دبئی کیسا ہے؟ میں نے کیا دیکھا؟ (آخری قسط) نیر تاباں

صبح نو سے رات دس بجے تک دبئی کی تمام چیدہ چیدہ جگہیں ہمیں گھما دینے والی ہماری بس۔ دن بھر تو کبھی شوق میں اوپر والی منزل میں چھت کے نیچے بیٹھ جاتے، کبھی گرمی سے گھبراتے تو نیچے اے سی میں چلے جاتے۔ زیادہ تر سفر ویسے کھلی ہوا میں ہی کیا۔ شام کے بعد سب سے پیچھے، بغیر چھت والی جگہ بیٹھے اور بہت لطف آیا۔ شام والے سفر میں خآص بات گائیڈ کا ہونا تھا۔ ہر چیز کی تفصیلات اتنے دلچسپ طریقے سے بتاتا تھا، فون کی بیٹری ختم ہونے والی نہ ہوتی تو ریکارڈ ہی کر لیتی۔ اب لکھنے میں کام آتا. بس صبح نو بجے اپنا سفر شروع کرتی ہے۔ آپ کو ٹکٹ کے ساتھ ہی نقشہ دے دیا جاتا ہے تا کہ آپکو پتہ ہو اب اگلا سٹاپ اوور کہاں ہو گا۔ نقشے اور ٹکٹ کے ساتھ آپکو ایئر فونز بھی دئے جاتے ہیں۔ ریڈیو پر آنے والے سٹاپ کے بارے میں معلومات دی جاتی ہے۔ آپ جس سٹاپ پر اترنا چاہیں اتر جائیں۔ بسیں آدھے گھنٹے کے وقفے سے چلتی ہیں۔ شام ساڑھے پانچ بجے دن کا سفر ختم ہوتا ہے اور دو گھنٹے کے وقفے کے بعد شام کا سفر ساڑھے سات سے شروع ہو کر گیارہ بجے تک جاری ہوتا ہے۔ آپکی ٹکٹ ایک دن کی ہوتی ہے، یعنی پورا دن جتنا بھی چاہیں گھوم لیں، ٹکٹ اگلے دن پر منتقل نہیں کی جا سکتی۔ اگر آپ مختصر قیام کے لئے دبئی جا رہے ہوں تو میرا مشورہ ہے کہ بس ٹور ضرور لیں۔ اور اگر آپ کے پاس زیادہ وقت ہے تو کوشش کریں کہ ایک دن بس ٹور ضرور لیں۔یعنی کہنا یہی ہے کہ؟ بس ٹور ضرور لیں!


یہ آبرا کہلاتی ہیں، پرانی طرز پر بنی لکڑی کی کشتیاں۔ پرانی، روایتی چیزوں میں اپنا ہی ایک حسن اور character ہوتا ہے۔ انہی کو دیکھ لیں! اس وقت ہم اولڈ سوُک میں ہیں۔ بس میں بیٹھنے کے بعد ہمارا پہلا سٹاپ یہی ہے۔ شور شرابے اور پیسے کی چکا چوند والے دبئی سے نکل کر یہاں آنا ایک اچھا چینج ہے۔ ایسا لگ رہا ہے واپس اپنی اوقات میں آ گئے ہوں۔


یہ اولڈ سوُق یعنی پرانا بازار ہے۔ اتنا سستا ہے کہ میں نے دس درہم کا ایک کرتا اپنے لئے خریدا۔ ظاہر ہے کوالٹی بھی نارمل ہی ہے لیکن کھلے کھلے رنگ اور کافی سٹائلش۔ برجمان سینٹر سے ایک دو souveniers لئے تھے جن پر اب میں پچھتا رہی تھی۔ ایک کپ جس پر دبئی لکھا تھا، ہم نے وہاں سے 30 درہم کا لیا جو یہاں سے دس یا اس سے بھی کم میں مل جاتا۔ کبھی جانا ہو تو پہلے یہاں جائیے اور چیک کر لیجیے۔ عین ممکن ہے آپکی مطلوبہ چیز کافی کم دام میں یہاں سے مل جائے۔

