ہیرا منڈی سے ہیرے تک - نورین تبسم

٭ ہیرا منڈیوں میں بکنے لگے تو واقعی کوڑیوں کے مول ہی بکتا ہے۔ منڈی میں صرف بولی لگتی ہے، جو جتنی بڑی بولی لگائے گا، جنس اُس کے حوالے۔
٭ منڈی چاہے ہیروں کی ہو، سبزیوں کی، یا پھر قربانی کےجانوروں کی طرح کی فصلی منڈی۔ خریداری یا سودا ہمیشہ مرد ہی کرتا ہے۔
٭ جو ہیرا تاج میں نہیں لگ سکتا وہ منڈی کی زینت بن جاتا ہے۔
٭ ہیرے کی قدر جانچنے پرکھنے سے ہوتی ہے تاج میں لگانے سے نہیں۔ تاج میں لگ جائے تو تاج کی قدر ہے ہیرے کی نہیں۔
٭ ہیرا جب تک خود اپنی قدر نہ جانے وہ ہیرا کہلانے کا حقدار نہیں۔ اپنی نظر میں اپنی قیمت کی پہچان ہونا اہم ہے ورنہ عام طور پر پتھر اپنے آپ کو ہیرا سمجھنے کے زعم میں مبتلا ملتے ہیں تو ہیرے اپنی ناقدری کا گلہ کرتے۔ پتھر کبھی ہیرا نہیں بن سکتا اور ہیرا ہمیشہ ہیرا ہی رہتا ہے۔۔۔ ظاہری تراش صرف ظاہر کو ہی متاثر کرتی ہے۔ اور کبھی وہی اس کی قیمت بھی ٹھہرتی ہے۔
٭ ہیرے کے پاس ہیرے ہی ملیں گے پتھر نہیں۔

ہیرا منڈی ۔۔۔ ہیرے محض فریب ہیں ۔۔۔ کنچے ۔۔۔ جنہیں گئے وقتوں میں بچے جیبوں میں بھرتے جاتے تھے اور والدین اس کھیل کو انتہائی ناشائستہ اور بیہودہ خیال کرتے تھے۔ انتہائی معصوم تھے اس زمانے کے بچے جو ان کنچوں کے رنگ دیکھ کر ان کی خوبصورتی اورملائمت پر فدا ہو کر پانے کی جستجو میں بےتاب رہتے تھے اور اُن سے بڑھ کرسادہ لوح اُن کے والدین تھے جو اس بےضرر سے مشغلے کو بےراہ روی جان کر لٹھ لے کرمارنے دوڑتے تھے۔

نہیں جانتے تھے کہ آنے والے زمانوں میں دُنیا کی منڈی میں کیسے کیسے حیرت انگیز کنچے اُن کی آنکھوں کے سامنے ایک نئی دُنیا کا جادو جگائیں گے۔ جب جیب میں کنچے نہیں پیسہ بولے گا اور ہر کنچے ہیرے کا روپ دھار کر اپنی دسترس میں ہوں گے۔ پھر کوئی کسی کو روکنے ٹوکنے والا نہ ہوگا۔ یہ نیٹ کی دُنیا دورِجدید کی ہیرا منڈی ہے جہاں بولی لگتی ہے، تولا جاتا ہے۔ سودا نہ ہو بےعزت بھی کیا جاتا ہے۔ اس سے تو پرانے زمانےاچھے تھے جب ہر چیز میں رکھ رکھاؤ تھا، محض اس لیے کہ برائی کو برائی جانا جاتا تھا، اب تو اچھائی بھی بری نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ سادگی اورسادہ دلی سے قطع نظر بناوٹ کا بناؤ سنگھار ہی معیارِ حسن ہے کہ یہی وقت کا تقاضا ہے۔ جانے کتنے سچے موتی وقت کے سمندروں میں اپنے خول میں قید بھنور میں ڈوب جاتے ہیں۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.