ممتازمفتی اور وہ - نورین تبسم

ممتاز مفتی
پیدائش: 11ستمبر 1905
وفات: 27اکتوبر1995

ممتاز مفتی کے لفظ سےاس کا تعلق برسوں پرانا ہے، اس وقت سے جب وہ رشتوں اور تعلقات کی غلام گردشوں میں بولائی بولائی پھرتی تھی۔ کالج لائبریری کی نیم تاریکی میں اُس کی الماریوں کی سرد ہوا سے بھی ڈری سہمی چپکے چپکے منٹو اور محی الدین نواب کو پڑھتی اور پھرگھبرا کرلاحول پڑھتی، ڈھلتی شاموں میں کالج کی آخری بس میں گھر جاتی اور سب بھول کر سو جاتی۔ راتوں کو اُٹھ کر خاص طور پر اپنے سٹور میں بکسوں پر بیٹھ کر کیمسٹری اور فزکس کے رٹے لگاتی کہ سردیوں کے موسم میں جس کی کھڑکی کے ٹوٹے شیشے سے مارگلہ کی پہاڑیوں کو چھو کر آنے والی یخ ہوا نہ صرف نیندیں اُڑاتی تھی بلکہ اس کے وجود میں دہکتے آتش فشاں کو بھی تھپکیاں دے کر سلاتی تھی۔ زندگی اور محبت اُس کے لیے الجبرا کا سوال یا ریاضی کے کُلیے کی طرح تھی۔ عشق و محبت اور ہوس کی کہانیاں بھی اسی قبیل کی لگتیں، اُن کو حل کرنا چاہتی لیکن بغیر استاد کے یہ سبق سمجھ نہ آتا تھا۔ اسی دوران "علی پور کا ایلی" ایک دوست سے ملی۔ یہ پہلا باقاعدہ عشق تھا جو کمرے میں داخل ہوا۔ بڑے اہتمام سے تکیے پر رکھ کر اسے پڑھتی۔ عجیب کشمکش کے دن تھے کہ سمجھ آتی تھی یہ کتاب اور نہ ہی جان چھوڑتی تھی۔ ہر صفحے کے بعد لگتا شاید اب کوئی بہت انوکھی بات سامنے آئے گی لیکن جیسے جیسے صفحے پلٹتی دل بوجھل ہوا جاتا۔

زندگی کی یہ جھلک کبھی خواب میں بھی نہ سوچی تھی۔ یہ کتاب اچھی بھی نہ لگتی تھی اور چھوڑنے کو بھی جی نہ چاہتا۔ خیر کتاب پوری پڑھنے کے بعد اس کے چیدہ چیدہ صفحات میں سے نوٹ کیے اقتباسات ڈائری پر اتارے اور کتاب واپس کر دی۔ مفتی صاحب سے پہلی ملاقات نے ایک اٹھارہ سالہ بچی پر کچھ اچھا تاثر نہیں چھوڑا۔ بہت بعد میں پتہ چلا کہ جو ہوا، منطقی طور پر درست تھا کہ مفتی صاحب نے ہمیشہ عورت کی بات کی۔ وہ عورت کے دل کے تاروں کو چھو کر اپنے حرفوں میں گنگناتے تھے۔ وقت کا پہیہ آگے سرکا، رشتوں نے گھیراؤ کیا اور جب ایک سنہرے بندھن میں اپنے آپ کو سمیٹا تو بہت کچھ واضح ہوا۔ پھر اپنی ڈائری سے ممتاز مفتی کو پڑھتی تو یوں لگتا جیسے سب اس کے لیے ہی لکھا گیا ہے۔ وہ اُسی کے شہر کے باسی تھے۔ دل ان سے ملاقات کے لیے ضد کرنے لگا تو اپنے پڑوسی انکل جناب محترم ضمیر جعفری صاحب کے گھر گئی، انہوں نے فون ملایا، جناب ممتازمفتی سے بات کرائی اور مفتی صاحب نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا کہ "کڑیے ملنا چاہندی اے تے فیر مل لے، ڈردی کیوں اے ، کوئی کج نئیں آکھے گا اک اٹھاسی سال دے بابے نال ملن توں"۔ لیکن اس کا ڈر نہیں گیا اور وہ پھر کبھی نہ ملی اس شخص سے جو نہ صرف دلوں کوچھوتا تھا بلکہ اس کے گھر کے قریب بھی رہتا تھا۔ اس کے بعد دو برس بیت گئے اور ممتاز مفتی صاحب اپنے آخری ٹھکانے کو روانہ ہو گئے۔ کون جانتا تھا کہ وہ اٹھارہ سال کی لڑکی جو "علی پورکا ایلی" پڑھ کر مفتی صاحب سے خفا ہو گئی تھی اور پھر بعد میں ان سے بات کر کے ڈر گئی تھی۔ اُن کے جانے کے دو عشروں بعد برملا اعتراف کرے گی کہ "ایلی" تو اُسی وقت اس کے اندر کنڈلی مار کر بیٹھ گیا اور وہ ممتازمفتی کی کتاب کا ایک ورق بن گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت، صبر و استقامت کا کوہ ہمالیہ - محمد نورالہدی