'
اگلا سٹاپ ڈیرہ کریک پر تھا۔ پہلے دن جب سپیڈ بوٹ‌ ٹور پر گئے تو سجا سجایا ڈاؤ کروز دکھایا تھا آپ کو، یہ وہی ہے۔ اس میں ڈنر تو نہیں کیا، لیکن دن کے وقت سیر کر لی تھی۔


یونیورسٹی آف دبئی نے Happiness and positivity program کے نام سے ایک نیا پروگرام شروع کیا ہے جس کا مقصد کمیونٹی میں خوشی اور مثبت تبدیلی لانا ہے، اسکے لئے سٹوڈنٹس کے والدین سے رابطہ، صحت اور غذائیت کے اعتبار سے اچھی عادات کو فروغ دینا اور اسی قسم کی دوسری چیزیں شامل ہیں۔ یہ یونیورسٹی آف دبئی کے اس پروگرام کا لوگو ہے۔


بس وافی مال رکی تھی۔ تین چار سواریاں اتر گئیں جبکہ کچھ ہمارے ساتھ آگے جانے کے لئے بس میں سوار ہو گئیں۔ ہمیں مال نہیں جانا تھا اسلئے ہم نے بس پکچر لے لی۔ بہت پہلے کوئی ڈاکومینٹری دیکھی تھی جس میں وافی مال کے آرکیٹیکٹ میں استعمال ہوئے 'الومیناٹی' کے سمبلز دکھائے گئے تھے۔ ذہن میں وہی سب گھوم رہا تھا۔۔۔ کتنے تو اس ایک تصویر میں ہی نظر آ رہے ہیں۔۔۔


بس میں اوپری منزل پر بیٹھے ہم دبئی پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال رہے تھے جب اس فریم پر نظر پڑی۔ زعبیل پارک میں بنایا جانے والا یہ دنیا کا سب سے بڑا فوٹو فریم ہے جو 500 فٹ اونچا اور 300 فٹ چوڑا ہے۔ اس فریم کے ایک طرف سے دیکھیں تو ماڈرن دبئی کے ہوٹل اور پرشکوہ عمارات نظر آئیں گی، جبکہ دوسری جانب پرانا دبئی جیسے ڈیرہ، ام ھریر، کرامۃ وغیرہ دکھائی دیں گے۔ اس کی خاص الخاص بات یہ ہے کہ اسکا ٹاپ سیکشن، 47 منزلہ، فرش سمیت پورے کا پورا شیشے کا بنا ہو گا۔ اس کے آرکیٹیکٹ کے مطابق "ایسا لگے گا آپ آسمان میں چل رہے ہوں۔"


جمیرہ مسجد دبئی کی واحد مسجد ہے جہاں ہفتے میں چھ دن غیر مسلموں کو بھی آنے کی اجازت ہے، ہاں خواتین کا سر ڈھانپنا ضروری ہے۔ مسجد میں قریبا" 1200 نمازیوں کی جگہ ہے اور آج تک دبئی میں جس مسجد کی سب سے زیادہ تصاویر بنائی گئیں، وہ جمیرہ مسجد ہی ہے۔ سنا ہے شام میں جب لائیٹس جلتی ہیں تو کئی گنا زیادہ پیاری لگتی ہے۔


