آزاد مر کیوں نہیں جاتا؟ حافظ یوسف سراج

آخر یہ ابوالکلام آزاد مر کیوں نہیں جاتا، مر گیا ہے تو یہ اپنی قبر میں ٹک کیوں نہیں جاتا؟ آخر اس کی قبر پر گھاس کیوں نہیں اگ آتی، کیوں اس کی قبر پر برابر پھول کھلتے ہیں؟ جب اس نے خود ہی اپنا ٹھکانہ پرائے دیس میں چن لیا تھا تو پھر کیوں اس کی آواز سرحد پار رک نہیں جاتی؟ آخر وہ کب تک یونہی ہماری زندگیوں میں دندناتا پھرے گا؟ کیا اسے بھولے بغیر اب ہم جی بھی نہ سکیں گے؟ کیوں اسے بار بار بہت برا اور بہت چھوٹا کہنا ہماری ضرورت بن جاتی ہے۔ اس کی چند گنجلک تحریروں میں ایسی کیا تاثیر ہے کہ ہمیں لوگوں کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ اس کی تحریر سمجھ میں آنے والی نہیں، کم از کم نہ سمجھنے میں تو کوئی دقت نہیں ہوتی، جو چیز سمجھ میں نہ آئے کوئی کیسے سمجھ سکتا ہے کہ وہ سمجھ میں آگئی ہے؟ آخر ہم انسانوں کو اتنی سی بات خود سمجھ لینے کے اہل کیوں نہیں سمجھ لیتے۔ آخر لوگ اس کا نام لیتے ہی کیوں ہیں؟ اس کے نام پر تو اب بس گالی ہی ملتی ہے، کج روی کا طعنہ اور حب الوطنی مشکوک ہونے کا پروانہ ملتا ہے، اس کے نام پر کسی اکیڈمی کے لیے کوئی گرانٹ بھی نہیں ملتی، پھر کیوں کچھ نادان اس کا نام لیے چلے جاتے ہیں۔

رقیبوں نے رپٹ لکھوائی جا جا کے تھانے میں

کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

آخر آزاد سے محبت کسی قانون کے تحت جرم کیوں قرار نہیں دے دی جاتی؟ اپنی تاریخ اور اپنا نصاب تو ہم نے خود لکھا ہے، پھر کیا وہ واقعی اتنا ضدی ہے کہ ہماری لکھی تاریخ اور ہمارے کھینچے دائروں میں بھی دراتا چلا آتا ہے۔ ہم اسے گالی دے کر بھی مطمئن کیوں نہیں ہوتے؟ ویسے ہم اسے گالی کیوں دیتے ہیں؟ کیا اس نے ہمیں گالی دی؟ ہماری مٹی کو دی ؟ ہمارے لیڈر کر دی؟ کوئی ایک گالی؟ اچھا چھوڑئیے کوئی ایک طنزیہ فقرہ؟ ’شو بوائے‘ اور ’مولانا ہاہا‘ اسے کہا گیا تھا، اس نے ہمیں تو نہ کہا تھا۔ کہیں آپ یہ تو نہیں سمجھتے کہ اسے طنز لکھنا ہی نہیں آتی تھی؟ ممکن ہے وہ ایسے ہی ابوالکلام بن گیا ہو؟ مرنے کے بعد اب تک یونہی جیتا چلا آتا ہو؟ اچھا چلو وہ مر گیا تو آخر ہم اس کی قبر سے کس جواب کی توقع میں اسے پکارتے ہیں؟ وہ تو زندہ بھی تھا تو کبھی اس نے کسی کو پلٹ کے جواب نہ دیا تھا، کسی بہی خواہ کو بھی جواب دینے نہ دیا تھا، کسی نے خط لکھ کر وضاحت مانگی، تو لکھ بھیجی، وگرنہ سب سن لیا، سب سہہ لیا۔ اب کوئی دانش بھی آگئی ہے۔ ویسے جتنی ہماری تحقیق آتی رہتی ہے، اسے دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ خدا کرے اب ہمیں تحقیق کرنا بھی آ جائے۔ وہی اگلی ہوئی باتیں، وہ دہرائی ہوئی گھاتیں کہنے کو آخر ہم تحقیق کیوں کہتے ہیں۔ پھر کیا بہت نیچی بات کو بہت اونچا کہنے سے وہ اونچی بھی ہو جاتی ہے؟ ایک ہلکی بات کسی اونچے آدمی کے کہنے سے اعلیٰ بھی بن جاتی ہے؟ اب جو باتیں شورش کاشمیری خود جا کے اس ستم رسیدہ سے پوچھ چکا، جو باتیں عبدالماجد دریا بادی، سید سلیمان ندوی اور بابائے اردو تک کہہ چکے، انھیں دوبارہ ایجاد کرنے کو ہم تحقیق کہنے پر کیوں مصر ہیں۔ یہی باتیں شورش نے اپنی کتاب میں یوں لکھیں کہ دل جلا کے رکھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیریوں پر بد ترین ظلم کے باوجود انڈیا سے تجارت - ترئین حسن

