مرد اور عورت کا رشتہ - نورین تبسم

مرد اور عورت کے بیچ بہت سے رشتے اور گرہ درگرہ تعلق ہوتے ہیں۔ ہر رشتہ ایک دوسرے رشتے میں خود کو بدلتا ہوا اور ہر تعلق ایک اور نامعلوم سمت کی جانب سفر کرتا ہوا۔ ہر رشتے کی بنیاد اگرجسمانی تعلق سے سر اُبھارتی ہے تو ہر تعلق کی جڑیں ذہنی و قلبی رشتے سے پھوٹتی ہیں۔

رشتے جسمانی ہم آہنگی کی بدولت قائم ہوتے ہیں تو تعلق ذہنی ہم آہنگی کے بغیر کبھی پروان نہیں چڑھ سکتے۔ جسمانی تعلق کا ہم صرف ایک شخص کے حوالے سے ایک ہی مطلب نکالتے ہیں، اسی لیے لکھنے میں ہچکچاہٹ بھی محسوس کرتے ہیں، ورنہ دیکھا جائے تو انسان کے دوسرے انسانوں سے صرف جسم بانٹنے کے رشتے ہی تو ہوتے ہیں جو ہر رشتے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اجنبی مرد اور عورت شادی کے تعلق کے بعد جب ایک خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں تو مرد کے حوالے سے ماں، بہن اور بیٹی کے رشتے وجود میں آتے ہیں، اسی طرح عورت کی زندگی میں باپ، بھائی اور بیٹے کا رشتہ کبھی ختم نہ ہونے والا تعلق بن جاتا ہے۔ "رشتے محبت تو دے سکتے ہیں لیکن آسودگی ہمیشہ تعلق سے ملتی ہے، چاہے وہ ذہنی ہو یا جسمانی"۔
مقدر کے رشتے ہمیشہ بنے بنائے ملتے ہیں، ہمارا ان کی بنت پر کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اُن کے لیے کوئی بھاگ دَوڑ نہیں، جِگ سا پزل کی طرح ایک دوسرے سے جُڑتے ہوئے، ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم۔ تعلُق ہمیشہ اپنے دائرے سے باہر قائم کیا جاتا ہے۔ اس میں اپنی جگہ تلاش کرنا پڑتی ہے۔ ایک دوسرے کو جگہ دینی ہوتی ہے۔ اس کے لیے جاننا معنی نہیں رکھتا، حسب نسب، بڑائی چھوٹائی اس کا کوئی معیارنہیں۔ یہ ایک نگاہ کا کمال ہے جو جسم کے پار اترے تو بظاہر بےجوڑ تعلق دُنیا کے کامیاب ساتھ بن جاتے ہیں۔

اگر یہ نگاہ روح پر پڑ جائے توانسان تکمیلِ ذات کے اُس مقام پرجا پُہنچتا ہے جہاں دنیا کی ہر خوشی معمولی دکھائی دیتی ہے۔ رشتے صرف ایک بات پر فوقیت رکھتے ہیں ہے، اور وہ ہے "اعتماد"، انسان رشتے پر اندھا دُھند اعتماد کرتا ہے، جبکہ تعلق پر کبھی اعتبار نہیں آتا۔ زندگی کے اس سفر میں مات ہوتی ہے تو رشتوں کے ٹھکرائے ہوئے ساری عمر سسکتے رہتے ہیں، بےچین رہتے ہیں۔ اگر تعلق دھوکا دے جائے تو اگرچہ ادھورے تو رہ جاتے ہیں، لیکن اپنے اندر سے شانت ہوتے ہیں کہ ہمیں کون سا اعتبار آیا تھا۔ انسانی فہم کے یقین کے ساتھ بظاہر ذہنی ہم آہنگی جسمانی سے زیادہ ضروری دکھتی ہے کہ اول اگر ہو تو دوسری خودبخود مطمئن ہو جاتی ہے، اگراس بات کو حتمی مان لیا جائے تو پھر ذہنی ہم آہنگی والے رشتے ناکام کیوں ہو جاتے ہیں؟ اور مکمل جسمانی ہم آہنگی اور محبت کے باوجود انسان کی تلاش کیوں جاری رہتی ہے؟ کیا یہ محض انسان کے کردار کی خرابی ہے؟ یہ بہت اہم سوال ہے جس کا جواب جاننا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم اسے محض اپنے کردار کی کجی کہہ کر دامن نہیں چھڑا سکتے۔ سرسری نگاہ سے جائزہ لیا جائے تو مرد عورت خواہ کاغذ کے بندھن میں ساتھ رہیں یا کسی ان دیکھے تعلق کی ڈور میں بندھ جائیں، ایک دوسرے کی ضرورت بن جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا کا شکر ہے صاحب ، کوئی تقاضا نہیں - قدسیہ ملک

