چند اچھی خبریں اور این اے فور کا الیکشن - محمدعامرخاکوانی

این اے چار پشاور کے الیکشن پر بات کرتے ہیں، مگر پہلے گزشتہ ہفتے کے دوران رونما ہونے والی دو تین اچھی خبروں کا جائزہ لیتے ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ ٹیلرسن کا دورہ کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت کاحامل تھا۔ دراصل آنے والے چند ماہ اس پورے خطے کے لیے بہت اہم ہیں۔اسی عرصے کے دوران کئی چیزیں طے ہونی اور بعض نے اپنی صورت بدلنی ہے۔ افغانستان کے مستقبل کے خدوخال ترتیب پا رہے ہیں۔ افغان حکومت، طالبان، امریکی افواج سب اپنے اپنے ہنر آزما رہے ہیں، داعش کی چنگاری اپنی جگہ کم خطرناک نہیں۔ یہ فتنہ افغان سرزمین پر نیا ضرور ہے، مگر نمایاں ہونے کی اپنی سی کوشش کررہا ہے، جس نے پڑوسی ممالک کو ہوشیار کردیا ہے۔ داعش اور افغانستان میں امریکی موجودگی کے مضمرات کے باعث ایک نئے اتحاد کی داغ بیل ڈالی جا رہی ہے۔ پاکستان اور چین پہلے ہی سے بہت قریب تھے، سی پیک نے انھیں مزید رشتوں میں باندھ لیا ہے۔ چین کی وجہ سے پاکستان روس کے قریب ہو رہا ہے اور مزے کی بات ہے کہ روس ہی کی وجہ سے پاکستان اور ایران میں دوری کم ہو رہی ہے۔ ایک طرح سے یہ گھوم کر ہاتھ ملانے والی صورتحال بن گئی، مگر عالمی تعلقات میں یہ نئی بات نہیں۔ امریکہ بھارت کو افغانستان میں بڑا کردار دینے کا خواہش مند ہے، مگر اس کی راہ میں بڑی عملی رکاوٹیں حائل ہیں۔ پاکستان ایسا کوئی صورت پسند نہیں کرے گا اور نہ ہی خطے کی دوسری بڑی قوتیں اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر پائیں گی۔ اب آنے والے دنوں میں مختلف چولہوں پر کئی طرح کی کھچڑی پکانے کی کوشش ہوگی۔ جو سکون سے اپنے پکوان پر فوکس کر پایا، مرچ مسالہ درست ڈالا، اس کا کھانا اچھا بنے گا، باقی اپنی قسمت کو روئیں گے۔ آسان لفظوں میں یہ کہ پاکستان کو انتہائی مستعد اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے حوالے سے یہ تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے اپنے کارڈز عمدگی سے کھیلے اور بڑی خوبصورتی سے اپنا مؤقف واضح کیا۔ عرصے بعد ایسا تدبر، کنٹرول اور فراست نظر آئی۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو اس اچھی کارکردگی پر سراہنا چاہیے۔ اسٹیبلشمنٹ سے سول حکومت تک سب ادارے مل کر ایک ٹیم نظر آئے اور اچھا کھیلے۔ امریکی حکومت اور وزارت خارجہ جس رعونت کا مظاہرہ کر رہی تھی، اسے دیکھتے ہوئے پاکستان نے ان کے ساتھ مناسب سلوک کیا۔ سردمہری کا دانستہ اور سوچا سمجھا مظاہرہ تھا۔ سول ملٹری لیڈر شپ کاامریکی وزیر سے ایک ساتھ، ایک ہی میٹنگ کرنے کا فیصلہ بھی دلچسپ اور درست تھا۔ امریکی وزیر یہاں سے بھارت گئے۔ بھارتی میڈیا اور ان کی حکومت نے اپنے مخصوص سفارتی انداز میں ٹیلرسن سے پاکستان کے خلاف سخت بیانات دلوانے کی سرتوڑ کوشش کی، مگر وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ امریکی وزیرخارجہ نے وہی کچھ کہا، جو وہ پچھلے کئی ماہ سے کہہ رہے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی منصوبہ سازوں نے اپنے کارڈز اچھے طریقے سے کھیلے اور امریکیوں پر اپنا مؤقف عمدگی سے واضح کیا۔ امریکہ نے مطلوب افراد کی فہرست دی۔ پاکستان وزیرخارجہ نے قوم کو بتایا کہ اس میں حافظ سعید کا نام شامل نہیں۔ یہ بہت اہم اور دلچسپ پیش رفت ہے۔ وزیرخارجہ کا یہ بیان پاکستانی عوام سے بڑھ کر بھارت کے لیے اطلاع تھی کہ آپ کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں اور امریکی سمجھ چکے ہیں کہ پاکستان پر ایک حد سے زیادہ دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا۔ ہمارے ہاں عام رواج ہے کہ ہر حکومتی پالیسی کو بےرحمی سے تنقید کا نشانہ بنایا جائے، سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سراہنا چاہیے۔ ان کے پاس آپشنز کم ہیں، مگر بڑی خوبصورتی سے نئے اتحادی بناتے ہوئے، پرانے اتحادیوں سے بگاڑ پیدا کیے بغیر، امریکہ جیسی سپر پاور سے کھلی لڑائی لڑنے سے گریز کرتے ہوئے مشکل وقت گزارنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ویل ڈن۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانافضل الرحمن سیاسی دوراہے پر - محمد عامر خاکوانی

ایک دل خوش کن اطلاع تحریک انصاف کی صفوںسے آئی۔ اگلے روز ایک معروف مگر متنازع ٹی وی اینکر کے پی ٹی آئی جوائن کرنے کی خبر گرم تھی۔ تحریک انصاف کے نوجوان کارکن مختلف وجوہات کی بنا پر موصوف کو سخت ناپسند کرتے آئے ہیں۔ شمولیت کی خبر ان سب پر بجلی بن کر گری۔ ان کارکنوں نے فردوس عاشق اعوان، نذر گوندل وغیرہ کی شمولیت کو طوعاً و کرہاً برداشت کر لیا تھا، مگر یہ شاک ان کی برداشت سے زیادہ تھا۔ بدھ کا تمام دن انصافین نوجوان سوشل میڈیا پر بھرپور اور منظم مہم چلاتے رہے۔ ٹوئٹر پر یہ اہم ٹرینڈ رہا، فیس بک پر ہزاروں پوسٹیں ہوئی، مختلف رہنماؤں کو فون کرکے لوگوں نے احتجاج کا اظہار کیا، عمران خان تک بھی ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے یہ تند وتیز فیڈ بیک پہنچا۔ تحریک انصاف کی ہمدرد سنجیدہ شخصیات نے بھی اپنا اہم کردار ادا کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو صاحب اپنی دانست میں مسیحا بن کر تحریک انصاف پر وارد ہو رہے تھے، ان کی شمولیت رک گئی اور انہیں رات گئے ٹی وی پر کھسیانے انداز میں وضاحتیں پیش کرتے دیکھا گیا۔ یہ اس لحاظ سے اہم بات ہے کہ پہلی بار کسی بڑی جماعت کے کارکنوں نے قیادت کے کسی فیصلے پر سیاسی، جمہوری انداز سے احتجاج کر کے وہ فیصلہ واپس کرایا۔ ممکن ہے مسلم لیگ ن کے کارکن شاید ایسی مہم نہ چلا پاتے کہ وہاں شخصیت پرستی عروج پر ہے۔ پیپلزپارٹی کا جیالا البتہ اپنی رائے کے اظہار میں بہت بےباک اور پرجوش تھا اور بھٹو خاندان اپنے ان دیوانوں کی بات بھی مان لیا کرتا تھا۔ تحریک انصا ف کے نوجوان عمران خان سے محبت کے اظہار میں بہت پرجوش ہیں، مگر انہوں نے بہرحال یہ بتا دیا کہ وہ عمران کے تبدیلی کے ایجنڈے کی وجہ سے حامی ہیں، ان کے غلام نہیں بن گئے۔ غلط کو غلط کہا جا سکتا ہے اور کہا گیا۔ ایسی ہی سوچ ہر جماعت کے کارکنوں اور ووٹروں میں آ جائے تو سیاسی قائدین کی آمریت ختم ہوجائے گی۔

این اے فور کا انتخاب تحریک انصاف کے امیدوار ارباب عامر نے بھاری اکثریت سے جیت لیا۔ اس الیکشن کو مسلم لیگی ن کے حامی اخبارنویسوں نے غیر معمولی اہمیت دلا دی۔ بار با ر کہا گیا کہ اس الیکشن کی لاہور کے این اے 120 والی اہمیت ہے۔ یہ بات حالانکہ درست نہیں، پشاور کی چار سیٹوں میں سے اس سیٹ پر پی ٹی آئی کی پوزیشن نسبتاً کمزور تھی، یہاں سے گلزار خان جیتے تھے اور ان کی اپنی کوشش کا زیادہ اہم دخل تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اکثر تجزیہ کار، جن میں کئی سینئر صحافی اور اینکر بھی شامل تھے، بڑے وثوق سے الیکشن نائٹ تک یہ کہتے رہے کہ ن لیگ یہ الیکشن جیت جائے گی اور اصل مقابلہ دوسری اور تیسری پوزیشن کے لیے اے این پی اور پی ٹی آئی کا ہوگا۔ نتیجہ برعکس نکلا اور سترہ اٹھارہ ہزار ووٹوں سے پی ٹی آئی نے یہ الیکشن جیت لیا۔ ن لیگ کے ووٹ پچھلے عام انتخابات جتنے رہے، ایک طرح سے ان میں کمی آئی ہے ، اس بار مسلم لیگی امیدوار کو مولانا فضل الرحمن کی بھرپور حمایت حاصل تھی، اس کے علاوہ شیر پاؤ کی قومی اتحاد پارٹی نے بھی حمایت کا اعلان کیا تھا، جے یوآئی کے کارکن سوشل میڈیا پر ن لیگی امیدوار کی مہم چلاتے رہے، ان کے مفتی صاحبان نے خاصا زور لگایا کہ پی ٹی آئی کسی طرح یہ سیٹ ہار جائے، یہ سب مل کر بھی خاطر خواہ ووٹ نہ لے سکے۔ اے این پی کے ووٹ البتہ بڑھے، معمولی فرق سے اس نے دوسری پوزیشن لی، ان کا امیدوار اچھا تھا اور بعض اخبارنویس توقع کر رہے تھے کہ شاید یہ اپ سیٹ کر جائے، ایسا نہ ہوسکا۔ پیپلزپارٹی کے امیدوار نے اس بار 13 ہزار کے قریب ووٹ لیے۔ مرحوم ایم این اے کا بیٹا پارٹی میں کچھ دن پہلے شامل ہوا تھا، ان ووٹوں میں اس کے اپنے ووٹ زیادہ ہوں گے، مگر بہرحال پی پی پی جو پنجاب میں ہزار بارہ سو ووٹوں تک محدود ہوگئی تھی، پشاور میں اس نے کچھ تو رنگ دکھایا۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ ایک نئی قوت بن کر بھر رہی ہے، اس الیکشن میں بھی اس نے 9 ہزار کے قریب ووٹ لے لیے۔ اس کا نقصان جماعت اسلامی کو ہوا جو ساڑھے 7 ہزار ووٹ لے کر چھٹی پوزیشن پر چلی گئی۔ جماعت والوں کو توقع تھی کہ ان کے امیدوار واصل چمکنی نے اچھی ڈور ٹو ڈور مہم چلائی ہے اور وہ ٹھیک ووٹ لے جائے گا۔ نتیجہ مایوس کن نکلا۔ پچھلے الیکشن میں جماعت نے یہاں پر ٹھیک ٹھاک ووٹ لیے تھے، اس بار نصف سے زائد ووٹ لٹا بیٹھے۔ لگتا ہے کہ جماعت کو ووٹ لینے کا منتر کہیں سے سیکھنا ہوگا۔ پے در پے مایوسیاں ان کا حصہ بن رہی ہیں۔ میرا شروع سے خیال ہے کہ ایک آدھ ضمنی انتخاب کے نتیجے سے آئندہ عام انتخابات کے موڈ کا اندازہ لگانا ممکن نہیں، بہرحال پی ٹی آئی کو اس جیت سے نفسیاتی فائدہ تو ملا ہے۔ کے پی کے میں ان کے امیدواروں کو حوصلہ ملا اور پنجاب کے الیکٹ ایبلز میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.