بس اب پام جمیرہ آ کے رکی تھی۔ کچھ ہی دیر میں آگے بڑھنا تھا۔ یہاں پھر وہی کھجور کے درخت جن کا حسن انسان کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ پام جمیرہ اپنی نوعیت کی ایک انوکھی چیز ہے۔ پانی میں کافی سارے جزیرے اس طرح سے بنائے گئے ہیں کہ جب انہیں آپس میں جوڑا جائے تو 'پام' یعنی کھجور کے درخت کی شکل بنتی ہے۔ 7 ملین مربع میٹر پر پھیلے یہ جزیرے دنیا کے سب سے بڑے مصنوعی/مین-میڈ جزیرے ہیں۔ پام جمیرہ پر کھجور کے درختوں کی سپلائی کے لئے 12000 درخت نرسریوں میں اگائے جا رہے ہیں۔ ویسے تو اس عجوبے کے بارے میں بہت کچھ حیران کن پڑھنے کو ملا لیکن دو باتیں جو سب سے کمال لگیں، بتاتی ہوں۔ پہلی شاید آپکو پہلے سے پتہ ہو گی کہ اپنے وسیع رقبے اور انوکھے ڈیزائین کی وجہ سے پام جمیرہ ان چند عجائبات میں سے ہے جنہیں خلا سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسری کے لئے دل تھام کر بیٹھیں۔ میں ابھی تک محوِ حیرت ہوں۔ سنیں! جتنا میٹیریل پام جمیرہ کی تعمیر میں استعمال ہوا ہے، اس سے پوری دنیا کے گرد دو میٹر اونچی اور آدھا میٹر چوڑی دیوار تین مرتبہ تعمیر کی جا سکتی ہے۔


ہم پام جمیرہ کی سڑکوں پر ہیں۔ پام جمیرہ: وہی مشہورِ زمانہ، مصنوعی، مین میڈ جزیرہ! حیران کن ہے کہ سمندر میں یہ لوگ کس طرح تعمیر کر رہے ہیں؟! میں سڑک کے ایک طرف دیکھتی تو سمندر، گردن کھما کر دوسری جانب دیکھتی تو سمندر۔۔ دونوں طرف سمندر اور اسکے بیچوں بیچ سڑک پر ہماری بس چل رہی ہے۔ انسان کو کس قدر عقل دی ہے اللہ نے، اور وہ کس حد تک اس عقل کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔۔۔ بس حیران ہوں!

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کے دیس میں (8) – احسان کوہاٹی


ایٹلانٹس پام جمیرہ پر کھلنے والا پہلا لگژری ہوٹل ہے، اور دبئی کے مہنگے ترین اور بڑے ترین ہوٹلوں میں سے ایک۔


یہاں پام جمیرہ سے دبئی کو دیکھو تو لگتا ہے کہ بس یہی اس کا اصل ہے۔ اینٹ پتھر کی بنی ڈھیروں ڈھیر اونچی لمبی بےجان عمارات.۔۔


ایٹلانٹس، دی پام - رات کے وقت!
ہم ابھی تک بس میں تھے۔ احمد میری کندھے پر سر رکھے سو چکے تھے۔ دراصل جب ڈے ٹور ختم ہوا تو کھانے کے دوران احمد نے کہا کہ اب واپس چلتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو میرا بھی دل چاہا کہ بچے کو زیادہ نہ تھکاؤں، لیکن دوسری طرف یہ خیال بھی تھا کہ شام چھ بجے سے ہم ہوٹل جا کر ایک کمرے میں قید کیا کریں گے۔ اب وہ سرِ شام سو تو نہیں جائے گا، اور پھر مجھے ہی کہے گا کہ بور ہو رہا ہوں۔ دوسرا خیال یہ آ رہا تھا کہ وہی چیز دن میں دیکھنا اور بات ہوتی ہے، لیکن رات میں اسکا حسن سوا ہوتا ہے۔ کیلگری میں بھی ایک خاموش جگہ جو قدرے اونچائی پر تھی، میں ان سے اکثر وہاں جانے کی فرمائش کرتی تھی کہ مجھے 'بتیاں' دکھا لائیں۔ یہاں بھی ایک ایسی ہی جگہ پر یہ مجھے لے گئے، اور اب میں خود ہی کبھی وہاں چلی جاتی ہوں۔ رات کی خاموشی، ہوا کی خنکی، اور اونچائی سے شہر کی روشنیاں دیکھنا۔ میں رات کا بس ٹور مس نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مجھے اندازہ تھا مجھے اچھا لگے گا۔ اور یقیناً یہ ایک اچھا فیصلہ تھا۔ فون کی بیٹری آخری سانسیں لے رہی تھی۔ جب تک ممکن ہو پائے، کچھ اہم جگہوں کی تصویریں لینی تھیں۔ ہم ڈبل ڈیکر بس کے اوپری حصے میں تھے۔ موسم اس وقت ویسے بھی بہتر ہو جاتا ہے اور کھلی بس میں اور بھی خوبصورت۔ دور تک سٹی لائیٹس نظر آ رہی تھیں۔ گائیڈ مختلف عمارتوں کی طرف اشارہ کر کے ان کے بارے میں دلچسپ معلومات دے رہا تھا۔


