درد آگہی - فرح رضوان

فی الحال فرحت کے پاس خاموشی سے اپنی لاڈلی بہن کی ڈانٹ سننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
"سمجھ میں نہیں آرہا ہے آپا! تمھیں ہوا کیا ہے؟ یہ لوگ! اور یہ لڑکی! پسند کی ہے تم نے زین کے لیے؟ کیسی ماں ہو تم؟ سیدھا شریف فرمانبردار بچہ مل گیا ہے تو تم اپنے تجربات کی بھینٹ چڑھا دوگی کیا؟ کوئی خدا خوفی بچی بھی ہے تم میں؟ سچ بتا رہی ہوں میں تم، بالکل بیمار ہو چکی ہو، یہاں صفدر بھائی موجود نہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم جو چاہو کرتی رہو۔ اللہ کی پناہ اتنے بہترین رشتے ریجیکٹ کر کر کے اب تم یہاں؟ اوہ! اب سمجھی، کچھ دن بعد تم انھی باتوں پر اسے بھی ریجیکٹ کر ڈالو گی، تمھیں پتہ ہے نا کہ یہ بھی ایک تسکین بخش جذبہ بن جاتا ہے؟ کسی کو مسترد کر دینا، آخر کیا مسئلہ ہے تمھارے ساتھ؟ پچھلی دو تین بار جو لڑکیاں تم نے ٹھکرا دیں، انھیں تو میں نعمت کو ٹھکرانا ہی کہوں گی، اور تمھارا رویہ کتنا عجیب سا تھا ان کے گھر پر، وہ بیچارے بھی تمھاری وجہ سے کتنی مشکل میں دکھائی دے رہے تھے۔ اور میں ہی بولتی جا رہی ہوں، کچھ بولو تو سہی، اب بولتی کیوں بند ہو گئی ہے؟ جواب نہیں بن پا رہا نا! مگر تم کان کھول کر سن لو، میں تمھیں ہرگز ہرگز یہ کام نہیں کرنے دوں گی۔"
عفت شاید بولتے بولتے تھک گئی تھی، یا واقعی جواب لینے کے لیے ہی چپ ہوئی تھی، کہ اب بس ٹکر ٹکر سوالیہ نگاہوں سے بڑی بہن کو گھورے جا رہی تھی۔

عفت اور زین کی عمر میں بہت کم فرق تھا، جبھی فرحت نہ صرف بہن کے لاڈ اٹھانے پر خود کو مجبور پاتی تھی، بلکہ عفت بھی اس کے بچوں اور اس کی ذات پر پورا پورا حق جتانے میں کوئی کمی نہ چھوڑتی تھی، بہرحال جب وہ ان کے سر ہو ہی گئی تو انہوں نے، پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ لیپ ٹاپ آن کرتے ہوئے، اسے اپنے برابر بٹھا لیا۔

زین کے لیےگزشتہ دو برسوں سے لڑکیاں دیکھی جا رہی تھیں، وہ جس طرح کا لڑکا تھا، اس کے دوستوں ہی کی قریبی فیملیز سے رشتے آرہے تھے، لیکن فرحت کو نہ جانے کس کی تمنا تھی کہ وہ ہر ایک کو منع کر دیتیں، ایک دو کو تو زین نے ملوایا بھی، مگر انھوں نے سختی سے مسترد کر ڈالا، جس کا اس نے بھی برا منایا، لیکن زین کو یہ بھی یقین تھا کہ ماں کی تجربہ کار آنکھیں اور بھی بہت کچھ دیکھتی ہیں جو وہ نہیں دیکھ پاتا، اور دوسری بات یہ بھی تھی کہ اسے خود بھی کوئی بہت جلدی نہیں تھی، شادی کی ذمہ داری اپنے سر لینے کی، اور فقط یہی ایک سبق تو بچپن سے اب تک، مما نے اسے سکھایا تھا کہ شادی سب سے اہم ذمہ داری کا نام ہے۔

