اب میں ٹماٹر کس سے لوں گی؟ سعدیہ نعمان

وہ دن خواب ہوئے جب ہم ایک دوسرے سے بوقت ضرورت بلا تکلف ٹماٹر لے لیا کر تے تھے۔
ایک ٹماٹر ہی کیا، کچھ بھی ضرورت آن پڑتی تو ہمسائے ماں جائے ہی کام آتے۔
واہ کینٹ میں گزرے ان چھ سالوں میں وہاں کے پیارے لوگوں نے اتنی محبتیں نچھاور کیں کہ مالک مکان اور کرایہ دار کی کوئی تفریق نہ تھی، اور ہم سب آپس میں یوں گھل مل گئے گویا کہ پرانی عزیز داری ہو۔

صفدر انکل اور آنٹی کے ہاں جب اوپر کے حصہ میں رہائش تھی تو آنٹی نے ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا۔
خولہ کی پیدائش کے بعد بےشمار صحت کے مسائل میں ہمیں دن رات کسی بھی وقت ہسپتال دوڑنا پڑتا تو ماؤں کی طرح باقی تین چھوٹے بچوں کا خیال رکھتیں۔
ملتان واپس آنے پہ بھی اکثر انھی کا فون آتا۔
اپنے نرم اور دھیمے لہجے میں بے تابی لیے گویا ہوتیں،
"سعدیہ بیٹے کیا حال ہے؟ بہت دن ہو گئے، سوچا اپنی بیٹی کا حال پوچھ لوں۔"

اور "سعدیہ بیٹی" شرمندہ ہی ہو جاتی کہ ہر دفعہ ارادہ کرنے کے باوجود پہل نہ کر پاتی۔

پھر جب آنٹی نے بڑے بیٹے کی شادی کے بعد انھیں اوپر شفٹ کیا تو ہم چند گھر کے فاصلے پہ جاوید ذکاء اور فرحانہ ذکاء کے اوپر کے حصہ میں شفٹ ہوگئے۔
چار چھوٹے بچے خوب ہنگامہ بپا رکھتے، ٹرائی سائیکل چلاتے، دروازے بجاتے، باوجود احتیاط کے اتنی چھوٹی عمر کے بچوں پہ ہمہ وقت کنٹرول رکھنا مشکل ہو جاتا، بلکہ یوں کہیے کہ ہم تو خود بچوں کے ہر کھیل میں برابر کے شریک ہوتے۔
اور یقینا ہم دونوں بھی اب اتنے خاموش نہ تھے، چھٹی کے دن تو ذرا لڑنا بھڑنا بھی ایک فرض کی سی حیثیت رکھتا تھا۔ سنا ہے محبت کی نشانی ہوتا ہے۔

لیکن کچھ ہی دنوں میں ہمیں محسوس ہوا کہ نیچے سے دو عدد چھوٹے بچوں اور ایک عدد میاں کے باوجود فرحانہ کی کبھی کوئی آواز سنائی نہیں دیتی نہ ہی ذکاء صاحب ہی کی کوئی للکار کانوں میں پڑی،
یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
اتنی خاموشی تو صرف اقبال کی نظم کی خواہش ہی ہو سکتی ہے
شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
مرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میری
دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو

لیکن حقیقت میں تو محض وہم ہو سکتا ہے۔ پھر ہم نے دن بھر کان لگا کے سننے کی بہتیری کوشش کی کہ شاید ہمیں اپنے مشن میں کامیابی ہو سکے اور کبھی کوئی بچوں سے چیخنے یا آپس میں الجھنے کی صدا آئے تو ہماری تسلی ہو کہ ہم تنہا نہیں ہیں اس میدان میں۔ اگرچہ ایسا کرتے ہوئے ضمیر نے دبا دبا سا احتجاج تو کیا کہ یوں کان لگانا اور تجسس کرنا غلط ہے لیکن اسے نظر انداز کر دیا گیا۔