ان کے بارے میں گائید نے کچھ بتایا تھا جو مجھے بالکل بھی یاد نہیں۔ کوئی ہے جو یاد کروائے؟ خیر یہ آج کی آخری تصویر ہے۔ اس کے بعد گھومتے گھماتے بس دبئی مال رکی تھی۔ گائیڈ کہیں انڈر گراّؤنڈ واک پر لے کر جا رہا تھا اور پندرہ منٹ کے بعد بس نے آگے بڑھنا تھا۔ سوئے ہوئے احمد کو جگا کر واک کے لئے گھسیٹنا مجھے اچھا نہیں لگا اس لئے ہم نے اپنا سفر یہیں ختم کیا، ٹیکسی لی اور واپس ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے۔


آج دبئی قیام کا آخری دن ہے، ہمیں رات دس بجے ہوٹل سے نکل کر دبئی سے ابو ظہبی کے لیے روانہ ہونا ہے۔ صبح ہوٹل سے نکلنے سے پہلے پیکنگ کر کے سامان نیچے luggage room میں رکھوا دیا ہے۔ یہاں یہ غلطی ہوئی کہ ہم نے آج پورے دن کے لئے ہوٹل کے کمرے کی بکنگ کروا رکھی تھی حالانکہ ہم صبح دس بجے کمرے سے نکل چکے تھے۔ اسکا ذکر اس لئے کیا کہ اگر آپ کو جانا ہو تو ہوٹل کی بکنگ میں اس بات کا خیال رکھیں۔ آج ہمیں لیگو لینڈ جانا ہے جسکا کرایہ ٹیکسی نے 140 درہم بتا دیا۔ اب آخری دن ٹیکسی پر آنے جانے کا 280 درہم بالکل بھی افورڈ نہیں کیا جا سکتا اسلئے سوچا میٹرو ٹرین پر چلا جائے۔ یوں ہم ٹیکسی سے ٹرین سٹیشن پہنچے جو ہوٹل کے پاس ہی تھا اور وہاں سے میٹرو کا ٹکٹ لیا۔ بہت آسان طریقہ کار تھا، آرام سے انفارمیشن ڈیسک پر جا کر دس درہم کا ٹکٹ لیا، احمد کا ٹکٹ نہیں تھا۔ اگر آپکا جانا ہو تو ٹیکسی پر پیسے جلانے کی بجائے میٹرو بہترین آپشن ہے، یہ بات مجھے آج آخری دن سمجھ آ رہی تھی۔


جاتے ہوئے رستے میں ہم جہاں ہم کچھ دیر کے لئے رکے اسے لاسٹ ایگزٹ کہتے ہیں۔ پرانی 50s کی گاڑیوں کو سجا سنوار کر ڈسپلے کیا گیا ہے۔ بنیادی طور پر یہ فوڈ ٹرک شاپ ہے جہاں کھانے ٹرک میں بنائے اور سرو کئے جاتے ہیں۔ گاڑیوں کے ہی بونٹ اور ٹرنک میں پودے لگا کر سجاوٹ کی گئی ہے۔ بیٹھنے کا انتظام ایک بڑے ٹریلر میں ہے۔ ہم نے کچھ کھایا نہیں، بعد میں پتہ چلا کہ وہاں ٹریلر کے اندر ہی کوئی اریبک آئس کریم بہت مشہور ہے۔ دراصل جب ہم گئے تو صبح دس ساڑھے دس کا ٹائم تھا اور کافی بےرونقی تھی۔ ہم نے بمشکل آدھا گھنٹہ وہاں گزارا اور پھر اپنی منزل کی طرف بڑھے۔ لیگو لینڈ!


