سیکولرز لادینیت کے فروغ کے لیے فضا ہموار کرتے ہیں: سجاد میر کا اہم انٹرویو

متاز صحافی، ادیب اور دانشور سجاد میر سے دلچسپ اور معلوماتی مکالمہ
انٹرویو: عامر اشرف


سجاد میر، ایک تعارف

یہ اِس صدی کی پہلی دہائی کے اوائل کی بات ہے جب میں شعبہ ابلاغِ عامہ جامعہ کراچی کا طالب علم تھا، میں نے سجاد میر کا انٹرویو کیا تھا۔ یہ میری زندگی کا پہلا انٹرویو تھا جو میں نے اسائنمنٹ کے سلسلے میں کیا تھا۔ اُس وقت آپ اخبار ’’نوائے وقت‘‘ کراچی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر تھے۔ گزشتہ دنوں جب میں لاہور کی کینال ویو سوسائٹی میں سجاد میر کاانٹرویو کرنے جارہا تھا تو وہ سارا منظر آنکھوں کے سامنے چلنا شروع ہوگیا۔ آپ نے کس طرح ایک طالب علم کو پوری توجہ کے ساتھ، وہ بھی صرف اسائنمنٹ کے لیے انٹرویو دیا تھا، جب کہ وہ آپ کی مصروفیت کا وقت تھا اور ڈیسک سے خبریں بن کر آرہی تھیں، سرخیوں کو ٹھیک کررہے تھے، ہدایات دے رہے تھے اور وقتاً فوقتاً فون پر مرکزی دفتر لاہور سے رابطے میں تھے۔ کینال ویو کے گھر کی گھنٹی بجائی تو ملازم باہر آیا، اُس نے گھر کے اندر کشادہ ڈرائنگ روم تک رہنمائی کی۔ وہاں بیگم سجاد میر موجود تھیں، انہیں جب معلوم ہوا کہ ہم کراچی سے آئے ہیں تو اُن کی خوشی دیدنی تھی، جیسے وہ کراچی کے حوالے سے بہت کچھ سننا اور جاننا چاہتی ہیں۔ پھر کراچی کے ماضی اور حال کا تذکرہ ہوا اور سجاد میر صاحب کی آمد پر یہ سلسلہ ٹوٹا۔ بیگم سجاد میر بنیادی طور پر سائنٹسٹ ہیں۔ ایک ماسٹر امریکا سے اور ایک کراچی یونیورسٹی سے کیا۔ آسٹریلیا سے poultry virology میں پی ایچ ڈی کیا۔

سجاد میر کا تعلق اُس سنہرے دور سے ہے جب کراچی علمی و ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ وہ دور مکالمے اور گفتگو کا دور تھا۔ چائے خانوں اورکافی ہاؤسز میں علمی و ادبی محفلیں جمتی تھیں۔ سلیم احمد اور قمر جمیل کے گھر تو علمی ماحول کے حوالے سے جانے پہچانے جاتے تھے لیکن سجاد میرکا گھر بھی اس حوالے سے مشہور تھا۔ آپ کے گھر کا نمبر 120یو2 تھا اور اسی مناسبت سے لوگ کہتے تھے اب فلاں موضوع پر ’’دبستان یو 2‘‘ میں بات ہوگی۔ ان کا گھر ’’دبستان یو2‘‘ کے نام سے مشہور ہوگیا تھا اور یہ نوجوان ادیبوں کا مرکز تھا۔ آپ بتاتے ہیں کہ ’’کراچی شہر میں جتنے نئے لکھنے والے تھے یعنی ثروت حسین، جمال احسانی، فاطمہ حسن، عذرا عباس، انورسن رائے، طاہر مسعود سب وہاں موجود ہوتے تھے‘‘۔

کوئی کسی بھی وقت آپ کے گھر یونیورسٹی سے آجاتا تھا اور آپ کی غیر موجودگی میں بھی محفل جمی رہتی تھی۔ پھر اس دوران شادی ہوگئی، اس کے بعد دوسری رہائش فیڈرل بی ایریا میں اختیار کی اور یہاں بھی بارہ، تیرہ سال مکین رہے، جہاں معروف ادیب ممتاز حسین ہمسایہ تھے۔ اس کے بعد ڈیفنس منتقل ہوگئے۔ کراچی میں حلقۂ اربابِ ذوق کو آپ نے دوبارہ زندہ کیا۔

سجاد میر کا یہ خاصا ہے کہ جہاں رہے اپنے اصولوں اور نظریے کے ساتھ بندھے اور جمے رہے اور نظریاتی لڑائی لڑتے رہے۔ ادب کے حوالے سے ترقی پسندوں کے ساتھ کافی مناقشے رہے۔ کراچی میں اُس وقت ضیاء جالندھری،مظفر علی سید،جمال پانی پتی، جمال احسانی، احمد جاوید، سراج منیر جیسے لوگ موجود ہوتے تھے اور سلیم احمد کی محفلوں کی جان تھے۔ شہزاد احمد بھی جب آتے تھے تو آپ کے پاس ہی ٹھیرتے اور سلیم احمد کی محفل میں ضرور جاتے تھے۔ اُس زمانے میں آپ کے پاس موٹر سائیکل ہوتی تھی اور شہر میں جہاں جہاں ادبی ٹھیے تھے وہاں وہاں گھومتے رہتے تھے اور گھنٹوں محفلیں جمی رہتی تھیں۔

علمی اور ادبی حلقوں میں قابلِ رشک مقام رکھنے والے سجاد میر اب صحافت کا معتبر نام ہے۔آپ بھارت کے مردم خیز شہر امرتسر میں پیدا ہوئے۔ آغا حشر کاشمیری اور صوفی تبسم کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا۔ ان کے آبا و اجداد بھی کشمیر سے آکر یہاں آباد ہوئے تھے۔ ممتاز نقاد، محقق اور مترجم مظفر علی سید بھی یہیں پیدا ہوئے۔ سجاد میر کی پرورش ساہیوال میں ہوئی ہے۔ ساہیوال بھی اُس وقت علمی و ادبی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ کیفے ڈی روز میں خوب محفلیں جمتی تھیں۔ مجید امجد کی تنظیم بزم فکر و ادب متحرک تھی۔ شاید اسی صحبت اور محفلوں کا اثر ہے کہ آپ مجید امجد کے عاشق ہیں اور اقبال کے بعد انہیں سب سے بڑا شاعر سمجھتے ہیں۔ آپ کے دادا کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔ والد سرکاری ملازم تھے۔

سجاد میر نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم اے کیا۔ ابتدا میں ادبی رسائل و جرائد میں لکھتے رہے۔ پیشہ ورانہ صحافتی زندگی کا باقاعدہ آغاز 1970ء میں لاہور سے نکلنے والے ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ سے کیا۔ پیشہ ورانہ ضرورت کے تحت کراچی منتقل ہوئے۔ ’’زندگی‘‘ کے ڈپٹی ایڈیٹر اور سندھ و بلوچستان کے نگراں رہے۔ اُس وقت کراچی میں روزنامہ نوائے وقت کی نمائندگی بھی آپ کررہے تھے۔ بعدازاں روزنامہ ’’ڈان‘‘ کے اردو اخبار ’’حریت‘‘کے ایڈیٹر رہے۔ اسی دور میں سلیم احمد ’’جسارت‘‘ کے بعد آپ کے کہنے پر ’’حریت‘‘ میں لکھنے لگے۔ بعد میں حریت بند ہوگیا۔ پھر جب نوائے وقت کراچی سے نکلنا شروع ہوا تو آپ اس سے وابستہ ہوگئے۔ نوائے وقت کے ساتھ 13 سال طویل رفاقت رہی۔ اس دوران ڈپٹی ریزیڈینٹ ایڈیٹر اور ریزیڈینٹ ایڈیٹر رہے۔ آپ نے مولانا دین محمد وفائی کے تاریخی سندھی اخبار ’’الوحید‘‘ کو بھی دوبارہ زندہ کیا۔ اس کے چیف ایڈیٹر نما مالک رہے۔ اس اخبار کا عوامی شعور بیدار کرنے کے ساتھ سندھی زبان کی ترویج و ترقی میں بھی نمایاں کردار رہا ہے۔ اپنا رسالہ ہفت روزہ ’’تعبیر‘‘ نکالا جس کے لیے ہارون رشید کو خصوصی طور پر بلایا۔ بعد میں وہ بند ہوگیا، اور اس کے بند ہونے کی بھی ایک داستان ہے۔ آپ کی ٹی وی سے بھی بہت پرانی وابستگی ہے۔ 1973-74ء سے ٹی وی پروگرام کررہے ہیں۔ ’’نوائے وقت‘‘کے بعد آپ ’’ٹی وی ون‘‘ میں چیف ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہوگئے۔

پھر جب نوائے وقت گروپ نے ’’وقت‘‘ چینل نکالا تو مجید نظامی اور عارف نظامی کی خواہش پر وہاں چلے گئے، لیکن کچھ عرصے بعد وہاں سے ’’نیوز ون‘‘ میں واپس آگئے۔ اس کے بعد ’’چینل24‘‘ میں کچھ وقت گزارا، اور آج کل کالم نگاری کررہے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں اور ورکشاپوں میں لیکچر دیتے ہیں اور ’’نیوز ون‘‘ اور ’’92 نیوز‘‘ سے وابستہ ہیں۔
معروف شاعر، کالم نگار اور سابق بیوروکریٹ محمد اظہار الحق نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ ’’سجاد میر صاحب یادداشتیں قلم بند کیجیے، ادب کے طالب علموں کو ان یادداشتوں میں بہت کچھ ملے گا‘‘۔ اب یہ خواہش کب پوری ہوتی ہے یہ تو ہمیں نہیں معلوم، لیکن ہم نے سجاد میر سے ان کی علمی، ادبی وصحافتی زندگی پر جو سوالات کیے ہیں وہ نذرِ قارئین ہیں۔