کئی دن کی جدوجہد میں ناکامی کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ نیچے جا کے فرحانہ سے معذرت کرنی چاہیے کہ بھئی آپ لوگ بھی سوچتے ہوں گے، یہ کن لوگوں کو سر پہ بٹھا لیا ہے کہ ہمہ وقت شور شرابا بچے خاموش ہوتے ہیں تو یہ دونوں شروع ہو جاتے ہیں اور آپ لوگ اتنے کول اور اتنے مہذب ہیں کہ بس۔ شرمندہ شرمندہ ہم فرحانہ سے ملنے چل دیے۔
کچھ دیر ادھر ادھر کی کہنے کے بعد ہم مدعا کی جانب آنے ہی والے تھے کہ فرحانہ نے انتہائی تشکر آمیز لہجہ میں ہمیں مخاطب کیا اور کہنے لگیں کہ سعدیہ آپ لوگ سوچ نہیں سکتے آپ کا یہاں آنا ہمارے لیے کتنا مبارک ثا بت ہوا ہے، بڑا بیٹا طلحہ ساڑھے تین سال کا ہوگیا ہے، بالکل نہیں بولتا تھا، آپ کے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے تو اب اس نے باتیں کرنا اور بولنا شروع کر دیا ہے، بس بہت ہی خوش ہیں ہم تو۔
دل کا بوجھ اتر گیا اور ہم کچھ کہے بنا اطمینان بھرے قدموں سے سیڑھیاں چڑھتے واپس لوٹ آئے۔

ایک دن بچوں کو سکول بھیج کے کچھ بکھری چیزیں سمیٹیں، چائے کا کپ ہاتھ میں لیے بیٹھے ہی تھے کہ فرحانہ بھی چائے لیے اوپر آ گئیں۔
اف اب فرحانہ نجانے کیا محسوس کرے؟
آخر گھر اتنی محنت سے بنتے ہیں، ہم پنسل سے دیواروں پہ بنے آرٹ کے نمونوں کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگے۔
بظاہر ہنستے ہوئے خوش آمدید کہتے کرسی پیش کرتے ہماری نظریں بار بار اس قد آدم ڈرائنگ کی جانب اٹھ رہی تھیں جو سامنے کی دیوار پہ کل ہی اسد صاحب نے نجانے کس وقت موقع پا کر بنا ڈالی تھی، لیکن فرحانہ نے تو جیسے ایک لمحہ کو بھی تجزیاتی نگاہ نہ ڈالی نہ ہی کوئی ہلکی سی ناگواری اس کے لہجہ سے ظاہر ہوئی۔
کچھ دیر گپ شپ لگا کے وہ چلی گئی۔
بس اس دن ہمیں فرحانہ کے بڑے پن کا یقین ہوگیا اور پھر فرحانہ بھی ہماری ان سہیلیوں میں شمار ہوگئی جن سے دوستی وقتی یا ضرورتا نہیں بلکہ پختہ ہوتی ہے۔

اچھے دوستوں کی بات چلی ہے تو سعدیہ عبدالقادر کا کچھ ذکر ہو جائے۔
دبلی پتلی اور چلبلی سی سعدیہ، خالص کراچی کا زبان و بیاں اور لہجہ اور خالص کراچی والی عادات، جن میں رات دیر تلک جاگنا اور صبح بچوں اور شوہر کو رخصت کر کے دوبارہ دیر تلک سونا نمایاں تھا، لیکن شکل و صورت سرحد والی یعنی گوری رنگت بھورے بال نیلگوں جھیل جیسی آنکھیں۔ یہ ناک نقشہ تینوں بیٹیوں کا بھی تھا اور ہم اسی پہ کافی عرصہ حیرت زدہ رہے، پھر اللہ کی کاریگری جان کر مطمئن ہو گئے۔

اور ہماری ہم نام ہونے کی بنا پہ ہم سے بہت قریب تھیں، پھر جب پانی کے مسائل بڑھے اور ہم نے فرحانہ کے ہاں سے کچھ گھر دور شفٹنگ کی تو سعدیہ نیچے اور ہم پھر اوپر، بچیوں کی کلاس اور سکول مشترکہ ہونے سے ہمارا ساتھ مزید گہرا ہو گیا۔ بس پھر کیا ٹماٹر، کیا دہی، کیا سرخ مرچ تو کیا دھنیہ پیاز، سب مشترک ہی ہو گیا۔ کوئی مہمان اچانک آ جاتا تو سعدیہ کے ہاتھ کے بنے چکن ویجیٹیبل چیز رول فریزر سے برآمد کروا لیے جاتے، اس کی بریانی اور ہماری طرف کا آلو گوشت اور پلاؤ ایک دوسرے کو بھجوائے بنا حلق سے نہ اترتے۔ رمضان میں سعدیہ کی بھجوائی ہوئی افطار ٹرے کا انتظار اور مزا کبھی نہیں بھول سکتا، واہ کینٹ میں رکشہ ٹیکسی یا عام سواری میسر نہیں ہوتی تھی تو بڑے بچوں کی سکول میٹنگ ہو، یا چھوٹے بچوں کی ویکسینیشن، میں اور سعدیہ بچوں کو پرام میں ڈال کے بہت لمبا ٹریک بھی پیدل چلتے رہتے، تھکاوٹ ہوتی نہ ہی بوریت۔