لیگو لینڈ کی وجہ سے ہی دبئی جانے کا ارادہ بنا تھا، اسکو سب سے آخر پر رکھنے کا مقصد یہ تھا کہ احمد اسکے انتظار میں باقی ٹرپ اچھے سے انجوائے کر لیں گے جب پتہ ہو گا، The best is yet to come!


"اررے آپ یہاں؟ بہت خوشی ہوئی آپ سے مل کر!"


لیگو لینڈ کو دو حصوں میں بانٹا گیا تھا۔ لیگو لینڈ واٹر پارک، اور لیگو لینڈ تھیم پارک۔ جب ہم پہنچے تو ابھی تھیم پارک کے کھلنے میں گھنٹہ باقی تھا اسلئے پہلے واٹر پارک میں ہی گئے۔ یہاں بھی ہمیں وہ بڑا سا ڈول اور big splash مل گیا تھا جس کے ہم وائلڈ وادی میں دیوانے ہوئے جا رہے تھے، وہی جو ہر چند منٹ کے بعد آپ پر 300 گیلن پانی ڈالتا ہے۔


کتنی ہی بار یہ سلائیڈ لی ہم نے، ہر بار اتنا ہی انجوائے کیا! پانی کے زور پر سلائیڈ سے نیچے آ کر جب دھم سے پانی میں گرتے تھے، مزہ ہی آ جاتا تھا!


یہ پول دو سال کے بچوں سے لے کر بڑوں تک کے لئے ہے۔ اس جگہ بہت تھوڑا پانی ہے جیسے جیسے آگے بڑھیں، پول گہرا ہوتا جاتا ہے۔ رش کم تھا اسلئے احمد کو نسبتاً گہرے پانی میں جانے کی اجازت دے دی، ساتھ میں لائف گارڈز کو تاکید کہ اس پر دھیان رکھیں۔ یوں کافی دن سے جو کام احمد کرنا چاہتے تھے اور کر نہیں پا رہے تھے، وہ بھی آخر ہو ہی گیا۔


پیچھے نیلی والی وہ سلائیڈز ہیں جنکا ذکر اس دن میں نے کیا تھا، جس میں میرا دل بند ہو رہا تھا، حالانکہ ہماری والی بالکل تھوڑی دیر کی تھی، سپیڈ بھی مناسب تھی۔ ان پر بیٹھنے والوں کی ہمت کو سلام! واٹر پارک میں بہت دیر کھیلے لیکن تصویریں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اب یہاں سے آگے ہم لیگو لینڈ‌ تھیم پارک جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دبئی کیسا ہے؟ میں نے کیا دیکھا؟ نیر تاباں


پہلا پڑاؤ لیگو فیکٹری ہے۔ یہاں یہ لوگ آپکو ایک چھوٹا سا ٹور دیتے ہیں کہ لیگو کس طرح بنائی جاتی ہے۔ لیگو سٹور بھی ہے، جہاں سے بچوں کا بغیر کچھ خریدے نکلنا مشکل کام ہے۔ احمد تو پتہ نہیں کیا کیا پسند کر رہے تھے، لیکن یہ تلوار ہی سب سے سستی تھی اسلئے پلیز احمد، اسی پر گزارہ کریں۔ آخری دن ہے، سمجھنے کی کوشش کریں۔ 😉