وہ اپنی اپنی ضرورتیںِ، خواہشیں ،حسرتیں اور جبلتیں، ہرانداز میں ایک دوسرے کے حوالے کرنے کو بھی آزاد ہوتے ہیں۔ جسمانی تعلقات اور ذہنی رشتے قائم کرنا انسانی فطرت اور جبلت کاحصہ ہے جس میں محبت اور کشش کو ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔

چاہ کی ڈور میں گندھے ایسے جذبے ہیں جن کے سرے تلاش کرنا اکثر اوقات ناممکن دکھتا ہے۔ جسمانی ہم آہنگی اور محبت دو متضاد چیزیں ہیں۔ اسی طرح محبت کے بغیر محض ذہنی ہم آہنگی فقط اپنے آپ کو دھوکا دینے یا راہِ فرار اختیار کرنے کی بات ہے۔ درحقیقت ذہنی ہم آہنگی کا بُت ٹوٹنے کے بعد انسان کسی کو کچھ کہنے کے قابل نہیں رہتا۔ مکمل جسمانی آسودگی ذہنی تعلق کے بنا صرف تھکن اور بوجھ ہے، اور صرف ذہنی قربت ایسے ریشمی دھاگوں کا فریب بن جاتی ہے، جس کی گرہوں کو کھوجتے انگلیاں تھکنے لگتی ہیں، لیکن کہیں سے فرار کے سرے نہیں ملتے۔ ایسی جامد خاموشی روح کو اپنے حصار میں جکڑتی ہے کہ انسان کسی کو پکارنے کے قابل رہتا ہے اور نہ اپنے آپ سے کچھ کہنے کی ہمت رکھتا ہے۔ اس بات کو جناب اشفاق احمد نے اپنی کتاب "سفردرسفر (صفحہ67)" میں یوں بیان کیا:
"جب انسانوں کے درمیان جسم کی محبت ہو تو وہ ایک دوسرے کی طرف مقناطیس کی طرح کھچنے لگتے ہیں، جب ان میں آگہی اور دانش کی قدر مشترک ہو تو وہ لمبی سیروں، لمبے راستوں اور لمبے سفر کے ساتھی بن جاتے ہیں، اور جب ان کی محبت میں روحانیت کا ابر اُتر آئے تو وہ بستروں کے انبار میں دو معصوم بچوں کی طرح ٹانسے کی چادریں بن جاتے ہیں، جس سے ان کی رہائی مشکل ہو جاتی ہے، وہ یا تو چیخ چیخ کر مدد کرنے والوں کو بلاتے ہیں یا دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں"۔