سوال: آپ نے اپنی طویل صحافتی، ادبی زندگی میں کن لوگوں کو پڑھا، کن لوگوں سے متاثر ہوئے، ذرا اس بارے میں کچھ ہمیں بتائیے؟
سجاد میر: آپ نے ادب کی بات کی ہے۔ میں خاص طور پر ادب کے حوالے سے یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ کہہ چکا ہوں کہ ادب میں میرے استاد کئی ہیں۔ مرشددو ہی ہیں: مجید امجد اور سلیم احمد۔ ان دونوں کی زندگی کے آخری دس سال میں نے ان کی قربت میں گزارے ہیں۔ باقی لٹریچر کا طالب علم ہوں، اس لیے لٹریچر اور بنیادی چیزیں پڑھی ہیں۔۔۔ مذہب بھی، فلسفہ بھی اور پولی ٹیکنیکل سائنس بھی۔ مطالعہ کا بنیادی حوالہ ادب ہی رہا ہے۔ ادب کے بارے میں، مَیں نے کہیں کہا تھا کہ ادب میرا دوسرا مذہب ہے۔ لیکن مذہب آدمی کا ایک ہی ہوتا ہے۔ دونوں فقرے ساتھ استعمال کرکے شاید بات زیادہ واضح ہوسکتی ہے۔ میں خاص طور پر یہ تو نہیں کہتا کہ اقبال کو پڑھا، فلاں کو پڑھا۔ بلکہ وہ ساری چیزیں پڑھیں جو اس زمانے میں ضروری (Relevant) تھیں۔ میں کیا کرتا ہوں‘ سب سے بڑی چیز ہوتی ہے کسی سے Creative Companionshipکو Share کرنا اچھے لوگ ملے، اچھے لوگوں کے ساتھ گفتگو رہی۔ اس میں مطالعہ بھی ہوتا رہا اور ایک فکر بھی بنتی گئی۔

سوال: اس سوال کے پس منظر میں اگر آپ سے یہ پوچھا جائے کہ آپ کن لوگوں کو عہدِ حاضر کا نمایندہ کہتے ہیں تو کیا جواب ہوگا؟
سجاد میر: جس دبستان کا میں نے ذکر کیا ہے، ادب کے حوالے سے وہ ایک مختلف دبستان ہے۔ نام تو میں نے سلیم احمد کا لیا ہے، لیکن اس میں حسن عسکری بھی شامل ہیں، ان میں کرار حسین بھی شامل ہیں۔ اس میں مذہب و مسلک کی بنیاد نہیں بلکہ سوچنے کا نیا انداز بھی ہے، شاعری کے حوالے سے میں مجید امجد کا نام ایک پورے رجحان کے حوالے سے لیا۔ جس چیز پر آپ زور دینا چاہتے ہیں، وہ جو مطالعہ آدمی کا بنیادی طور پر رہنا چاہیے، اس میں یقینی طور پر ہماری تاریخ کے وہ مشاہیر شامل ہیں جو شبلی سے شروع ہوتے ہیں اور سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ تک پہنچتے ہیں، جنہوں نے مذہب کو بھی، ہمارے روایتی علم کو بھی ایک پورے انداز میں بدلنے کی کوشش کی ہے۔ ابوالکلام آزاد بھی اس میں آتے ہیں۔ لیکن چونکہ بہت سے معاملات میں ان سے اختلافات ہیں، اس لیے میں شاید تعصب کی وجہ سے ان کا نام نہیں لیتا۔ لیکن یہ سارے لوگ ہیں جنہوں نے بہتر اعانت (contribute) کی ہے اور آج جتنی تحریکیں ہیں انہی سے پھوٹی ہیں۔ آپ حالیہ تحریکوں میں دیکھیں، چاہے غامدی صاحب کو دیکھیں، چاہے اصلاحی صاحب کو دیکھیں، ڈاکٹر اسرار احمد کو دیکھیں۔۔۔ آپ جتنے بھی لوگ دیکھیں، اختلاف بھی کیا ہے تو ایک ہی تحریک سے اختلاف کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں۔ پولیٹکل اسلام جس کو کہتے ہیں، پولیٹکل اسلام کی مخالفت بھی ایک رجحان ہے جس کا اثر ہمارے ہاں موجود ہے۔ وہ ہمارے زمانے کی متعلقہ (Relevant) بحثیں ہیں اور میں ان بحثوں کو پیچھے لے کر جاتا ہوں تو سارا سلسلہ اقبال، شاہ ولی اللہ اور جمال الدین افغانی تک پہنچتا ہے، اور میں بنیادی طور پر خود کو اس سے منسلک سمجھتا ہوں۔ اگرچہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو مرکزی دھارے (mainstream) کے نہیں ہیں جیسے میں نے عسکری وغیرہ کا حوالہ دیا، اور لوگ بھی ہیں جو یہاں زیادہ معروف نہیں ہیں، ان سب کا ذکر کرتا ہوں، لیکن اگر بنیادی طور پر دیکھا جائے اور آدمی رول ماڈل بناکر لے کر چلے تو ہمارے اردگرد کے ماحول میں تو اشارہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ آپ ایک نسل پہلے کے لوگوں کو دیکھیں جیسے میں نے مودودی صاحب کا ذکر کیا، اس سے پہلے اقبال اور شبلی کا ذکر کیا۔ شبلی بہت بڑے آدمی تھے، ابوالکلام آزاد ان سے پیدا ہوئے۔ سید سلیمان ندوی ان سے پیدا ہوئے، نیا رخ دیا۔

لیفٹ کو ربع صدی ہوگئی۔ لیفٹ این جی او کو پیارا ہوگیا ہے۔ ادھر جانے کا فائدہ یہ ہوا کہ انہیں لبرل اور سیکولر سوچ پروان چڑھا جانے میں ایک طرح کی مالی اعانت میسر ہے، سو ان کے ہاں یہ تضاد (contradiction) نہیں پایا جاتا۔ اب وہ سیکولر اور لبرل ہونے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور یہی مغرب چاہتا ہے۔

سوال: آپ کو مجید امجد سے خاص لگاؤ ہے، انہیں مانتے ہیں، ان سے عقیدت ہے اور جیسا کہ آپ نے کہا کہ ادب میں آپ کے دو مرشد ہیں، ان میں سے ایک مجید امجد ہیں۔ یہ بتائیے فیضؔ کا کیا مقام متعین کرتے ہیں؟
سجاد میر: ہم نے پہلے مانا، باقی لوگوں نے بعد میں مانا۔ اِس وقت مجید امجد کو ماننے والے کم نہیں ہیں، لیکن ہم نے پہلے مانا۔ فیض کے بارے میں میری رائے یہ ہے اور یہ میں کہتا رہا ہوں ’’اپنے کمزور لمحوں میں مجھے فیض ہی اچھا لگتا ہے‘‘۔ دوسری بات میں یہ کہتا ہوں کہ وہ اچھا کاپی رائٹر ہے۔ ان کے یہاں 12 لفظ میں 4 موضوعات ہیں۔ میرا ان پر اعتراض اسی قسم کا ہے جس طرح اقبال کا حافظؔ سے تھا۔ اچھا شاعر مانتا ہوں، بڑا شاعر نہیں مانتا۔ مقبولیت کے الگ پیمانے ہوتے ہیں۔ ایک بحث میں نے سلیم احمد سے کی تھی، جس پر سلیم احمد نے کہا تھا ’’نوراکشتی میں نے ایک بار کی ہے‘‘۔ اُس وقت میرا یہ کہنا تھا اور میں نے عزیز حامد مدنی کے انتقال اور فرازکے انتقال پر کہا تھا ’’جس معاشرے میں عزیز حامد مدنی کو کم لوگ جانتے ہوں اور احمد فراز مقبول شاعر ہو اُس معاشرے کو سوچنا چاہیے کہ اس میں کہاں خرابی پیدا ہوگئی ہے؟ میں نظریاتی بنیادوں پر اختلاف نہیں کرتا، مجھے اعتراض اس ’’بوطیقا‘‘ (Poetic) پر ہے جو فیض نے اختیار کی، یہ لمبی بحث ہوجائے گی۔

سوال: سلیم احمد اور حسن عسکری کا ذکر ہوا، اس ضمن میں ایک سوال ہے کہ ان شخصیات کو ان کا مقام نہیں مل سکا۔ اس کی وجہ آپ کی نظر میں کیا ہے؟
سجاد میر: حسن عسکری کے بارے میں بڑے بڑے لوگوں نے مان لیا کہ اردو کے سب سے بڑے نقاد تھے، انہوں نے کچھ ایسے تہذیبی مسائل بھی اٹھائے ہیں جو کوئی دوسرا اٹھانے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔ جہاں تک سلیم احمد کا تعلق ہے وہ اپنی بات کو کہنے میں اتنے دبنگ تھے کہ بہت سے وہ لوگ جو اُن کے ہم خیال بھی تھے ان کے لیے مشکل ہوجاتی تھی۔ پھر انہوں نے اپنی حق گوئی سے بہت سے مخالف پیدا کرلیے تھے۔ وہ کراچی کے آدمی تھے لیکن آرٹس کونسل وغیرہ میں جن لوگوں کی شامیں منائی جاتی ہیں، وہ ان کے عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔ لیکن لیفٹ کی تحریک، کچھ مسلکی معاملات، کچھ اور سیاسی معاملات کی وجہ سے میں جب دیکھتا ہوں، وہاں کی آرٹس کونسل، وہاں کے اداروں میں خاص قسم کے لوگوں کو پروجیکٹ کیا جاتا ہے اور بہت سے نام ایسے لیے جاتے ہیں جو غیرمعمولی لکھنے والے نہیں ہیں۔ جالبی اور عالی بڑے لکھنے والوں میں شامل ہیں، لیکن وہ بھی سلیم احمد کے خوشہ چینوں میں شمار ہوجائیں تو بڑی بات ہے۔ میں اٹک اٹک کر اس لیے بول رہا ہوں کہ بہت سے راز چھپانا چاہتا ہوں، کیونکہ بتانا مناسب نہیں۔ اگرکسی نے کتاب لکھی ہے اور کتاب کو شہرت مل گئی ہے، کتاب کے کئی ابواب کسی اور کے لکھے ہوئے ہیں، اورکچھ حصے ایسے ہیں جو کسی اور کی فکر کے ہیں، اچھی بات نہیں ہے کہ میں یہ سارے راز فاش کردوں۔