آپ اسے گالی دیتے ہیں تو کچھ غلط بھی نہیں کرتے۔ اپنے لیے گالی کا تو وہ خود بھی انتظام کر گیا تھا، آخر اس نے ہوا کے رخ کے مقابل اور مخالف چراغ جلانا پسند ہی کیوں کیا تھا، چراغ جلا بھی تھا یا نہیں؟ آپ فرماتے ہیں اس کا چراغ بجھ گیا، تاریخ لیکن بڑی ظالم شے ہے، کچھ پتا نہیں کب کسے کیا لکھ دے۔ کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ وہ ہوا کا رخ پہچانتا ہی نہ تھا؟ شاید یہ کہنا ہماری ہی غلطی ہو، ویسے کیا کچھ غلطیاں ہم سے بھی ہو سکتی ہیں نا؟ یا ساری صرف اسی سے؟ مدینہ بجنور کے ایڈیٹر نے اس سے کہا تھا، آپ کے خیالات کی بنا پر مسلمان آپ کو چھوڑ دیں گے، اس نے مسکرا کے کہا تھا تو کیا محض اس لیے میں وہ باتیں کہنا چھوڑ دوں، جو میرے نزدیک حق ہیں۔ ایک مجلس میں کسی نے کہا، اس صورت میں مسلمان تو آپ کو اپنا ترجمان نہیں سمجھ سکتے۔ مجلس سناٹے میں تھی، اس نے مگر نرمی سے کہا، سچ کہتے ہو بھائی! میں خود بھی اپنے کو مسلمانوں کا نہیں اسلام کا ترجمان سمجھتا ہوں۔ وہ جس کے اجداد کی قبروں کو نوچا گیا، جس کی ذات پر بارودی سرنگیں فٹ کر دی گئیں۔ وہ مگر درد سہتا رہا، چپ رہا۔ آپ سمجھتے ہیں وہ کسی معمولی بات کو گھڑ بھی لیتا تھا؟ اچھا گھڑ ہی لیتا ہوگا، لیکن کیا ایسی کہ جو تین دن نہ چل سکے؟ پھر تو اس پورے عہد کی بصیرت پر سوال اٹھے گا، جو کم از کم اسے ایک شریف النفس تو مانتا رہا۔ عزت پر حملوں کے بعد اس پر جسمانی حملوں کا دور آ گیا تھا۔ تب لیڈر بھاگ کے چھپ جاتے، وہ مگر کھڑا رہتا۔ بھاگنا اس نے سیکھا ہی نہ تھا۔ اس دن بھی، جب سرحدی نوجوان اگر آڑے نہ آتے تو وہ خون کی چند بکھری بوندیں رہ جاتا۔ وہ مگر بے نیازی سے کھڑا سگریٹ پھونکتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   چکور خوش ہے کہ بچوں کو آگیا اڑنا - شبیر بونیری

وہ بس ایک عبقری تھا، امین احسن اصلاحی نے ایڈیٹر مدینہ کی اصلاح کی تھی، کہ سو نہیں وہ ہزار دماغوں کو نچوڑ کر بنایا گیا تھا۔ شبلی نے اسے مانا تھا، اقبال نے اس کے خلاف کچھ نہ لکھا تھا۔ وہ عبقری دماغ عالم تھا مگر سیاست اسے اپنے کانٹوں پر گھسیٹ لائی تھی، سیاست دان وہ ہر گز نہ تھا، اگر تھا تو آپ درست فرماتے ہیں، وہ ایک ناکام سیاست دان تھا، سیاستِ مروج کی تنگنائی میں پورا نہ اتر سکنے والا۔ سیاست اس کے بس کی تھی ہی نہیں، وہ کسی اور آب و گل سے تراشیدہ آدمی تھا، اس کا ذہنی سانچہ راہِ عام کو مطمئن کرنے کی صلاحیت ہی نہ رکھتا تھا، وہ ایک مدبر ضرور تھا، اس کے ڈاکٹر نے بتایا، اس کا مرض قوم کے لیے پالی اس کی حساسیت کا عکس ہے۔ یعنی وہ دل رکھتا تھا، اور سیاست کے سینے میں تو دل نہیں ہوتا نا۔ نہیں، خود پسندی ، نرگسیت اور خبطِ عظمت کا شاہکار بھی وہ نہیں تھا، وہ انسانی ہجوم میں تنہائی کا شکار شخص تھا، وہ لوگوں کو میرے بھائی اور مولوی صاحب کہہ کے بلاتا تھا، وہ کبھی اشتعال میں نہیں آتا تھا، اس کے پاس لباس بہت نہیں تھے اور جو تھے وہ پیوند زدہ تھے۔ اس کے پاس روپے کی بھی بہت کمی رہتی، کئی مہاراجوں اور دوستوں کی امدادیں پھر بھی وہ بےنیازی سے نظر انداز کر دیتا۔ اسے قرآن کی تفسیر کتنی بار لکھنا پڑی، وہ جیل جاتا اور اس کے تفسیری اوراق سیاسی صفحات سمجھ کے ضبط کر لیے جاتے، وہ پھر لکھتا اور پھر یہی ہوتا، اس کے پاس کاغذ کے لیے روپیہ نہیں ہوتا تھا، کتنا عرصہ وہ جیل پڑا رہا۔ اس کی زلیخا کا جنارہ اٹھا تو وہ جیل میں تھا۔ وہ کچھ ایسا ہی تھا۔

اب وہ مر گیا ہے اور آپ کو تصوف سے شغف ہے، آپ اسے معاف کیوں نہیں کر دیتے۔ آپ اسے مرا ہی کیوں رہنے نہیں دیتے، اپنے کچوکوں کے لیے آپ اسے بار بار زندہ ہونے پر کیوں مجبور کرتے ہیں۔ اچھا برا وہ مسلمان تھا، ہمیں گالی نہیں دیتا تھا اور ہمارے خطے کی آزادی کے لیے انگزیز سے لڑا تھا۔ پھر ایک مر گیا انسان سمجھ کے آخر ہم اسے چین سے مرا ہی کیوں نہیں رہنے دیتے؟

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.