اِسی اُلجھن میں زندگی سرکتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ تعلقات خواہ کسی بھی انسان سے کسی بھی سطح پر کیوں نہ ہوں کچھ وقت گزرنے کے بعد اپنی اصل میں بےرنگ ہو جاتے ہیں۔اکثر اوقات ذہنی ہم آہنگی بھی ذہنی لاتعلقی میں بدلتے دیر نہیں لگاتی۔ اسباقِ زندگی کے رٹے لگاتے لگاتے ساری عمر عمرِ رائیگاں کی طرح گزار کر انسان آخر میں خالی ہاتھ خالی ذہن رہ جاتا ہے۔ محبت نفرت، غرض بےغرضی، ہر چیز بےمعنی دکھتی ہے۔اس سمے اگر ہم ذہن ودل کی کشادگی کے ساتھ اس فانی دنیا میں فانی جذبوں کی رمز سمجھنے کی کوشش کریں تو دکھائی دیتا ہے کہ بحیثیت انسان ہمارے دوسرے انسانوں سے گر جسمانی رشتے ہیں تو محبت کے تعلق بھی ہوتے ہیں، لیکن ان سے ہٹ کر ایک احساس کا تعلق بھی ہوتا ہے جسے ہم مانتے تو ہیں لیکن سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ احساس کا یہ تعلق جسمانی اور ذہنی ہم آہنگی سے بھی بہت آگے ہے۔ حد تو یہ ہے کہ احساس کی قربت کی خوشبو وقت اور فاصلوں کے حساب کتاب کی بھی پابند نہیں اور نہ ہی جنسِ مخالف کی جانب فطری کشش اس کا سبب بنتی ہے۔ مجازی تسکین کے اس احساس کو سمجھنے کے لیے ہمیں مالک ِحقیقی اور انسان کے اسی ربط پر غور کرنا ہے جس کی وضاحت قران پاک کی کئی آیات میں ملتی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کبھی اپنے جسمانی اور روحانی رشتوں کا تقابل نہیں کرنا ورنہ شدید قسم کی الجھن کا شکار ہو جائیں گے۔ہر جذبے، ہر احساس کو سمجھنا اور ہر رشتے میں توازن برقرار رکھنا، نہ صرف ہمارے سکون بلکہ اس کی بقا کے لیے بھی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   انسانوں کا انسانوں سے تعلق - محمد فہد صدیقی

کچھ رشتے یا تعلق ہم بہت ناپ تول کر بناتے ہیں اور کچھ بغیر کسی حساب کتاب کے خود ہی بن جاتے ہیں۔ خون کے تعلق سے جُڑے اٹوٹ رشتے ہوں یا روح کی تسکین کا حاصل غیرمرئی تعلق، وقت کی کسوٹی سب بھید کھول دیتی ہے۔ رشتے روگ بن جائیں تو زندگی چاٹ جاتے ہیں اور تعلق روگ بن جائے تو مقصدِ حیات سے دُور کر دیتا ہے۔
رشتے ایک بار قائم ہو جائیں تو پھر اُن کو نبھانا پڑتا ہے، سنوارنا پڑتا ہے، بہلانا پڑتا ہے، نکھارنا پڑتا ہے۔ یہ زندگی کے وہ دھاگے ہیں جو اُلجھ جائیں تو اُن کو بڑے رسان سے ایک ایک کر کے الگ کرنا پڑتا ہے کہ جتنے ریشمی دِکھتے ہیں اُتنے ہی نازک بھی ہوتے ہیں، جتنے کُھردرے لگتے ہیں اُتنا ہی زخمی بھی کر سکتے ہیں، جتنے بکھرے ملتے ہیں اُتنا ہی اُن کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بہرحال زندگی کی تصویر کی بُنت ہموار نقوش سے کرنا ہے تو ان دھاگوں کے سروں کو تلاش کرنے میں ہی عافیت ہے جبکہ تعلقات میں ایسا نہیں ہوتا، اُن کے الجھے سِرے اگر سنور نہ رہے ہوں تو وقت کی چادر میں ڈھانپے بھی جا سکتے ہیں، اُن کو بعینہ اِسی طرح چھوڑ کر بھی اپنے ساتھ رکھا جا سکتا ہے یا پھر جتنا جلد ہوسکے کنارہ کشی کا اختیار بھی اپنے پاس رہتا ہے بغیر کسی جھجھک کے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.