سوال: آپ نے سلیم احمد کی محفلوں میں طویل عرصہ گزارا۔ ان محفلوں سے کیا تجربات حاصل ہوئے؟
سجاد میر: کراچی نے ایک تہذیبی و ثقافتی مرکز کے طور پر جڑ پکڑی تھی۔ پاکستان جب بنا تو اُس وقت صرف ایک ہی مرکز لاہور تھا۔ صحافتی طور پر بھی، ادبی طورپر بھی۔ صرف یہی نہیں کہ نوائے وقت تھا۔ امروز چلا۔ زمیندار چلا۔ اخبارات الگ الگ ‘ مگر ایک فکری دبستان۔ ایک پورا مکتب فکر کراچی میں نیا قائم ہوا تھا۔ لوگ وہاں ہجرت کرکے آتے رہے اور شہر کا مزاج بنتا گیا۔ لاہور میں بھی ایسا ہوا کہ لوگ ہجرت کرکے آئے جن میں اشفاق احمد، اے حمید، منیر نیازی، شہزاد احمد شامل ہیں۔۔۔ ایک نیا شہر خوابوں کی دنیا دیکھنے والوں کا آباد ہوا۔ لیکن کراچی میں تو لگتا تھا کہ ایک نئی بستی آباد ہوئی ہے۔ ان لوگوں کی کہانیاں ہم سنتے ہیں۔ کس طرح بے چین روحیں سڑکوں پر گھومتی تھیں اور بیٹھتی تھیں اور ساری ساری رات اور سارا سارا دن ادب کے مسائل پر گفتگو کرتی تھیں۔ وہ غیرمعمولی رجحان(Phenomenon) تھا۔ شہر اینٹ اور پتھر کی دیواروں کا نام نہیں ہواکرتا بلکہ یہ خون میں دوڑنے والا گودا ہوتا ہے جو آپ کی تہذیب کی علامت بنتا ہے۔ بے شمار شخصیات وہاں پیدا ہوئیں جنہوں نے کراچی کے چہرے کو نکھارا، سنوارا اور اس کی شکل دی۔ اگر وہ کچھ مسخ ہوا ہے تو اس کی کچھ اور وجہ ہوسکتی ہے۔ اور وجہ یہ ہے کہ بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں جو آدمی کو زندہ نہیں رہنے دیتیں۔ ایسے مسائل کراچی کے ساتھ ہیں۔ اللہ کرے وہ سنبھل جائے اور اس کی عظیم فکری روایت تازہ ہو جس کو وہاں کے لوگوں نے بڑی محنت کے ساتھ استوار کیا تھا۔ اس کا ایک خاص سیاسی مزاج تھا، اس کا ایک خاص اصلاحی مزاج تھا، فلاحی مزاج تھا۔ وہاں کی جتنی بزنس کمیونٹی ہے، وہ اپنا فلاحی ایجنڈا رکھتی ہے۔ وہاں کی سیاسی جماعتیں فلاحی ایجنڈا رکھتی ہیں۔ وہ لوگوں کی خدمت کے کام بھی کرتی تھیں اور علاقوں میں اپنی اپنی برادری میں بھی کام کرتی تھیں۔ آپ دیکھیں میمن کمیونٹی نے خدمت کا کتنا کام کیا ہے۔ چنیوٹیوں میں خدمت کا کام ہے، دلی والوں میں خدمت کا کام ہے۔ جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں جو کام کررہی ہیں ان کو چھوڑ دیں، حتیٰ کہ ایم کیو ایم کو بھی خدمت کا ڈھانچہ بنانے کی کوشش کرنا پڑی۔ کتنا بنایا، کیا بنایا، مَیں اس بحث میں نہیں پڑتا۔ بہرحال کراچی کا مزاج مجموعی طور پر یہ تھا کہ ایک دوسرے کا خیال کرنا ہے۔ کیونکہ باہر سے آئے ہوئے تھے، ان کو معلوم تھا کہ ایک دوسرے کا خیال نہیں کریں گے تو زندہ نہیں رہیں گے۔ آج بھی اسپتالوں کے لیے، تعلیمی اداروں کے لیے جتنے عطیات کراچی سے ملتے ہیں اتنے کہیں اور سے نہیں ملتے۔ پاکستان میں کہیں سیلاب آجائے، زلزلہ آجائے سب سے زیادہ عطیات کراچی سے آتے ہیں۔ کیوں آتے ہیں، کیسے آتے ہیں،یہ سوچنے کی بات ہے۔ یہی نہیں کہ وہاں بزنس بڑا ہے بلکہ یہ کہ وہاں کا بزنس مین بھی خدمت کے جذبے کے ساتھ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔

سوال: کراچی کی شناخت کے حوالے سے کچھ لوگوں کا آپ نے ذکر کیا۔ مزید ایسے لوگوں کا ذکر کریں جو کراچی کی شناخت کا حوالہ رکھتے ہیں اور سلیم احمد کی محفلوں میں شریک ہوتے رہے؟
سجاد میر: کوئی ادیب یا ادب کا طالب علم نہیں ہے جو اُن کی محفلوں میں شریک نہ ہوتا رہا ہو۔ جس زمانے کا ہم ذکر کرتے ہیں اُس زمانے میں نوجوانوں کی ایک پوری نسل تھی۔ قمر جمیل تھے، ان کا اپنا ایک اڈا اور ٹھکانا تھا۔ علمی گہرائی مگر سلیم احمد کے ہاں تھی۔ کرار حسین تھے۔ حسن عسکری کو مردم بے زار تو نہیں کہوں گا لیکن انہوں نے ملنا جلنا ترک کیا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے آپ کو لوگوں سے کاٹ لیا تھا۔ اس کی نفسیاتی وجوہ بھی تھیں، لیکن شاید اس کی وجہ ان کا یہ خیال تھا کہ ترکِ دنیا کرو گے تو کچھ سیکھو گے۔ اس لحاظ سے عسکری صاحب تو دستیاب نہیں تھے۔ باقی جو لوگ تھے میں نے ان کو حلقۂ اربابِ ذوق میں بھی دیکھا ہے، اور جگہوں پر بھی دیکھا ہے۔ بہت اچھے لوگ تھے، لیکن بعض کی کوئی ایسی علمی سطح نہیں تھی کہ یہاں تک پہنچیں۔

یہ لوگ جو لبرل اور سیکولر ہیں، یہ مارکس ازم کے لیے کام نہیں کررہے، لیکن یہ ایسی فضا پیدا کررہے ہیں جو بے دینی کو فروغ دیتی ہے۔ ہماری لڑائی اس فضا کے خلاف ہے۔ صحیح فضا ہوگی تو پودا پرورش پائے گا، ورنہ کوئی پودا پھل پھول نہیں پائے گا۔

سوال: بعض لوگوں کا خیال ہے اور یہ تنقید بھی کی جاتی ہے کہ سلیم احمد کی محفلوں میں شریک ہونے والوں نے ان کے حوالے سے کوئی بڑا کام نہیں کیا۔ آپ اس خیال اور تنقید سے کس حد تک متفق ہیں؟
سجاد میر: یہ ٹھیک بات ہے، سب سے بڑا مجرم تو میں خود ہوں۔ میں کراچی ایک کتاب کی تقریب کے سلسلے میںآیا۔ خواجہ رضی حیدر نے سلیم احمد پر کتاب لکھی تھی۔ میں نے کہا کہ اس نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے۔ میں کہتا ہوں میرے دو مرشد تھے ایک مجید امجد اور دوسرے سلیم احمد۔ دونوں پر اس نے کتاب لکھ دی ہے۔ اسے میں اپنی نالائقی نہیں کہتا اُس کی زیادتی کہتا ہوں۔ یہ بات مذاقاً کہی، لیکن یہ ہے کہ جو کام کیا جانا چاہیے تھا وہ نہیں کیا گیا۔ اس کی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔ ایک اسٹیٹس کی بات بھی ہے۔ معاشرے میں آپ کا جو مقام ہوتا ہے کبھی کبھی وہ بھی آپ کو بڑا بنادیتا ہے۔ بہت سے لوگوں پر موٹے موٹے نمبر چھپے ہیں، ان کی زندگیوں میں اور ان کے بعد بھی۔ وہ نمبر ان کی صلاحیتوں کی وجہ سے نہیں چھپتے، اور وجوہ سے چھپتے ہیں۔ سلیم احمد نے جتنا کام کیا ہے وہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   صحافت کے سوداگر - قادر خان افغان

