جاتی اور دہی کے اضافے کے بعد بیحد سفید، بالآخر جب پکنے کے مرحلے کا آغاز ہوا اور کڑھی کو روایتی ابال آنے لگے تو اس نے اچھل اچھل کر برتن کے تنگی داماں کی شکایت کی۔ بھاگم بھاگ کچن کے سامان میں سے چھانٹ کر بر بڑے برتن میں انڈیل کر مسئلہ سلجھانے کی کوشش کی گئی، باقی کو بہانے پر اکتفا کیا۔ تیار ہو جانے کے بعد نقشہ یہ تھا کہ ہر چھوٹا، بڑا ڈونگا کڑھی سموئے ہوئے تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   حجاب کا مسئلہ، مرد و خواتین کیا کریں؟ محمد عامر خاکوانی

گھر پر دیسی، ایشیائی کھانے بننے کا مستقل سلسلہ شروع ہوا تو قرب و جوار مصالحہ جات کی مخصوص خوشبو سے مہک اٹھے۔ ایک روز باہر جانے کے لیے لفٹ میں داخل ہوئی تو ساتھ کے اپارٹمنٹ کا عربی رہائشی بھی جھٹ سے سوار ہو گیا اور سوال و جواب کا سلسلہ شروع کر دیا "So, You Cook Daily?"

"یس" میں نے مختصر جواب دیا۔ نظریں لفٹ کے بٹنوں پر مرکوز اور کان لاشعوری طور پر اب تعریفی کلمات سننے کے منتظر تھے۔ لہٰذا کانوں کے گرد لپٹے مفلر کو ڈھیلا کر لیا۔ رسپانس انتہائی خلافِ توقع تھا۔۔ "Please don’t add too much spices, I can feel the smell from my pullover۔"

ناک سیکڑے ایسے شاندار تبصرے کو سن کر اور دیکھ کر اس کی شان میں زیرِ لب صرف ایک ہی لفظ ادا ہوا، "توتلا!"۔ اور مفلر خود بخود دوبارہ کس لیے گئے اور پھر جب ان دیسی کھانوں کو ولایتی کچن نے بھی محسوس کرنا شروع کر دیا اور ان پر گریس کی تہہ جمنے لگی تو ان کی بھرپور صفائی کرنے کی ٹھان لی۔ کلینر اور اسپنج سےرگڑائی شروع کی اور نتیجتاً ہر چیز پہلے کی طرح چمکنے لگی۔ اختتامیہ کے طور پر آخر میں پانی کا ایک کپ جو سنک پر بہایا گیا تو پانی کے چند قطرے سنک سے ملحق چولہے سے ہوتے ہوئے فرج تک جا پہنچے۔ ایک خوشگوار سا پٹاخہ نما دھماکہ ہوا اور اس کے بعد عملاً چراغوں میں روشنی رہی، چولہے میں تمازت اور نہ فرج میں فرحت۔ یومِ حساب کی طوالت لیے وہ دن کسی طور اختتام پذیر ہوتا دکھائی نہ دیتا تھا۔ شام کا اندھیرا پھیلتے ہی چھونے سے فلیٹ کی بڑی سی کھڑ کی سے سر ٹکائے باہر کی روشنیوں کو تکتے اس "سانحے" کی وجوہات پیش کرنے کو کئی بہانے تراشے اور کمزور پلاٹ کی بنیاد پر رد کیے جاتے رہے۔ اگر قطعی اظہارِ لاعلمی کر دیا جائے تو؟ بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ لفٹ بند ہونے اور دروازہ کھلنے کی آواز کے ساتھ خود کار سسٹم کے تحت سر بھی جھک گیا اور مکمل اقرارِ جرم کے ساتھ حاضری دی۔ دبے لفظوں میں "ناقص" سسٹم کی کمزوری پر بھی خاطر خواہ احتجاج کیا۔ جواباً صاحب نے انتہائی سرعت سے داخلی دروازے کے پیچھے نصب پاور سپلائی کا بٹن آن کیا جو آٹو میٹیکلی آف ہو چکا تھا اور یکدم سب کچھ ویسا ہی ہو گیا جیسا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   عورتوں میں ڈیپریشن: وجوہات اور علاج - حافظ محمد زبیر

ورکشاپ کی ایک خاص خوبی یہ تھی کہ اس میں ہر طبقہ فکرسے تعلق رکھنے والے افراد کو یکساں نمائندگی دی گئی تھی۔ آج کا سیشن بین الاقوامی شہرت کی حامل مذہبی اسکالر لے رہی تھیں۔

"Psychological Disorders in Women" پر اُن کا لیکچر جاری تھا۔ مذہب نےبھی شادی کے لیے صرف بلوغت ہی نہیں رکھی۔ نری مردانگی، نری نسوانیت ہی معیار نہیں۔ "رشد"کے بغیر محض بلوغت کے پیمانے سامنے رکھ کر شادی کر دی جائے تو ایسی بہت سی شادیوں کا لازمی نتیجہ ایک نا پسندیدہ انجام ہے۔ فیصلہ کرنے میں غیر معمولی عجلت کا مظاہرہ بسا اوقات لڑکی کی والدین کے گھر واپسی مع دو، تین یادگار نشانیوں کے اضافے کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ ایسی ناخوشگوار صورتحال کا شکار اگر کوئی کردار ہے تو وہ مظلوم نشانیاں، جو ایسے "Test Cases" میں بطور انسٹرومنٹ استعمال ہو جاتی ہیں۔ تاعمر اپنی شناخت کے بارے میں متذبذب !


اور جب کئی ہفتوں تک کھانے سے جی اکتا چکا تھا۔ ایک دن ہفتہ بھر کی خریداری کرتے ہوئے نظر انتخاب اچانک ناریل پر پڑی۔ گھر پہنچے تو رات پڑ جانے کے باعث ناریل کے خول کو توڑنا ممکن نہ رہا تھا کہ شام ڈھلتے ہی کسی قسم کا شور کرنا جو ہمسایوں کے آرام میں خلل کا باعث بنے قانوناً جرم ہے۔ عجیب دلچسپ ترکیب سوچی گئی۔ گیارہویں منزل کی کھڑکی سے ناریل کو گرایا اور یہ خوبصورتی سے کھل گیا۔ کھلے ناریل کو لے کر بخوشی واپسی پہنچی۔ اس وقت اور آنے والے کئی دنوں تک ناریل کی کچی گری اس کے لیے من و سلویٰ سے بڑھ کر خوش ذائقہ ثابت ہوئی۔

کہانی تمام ہوئی, قدرت کے نظام میں ایسا کوئی سسٹم موجود نہیں جو ایک بٹن کو آن یا آف کرنے سے حال کو ماضی کے ساتھ ریپلیس کر دیتا۔ ڈلیٹ اور سٹارٹ کے آپشن ہسٹری کو مکمل ڈلیٹ کب کرتے ہیں؟ واپسی کے راستوں کی مسافت اذیت ناک حد تک طویل ہے۔ پاؤلو کوئیلو کے قول کے برعکس جب دو بے جوڑ روحوں کا ملاپ ہو جائے تب بھی کائنات کی ہر چیز ان کو جدا کرنے کی 'سازش' کرتی ہے۔ تب روح تو باقی نہیں رہتی، دنیا کے لیے ڈسکس کرنے کو بے شمار مواد ضرور مل جاتا ہے اور کہیں جوکوئی "چنائے" ان کے غم خریدنے کو انہیں چُن لے تو غم بیچ کر خوشیاں تو ہاتھ نہیں آتیں، جگ ہنسائی ضرور کرتی ہے۔

کچی گری کی ضد کی حد تک مماثلت رہے تو خیر، اس سے آگے کہیں تقدیر میں خدانخواستہ ایسی مماثلت نہ ہو۔ بچپن کی بہت سی محرومیاں زیادہ تر ایک اچھے مستقبل کی ضامن ثابت ہوتی ہے۔ نغمے کے بول کیسی امید کا پیغام ہیں "امید، جس کے وجود کے بعد مایوسی باقی نہیں رہتی۔ ٹھوس اور واضح

"Today I sing you to sleep,

Tomorrow this cradle won’t be your

Education leads from darkness into light

You are the dawn of new Era"

Comments

Avatar

بریرہ صدیقی

بریرہ صدیقی شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور مختلف قومی جرائد اور دلیل کے لیے بھی لکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگلش میں ماسٹرز کے بعد چار سال جرمنی میں قیام بھی کر چکی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.