احساس نے سوکن کو سہیلی بنا دیا - امّ محمد سلمان

یہ موضوع ہی ایسا ہے، سنتے ہی مردوں کی تو باچھیں کھل جاتی ہیں اور خواتین کا سانس سینے میں اٹکنے لگتا ہے۔ ہاں جی! کبھی مردوں کے سامنے ذرا ذکر تو کیجیے دوسری شادی کا، سنتے ہی لال گلال ہونے لگتے ہیں، ایسی شرمیلی سی مسکراہٹ لبوں پر آتی ہے کہ کیا کوئی دوشیزہ اپنی شادی کے ذکر پر ایسے شرماتی ہوگی جیسے یہ مرد حضرات دوسری شادی کے ذکر پر شرماتے ہیں، گویا ابھی دلہا بننے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اور بیچاری خواتین؟ دوسری شادی کے ذکر سے ہی ان کو ہول اٹھنے لگتے ہیں اور سچی بات ہے بھئی، سوکن کو برداشت کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ پتھر کا جگر چاہیے صاحب!

لیکن میں ایک بات سوچ رہی تھی کہ جس طرح اردو کا ایک محاورہ ہے "دور کے ڈھول سہانے"، یعنی کچھ چیزیں بس دور سے اچھی لگتی ہیں، قریب آنے پر پتہ چلتا ہے، اتنی خوشنما تھیں نہیں، جتنی دور سے نظر آرہی تھیں، بالکل ویسے ہی یہ دوسری شادی کا ہوّا بھی ہے جو کہ اتنا خوفناک اور اذیت ناک ہے نہیں، جتنا دور سے نظر آتا ہے۔

خیر، یہ تصویر کا ایک رخ ہے جو میرے اپنے ذاتی مشاہدے پر مبنی ہے اور ہر بندے کا اس سے متفق ہونا ضروری بھی نہیں۔ تو میں ذکر کر رہی تھی کہ ہمارے ایک جاننے والے ہیں، اشرف ماموں۔ شادی کے اٹھارہ، بیس سال بعد بھی اولاد نہ ہوئی تو انہوں نے دوسری شادی کا سوچا۔ پرانا زمانہ تھا، کم عمری میں شادیاں ہو جایا کرتی تھیں۔ اس لیے دونوں میاں بیوی ادھیڑ عمر ہی تھے۔ کمال کی ذہنی ہم آہنگی تھی دونوں میں، بہت محبت کیا کرتے تھے ایک دوسرے سے۔ لیکن جیسے ہی میاں جی نے دوسری شادی کا ذکر چھیڑا، گھر کا سکون رخصت ہوگیا۔ وہی بیگم جو ہر وقت میاں کی محبت کا دم بھرا کرتی تھیں، اب ہر آئے گئے کے سامنے مظلومیت کا رونا رو رہی تھیں۔ کیا ہوا اگر اولاد نہیں ہوئی ہماری؟ اللہ تعالیٰ کی یہی مرضی تھی۔ اس میں میرا کیا قصور ہے جو مجھ پر سوکن لانے کا سوچ رہے ہیں؟ مگر شوہر ِ نام دار بھی اس بار طے کر چکے تھے کہ شادی کر کے ہی دم لیں گے۔

خیر، جناب بہت رکاوٹیں آئیں، مگر آخرکار اشرف ماموں کی ایک بیوہ خاتون سے شادی ہو ہی گئی۔ خاتون خوبصورت بھی تھیں اور پڑھی لکھی بھی اور سونے پر سہاگہ یہ کہ خوب سیرت بھی بہت تھیں، دو بچے بھی تھے مرحوم شوہر سے۔ مگر حیرت کی بات تھی کہ انہیں ذرا بھی اپنی خوبیوں پر ناز نہ تھا۔ بڑی بیگم، چھوٹی بیگم کو کچھ بھی کہہ دیا کرتیں مگر وہ اُف تک نہ کرتیں بلکہ اکثر مسکرا دیا کرتیں بلکہ اگر میں کبھی چھوٹی مامی سے مذاق میں اشارتاً بھی بڑی مامی کو کچھ کہہ دیتیں تو وہ ایک دم مجھے خاموش کرادیا کرتیں، "بڑی ہیں وہ، عزت کرتی ہوں میں ان کی۔"

"مگر وہ آپ کو کچھ بھی کہہ دیتی ہیں اور آپ چپ کر کے سنتی رہتی ہیں بس، زیادتی ہورہی ہے آپ کے ساتھ مامی جان! آپ اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں۔" ایک دن جبکہ بڑی مامی گھر پہ نہیں تھیں تو میں نے بڑے جذباتی انداز میں تقریر جھاڑ دی اور وہ زور سے ہنس پڑیں اور بڑے دل نشین انداز میں پوچھا، "اچھا! تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟"

"آپ اشرف ماموں سے شکایت کریں ان کی کہ وہ آپ کو بہت تنگ کرتی ہیں، یہ ٹھیک بات تو نہیں ہے نا، آخر آپ میں کس چیز کی کمی ہے جو وہ ہروقت آپ کو باتیں سناتی رہتی ہیں؟"

"ارے اب ایسا بھی نہیں۔ کبھی کبھی کچھ کہہ دیتی ہیں بس! اور کیا فرق پڑتا ہے باتوں سے؟ آپ کے اشرف ماموں تو میرے ساتھ اچھے ہیں نا؟ میرے بچوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں اور بڑی آپا بھی میرے بچوں کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرتیں بلکہ میں اکثر دیکھتی ہوں وہ کبھی میری بیٹی کے سر میں تیل لگانے بیٹھ جاتی ہیں، مالش کرتی ہیں، کنگھی کرتی ہیں اور ساتھ ساتھ مجھے باتیں بھی سناتی رہتی ہیں کہ تمہاری ماں کو تو کوئی سلیقہ نہیں، بچی کے بال تک نہیں بناتی اور میں اس وقت ان کی باتوں کا برا نہیں مناتی۔ میں تو ان کے اندر چھپی ممتا کو دیکھتی ہوں، جو وہ میری بیٹی پر لٹا رہی ہوتی ہیں۔"

اور میں ہونقوں کی طرح چھوٹی مامی کا منہ دیکھنے لگی۔ "آپ ایسا سوچتی ہیں، اپنی سوکن کے بارے میں؟" مجھے بڑی حیرت ہوئی۔

"ہاں! میں کبھی ان کی جگہ پر خود کو رکھ کر سوچتی ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے۔ میں اپنی مرضی سے ان پر سوکن بن کر آئی ہوں اس گھر میں۔ ان کی ایسی کوئی مرضی نہ تھی بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ میں جبراً مسلط کردی گئی ہوں ان پر۔ وہ اس گھر کی تنہا مالک تھیں، اپنے شوہر کی تنہا حقدار تھیں، لیکن میں نے ان کا ہر حق بانٹ لیا ہے۔ یہاں تک کہ میں نے ان کی خوشیاں بھی بانٹ لی ہیں۔ اگر ان کے ہاں اولاد نہ ہوئی تو اس میں ان کا تو کوئی قصور نہیں تھا، یہ تو اللہ کی مرضی ہے۔ ایک تو انہیں اولاد نہ ہونے کا غم، دوسرا شوہر کے تقسیم ہوجانے کا غم اور پھر کچھ نادان لوگوں کے طعن و تشنیع کا غم، جو منہ بھر کے سب کے سامنے ایسی عورت کو بانجھ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں، جس میں وہ بیچاری ذرہ بھر بھی قصور وار نہیں ہوتی۔ ذرا سوچو تو! کتنے دکھوں کا سامنا ہے انہیں، پھر میں ان کے غم کیوں نہ بانٹوں؟ میں اپنی طرف سے کیوں دکھ دوں انہیں؟

"افوہ! مامی جان آپ کتنی بھولی ہیں؟ وہ آپ کے بچوں سے پیار بس اپنے نمبر بڑھانے کے لیے کرتی ہیں، اشرف ماموں کی نظر میں۔ ورنہ انہیں کوئی محبت نہیں آپ کے بچوں سے!"

"ارے یہ تم کیسے کہہ سکتی ہو؟ وہ بھی اتنے یقین کے ساتھ؟" چھوٹی مامی جھلا گئیں اس بار۔

"بھئی سیدھی سی بات ہے مامی جان، وہ سوتیلی ماں ہیں، ان کے دل میں کیا محبت ہوگی آپ کے بچوں کی؟"

مامی جان کچھ دیر میری طرف دیکھتی رہیں، پھر کہنے لگیں، "نہیں ہے تو ہو جائے گی ایک دن۔ وہ بچوں کا خیال کرتی ہیں، بچے بھی ان کی طرف راغب ہوتے ہیں، ایک دن سچی محبت ہوجائے گی، ان شاء اللہ۔ اللہ سے اچھی امید ہے مجھے۔" چھوٹی مامی بڑے یقین سے بولیں۔

اور میں نے دل سے دعا کی کہ کاش ایسا ہی ہو۔


پھر کچھ عرصے بعد چھوٹی مامی کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تو انہوں نے بڑے مان کے ساتھ اپنی بیٹی بڑی مامی کی گود میں ڈال دی۔

"اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے آپا!" اور بڑی مامی خوشی سے نہال ہوگئیں۔

اور پھر جب کبھی میرا اُن کے گھر جانا ہوتا تو بڑی مامی بہت خوش اور مصروف دکھائی دیتیں بچی کے ساتھ اور پھر یکے بعد دیگرے تین بچے اور ہوئے چھوٹی مامی کے یہاں۔ گھر میں ہر وقت ایک خوشگوار سی ہلچل مچی رہتی، گھر کا انتظام بہت خوش اسلوبی کے ساتھ چل رہا تھا، بچے بڑےسب خوش دکھائی دیتے۔ اشرف ماموں بھی بڑے مسرور نظر آتے۔