سوال: ایک زمانہ تھا جب صحافت کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ صحافت ایک مشن ہے، اور اب اس کے بارے میں رائے یہ ہے کہ صحافت کاروبار بن چکی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کاروبار کی بھی کچھ اخلاقیات ہوتی ہے، لیکن ہماری صحافت کاروبار سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟
سجاد میر: اس میں کوئی شک نہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ اور یہ بات میں کہتا بھی ہوں اور لکھتا بھی ہوں۔ دنیا بھر کا الیکٹرونک میڈیا تو تین، پانچ یا سات گروپوں کے قبضے میں ہے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ امریکن کانگریس میں اتنے پیسے پاکستان کے الیکٹرونک میڈیا کے لیے مختص کیے گئے۔ یہاں تک کہ ایک دو لوگوں کے ناموں، بڑے ادارے کے لوگوں کے نام کے ساتھ یہ آتا ہے کہ ان کو، فلاں این جی اوکو واشنگٹن سے تعلق ہونے کی وجہ سے یہ پیسے ملے، یا اس کو اپنے آفس میں کام کرنے کی وجہ سے یہ پیسے ملتے ہیں۔ یہ بھی آتا ہے کہ ہمارے ہاں جب کوئی مہم چلائی جاتی ہے وہ پیڈ کمپین ہوتی ہے۔ مثلاً جب حدود آرڈیننس کے خلاف یہاں ایک طرح کی مہم چلائی گئی تھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس کی ادائیگی کی گئی ہے۔ کئی لوگوں نے اس کا اعتراف بھی کرلیا۔ اب ایسی صورت میں جب پوری دنیا سے خریداری کا یہ کام جاری ہے تو ہمارے ہاں بھی لوگ بچے ہوئے نہیں۔ جب صحافت مشن تھا، اُس زمانے میں بڑی سے بڑی بات کہی جاتی تھی جو اسے ذرا نیم کمرشل بنانا چاہتے تھے‘ وہ یہ کہتے تھے اخبار بند کرا دینا بڑی بات نہیں ہے ’’جسارت‘‘ یا ’’زندگی‘‘ کی طرح، بلکہ اخبار کو قائم رکھنا بڑی بات ہے۔ مثال کے طور پر نوائے وقت کے مجیدنظامی صاحب یہ کہتے تھے۔ لیکن مجید نظامی صاحب کا بھی ایک پوائنٹ تھا، اس سے نہیں ہٹنا لیکن کوشش کرنا، جہاں بہت خطرہ ہے وہاں بچ کے جاؤ۔ آج وہ معاملہ نہیں ہے۔ آج یہ ہے کہ جہاں پیسہ ہو، جہاں مفادات ہوں۔ بہت سے اینکر ایسے ہیں جن اداروں سے تنخواہیں لیتے ہیں وہاں بیٹھ کر کہتے ہیں: ابھی یہ ٹوئٹ آئی ہے، ابھی یہ میسج آیا ہے، فلا ں جرنیل کا آگیا یا فلاں ایجنسی کے سربراہ کا آگیا ہے۔ پروگرام کے دوران وقفے میں بتاتے ہیں کہ اب یوں نہیں یوں بات کرنی ہے۔ یہ تو ہوتا دیکھا ہے۔ اداروں اور ایجنسیوں نے صحافت اور ذرائع ابلاغ پر قبضہ بھی کیا ہے، بلکہ یہ بات تو آن ریکارڈ ہے کہ پرویزمشرف سے امریکیوں نے کہا تھا کہ آپ کچھ بھی کریں میڈیا کو آزاد کردیں، خاص طور پر الیکٹرونک میڈیا کو۔ یہ بات پرویزمشرف نے اپنے قریب ترین حلقوں میں کہی۔ اس پر نئے چینل کھلے۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ امریکا یہ کیوں چاہتا ہے! بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے ذریعے وہ ہمارا کلچر، ہمارا مزاج، ہماری پوری فکر، پوری سمت بدلنا چاہتا ہے۔ اس لیے اس پوری جنگ میں بہت بڑی ہمت والے لوگ ہیں جو ڈٹ کے کھڑے ہیں، ان کو اتنے مواقع بھی نہیں ملتے۔
ابھی الیکٹرونک میڈیا میں اتنا امکان بھی پیدا نہیں ہوا کہ آپ اتنے بڑے ادارے پیدا کردیں کہ نظریاتی طور پر مضبوط بنیادوں پر ایک مضبوط گروپ تیار کرسکیں۔ بکھرے ہوئے لوگ ہیں، ایسے لوگ ہیں جو نظریاتی طور پر محب وطن ہیں، اسلام دوست ہیں اور ان اداروں میں کام کرتے ہیں، جو جمعیت میں رہ چکے ہیں، وہ اداروں میں ہیں لیکن اپنے آپ کو منوا نہیں پاتے۔ اب لوگ چھپاتے ہیں اپنے آپ کو۔ آج سے پندرہ بیس سال پہلے یہ صورت حال نہیں تھی۔ دانستہ نظریاتی بے ربطگی پیدا کی گئی ہے۔ ذہنوں کو آلودہ کیا گیا ہے، اور انتشار پیدا کیا گیا ہے۔ اب تو مادی فوائد اتنے ہیں کہ کوئی انتہا نہیں ہے۔ ہمارے کیریئر کے عروج میں تنخواہیں ہزاروں میں تھیں، اب لاکھوں میں ہیں۔ میں نے ایک مالک سے کہا: اگر اس حد سے زیادہ مجھے تنخواہ کی پیش کش کرو گے تو میں نہیں لوں گا، اس لیے نہیں لوں گا کہ وہ میری تنخواہ نہیں ہوگی، کہیں اور سے آئے گی۔ اور ایسے پیسے آتے ہیں، اس کے لیے اب ہم دلائل دیتے ہیں، جواز پیدا کرتے ہیں۔ دیکھیے جی اتنے اشتہار آئیں گے۔ اتنے اشتہاروں کا اتنا فی صد ہمیں ملنا چاہیے۔ وہ تو ہوگئے 45لاکھ روپے۔ اور پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ اینکر اپنی پوری ٹیم بنالیتا ہے۔ جھوٹ بھی بولتے ہیں تو آپ روک نہیں سکتے۔ بعض چینل کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں، نہ حکومت روک پاتی ہے نہ کوئی اور روک پاتا ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ بین الاقوامی سازش نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ پھر الیکٹرونک میڈیا تو خاص طور پر اپنی روح کے اندر غارت گر تہذیب ہے۔ اپنا کلچر لیے اس کے اندر رہ کر لڑنا بہت بڑا جہاد ہے۔ اور ہمارے بڑے بڑے نام اور بڑے بڑے لوگ جن کو ہم نے اپنا لیڈر بناکر آگے کیا ہوا تھا، اب ہم بھی جانتے ہیں کہ وہ کس روش پر چل رہے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہمارے پاس قیادت نہیں رہی جو ہمیں صحیح سمت پر رکھ سکے۔ وہ کہیں اور ہانک کر لے جانا چاہتی ہے۔ یہ سب سے بڑا المیہ ہے۔

سوال: پاکستان میں نجی ٹی وی کا آغاز ہوا تھا تو سمجھا جارہا تھا کہ ٹی وی آزاد ہے۔ لیکن اب اس کے بارے میں خیال ہے کہ کہیں اس میں امریکی اور یورپی پیسہ، کہیں ایجنسیوں کا سرمایہ،کہیں کارپوریٹ سیکٹر قبضہ جمائے ہوئے ہے۔ آپ اس صورت حال کو کس طرح سے دیکھتے ہیں؟
سجاد میر: آزاد میڈیا کس چڑیا کا نام ہے؟ پہلے ہم غلام تھے حکومت کے، کیوں کہ اشتہار 80 فی صد حکومت کے آتے تھے۔ اب حکومت سے نہیں آتے، اب جہاں سے آتے ہیں اُن کے غلام ہیں۔ پہلے صرف اشتہاروں کی غلامی ہوتی تھی، اب مدد اشتہاروں سے ہٹ کر بھی آتی ہے۔ ایک چینل کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کے جتنے اخراجات ہیں، اس کا 20 فیصد اشتہاروں سے آتا ہے، باقی 80 فیصد کہاں سے آتا ہے؟ کسی چینل کے 80 فی صد اخراجات کسی اور ذریعے سے آتے ہیں تو کیوں آتے ہیں؟ کوئی ایجنڈا ہوتا ہوگا تب ہی آتے ہوں گے۔ یہ کاروبار چل پڑا ہے کہ تھوڑی سی خبر چل جائے گی تو کیا ہوگا! صنعتیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ مرغ بانی کی صنعت کے لوگوں نے مجھ سے آ کر کہا کہ فلاں فلاں اینکر نے اتنے اتنے لاکھ لیے جنہوں نے مشہور کررکھا ہے کہ فلاں بیماری پھیل گئی ہے۔ اس سے مرغی کی کھپت میں کمی آگئی ہے۔ اگر ہم اس بیانیے (narrative)کو الٹ دیں اور بتائیں کہ یہ بیماری انسانی جانوں کے لیے خطرہ نہیں ہے تو اس کا ایسا فائدہ ہوگا۔ اسی طرح تو کام کیے جاتے ہیں۔

سوال: جس طرح ماضی میں ہماری سیاست میں نظریاتی کش مکش تھی اُسی طرح صحافت نظریاتی صحافت کے عنوان سے دیکھنے کو ملتی تھی۔ لیکن اب لگتا ہے کہ نظریاتی سیاست کی طرح نظریاتی صحافت بھی ختم ہوگئی ہے اور ہمارے درمیان کوئی نظریاتی صحافی بھی شاید ڈھونڈے سے نہ ملے، یا وہ موجود ہی نہیں ہے۔ اس تجزیے میں کتنی صداقت ہے؟
سجاد میر: نظریاتی صحافت کے نام کے لوگ چلے گئے ہیں، لیکن میں نوجوانوں میں بہت تڑپ دیکھتا ہوں۔ بہت سے نوجوان ایسے ہیں جو بظاہر لبرل نظر آتے ہیں لیکن وہ بہت نظریاتی کام کررہے ہیں، مثال کے طور پر عامر خاکوانی اس طرح کے لکھنے والوں میں ہیں، یا وہ مسائل اور موضوعات جو پاکستان سے محبت رکھنے والوں کو تنگ کرتے ہیں وہ ان پر اپنے انداز میں لکھتے ہیں۔ بلاگرز پیدا ہوگئے ہیں جو آپس میں مل کر کام کررہے ہیں۔ نئے لکھنے والوں میں یقینی طور پر ایک جذبہ پیدا ہورہا ہے۔ لیکن ان کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔ ہمارے نامور لیڈر اُن کے بارے میں بڑی واضح رائے رکھتے ہیں۔ واضح سے میری مراد یہ ہے کہ منفی رائے رکھتے ہیں، بظاہر عزت کرتے ہیں لیکن ان کو پتا ہے ان سے اللہ کو جو کام لینا تھا وہ لے چکا ہے۔ اب شاید یہ ذمے داری ہمیں نبھانا پڑے۔ اس لیے اگر پرانے لوگوں میں ڈھونڈیں گے تو خال خال ہی ملیں گے۔ خاص طور پر ہمارے مکتب فکر میں تو بہت کم ملیں گے۔ لیفٹ کو ربع صدی ہوگئی۔ لیفٹ این جی او کو پیارا ہوگیا ہے۔ ادھر جانے کا فائدہ یہ ہوا کہ انہیں لبرل اور سیکولر سوچ پروان چڑھا جانے میں ایک طرح کی مالی اعانت میسر ہے، سو ان کے ہاں یہ تضاد (contradiction) نہیں پایا جاتا۔ اب وہ سیکولر اور لبرل ہونے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور یہی مغرب چاہتا ہے، یہی وہ این جی اوز چاہتی ہیں جو مغرب سے پیسہ لیتی ہیں۔ ہمارے ہاں وہ لوگ بھی نہیں ہیں۔ ہمارے ہاں ان کے مقابلے میں پیسہ کمانے کے لیے اور دھندے کرنے پڑتے ہیں اور لوگوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ کسی کو حکومت خریدتی ہے، تو کسی کو کوئی اور خریدتا ہے۔ پہلے ہوتا تھا کہ آپ نظریاتی طور پر کسی گروپ کے ساتھ ہیں۔ اب آپ لوگوں کی بیس سال کی ہسٹری دیکھیں، کتنی سیاسی پارٹیاں بدلی ہیں۔ ٹی وی کا ریکارڈ تو خاص طور پر ظاہر کرتا ہے کہ صبح شام بدل لیں تو پتا نہیں چلتا۔ اب الطاف حسن قریشی کا ایک ادارہ تھا، اس سے کئی لوگ پھوٹے نظریاتی طور پر۔ جو آج بہت بڑے بڑے لوگ موجود ہیں وہیں سے نکلے ہیں۔ لیکن جب سب جوان ہوگئے، بڑے ہوگئے، اب کون کیا کررہا ہے کیا نہیں کر رہا، آپ کسی کو کچھ نہیں کہہ سکتے۔

ہمارے اوپر آپ یہ کیس بناتے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کے مقابلے میں لبرل اور سیکولر جماعتیں جیتتی ہیں، تو ہمارے ہاں لبرل اور سیکولرازم کا نام لینے والا لوگوں سے ووٹ نہیں لے سکتا۔

سوال: دائیں اور بائیں بازو کی کش مکش سوویت یونین کے خاتمے کے بعد بالکل ختم ہوگئی، حالاں کہ نظریاتی کش مکش تو پوری زندگی پر محیط ہے۔ کیا اس کی وجہ سوویت یونین کا خاتمہ ہے؟
سجاد میر: سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سب سے پہلے لیفٹ کی کمر ٹوٹی۔ اب وہ سارے کا سارا این جی او کو پیارا ہوگیا۔ این جی او کا تصور خود ایک مشتبہ تصور ہے۔ یہ پوسٹ ماڈرن سول سوسائٹی کا concept (تصور) خود فالٹی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے تو انسان نے مذہب سے بغاوت کی کہ مغرب نے اعلان کیا، خاص طور پر نطشے کا مشہور جملہ ہے کہ God is dead۔ اب مذہب کچھ نہیں ہے، اب انسان کے فیصلے انسان کو کرنے ہیں۔ انسان کا صحیح مطالعہ انسان ہی ہے اور انسانیت کی خدمت سب سے بڑی چیز ہے۔ اسی سے نام نہاد ہیومن ازم نے جنم لیا۔ انسان دوستی اور انسان پرستی دو الگ الگ اصطلاحات ہیں جو استعمال کی جاتی ہیں۔ لیکن ہیومن ازم کے طور پر جو کچھ ہوا، فلسفہ متبادل بن گیا مذہب کا۔ لیکن کچھ عرصے کے بعد شاید مغرب والوں کو احساس ہوا کہ یہ فلسفہ بھی غلط ہوسکتا ہے، کوئی مارکس آکر انقلابی روح پیدا کرسکتا ہے، تو یہ فلسفے کے بھی خلاف ہوگئے۔ پوسٹ ماڈرن فنامنا جو تھا وہ کہتا ہے کہ گرینڈ ڈیریویٹو (grand derivative)کی بات نہ کرو۔ گرینڈ ڈیریویٹو کا مطلب گویا یہ ہے کہ جاگیرداری نظام غلط ہے، بڑی بڑی باتیں نہیں کرو بلکہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرتے رہو جو معاشرے کو بدل دیں گی۔ چائلڈ لیبر پر بات کرو، کاروکاری پر بات کرو۔ یہ کام کرتے رہو، معاشرہ آہستہ آہستہ بدل جائے گا۔ معاشرہ نہیں بدلتا، اس لیے نہیں بدلتا کہ جب آپ ایسا مقدمہ لے کر دیہات میں جاتے ہیں اور بیان کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو وہاں کا ڈی سی کام نہیں کرنے دیتا۔ کیوں نہیں کرنے دیتا، اس لیے کہ بااثر ہے۔ اور کون بااثر ہے، تو پتا چلا کہ فیوڈل ہے۔ پھر فیوڈل ازم کے خلاف تو آپ بول نہیں رہے، اس کو آپ سپورٹ کررہے ہیں، چھوٹے چھوٹے کام آپ کے کیسے پورے ہوں گے۔ خود یہ این جی اوز کا تصور یا سول سوسائٹی کے تصور کا پوسٹ ماڈرن تصور فالٹی ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی نیکیوں میں الجھاکر اتنا پیسا آیا ہے کہ انہوں نے (مغرب) طے یہ کیا کہ ریاستوں کو ہم طاقت کے زور پر سنبھال لیں گے، فوج کے زور پر۔ لیکن جو افراد یا گروپ ہیں ان کو سنبھالنے کے لیے اپنی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو کہا کہ وہ فنڈز مہیا کریں۔ اور وہی ہورہا ہے۔ یہ سارے لوگ ادھر چلے گئے جہاں پیسہ تھا، تو ہمارے بندے بھی للچائے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کمیونزم سامنے نہیں رہا تو نظریہ ختم ہوگیا۔ لالچ پیدا ہوگئی کہ دیکھو وہ پیسہ کما رہے ہیں۔ اور کیا کیا مفادات ہیں ان کے، اور کیا کیا عزت ہے معاشرے میں اور عالمی عزت بھی ہے ان کی۔ نجم سیٹھی پکڑا جاتا ہے تو امریکا چیخ اٹھتا ہے، حسین حقانی کے پکڑے جانے پر تھوڑا سا چیختا ہے، حالاں کہ چھے سات بڑے لوگ گرفتار تھے، ان پر کوئی نہیں بولتا۔پرانی بات ہے!

سوال: ایک زمانہ تھا کہ ہمارے درمیان ہر شعبے میں بڑی شخصیات موجود تھیں، اب صورت حال یہ ہے کہ کسی شعبے میں بڑی شخصیات کو تلاش کرنا دشوار ہوگیا ہے۔ اس صورت حال کا کیاسبب ہے؟
سجاد میر:آپ شخصیات کی بات کررہے ہیں۔ احمد جاوید میرے لیے چھوٹے بھائیوں کی طرح ہے، اس کی تربیت کے سارے مراحل ہم نے دیکھے ہیں۔ لاہور میں بھی مجھے جو بندہ آکر کہتا کہ اوریا مقبول جان کے رابطے میں ہوں، اس کے پاس سے آپ کے پاس آیا ہوں، یا احمد جاوید کی محفل میں بیٹھتا ہوں وہاں سے آیا ہوں، تو میرے لیے سب سے قیمتی لوگ وہی ہوتے ہیں۔ اور ایسے بھی ہیں جو ان جیسے چار چھے لوگوں سے ملتے ہیں اور مجھے اگر دستیاب ہوتے ہیں تو میں ان سے بڑی محبت کرتا ہوں۔ ایسے لوگ کم نہیں ہیں۔ اب کھلے دل کی بات کرنے کی یہ ہوتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو کشادہ دل کریں مثلاً اوریا مقبول جان ایک مختلف سوچ کا آدمی ہے، احمد جاوید ایک مختلف سوچ کا آدمی ہے۔ مجھے اگر کوئی غامدی پڑھتا نظر آتا ہے تو میں کئی چیزوں پر بہت سخت اختلاف کرتا ہوں، لیکن میں کہتا ہوں چلو مذہب کی بات تو کرتا ہے، تصور کچھ بھی ہو۔ ڈاکٹر اسرار کے لوگ الگ دنیا رکھتے ہیں، میں کہتا ہوں جو کچھ بھی ہو، مذہب کی بات تو کرتے ہیں ناں۔ بہت سے ایسے لوگوں کو جو مذہب کی بات کرتے ہوں اور مذہب کو آگے لے کر چلتے ہوں، یہ کہہ کر کہ یہ ہمارے نظریے یا ہمارے مسلک یا ہماری جماعت یا ہماری فکر کے خلاف ہیں، نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ لڑائی مذہب کی اور غیر مذہب کی ہے، اسے ہمیں سمجھنا چاہیے اور اسی کو لے کر آگے چلنا چاہیے۔

ہمارے نظریاتی لوگوں کو ہزیمت اس وقت ہوئی جب الیکٹرونک میڈیا آیا۔ الیکٹرونک میڈیا کے اپنے تقاضے ہیں اور ان تقاضوں کو پورا کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔

سوال: علمی اختلاف جو کرتے ہیں وہ انہی کے درمیان ہی تو ہیں؟
سجاد میر: یہ ٹھیک ہے۔ مذہب کے دائرے ہی میں اختلاف کررہے ہیں۔ بے دینی کے اکھاڑے میں تو نہیں جارہے ناں۔ میں نے ایک واقعہ سنایا میوات کے علاقے میں لوگوں نے مولانا اشرف علی تھانویؒ کو بلایا اور یہ کہہ کر بلایا کہ یہ لوگ ہندوانہ نام رکھتے ہیں، دو دو نام رکھتے ہیں، ان کو تلقین کریں کہ ان کی رسوم بڑی غلط ہیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی وہاں گئے، ان کے لیڈروں کو بلایا، اور کہنے لگے کہ سنا ہے تم اس طرح کرتے ہو۔ انہوں نے کہا: حضرت کیا فرمایا آپ نے ہم کافر ہوگئے ہیں! ہم تو تاجیہ نکالے ہیں تاجیہ۔ تو انہوں نے کہا کہ ہاں یہ کام کرتے رہنا، اور لوگوں سے کہا کہ ان کو تعزیہ نکالنے پر نہیں ٹوکنا۔ وہیں سے تبلیغی جماعت پیدا ہوئی۔ مطلب کیا تھا؟ مطلب یہ تھا کہ ایک رسم کے ذریعے اگر مذہب سے کوئی لگا ہوا ہے تو اس کے وہ تسمہ نہیں توڑو۔ اس پر مجھے منورحسن نے کہا کہ آپ یہ بات کررہے ہیں، میں ترکی گیا تھا، مجھے وہاں کی تحریک اسلامی کے لوگوں نے کہا کہ ہم نے جدیدیت کا مقابلہ بدعات سے کیا ہے۔ وہاں کا جو اسلام بنیادی طور پر ہے وہی خانقاہی مزاج کا اسلام ہے، وہ جس کو یہاں بدعتی یا صوفیانہ اسلام کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدعات سے ہم نے جدیدیت کا مقابلہ کیا ہے۔ یہ جو رسوم ہوتی ہیں جن کے ہم بہت خلاف ہوجاتے ہیں، مذہب سے جڑ جانے کا ایک رشتہ ہے۔ اس سے آدمی کو چمٹے رہنے دیں۔ ان شاء اللہ اس کی اصلاح ہوجائے گی۔

سوال: جن کے نام آپ نے لیے، ان کے علاوہ بھی کچھ لوگ ہیں۔ ان لوگوں کی گفتگو اور محفلوں کے اثرات معاشرے پر کیا ہیں؟ کیا یہ کسی تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں؟
سجاد میر: احمد جاوید کو میں کسی اور کیٹگری میں گنتا ہوں۔ سراج منیر تھے۔ میرا دونوں سے رشتہ ادب کے حوالے سے تھا، تہذیبی حوالے سے تھا اور ہے۔ لیکن یہ جو رفیق اختر ہیں ان کی شہرت ایک صوفی کے طور پر ابھری ہے۔ چار افراد ہیں جو اس حوالے سے معروف ہوئے ہیں۔ یہ، ایک یہ رفیق اختر اور ایک سرفراز شاہ صاحب، اور وہ لوگ جو کچھ پوشیدہ باتیں بھی بتادیتے ہیں لیکن اس پر زیادہ اصرار نہیں کرتے۔ ایک عبداللہ بھٹی صاحب کی شہرت ہے اور ایک عرفان الحق جہلم کے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا کہ عمران نے آپریشن نہ کرانے کا فیصلہ ان کے کہنے پر کیا تھا، انہوں نے جو نسخہ بتایا تھا وہ استعمال کیا، ان کی بھی شہرت ہوئی۔ یہ سارے لوگ اپنے اپنے دائرے میں دین کی خدمت کررہے ہیں۔ یہ کوئی بے دینی نہیں پھیلا رہے، سیکولرازم نہیں پھیلا رہے، لبرل ازم نہیں پھیلا رہے۔ ہمیں ان سے تعرض نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں کام کرنے دینا چاہیے۔ اس کے اثرات پھیلتے ہیں۔ ہمارے ہارون رشید صاحب، اکرم اعوان کو ’’قطب‘‘ سمجھتے تھے۔ اب پروفیسر رفیق اختر صاحب کو سمجھتے ہیں۔ میں اکرم اعوان صاحب کے ہاں بھی گیا۔ اسٹیج پر بیٹھے ہم دیکھ رہے تھے کہ ہزاروں کا مجمع ہے اور وہ تقریر کررہے ہیں۔ طارق جمیل کے بارے میں بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ ایکٹرسوں اور کھلاڑیوں میں مقبول ہے۔ میرے نزدیک تو ان کی بات میں اثر ہوتا ہے۔ یہ سب لوگ اپنے اپنے دائرے میں کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نصف صدی کی کہانی، ہارون الرشید کی زبانی - اہم انٹرویو کا آخری حصہ

سوال: پاکستان میں سیاسی انتشار ہے، سماجی انتشار ہے، مذہبی انتشار ہے۔ انتشار کے جتنے عنوانات گنائے جاسکتے ہیں وہ تمام موجود ہیں، ایسے حالات میں جو آپ کہہ رہے ہیں۔۔۔ کیسے یہ تبدیلی آئے گی؟

سجاد میر: پہلی بات یہ ہے کہ
مالی دا کم پانڑی لانا مشکاں بھر بھر لادے
مالک دا کم پھل پھول لانا لاوے یا نہ لاوے
آپ کب سے خدا بن گئے ہیں کہ آپ ہی کو معاشرے کو بدلنا ہے۔ یہ تو اللہ کا کام ہے۔ اللہ نہیں بنو اور رسول نہیں بنو۔ یہ نہ سمجھو کہ جو کچھ میں نے کیا وہ کچھ ہوکر رہے۔ اور یہ نہ سمجھو کہ میرے سوا کوئی ٹھیک نہیں ہے۔ یہ ایک عالم بے بدل کی نصیحت ہے جو انہوں نے اپنے شاگرد سے وقت رخصتی کی تھی۔ آپ کا کام یہ ہے کہ اپنے طریقے کے مطابق کام کرتے رہو، تبدیلی کے راستے آپ چھوڑ دو مالک پر، آپ اپنی طرف سے بہترین حکمت عملی سے کام کرو۔ متبادل تبدیلی کے جو طریقے لوگوں نے اختیار کیے ہوئے ہیں ان سے چڑو مت، یہ غلط کررہا ہے وہ غلط کررہا ہے۔ غامدی صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بہت سی چیزیں پرویزی اور سیکولر لے آتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں پرویز ہی تھا جس کا نام لیا جاتا تھا، لیکن پرویز نے بہت سے لوگوں کو دین کی طرف راغب کیا۔ ایسا بھی ہوا کہ بعد میں بہت سے لوگ راسخ العقیدہ مسلمان بھی ہوگئے۔ آپ فضا پیدا ہونے دیں، آپ مزاج پیدا ہونے دیں، جو دینی فضا ہو۔ اب یہ لوگ جو لبرل اور سیکولر ہیں یہ مارکس ازم کے لیے کام نہیں کررہے، لیکن یہ ایسی فضا پیدا کررہے ہیں جو بے دینی کو فروغ دیتی ہے۔ ہماری لڑائی اس فضا کے خلاف ہے۔ صحیح فضا ہوگی تو پودا پرورش پائے گا، ورنہ کوئی پودا پھل پھول نہیں پائے گا۔

سوال: پاکستان میں کسی مثبت تبدیلی کے امکانات کیا دیکھ رہے ہیں؟
سجاد میر: تبدیلی موجود ہے۔ ایک امریکی نے مجھ سے کہا: کوئی مذہبی پارٹی باقی نہیں بچی، آپ کب تک اسلامی رہیں گے؟ میں نے کہا: جو پارٹیاں جیتی ہیں اُن میں سے دو تو رائٹ آف دی سینٹر ہیں، ایک لیفٹ آف دی سینٹر ہے، ایکسٹریمسٹ تو کوئی نہیں ہے، آپ خوش کس بات پر ہورہے ہیں! نوازشریف آئے، عمران خان دونوں رائٹ آف سینٹر۔ حتیٰ کہ زرداری آئے وہ بھی لیفٹ آف دی سینٹر ہیں۔ ہمارے اوپر آپ یہ کیس بناتے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کے مقابلے میں لبرل اور سیکولر جماعتیں جیتتی ہیں، تو ہمارے ہاں لبرل اور سیکولرازم کا نام لینے والا لوگوں سے ووٹ نہیں لے سکتا۔ دو جماعتیں رائٹ آف دی سینٹر ہیں اور جو لیفٹ آف دی سینٹر ہیں ان پر بھی تہمت ہے لیفٹ آف دی سینٹر کی۔ ایسی صورت میں آپ لوگوں کی موجودگی میں تبدیلی نہ آئی ہوتی یہاں بھاشانی نہیں جیتا تھا۔ بھٹو کو اسلام کا نام لینا پڑا۔ وہ کش مکش کا انتہائی زمانہ تھا۔ الیکشن ہار گئے لیکن طے ہوا کہ اسلام سے آپ بھاگ نہیں سکتے۔ بھٹو کو اسلام کی طرف لوٹنا پڑا۔ اسی کو اپنی جیت کیوں نہیں سمجھتے! اگر اس کو کہیں گے کہ فلاں سیاسی جماعت کی جیت ہے پھر تو اور بات ہے۔۔۔ میں تو کہتا ہوں کہ اس کو اس طرح کہو کہ فطری طور پر وہ فکر جو اس قوم کو مذہب کے مرکز پر مجتمع رکھتی ہے اس کی جیت ہوئی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ نوازشریف کی اصل طاقت کیا ہے؟ مذہبی گروپ ہے۔ عمران خان کی طاقت کیا ہے سوائے مختصر سی لبرل کے ‘جو لبرل رائٹ ہے۔ ساری تنظیم رائٹ ہے۔ پیپلز پارٹی جتنے بھی انقلاب کے نعرے لگائے، وہ اسلام سے دور نہیں بھاگ سکتی۔ اب تو اے این پی بھی بتاتی ہے کہ ہمارے لوگ نماز پڑھتے ہیں۔ یہ معاشرے میں آپ کی جیت نہیں تو اور کیا ہے! اس کو آپ جیت کیوں نہیں سمجھتے! صرف انتخابی جیت کو جیت کیوں سمجھتے ہیں! آپ کی فکر کی جیت ہے کہ کوئی پارٹی آپ کی فکر سے دور بھاگ نہیں سکتی۔ آپ سے مراد جماعت اسلامی نہیں، دینی طبقہ ہے۔

سوال: آج ادب اور صحافت کا رشتہ ختم ہو رہا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟
سجاد میر: آغاز میں صحافی وہی ہوا کرتا تھا جو اپنی بات کا ابلاغ کرسکتا تھا۔ وہ چاہے ادیب ہو‘ چاہے مصلح ہو‘ چاہے کوئی پولی ٹیکل ریفارمر ہو۔ وہ چاہے محمد علی جوہر ہوں ‘چاہے حسرت موہانی ہوں ‘چاہے ظفر علی خان ہوں ‘چاہے ابوالکلام آزاد ہوں وہ ادیب بھی تھے، خطیب بھی تھے ان کا مطمح نظر صحافت سے پیسے کمانا یا ریٹنگ لینا نہیں تھا۔ ریٹنگ لینا میں اس لیے کہتا ہوں کہ آپ کی چیز کتنے لوگ پڑ ھ رہے ہیں، پرنٹ میڈیا کے زمانے میں یہ بات ہوتی تھی چنانچہ میں نے ایک بار کراچی یونی ورسٹی میں دبستان کراچی اور دبستان لاہور کا فرق بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ لاہور میں صحافت کا آغاز نظریاتی بنیاد پر ہوا۔ زمیندار تھا ‘زمیندار کے بعد نوائے وقت تھا۔ ان کے مقابلے میں جو صحافت آئی وہ بھی نظریاتی تھی۔ امروز آیا وہ لیفٹ کی صحافت تھی۔ لاہور کا دبستان ایک نظریاتی دبستان بن گیا۔ اس لیے ادیب ہی صحافی ہوا کرتا تھا۔ کوئی ایسا آدمی جو مشن رکھتا ہو‘ مصلح ہو وہ بات کہنا چاہتا ہو وہی صحافی ہوا کرتا تھا۔ اسماعیل ذبیح تھے ‘ظفر علی خان تھے، نصر اللہ عزیز تھے اور حسرت موہانی تھے، آزاد تھے، محمد علی جوہر تھے۔ جوہر سے زیادہ اچھی انگریزی کون جانتا تھا۔ وائسرائے کی بیگم جب واپس جارہی تھی اس سے پوچھا کہ گیا تم کیا ساتھ لے جارہی ہو؟ تو اس نے کہا میں کامریڈ کے پرچے لے کر جارہی ہوں۔ ظفر علی خان کی خطابت اور اس کی شاعری۔ پنجاب میں کہتے ہیں اقبال کے بعد کوئی آدمی پیداکیا ہے تو قادر الکلامی میں ظفر علی خان تھا، اتنا بڑانام تھا۔ کراچی میں جب آغاز ہوا ہے تو جب جنگ آیا ہے تو کراچی میں کوئی روایت تھی ہی نہیں۔ مچھیروں کی بستی تھی اور صنعتیں لگ رہی تھیں۔ صنعتیں لگیں تو مزاج بالکل کمرشل ہوگیا۔ جنگ آیا‘ انجام آیا ‘حریت آیا ‘ایک کمرشل مزاج کے ساتھ آیا۔ آپ ان کاکوئی وہ کیریکٹر بیان نہیں کرسکتے کہ وہ نظریاتی طور پر یہ تھے وہ تھے، اس کو دیکھ کر نظریاتی لوگ اس میں گھس گئے۔ انہوں نے اپنا کام دکھایا۔ طے کرکے اپنی بات کہنی ہے لوگ اخباروں میں شامل ہو جاتے تھے۔ چاہے وہ کمرشل ہونا چاہے وہ نظریاتی ہو۔ نظریاتی اس وقت زیادہ لاہور میں تھے۔ کمرشل اس وقت زیادہ کراچی میں تھے۔ مشرق آگیا، کوہستان آگیا، دوسرے اخبار آگئے، جسارت آگیا، ایک مزاج بنتا گیا۔ لیکن بے شمار تھے جو صحافت کومشن سمجھتے تھے۔ پھر کہا گیا کہ یہ انڈسٹری ہے۔ جب سے یہ انڈسٹری بنا ہے، ہمارا معاشرہ اس طرح بدلاہے کہ ہم نے اس کو کاروباربنا لیا ہے۔ تب سے یہ سارے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

ایک امریکی نے مجھ سے کہا: کوئی مذہبی پارٹی باقی نہیں بچی، آپ کب تک اسلامی رہیں گے؟ میں نے کہا: جو پارٹیاں جیتی ہیں اُن میں سے دو تو رائٹ آف دی سینٹر ہیں، ایک لیفٹ آف دی سینٹر ہے، ایکسٹریمسٹ تو کوئی نہیں ہے، آپ خوش کس بات پر ہورہے ہیں! نوازشریف آئے، عمران خان دونوں رائٹ آف سینٹر۔ حتیٰ کہ زرداری آئے وہ بھی لیفٹ آف دی سینٹر ہیں۔

ہمارے نظریاتی لوگوں کو ہزیمت اس وقت ہوئی جب الیکٹرونک میڈیا آیا۔ الیکٹرونک میڈیا کے اپنے تقاضے ہیں اور ان تقاضوں کو پورا کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ یہاں سب سے بڑی چیز ریٹنگ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ریٹنگ کے لیے آپ کو قلابازیاں کھانا پڑیں تو کھالیتے ہیں، ریٹنگ کے لیے آپ کو ننگا ہونا پڑے تو ننگے ہوجاتے ہیں۔ ریٹنگ کے لیے دو تین گالیاں دینا پڑیں تو آپ گالی دے دیتے ہیں۔ عجیب و غریب معاشرہ ہے! جو آدمی سارے کام کرتا ہے اس کی ریٹنگ ٹھیک آتی ہے، نتیجہ کیا ہے؟ جیسا میں نے شروع میں کہا آہستہ آہستہ وہ لوگ چھا گئے جو مداری کا تماشا دکھاتے ہیں۔ یہ سارا ایک پراسس ہے جو سرمایہ دار معاشرے میں ہوتا ہے، اور ہوا ہے۔ اس میں ہوسکتا ہے ہماری کوتاہیاں بھی ہوں لیکن یہ بھی ہے کہ پہلے اتنے زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں ہوا کرتی تھی اب وسائل کی اتنی زیادہ ضرورت پڑ گئی ہے جو ہمارے پاس میسر نہیں ہیں‘ اور جو طاقتیں یہ وسائل مہیا کرسکتی ہیں انہوں نے بھی اُن لوگوں کو مہیا کی ہیں جو یہ کام پروفیشنلی نہیں کرسکتے تھے ۔ان کو ڈر تھا کہ آج پاکستان میں کام ہوگیا تو کہیں وہی پروفیشنل لوگ ان کے ملک میں بھی کسی طرح سے نفوذ نہ کرجائیں۔