آہا! اب آئیے Miniland کی طرٍف! لیگو لینڈ کو مزید چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں ایک وہی لیگو فیکٹری جہاں سے ابھی آئے، اب منی لینڈ کی طرف آئیے۔ سب سے زیادہ مزہ مجھے یہیں آیا۔ پورے لیگو لینڈ پارک میں 15000 لیگو ماڈلز ہیں، جن پر 60 ملین لیگو پیس استعمال ہوئے ہیں۔ ان میں سے 20 ملین صرف منی لینڈ میں ہی استعمال ہوئے۔ پارک کا سب سے بڑا لیگو ماڈل بنانے میں 3900 گھنٹے لگے ہیں، 1250 اسکی development کے لئے اور 2650 گھنٹے اس کو اسیمبل کرنے اور گلو سے جوڑنے میں!


دور سے پوری پکچر زیادہ واضح ہوتی لیکن اس زاویے سے تصویر کھینچنے کا مقصد یہ ہے کہ لیگو آرٹ نمایاں ہو سکے۔


لیگو میٹرو سٹیشن!


اہرامِ مصر۔ لیگو سے پورا مصر شہر آباد کیا ہوا ہے۔


لیگو سے بنا برج الخلیفہ! حقیقت سے قریب تر بنانے کے لئے نیچے فوارے بھی چل رہے ہیں۔


تصویر میں وہ بات نہیں جو حقیقت میں تھی۔ ایک ایک لیگو پیس سے جڑ کر بنا شہر دبئی، پھر چلتی ہوئی لیگو کی بسیں، پانی میں تیرتی لیگو کشتیاں، چلتے پھرتے لیگو لوگ، تعمیر کرتے ہوئے لیگو مزدور۔۔۔ لیگو سٹی کہنا چاہیے اس کو۔ انتہائی کمال!


شام ہو رہی تھی۔ منی لینڈ سے نکل کر کچھ اور جگہوں پر بھی گئے جیسے لیگو کے ہیلی کاپٹر، فائر ٹرک، ایک ڈریگن رولر کوسٹر اور کچھ اور رائیڈز لیکن سبھی میں احمد اور میں ساتھ تھے اسلئے ہماری ان پر کوئی تصویر نہیں، بس خوبصورت یادیں ہیں۔ یہ بھی بس یونہی ایک تصویر لے لی۔ اسکی بیک سائیڈ پر ایک تھیٹر ہے جہاں 15 منٹ کے لئے بچوں کی 4D مووی دکھائی جاتی ہے۔ آج لیگو ننجیگو مووی تھی، وہ دیکھی۔ ایک کمرے میں انہوں نے ایسا سیٹ اپ کیا تھا کہ لیگو سے گاڑیاں بنائیں اور انکے ریس ٹریک بنائے ہوئے تھے، وہ بھی یہیں پاس ہی تھا۔ وہاں احمد کے ساتھ میری لیگو کار کی ریس ہوئی لیکن ہر بار ہاری۔ پھر وہی بات، کھیلنے میں مصروف ایسے ہوئے کہ تصویر نہیں ہے لیکن اگر جانا ہو تو بچوں کے لئے بہت سی جگہیں ہیں جو وہ انجوائے کریں گے۔ لیگو لینڈ کا ایک حصہ جہاں ہم نہ جا سکے وہ submarine کا تھا۔ اکویریم کی طرح کا کچھ ہے، دیکھ نہ پائے۔


پتہ ہی نہیں چلا، رات بھی ہو گئی۔ اب جلدی سے نکلنا ہے کیونکہ ہوٹل یہاں سے کافی دور ہے۔ یہاں سے ٹیکسی سے ابن بطوطہ مال تک گئے جہاں سے میٹرو لی۔ یوں ہم نے آدھے پیسوں میں اپنا سفر مکمل کیا!