اسے یاد تھا کہ بچپن میں جب کبھی بابا ان سے سخت رویہ اپناتے، وہ اس کی دوسری آنٹیوں کی طرح نہ تو منہ در منہ فوری طور پر جواب دے کر اپنے شوہر سے جھگڑا کیا کرتیں، نہ ہی اس نے کبھی اپنی ماں کو باپ کے خلاف وہ سب کچھ کہتے، سنا تھا، جس کا اظہار اکثر قریبی مجالس میں دیگر آنٹیاں، رو دھو کر زور شور سے کرتی نظر آتی تھیں۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ جب کبھی بھی زین کو لگا کہ اس بار تو بابا نے کافی زیادتی کر دی ہے، مما کو نہ جانے کیسے اس کے دل کا حال پتہ چل جاتا۔ اگلے ہی دن، وہ اس کو بٹھا کر سکون سے سمجھاتیں کہ تم کبھی اس طرح نہ کرنا، ہو سکتا ہے تمھاری بیوی یہ سب برداشت نہ کرے، تو تمھارے بچوں پر بہت برا اثر پڑے گا، بےشک تم بعد میں کتنے بھی اچھے بن جاؤ، وہ بات نہیں ہوسکے گی، اسی لیے تو پہلی چوٹ پر صبر کا اجر بھی بہترین ملتا ہے۔ ابھی تو میں بابا کو معاف کر دوں گی، تو اللہ تعالیٰ بھی بابا کو معاف کردیں گے، جب ہم آپس میں راضی خوشی رہیں گے تو اللہ ہم دونوں سے راضی رہیں گے، اس طرح زندگی پھر پرسکون ہو جائےگی، لیکن میں ابھی لڑوں، پھر تمھارے نانا نانی سے ان کی شکایت کروں، خالہ ماموں سے دل ہلکا کروں، تو یہ بات خالو، ممانی اور ان کے گھر والوں تک نہ جانے کس رنگ میں جائے، تو جو عزت اور محبت آج تمھارے بابا کی سب لوگ کرتے ہیں، جس سے تم کو بھی عزت والی محبت ملتی ہے۔ یہ تو اللہ کی طرف سے مما کا ٹیسٹ ہے، اور اللہ ہی کی طرف سے ان کے حصے کی ذمہ داری بھی، کہ وہ مضبوط اینٹ کی طرح اپنے اصولوں پر جمی رہیں، اگر نہیں توگھر کی عمارت ریت کا ڈھیر بن جائےگی۔

وہ بڑی سے بڑی بات کے بعد بڑی ہی آسانی سے کہتیں؛ "بابا کبھی زیادہ غصہ بھی کر جاتے ہیں، لیکن وہ باقی سب کاموں میں تو بہت زیادہ ذمہ دار ہیں نا، اپنےگھر والوں کی پوری ذمہ داری ہر صورت پوری کرتے ہیں، جب وہ ہماری خاطر اپنی نیند، آرام، تفریح کو اگنور کر دیتے ہیں تو ہم اتنا سا غصہ اگنور نہیں کر سکتے؟ رفتہ رفتہ ان باتوں سے، زین کو بہت کچھ سمجھ آنے لگا تھا، کم عمری میں ہی اس نے جان لیا تھا کہ جس طرح مال صدقہ کرنے سے بڑھتا ہے، اگر اللہ کی رضا کے لیے، اپنی عزت کا صدقہ کیا جائے تو یہ بھی ایک دانے کے بدلے سات سو، دانے لیے واپس ملتی چلی جاتی ہے۔

زین کے والد شروع میں، اس کے دوسرے دوستوں اور کزنز کے بابا، ابو، ڈیڈی، پاپا وغیرہ سے ہرگز مختلف نہیں تھے، لیکن اس نے سیکھا کہ جن گھروں کی اینٹیں مضبوطی سے جمی نہیں رہتیں، وہ عمارتیں اور اس کے مکین بھی کم کم ہی خوشنما رہ پاتے ہیں۔ مما کی حکمت عملی، اللہ کی رحمت اور برکت ثابت ہوئی تھی، جس سے ان کا گھرانہ دوسروں سے بہت بہتر، مضبوط اور مربوط ہوتا چلا گیا تھا، ورنہ اس کے کچھ کزنز، بات بات پر کبھی اپنے والد سے، تو کبھی والدہ سے اور کبھی سبھی سے نفرت کا اظہار کرتے رہتے تھے، اور نہ بھی کریں تو نفرت، اور بدلے کا غبار ان کے رویوں سے چھلکتا تھا۔

فرحت کا رویہ بچپن سے ہی اپنے سب بچوں کے ساتھ خاندان کے دیگر افراد کے مقابلے میں مختلف رہا تھا، وہ اپنے تینوں بیٹوں سے بھی وہ سب کام کرواتیں، جو ان کی بیٹیوں کے ذمہ تھے۔ شروع میں جائنٹ فیملی سسٹم میں رہیں تو سبھی کی نظروں میں یہ بات کھٹکتی، خاندان کے بہت سے لوگ ان کا خوب مذاق بناتے، مگر ان کے پاس مسلمہ جواب موجود ہوتا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہےگھر کے کام کاج میں مدد، اور سنت پر عمل سے اللہ کی محبت پانا اللہ ہی نے سکھایا ہے۔ صفدر صاحب کو یہ سب سخت ناپسند تھا، اور ان کے سامنے کوئی منطق، کوئی دلیل کام بھی نہیں کیا کرتی تھی، لہٰذا فرحت کی کوشش ہوتی کہ وہ لڑکوں کی مدد سے صاف صفائی کے کام خاوند کی غیرموجودگی میں نمٹا لیا کریں۔ شروع میں کسی نے اس پر اعتراض بھی کیا کہ بچوں میں یہ بات بیٹھ جائےگی کہ والد کی عدم موجودگی میں ان کی مرضی کے برخلاف کام کیے جا سکتے ہیں، لیکن وہ اس بات کو رد کرتے ہوئے نیت صاف منزل آسان کے نظریے پر عمل کرتی رہیں۔ رفتہ رفتہ بیٹے، رشتہ دار اور شوہر سبھی عادی ہوتے چلے گئے۔

اور اب ایک نیا کام شروع ہوا تھا، جب سے زین کی شادی کی عمر ہوئی، اس کی دلہن دیکھی جانے لگی تو وہ کم از کم ایک وقت کا کھانا خود سے بنانے کی کوشش کرنے لگا تھا۔یہ اس کی اپنی سوچ تھی کہ شادی سے قبل کچھ سیکھ لے کہ کبھی بیوی مصروف، بیمار، اور اپنے میکے میں بھی ہو سکتی ہے، اور کبھی اسے اپنے ہاتھ سے کچھ بنا کر خوش بھی کیا جا سکتا ہے، تو کیوں اس اصول پر ایک دوسرے کا ناک میں دم کر دیا جائے کہ بیوی نے کھانا وقت پر نہیں دیا۔ فرحت زین کی اس بات سے متفق تھیں اور اس سلسلے میں مددگار بھی، صفدر صاحب کی مردانگی اس سے بالکل بھی متفق نہ سہی، مگر بدلتے وقت کے ساتھ ، خود کو بدلنا انھوں نے بھی سیکھ ہی لیا تھا، تو کم از کم مخالفت پر اڑ نے سے اب گریز ہی کیا کرتے۔

فرحت نے لیپ ٹاپ پر اپنے کچھ ڈاکومنٹس کھولے تو ان میں اس بچی کی تصویر دیکھ کر، حیرت کے مارے عفت مجسم سوال بن چکی تھی۔
(جاری ہے)

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */