مذہبی ہم آہنگی کے نام پر سیکولرازم کا منجن - محمد سعد

آج اپنی یونیورسٹی میں "بین المذاہب ہم آہنگی" کے عنوان سے منقعد کردہ ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ پروگرام کے مرکزی سپیکر جبران ناصر صاحب تھے اور اس سے پہلے ایک پینل ڈسکشن ہوا، جس میں ایک یونیورسٹی کے پروفیسر، ایک وکیل اور ایک ایسی خاتون شامل تھیں جن کے خاوند کسی ایک حملے میں جاں بحق ہوچکے تھے۔ پرواگرام کا سارا زور ان تین نکات پر تھا۔

1- کافر کی اصطلاح اب ناپید ہوچکی ہے قرآن میں جتنی بار بھی لفظ کافر آیا وہ صرف اس وقت کے لوگوں کے لیے تھا جن پر اللہ کے نبی نے حق کو واضح کردیا تھا۔ہم اس بات کے مجاز نہیں کہ کسی کو کافر کہہ سکیں۔

2۔ اللہ کے نبی ﷺ نے اپنی توہین پر کبھی خود برا نہیں منایا تو ہم کون ہوتے ہیں برا منانے والے؟ منافقین ہمیشہ اللہ کے نبی کو تنگ کرتے تھے لیکن ان پر اللہ کے نبی ﷺ نے کبھی قتل کا فتویٰ نہیں لگایا۔

3۔ قادیانیوں کے ساتھ اس ملک میں بہت زیادتی ہورہی ہے۔وہ بیچارے اپنی شناخت چھپانے پر مجبور ہیں۔ کیا اللہ کے نبی ﷺ کی یہی تعلیمات ہیں؟

اب وہاں سوالات کا موقع نہیں تھا حالانکہ لبرل ازم کا سارا منجن ہی اس بات پر بکتا ہے کہ دوسروں کو بولنے کا موقع ملنا چاہیے، اس لیے یہ نکات یہاں اٹھانے پڑ رہے ہیں۔

پہلے تو ایک بات سمجھ لیں کہ اسلام اس دین کا نام ہے جو اللہ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچایا۔یہ نہ آپ کی خواہش سے تبدیل ہوسکتا اور نہ ہی کسی دور میں اس کی تشریح بدلی جاسکتی ہے۔ اسلام کی دعوت توحید و رسالت کو جو قبول کرے گا وہ مسلمان ہوگا اور باقیوں کو کافر کہا جائے گا۔ اللہ کا رسول جو لے کر آیا اور جو صحابہ کے ذریعے ہم تک پہنچا اسی کو حق تصور کیا جائے گا اور باقی سب کو باطل۔ "غیر مسلم" کی کوئی 'ٹرم' اسلام میں موجود نہیں ہے، عیسائی، یہودی، ہندو، قادیانی سب کافر ہیں۔

اس لیے جو اللہ کی شریعت پر ایمان نہیں لائے گا، وہ جہنم کا ایندھن بنے گا۔یہ ماننا اسلام کے لوازمات میں شامل ہے جیسا کہ سورہ آل عمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے، انہیں اللہ کے مقابلے میں نہ اُن کا مال کچھ کام دے گا، نہ اولاد، وہ دوزخ کا ایندھن بن کر رہیں گے"

اب آتے ہیں گستاخی والے معاملے پر۔ ایسے کئی واقعات سیرت سے مل سکتے ہیں جس میں اللہ کے نبی نے خود صحابہ کو گستاخ رسول کو قتل کرنے کے لیے بھیجا اور رہی بات منافقین کی تو ان میں سے کسی نے بھی سرعام گستاخی نہیں کی اور اگر کی ہوتی تو ان کا انجام یہی ہوتا جو کعب بن اشرف کا ہوا۔اللہ کے نبی کو اختیار تھا کہ گستاخ رسول کو معاف بھی کردیتے۔اب علماء کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ کسی کو یہ سزا معاف کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

رہی آخری بات قادیانیوں کے حقوق کے بارے میں تو بھائی جب وہ اس ملک کے قانون کے مطابق اپنے آپ کو کافر مان لیں گے تو ان کے حقوق ہر بات ہوسکتی ہے لیکن جب تک وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہلوائیں گے، ملک کے قانون کا احترام نہیں کریں گے، حقوق کا شکوہ ان کو زیب نہیں دیتا اور یہ تو ان کی خوش قسمتی ہے کہ صرف کافر ہی قرار دیا ہے ورنہ شریعت تو ان کے بارے میں یہی کہتی ہے جو ابوبکرؓ کی سنت ہے۔ اب آپ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے زیادہ اسلام سمجھ گئے ہیں تو مجھے پورا یقین ہے کہ جو آپ کی سمجھ میں آیا ہےوہ، اسلام نہیں ہے۔

پروگرام کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ہمیں سب سے پہلے بحیثیت "انسان" اور کسی بھی مذہب سے بالاتر ہوکر سوچنے کی ضرورت ہے۔ بھائی ہم پہلے "مسلمان "ہیں بعد میں انسان ہیں، جس جس انسان کو اللہ نے بنایا وہ بنیادی طور پر مسلمان ہے۔ اب اگر وہ سرکشی کر کے کفر اختیار کرتا ہے تو اس کو جواب بہرحال اس کو دینا ہوگا

ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار

قوت مذہب سے ہے مستحکم ہے جمعیت تیری

سول سوسائٹی کے ذمہ داران سے بس اتنی ہی گزارش ہے کہ جب بھی اس طرح کا کوئی موضوع رکھیں تو دونوں طرف کی آراء رکھنے والوں کو بلائیں۔ورنہ اکیلے دوڑ میں ہر کوئی اوّل آجاتا ہے اور سونے ہر سہاگہ یہ کہ سوال کرنے کی بھی اجازت نہ ہو۔