سوال:آپ کااخباری صحافت کاتجربہ طویل ہے۔ مجلہ کی صحافت سے آغاز،پھر کئی اخبارات کا سفر۔ آپ اس تجربے کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
سجاد میر: وہ ہماری فائٹ تھی جس کا کوئی مقابلہ پاکستان کی تاریخ میں نہیں۔ 1977ء کی تحریک میں بھی ڈٹ کر کام کیا۔ کراچی میں نوائے وقت کی نمائندگی کرتا تھااور زندگی میں تھا‘ پھرلاہور چلا گیا۔ لاہور میں بھی کمان سنبھالے رکھی۔ ایک ہمارا dedicated گروپ تھا۔ سعود ساحر تھے، مختار حسن تھے، محمدموسیٰ بھٹو تھے، شامی صاحب تو تھے ہی اس میں الطاف حسن قریشی تھے۔ ان لوگوں کانام نظریاتی طور پر آئی کون کے طور پر آتا تھا۔ پھر میں نہیں سمجھتا کہ حالات بدل گئے بلکہ ہم لوگ بدل گئے۔ یہ میں نہیں کہتا لوگ کہتے ہیں کہ بدل گئے‘ لیکن کچھ خرابی ضرور ہوئی۔ اس محاذ پر یا تو ہمیں پسپائی ہوئی یاہمارے آئیڈیل بدل گئے یا ہم نے یہ محسوس کیا کہ اس کا فائدہ کوئی نہیں ہے ‘یا پیچھے ایک بائنڈنگ فورس تھی وہ کمزور ہوگئی۔ بائنڈنگ فورس اس طرح نہیں رہی جس قوت کے ساتھ ہوا کرتی تھی۔ سلیم احمد بھی جماعتیہ کہلاتے تھے، میں نے لکھا تھا کہ جب میں روس کے خلاف لڑ رہا تھا تو جماعتیہ کہلاتا تھا اور جب امریکا کے خلاف لڑ رہاہوں تو بنیاد پرست کہلاتا ہوں۔ میں وہی ہوں‘ کبھی میرا نام جماعتیہ ہوتا ہے کبھی بنیاد پرست ہوتا ہے۔ اگر میں جماعتیہ ہوں تو جماعت کہاں کھڑی ہے۔ کیا وہ مجھے فورس پرووائیڈ کرسکتی ہے؟ اور اگر میں بنیاد پرست ہوں تو میری بنیادیں مضبوط ہیں کہ نہیں؟ اگر میری بنیادیں مضبوط ہیں تو میری بنیادوں کو مضبوط کرنے والی قوتیں موجود ہیں تو میں مضبوط ہوں۔ اصل مسئلہ تو یہ پیدا ہوا ہے۔
’’کردیا مر کے۔۔۔ دیوانہ ہم کو‘‘ لوگ چلے گئے اور لڑتے ہوئے گئے۔ عبدالکریم عابد تھے، بڑے نظریاتی آدمی تھے،صلاح الدین صاحب تو اپنی جنگ لڑتے ہوئے گئے، اللہ سلامت رکھے الطاف حسن قریشی صاحب ان حالات میں جو کرسکتے ہیں وہ پچاس سال سے کررہے ہیں۔ یہ سب چیزیں ہیں۔ نیا گروپ پیدا ہونے سے متعلق میں زیادہ پرامید نہیں۔ بات یہ ہے کہ جس کو ہم اپنا دور زوال کہتے ہیں بنیادی طور پر وہ ہمارا دورِ کمال تھا۔آپ سرسید کے زمانے سے شروع ہو جائیں۔ کیا کیا شخصیات پیدا ہوئیں لکھنے والوں میں بھی۔ اقبال سے پہلے کے لوگوں کو لے لیں۔ ابوالکلام، شبلی، ہر شعبے میں کمال کے لوگ تھے علماء بھی کمال کے تھے۔ علماء جتنے پیدا ہوئے دس بارہ تو دیو بند کے ہیں۔ دیو بند سے ہٹ کر بے شمار لوگ ہیں ہم کئیوں کے نام نہیں جانتے فضل حق خیر آبادی تھے غالب کے دوست تھے ‘کالا پانی کی سزا ہوئی خیر آباد اسکول آف تھاٹ موجود ہے جو بعد میں اپنی فقہی شکل میں بنا تو بریلی کا ہوگیا۔ فرنگی محل اتنا بڑا ادارہ تھا، اتنا بڑا اسکول آف تھاٹ تھا۔ کیا کیا لوگ ہوا کرتے تھے۔ مولانا لطف اللہ علی گڑھی تھے جن کو استاد العلما کہتے تھے، دیو بند بھی ان سے پڑھا ہوا بریلوی کہلانے والے بھی ان سے پڑھے ہوئے تھے۔ یہ روایتی علماکا حال تھا۔ باقیوں کو تو چھوڑیں ‘علمی طور پر دیکھیے پوری کی پوری نسل سرسید سے شروع کریں، شبلی تک آئیں۔ شاعری میں ‘ادب میں ہر جگہ آپ دیکھیں ابوالکلام آزاد سے لے کر سید ابو الاعلیٰ مودودی تک اسی زمانے کی پیداوار ہیں، سید مودودی کا بہت سارا کام قیام پاکستان کے بعد کا بھی ہے ‘بنیاد تو اسی زمانے میں پڑی تھی۔ اسی زمانے میں جس کو ہم دورِ غلامی کہتے ہیں۔ فکری طور پر ہمارا سنہری دور تھا اور آج جب ہم آزاد ہیں‘ آج ہم کمپیوٹر چلاسکتے ہیں‘ بہت عمدہ اور مینجمنٹ سائنس پڑھ سکتے ہیں، لیکن یہ جو بنیاد کے اندر بنتا تھا جو جڑوں کو مضبوط کرتا تھا، ایسا بندہ نہیں پیدا ہورہا۔ میرے خیال میں اس وقت معاشرے میں کنفیوژن ہے، اس لیے ہمیں لوگ نظر نہیں آتے۔ ہم دیکھتے ہیں ظفر اسحاق تھے‘ ڈاکٹر ممتاز احمد تھے۔ انہوں نے کیا کیا کام کیے۔ ڈاکٹر منظور احمد ہیں۔ یہ بہت زیادہ کام کرنے والے لوگ ہیں جو ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ انہی سے آپ کو نظر آئے گا کہ بہت نمایاں کام ہوا ہے۔ بہت سارے لوگ ان میں ایسے ہیں جو دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکتے ہیں۔

بہت سے ایسے لوگوں کو جو مذہب کی بات کرتے ہوں اور مذہب کو آگے لے کر چلتے ہوں، یہ کہہ کر کہ یہ ہمارے نظریے یا ہمارے مسلک یا ہماری جماعت یا ہماری فکر کے خلاف ہیں، نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ لڑائی مذہب کی اور غیر مذہب کی ہے، اسے ہمیں سمجھنا چاہیے اور اسی کو لے کر آگے چلنا چاہیے۔

سوال: آپ پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آگئے۔ ٹی وی ون، وقت چینل،24 چینل میں رہے۔ آپ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟ کس کے اثرات زیادہ ہیں؟
سجاد میر: اثرات تو اِس وقت الیکٹرونک میڈیا کے زیادہ ہیں عامۃ الناس پر۔ لیکن جو پڑھا لکھا طبقہ ہے وہ پرنٹ میڈیا پر اب بھی اعتبار کرتا ہے۔ ہم اخباروں اور جریدوں کی تحریروں کو صحافتی تحریر کہا کرتے تھے۔ صحافتی کا لفظ ہم دانستہ ذرا منفی معنوں میں استعمال کرتے تھے۔ سنجیدہ بک ریڈنگ اور سنجیدہ کتابیں الگ ہوتی تھیں۔ اب صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ پرنٹ میڈیا کی عزت زیادہ ہے چاہے صحافت ہی کیوں نہ ہو۔ چھپے ہوئے لفظ کی حرمت باقی ہے۔ ابھی لوگ چھپی ہوئی چیز پڑھتے ہیں۔ اب بہت سا میٹریل ایسا سنجیدہ بھی آرہا ہے عام اخباروں میں، جو بہت مختلف دکھائی دیتا ہے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ آپ کو صحیح بات عام لوگوں تک پہنچانے کا موقع الیکٹرونک میڈیا سے ہی ملتا ہے۔ یہ سروے نہیں ہوا کہ کتنا دیرپا ہوتا ہے۔ یہ سروے کرنے کی ضرورت ہے کہ کتنا دیرپا ہے۔ دیرپا ہو نہیں سکتا کیوں کہ جو تھیوریز ہیں کمیونیکیشن کی، اسی میں ایسی چیزیں بھی موجود ہیں جو فوری اثر کرتی ہیں اور دور تک مار کرتی ہیں۔ ان کے اثرات دیرپا نہیں ہوتے۔ جو چیزیں آہستہ اثر کرتی ہیں، دیرتک رہتی ہیں۔ اخبار سے دیر تک کتاب رہتی ہے۔ اس کے اثرات بھی دیرپا ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں الیکٹرونک میڈیا ایک عارضی اثر تو رکھتا ہے، لیکن مستقل اثر رکھے گا کہ نہیں رکھے گا اس کی اسٹڈی کرنے کی ضرورت ہے۔

سوال: آپ نے سندھی اخبار الوحید نکالا، وہ منصوبہ کیوں ناکام ہوا؟
سجاد میر: اس کے ناکام ہونے کی وجہ یہ تھی کہ دس بارہ افراد نے بیٹھ کر یہ طے کیا کہ سندھی پریس میں کام ہونا چاہیے۔ ہم نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وسائل کیسے آئیں؟ میں نے حساب کرکے بتایا کہ 15لاکھ میں نکل سکتا ہے۔ 15لاکھ بھی کم رقم نہیں تھی ہم جیسے لوگوں کے لیے۔ طریقہ اس کا یہ بتایا کہ اگر ہمیں 15پارٹیاں مل جائیں جو ایک ایک لاکھ ایڈوانس اشتہار کے دے دیں تو پرچہ نکال لیں گے۔ میں کہہ کر چلا گیا، وہ میرے گلے پڑ گیا۔ نتیجے کے طور پر ہم نے پرچہ نکال لیا۔ اس میں ایک مرحلہ ایسا آیا کہ مجھے آسٹریلیا جانا پڑا، بیگم میری وہاں پی ایچ ڈی کررہی تھیں۔ ساتھی کوئی تھا نہیں۔ اُس زمانے میں ایک صاحب نظر آتے تھے، اُن کو آگے بڑھایا بس یہی غلطی ہوگئی، ورنہ وہ منصوبہ بڑا پرفیکٹ تھا۔ اسی سسٹم کے ساتھ اردو کا پرچہ بھی نکلنا تھا۔ جب دو مہینے بعد آیا تو ڈمی بناکر اشتہاروں کی کمائی سب کھا رہے تھے۔ میں مارکیٹ میں 15لاکھ چھوڑ کر گیا تھا۔ مطلب یہ کہ میرا آسٹریلیا جانا اور میرے پیچھے کسی سنبھالنے والے کا نہ ہونا۔۔۔ اسی لیے وہ منصوبہ ناکام رہا۔ ’’تعبیر‘‘ میں نے نکالا تھا، وہ پروجیکٹ چل جاتا۔ لیکن ضیاء الحق کا سنسر لگ گیا۔ خالی پرچہ آتا تھا سنسر شدہ۔ نتیجہ یہ کہ پہلے میں نے بند کیا، پھر شامی نے بند کیا، پھر الطاف حسن قریشی نے بند کیا۔ ہفت روزہ کی گنجائش نہیں رہی تھی۔ کراچی میں ادارہ دو چار سال سیٹ کرچکا ہوتا تو شاید میں اس کو فیس کرلیتا۔ کوئی ڈائجسٹ نکال لیتا۔ جلد ہی سرمنڈاتے ہی اولے پڑ گئے تھے۔ ٹھیک ٹھاک شکل بنالی تھی سندھی پرچے نے۔ اگر میرے پاس پیسے ہوتے اور میں کسی صحیح آدمی کو بٹھا جاتا تو وہ منصوبہ چلتا رہتا۔