چھوٹی اور بڑی مامی میں کمال کی انڈرسٹینڈنگ ہوچکی تھی۔ چھوٹی مامی بڑی محبت اور ادب سے انہیں مخاطب کرتی تھیں۔ آپا یہ بات، آپا وہ بات، آپا ایسا کرلیتے ہیں، آپا ویسا کرلیتے ہیں۔ اور بڑی مامی ابھی تک کچھ نہ کچھ الٹا سیدھا کہہ دیتی تھیں، مگر چھوٹی مامی کا ظرف بھی کمال کا تھا ۔ ماتھے پر کوئی شکن آنے ہی نہ دیتی تھیں۔ یوں لگتا مسکراہٹ انہی کے لبوں پر سجتی ہے اور میں انہیں دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ واقعی چھوٹی چھوٹی باتوں کو اگر ہم نظر انداز کرنا اور دوسرے لوگوں کے احساسات کو سمجھنا سیکھ لیں تو زندگی کتنی سہل ہو جائے۔


پھر ایک دن چھوٹی مامی کسی کام سے میرے گھر آئیں تو موقع غنیمت جان کر میں نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ "مامی جان آج تو بتا ہی دیں اس بہناپے کا راز کیا ہے آخر؟" اور چھوٹی مامی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ "تمہیں پتہ ہے رافعہ! میری بڑی بہن کے یہاں بھی شادی کے کافی عرصے بعد تک اولاد نہ ہوئی۔ بہنوئی نے دوسری شادی کرلی مگر ان کی دوسری بیوی نے ان کو بانجھ ہونے کے طعنے دے دے کر جینا مشکل کردیا۔ شوہر کی ساری توجہ بھی دوسری بیوی کی طرف ہوگئی تھی اور میری باجی بیچاری دونوں محاذوں پر پستی رہیں اور آخرکار میکے آبیٹھیں۔ بہنوئی خوش ہے اپنی دوسری بیوی اور بچوں کے ساتھ۔ میں نے تو اپنی بہن کا دکھ دیکھا ہے رافعہ! میں اُن کے لیے تو کچھ نہ کرسکی مگر میں کسی دوسرے کی راہ کے کانٹے تو ہٹاسکتی ہوں۔ میں کسی دوسری عورت کو اس اذیّت میں کیوں ڈالوں جس میں ایک عرصے سے میری بہن مبتلا ہے؟ اور دنیا تو مکافات عمل ہے، آج جیسا کسی کے ساتھ کروگے، کل کو ویسا ہی بھگتنا بھی پڑے گا۔ میری بھی تو تین بیٹیاں ہیں، نہ جانے کل کو کیسے حالات ہوں؟ اللہ تعالیٰ میری بچیوں کے نصیب اچھے کرے،انہیں زمانے کے سرد و گرم سے بچائے۔ آمین!"

یہ کہہ کر مامی جان تو چلی گئیں مگر میں اپنی جگہ سوچتی ہی رہ گئی۔ اگر ہر بندہ مکافات عمل کے بارے میں سوچ لے تو دنیا سے ظلم و جبر کا خاتمہ ہی ہوجائے۔

یقیناً چھوٹی مامی کی قربانیوں اور رشتوں کے احترام اور رشتوں کو جوڑ کر رکھنے کا صلہ ان کی اولاد کو بھی ضرور ملے گا۔ ان شاء الله ۔ گھر بنتے ہیں خدمت، صبر، برداشت، خلوص، محبت اور معاملہ فہمی سے!


معزز قارئین! اس کہانی کے پس منظر میں بھی ایک سچا واقعہ ہے۔ ہمارے معاشرے کا ایک یہ بھی المیہ ہے کہ کسی خاتون کے یہاں اولاد نہ ہو تو اسے ہی قصوروار سمجھتے ہیں حالانکہ یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ "وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہے بیٹے بخشتا ہے۔ یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے۔ " (سورہ الشوریٰ، آیت 49 و 50) ہم لوگ کون ہوتے ہیں اس کی قدرت میں دخل دینے والے؟ اس کے کام وہی جانے کس کے لیے کیا بہتر ہے۔ دوسری بات یہ کہ مرد حضرات کو یہ تو یاد رہتا ہے کہ اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے مگر بیویوں میں عدل کرنے کا حکم بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ عدل کی ضد ظلم ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو بڑی سخت سزا دیتا ہے۔ ڈرنا چاہیے اللہ کی پکڑ سے، بے شک اس کی پکڑ بہت شدید ہے۔

Comments

Avatar

امّ محمد سلمان

کراچی میں مقیم اُمِّ محمد سلمان نے زندگی کے نشیب و فراز سے جو سبق سیکھے، ایک امانت کے طور پر دوسروں کو سونپنے کے لیے قلم کو بہترین ساتھی پایا۔ اُن کا مقصد ایسی تحاریر لکھنا ہے جو لوگوں کو اللہ سے قریب کریں اور ان کی دنیا و آخرت کی فلاح کا سبب بنیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.