ہماری یہ محبتیں اتنی مضبوط اور پایئدار نہ ہو پاتیں اگر یہ کسی ذاتی غرض کی بنا پہ ہوتیں، لیکن اللہ کے فضل سے یہ دائمی اور زندہ و جاوید محبت کے تابع ہو گئیں جب ہم نے قرآن سمجھ کے پڑھنے کا فیصلہ کیا، واہ کینٹ کی اس شاہ ولی کالونی کے چند گھر۔

اب یہاں ایک کردار ہماری سب کی خورشید باجی کا ہے۔ خورشید باجی اسم بامسمی تھیں اور ان کی پارہ جیسی تڑپ انہیں ایک جگہ چین سے بیٹھنے کیا کھڑے بھی نہ ہونے دیتی۔ بس سمجھیے اس شعر کی عملی تفسیر تھیں
جہاں میں اہل ایماں صورت "خورشید" جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے

وہ سارے جہاں کا درد اپنے جگر میں لیے پھرتیں، ہنستی مسکراتی خالص پوٹھوہاری لہجہ میں بات کرتیں، ایک ہاتھ میں نور اور بتول میگزین تھامے وہ ہر گھر میں دین کی دعوت پھیلانے کے لیے کمر بستہ رہتیں۔ بس ہماری ہفتہ وار کلاس کی روح رواں تھیں، سب کا بے پناہ خیال رکھنے والی۔
ایک دفعہ سعدیہ کی سب سے چھوٹی بیٹی ایمان کو بخار نے آ لیا، رات بھر وہ بچی تکلیف سے روتی رہی، صبح ہم نے گھبرا کر خورشید باجی کو فون پہ صورتحال بتائی، علامات سنتے ہی انھیں اندازہ ہو گیا کہ نمونیہ کی شکایت ہے۔ ایک ٹوٹکہ بتایا سمجھایا جس میں دیسی انڈا استعمال ہونا تھا۔
فون بند کرنے سے پہلے احتیاطا پوچھنے لگیں دیسی انڈا تو ہے نا،
نہیں خورشید باجی وہ تو نہیں ہے،
ہم نے عاجزی سے جواب دیا تو کہنے لگیں کوئی حال نہیں تمہارا بھی، اچھا میں آتی ہوں،
پھر کچھ منٹ بعد خورشید باجی آئیں تو ان کے عبایہ کی جیب میں دو دیسی انڈے بھی تھے۔
خورشید باجی اپنے میاں صاحب کے بارے میں بے پناہ حساس تھیں، وہ ایک بجے دوپہر لنچ بریک کے لیے گھر آتے تھے۔ خورشید باجی کہیں بھی کسی بھی کام میں مصروف ہوتیں، گھڑی کی سوئیاں بارہ چالیس پہ آتیں تو گویا خورشید باجی کو پر لگ جاتے، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے گھر کی راہ لیتیں کہ میاں صاحب کے لیے گرم روٹی اتارنی ہے۔

قرآن کلاس میں ہماری خوب محفل جمتی،
ایک دن بحث چھڑ گئی،
اپنے یونیورسٹی کے کسی مشاہدے کی بنا پر فرحانہ کا خیال تھا کہ پردے والی عورتیں اور ڈاڑھی والے مرد کوئی اتنے شریف نہیں ہوتے
سعدیہ کے گویا دل پہ لگی،
اپنے کراچی کے مخصوص لہجہ میں بےساختہ بول اٹھی
"ارے نہیں ایسا تو نہ کہو، میرے میاں تو داڑھی کے ساتھ شریف ہیں"

غرض بڑی ہی بے لوث محبتیں تھیں، جو اب تک دلوں میں سمائے ہوئے ہیں، اور ان یادوں کے دیپ اکثر جلتے ر ہتے ہیں، اللہ کریم ان ہستیوں کو خوش اور آباد رکھے۔

تو ساتھیو بات ٹماٹر سے چلی تھی
جن دنوں ہماری واہ کینٹ سے واپسی پکی ہو رہی تھی، سعدیہ کی اداسی بڑھ رہی تھی۔
پھر وہ دن بھی آن پہنچا، جب سامان ٹرک میں لوڈ ہو رہا تھا، اور ہم سب الوداعی کلمات کہہ رہے تھے۔
یکدم سعدیہ ہمارے گلے لگ گئی اور روتے ہوئے کہنے لگی
"تم جا رہی ہو سعدیہ، اب میں ٹماٹر کس سے لو ں گی؟"
اس کا یہ کہنا تھا کہ ہم بھی اس درد کو محسوس کرتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کے رو دیے۔

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.