ہوٹل پہنچ کر فٹافٹ تیار ہوئے، سامان اٹھایا اور آگے روانگی۔ ہمیں دبئی سے ابوظہبی کے لئے نکلنا تھا۔ احمد تو گاڑی میں بیٹھتے ہی سو گئے تھے، میں پچھلے پانچ دنوں کو ذہن میں ریوائنڈ کر رہی تھی۔ دبئی آنے سے پہلے جب مختلف بلاگز پڑھ رہی تھی کہ چھ سال کے بچے کے ساتھ پانچ دن کے لئے دبئی جانا ہو تو کہاں کہاں جانا چاہیے۔ اس وقت سوچا تھا کہ میں بھی اردو میں کچھ ایسا لکھوں گی جس سے باقیوں کی مدد ہو سکے۔ کب وہ 'آرٹیکل' ایک تفصیلی تصویری سفرنامے میں تبدیل ہوا، پتہ ہی نہیں چلا۔ اگر پہلے سے یہ پروگرام ہوتا تو تصویریں زیادہ بہتر ہو سکتی تھیں، لیکن ایک لحاظ سے اچھا ہوا کہ میرا دھیان انجوائے کرنے کی طرف زیادہ رہا۔

دبئی میں پانچ دن بہت اچھے گزرے۔ ہوٹل اور کھانے پینے پر ہم نے اتنے ہی پیسے خرچ کیے جتنے ضروری تھے۔ ٹیکسی پر بہت پیسے ضائع ہوئے جنکی بچت کی جا سکتی تھی، میٹرو سروس بہت اچھی ہے۔ ہوٹل کا ایک دن کا کرایہ بھی بچ سکتا تھا کیونکہ ہم نے چیک آؤٹ ٹائم سے پہلے کمرہ خالی کر دیا تھا۔

ٹرپ بہت well-planned تھا۔ کس دن کہاں کہاں جانا ہے، کتنی دیر رکنا ہے، سب میں نے نوٹ بک میں لکھا ہوا تھا۔ اور سب کچھ الحمدللہ پلان کے مطابق اچھا ہوا۔ اپنی لسٹ میں موجود تین کام تھے جو نہیں کر سکی، ڈولفن کے ساتھ 'فیس ٹو فیس' سومنگ، برج الخلیفہ کی ٹاپ پر جانا، اور desert safari۔ صحرا میں جا کر بھی ہم نے ریت نہیں دیکھی، اونٹ کی سواری نہ کی لیکن وہاں نہ جانے کی وجہ یہ رہی کہ تین گھنٹے صحرا میں جانے اور تین گھنٹے واپسی کا سفر تھا۔ چھوٹا بچہ چھ گھنٹے صحرا میں بیزار ہو جاتا اسلئے رہنے دیا۔

دبئی کے بارے میں ایک تو یہ احساس بارہا ہوا کہ بہت مہنگا ہے۔ ایک ٹورسٹ کے طور پر پانچ دن گزارنا الگ بات لیکن وہاں رہ کر دو تین بچوں کے ساتھ اتنی مہنگی تفریح کرنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی تفریح کے لئے مالز میں جاتا ہے۔ دوسری بات وہی جسکا سب نے ذکر کیا۔ مصنوعی پن! اس قدر کہ اصلی درختوں میں بھی مصنوعی پن جھلکتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک rat race ہے، ایک بھاگ دوڑ، جس میں سبھی لگے ہوئے ہیں۔ مجھے ایسا لگا کہ یہ 'دنیا' ہے، انتہائی مزین اور پرکشش۔۔ آپ کو اپنی طرف کھینچتی بھی ہے لیکن آپ کو اندر سے خالی بھی کر دیتی ہے۔ آپ اوپر ستارے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن آس پاس اتنی روشنیاں ہیں کہ آسمان کے ستارے ماند پڑ جاتے ہیں۔ ہاں کچھ اچھی چیزیں بھی ہیں۔ آپ کہیں بھی ہیں، وضو اور نماز کا اہتمام آرام سے کر سکتے ہیں، حلال کھانا کھا سکتے ہیں، اور اب واپسی کا سفر ہے تو دبئی کی سب سے اچھی بات یہ لگ رہی ہے کہ پاکستان کے قریب ہے۔۔۔۔

اللہ حافظ دبئی!

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں