میڈیا اور ”اسرار دین“ - محمد دین جوہر

کیا محترم جاوید احمد غامدی صاحب منکرِ حدیث ہیں؟ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر گزشتہ کئی سال سے یہ مسئلہ اہلِ علم کے ہاں زیر بحث ہے، اور دلائل اور ردِ دلائل کا سلسلہ دونوں طرف سے تاحال جاری ہے۔ بظاہر غامدی صاحب اس الزام کو رد کرتے ہیں، لیکن انکارِ حدیث ان کی جدید تعبیرِ دین کا ایک اہم ماخذ ہے۔ اہل علم کی طرف سے اس پر بہت سی تحریریں سامنے آ چکی ہیں۔ ایسی بیشتر تحریروں کو غامدی مکتب فکر نے جواب کے قابل نہیں سمجھا۔ جہاں اس کی ضرورت محسوس کی گئی وہاں جواب کم آیا، اور گھیراؤ زیادہ ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس اہم مسئلے پر غامدی مخالف آوازیں کبھی پبلک میڈیا پر بار نہ پا سکیں۔ جب نادر عقیل انصاری صاحب نے سہ ماہی ”جی“ کے ذریعے غامدی صاحب کے انحرافی مؤقف کی محققانہ گرفت کی تو شدید رد عمل سامنے آیا، جو تحریری اور غیر تحریری دونوں طرح کا تھا۔ میمنہ میسرہ کی جانثاری کے باوجود فکرِ غامدی انکارِ حدیث کے افسوسناک مؤقف کا علمی دفاع نہ کر سکی۔ یہاں تک کہ سیاسی موسم کے بادنما اور غامدی صاحب کے مؤقف کا ہمرنگ اور یک پھیر ہونا بھی قطعی آشکار ہو گیا۔ نادر صاحب کے دوٹوک مؤقف پر بعض احباب کی طرف سے ناگواری کا اظہار بھی کیا گیا، حالانکہ خود ان کا شمار بھی غامدی صاحب کے ناقدین میں ہوتا تھا۔

ابھی حال ہی میں "دلیل" نے محترم ہارون الرشید صاحب کا ایک طویل انٹرویو شائع کیا ہے۔ اس میں انہوں نے شواہد کے ساتھ عین وہی بات کہی ہے جو امر واقعہ ہے۔ انہوں نے غامدی مکتبِ فکر کی کم ہمتی کا ذکر بھی کیا ہے کہ وہ غلام احمد پرویز کی طرح اپنا مؤقف کھل کر بیان نہیں کرتے، حالانکہ مؤقف وہی ہے۔ یعنی کچھ موقف تو غامدی صاحب صاف بیان ہی نہیں کرتے، اور جو موقف کھل کر بیان کرتے ہیں وہ بدلتے بہت ہیں۔ اس انٹرویو سے وہ بات جو محدود حلقوں میں فکری، علمی اور دینی دلائل کے ساتھ سامنے لائی گئی، اب مین اسٹریم میڈیا میں بھی شامل ہو گئی ہے۔ اس میں حیرت ناک امر غامدی مکتب فکر کے ہراول کی معنی خیز خاموشی ہے۔ میمنہ میسرہ تو ہم فقیروں پر ٹوٹ پڑنے کے لیے چوکس ہیں، لیکن بات اب جہاں آ لگی ہے وہاں چپ ہی لگی ہے۔ یہ وہ خاموشی نہیں ہے جو بولتی بھی ہو۔ اس صورت حال کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ متجددین اور ان کے جدید اسلام کی پوری معنویت اس میں پوشیدہ ہے۔

متجددین کی اصل قوت عقلی یا نقلی دلائل نہیں بلکہ ہمعصر ثقافتی قوتوں کی ہمگامی ہے۔ ان میں سب سے بڑی قوت میڈیا ہے۔ میڈیا کی اثر اندازی فوراً متجددین کی اثرانگیزی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ برقی اور ورقی میڈیا کسی موقف کا صحیح غلط ہونا طے نہیں کرتا، بلکہ اس کے ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ استعماری دور سے طاقت اور سرمائے کی قوتیں اپنے پسندیدہ نظریات کے لیے میڈیا کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی چلی آئی ہیں۔ یہ وراثت آزادی کے بعد زیادہ تر متجددین کے حصے میں آئی۔ اگر طاقت، سرمائے اور کارپوریٹ میڈیا میں انکارِ حدیث کا موقف سامنے رہتا ہے، اور روایتی عقیدے کو جگہ نہیں ملتی، تو یہی عام دینی موقف کے طور پر رائج ہو جاتا ہے۔ پبلک میڈیا میں ایسی کسی فکر کا رد سامنے آنا حد درجہ اہم ہے۔ میڈیائی بادبان پر رواں دینی موقف ایسے تھپیڑوں کی تاب نہیں لاتے۔ جدید اسلام میڈیائی تسلسل میں زندہ اور مؤثر رہتا ہے، کیونکہ یہ جدید ثقافتی ضرورت ہے۔ صرف یہ ہوتا ہے کہ اس کے نمائندے بدلتے رہتے ہیں، موقف نہیں بدلتا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ صدی کے بڑے بڑے متجددین کے نام سے بھی عام آدمی واقف نہیں۔ میڈیا کی اثر اندازی جدید اسلام کے ”اسرارِ دین“ میں سے ہے، اور اسی باعث مذکورہ انٹرویو پر غامدی مکتب فکر نے دم سادھ لیا ہے۔

غامدی صاحب کے موقف پر محترم زاہد الراشدی صاحب فرماتے ہیں کہ ” سنت نبوی کا یہ مفہوم نہ صرف یہ کہ جمہور امت بالخصوص خیر القرون کے اجماعی تعامل کے منافی ہے بلکہ انتہائی گمراہ کن اور عملاً سنت کے حجت ہونے سے انکار کے مترادف ہے”۔ (ماہنامہ الشریعہ، جون ۲۰۰۸، ص ۱۹) اور یہ کہ ”چونکہ غامدی صاحب سنت و حدیث کو علم کا ذریعہ نہیں سمجھتے اور عقائد کے ماخذ کے طور پر تسلیم نہیں کرتے، اس لیے انھیں امت کے اس [رفع عیسیٰ علیہ السلام کے] اجماعی عقیدہ سے انحراف کرنا پڑ رہا ہے، اور بات صرف اس ایک عقیدہ تک محدود نہیں ہے، اور بھی بہت سے معاملات میں جمہور امت کے اجماعی تعامل سے غامدی صاحب کے انحراف کی وجہ یہی ہے۔ چنانچہ ہمارے نزدیک محترم جاوید احمد غامدی صاحب کا یہ ”تصورِ سنت“ صرف امت کے اجماعی تعامل و عقیدہ ہی کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ”و من یشاقق الرسول“ اور ”و یتبع غیر سبیل المومنین“ کی حدوں کو چھوتا ہوا نظر آ رہا ہے، اس لیے ہم ”الدین النصیحہ “ کے تحت پورے خلوص کے ساتھ انھیں اس گمراہ کن تصور سے رجوع کا برادرانہ مشورہ دینا اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہیں“۔ (ماہنامہ الشریعہ، جون ۲۰۰۸، ص ۲۲)

اس حوالے سے کم از کم یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ غامدی صاحب کا مؤقف صرف انکارِ حدیث تک محدود نہیں ہے، بلکہ دینِ اسلام ہی کے خلاف ایک مجموعی پوزیشن ہے، اور کم ہمتی کی وجہ سے اسے چھوٹی چھوٹی قسطوں میں سامنے لایا جاتا ہے۔ مذکورہ انٹرویو سے فکرِ غامدی کا بنیادی انحراف اب پبلک میڈیا میں شامل ہوگیا ہے۔ جناب ہارون الرشید صاحب پاکستان کے بزرگ صحافیوں میں سے ہیں، اور انہوں نے میڈیائی شرائط پر ہی فکرِ غامدی کے بنیادی انحراف کا ذکر کیا ہے۔ عموماً یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس فکر کے خلاف معمولی سے معمولی بات کا بھی تعاقب کیا جاتا تھا، لیکن مذکورہ انٹرویو پر خاموشی ہی خاموشی ہے۔ شاید یہ خیال ہو کہ پبلک میڈیا پر زیر بحث آنے سے پوری فکرِ غامدی ہی کے ادھڑنے کا خدشہ ہے، اس لیے اس مشکل وقت میں دبک جانے ہی کو عافیت خیال کیا گیا۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • تھوڑے ہی عرصے میں پورے ذخیرہ حدیث پر اپنی نوعیت کے ایک منفرد علمی اور تحقیقی کام کی جب اشاعت شروع ہو جائے گی تو جاوید احمد غامدی صاحب کے خلاف اس پراپیگنڈہ کی قلعی بھی لوگوں پر کھل جائے گی۔

    • محمد علی مدنی صاحب، پورے ذخیرے کا انتظار وہ کر رہے ہیں جنہیں غامدی صاحب کا موجودہ موقف سمجھنے میں دشواری ہوئی ہے۔ ورنہ ان کا موقف واضح ہے۔ وہ حدیث کے بھی منکر ہیں اور سنت کے بھی۔ شادی شدہ زانی اور اور زانیہ کی سزائے رجم کا انکار سنت کا انکار ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ کے نصاب کا انکار سنت ثابتہ متواترہ کا انکار ہے۔ اس اعتبار سے وہ پہلے استعماری منکرین حدیث سے زیادہ گمراہ کن خیالات کے حامل ہیں۔ پھر ان سے بھی آگے بڑھ کر، غامدی صاحب تو قرآن مجید کے احکام کو بھی منسوخ و معطل کر رہے ہیں جو کام انہوں نے بھی نہیں کیا تھا۔ جزیہ، جہاد وغیرہ کا انکار تو قرآںن مجید کا انکار ہے۔ خلاصہ یہ کہ غامدی صاحب ضروریاتِ دین کے منکر ہیں، ان میں اور پرویزیوں، قادیانیوں، خوارج وغیرہ میں گہری مماثلت تو سب کو نظر آ رہی ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اس گمراہی پر جرات کے ساتھ کلام کر رہے ہیں۔ہزاروں مسلمان اس کے نتیجے میں ان کی گمراہی سے محفوظ ہوئے ہیں، اور یہ بہت ہی بڑا کام ہے۔ اللہ جزا دے۔

    • جناب مدنی صاحب آپ اور غامدی فکر کے دیگرمتبعین کے نزدیک تو پروپیگنڈہ ہوگا لیکن علماء حق کی نظر میں حدیث کا دفاع کرنا امت مسلمہ کا اولین فریضہ ہے۔
      غامدی صاحب تو پرویزیوں سے بھی ایک قدم آگے نکل گئے ہیں۔غامدی صاحب تو قادیانی ملعون کو کافر نہ کہلوانے پر تلے ہوئے ہیں اور اس طرح امت کے اجماعی عقائد سے منہ موڑ رہے ہیں۔
      اللہ آپ کو اس فتنے کی حقیقت سے آشنا کرے۔

  • عمدہ مضمون۔
    ایک بڑی سازش کے تحت برصغیر میں غامدی صاحب کےگمراہ کن تصورات کو عام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کی ترویج کا اول دستہ میڈیا و سوشل میڈیا کو بنایا جارہا ہے ۔وقت کی ضرورت ہے کہ اس تجدد پسندی کا کھل کر تعاقب کیا جائے اور لوگوں کو اس فتنہ کا شکار ہونے سے بچایا جاسکے۔