عورت کے متعلق مفتی صاحب کا جو تجزیہ تھا، اس کے رنگ ہر عورت کی ذات میں کسی نہ کسی حد تک جھلکتے ہیں۔ جنس عورت کی ذات کا ایک اہم پرتو ضرور ہے لیکن عورت کی اہلیت کو اس کی اوٹ میں فراموش کر دینا اُس کے ساتھ صریح ناانصافی ہے۔ ممتاز مفتی نے بےشک عورت کے اس روپ اور اس رویے کی حقیقت سے قریب تر تصویرکشی کی، اس کی نفسیاتی گرہوں کو دھیرے دھیرے کھولنے کی سعی کی، لیکن بحیثیت مجموعی ممتاز مفتی کی تحاریر میں عورت کی نسوانی کشش اُس کی قابلیت پر حاوی دکھائی دیتی ہے، اور یہیں اُن سے اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ ممتاز مفتی کا کمال یہ ہے کہ جب انہوں نے عورت کے جذبات واحساسات کی اتھاہ گہرائیوں تک رسائی حاصل کر لی تو پھر رُکے نہیں اور دوسری دُنیاؤں کے سفر میں "الکھ نگری، لبیک اور تلاش" جیسی معرکہ آرا تصانیف منظرِعام پر آئیں۔ قلم کو اس طرح یکدم تین سو ساٹھ درجے کے زاویے پر موڑ دینا اُردو ادب میں صرف اور صرف جناب ممتاز مفتی کا ہی خاصہ ہے اور ہمیشہ رہےگا۔ اللہ ان کی آخرت کی منزلیں آسان کرے آمین۔
۔۔۔۔۔۔
جناب ممتاز مفتی کی رُخصتی کے دو عشرے گزرنے پر میں نے اپنے احساسات قلم بند کیے۔ یہ میرے ذمے اُن کا قرض تھا کہ ان کی تحاریر سے جو کچھ حاصل کیا، اُسے اپنے پڑھنے والوں کے سپرد کر دوں۔ اُن کے لفظ کی تازگی جو آج بھی میرے ہمراہ ہے اُسے آگے پھیلاؤں۔ ممتاز مفتی جگ کے مفتی تھے، اُن کے لفظ کسی تعارف کے محتاج نہیں، اُردو ادب سے ذرا سی بھی رغبت رکھنے والا اُن کے لفظ کی تاثیر سےمتاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میرا مقصد صرف اور صرف نئے پڑھنے والوں کو ہماری زبان وادب کے بڑے لکھاری کی ایک جھلک دکھانا تھا۔ اُن کے لفظ لازوال ہیں اور اُن کا حق بھی تھا کہ انہیں سراہا جائے، یاد کیا جائے۔ یہ نوشتہ دیوار تو ہے کہ ہم مردہ پرست قوم ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم جانے کے بعد بھی کسی کی قدر کرنا بھولتے جا رہے ہیں۔ ہم "آج" کی خواہشات کے حصول میں ماضی کے خزینے فراموش کرتے جا رہے ہیں اور مستقبل کی عمارت کھوکھلی بنیادوں پر تعمیر کر رہے ہیں۔ اپنے حصے کا دیا جلاتے جائیں جہاں تک ہو سکے۔ یہ جگنو سی چمک منزل کی نشاندہی تو نہیں لیکن سمت واضح ضرور کر دے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا احادیث نے عورت کی حیثیت کم کی ہے؟ محمد رضی الاسلام ندوی

مفتی صاحب نے "الکھ نگری" میں لکھا تھا "چھوٹا منہ بڑی بات" اور میں مفتی صاحب کے بارے میں بس اتنا کہوں گی کہ "جتنے منہ اتنی بات"۔ ان کے افعال و کردار کی بحث سے قطع نظر میرے نزدیک وہ ایک ایسے گلاس کی طرح تھے جو آدھا بھرا ہوا ہوتا ہے، اب یہ دیکھنے والی آنکھ پر ہے کہ کسی کو وہ آدھا خالی دکھتا ہے تو کسی کو آدھا بھرا ہوا۔ ہر کوئی اپنے ظرف سے فیصلہ کرتا ہے۔ کوئی اسے نامکمل دیکھ کر لوٹ جاتا ہے اور کسی کو جتنا بھی ملتا ہے، وہ اس میں سے اصل کشید کرنے کی سعی کرتا ہے۔

ایک اعتراف کہ میں نے ممتاز مفتی کی ساری کتابیں نہیں پڑھیں۔ لیکن کسی کوجاننےکے لیے خواہ وہ کتاب ہو یا انسان اُس کا حرف بہ حرف حفظ کر لینا قطعاً ضروری نہیں۔ کبھی ایک نکتہ سب راز کھول دیتا ہے یا ایک جھلک ہماری نگاہ کو اُس کے قدموں میں سجدہ ریز کر دیتی ہے۔ بسا اوقات زیادہ نہ جاننا ہی ہمارے لیے نعمت ہوتا ہے کہ اگر ہم کسی کو مکمل جان جائیں، اُس کی رگ رگ سے واقف ہو جائیں تو پھر عشق کی اُن منزلوں تک رسائی دُور نہیں ہوتی جو عقل و خرد سے پرے اورجنوں کی وادیوں کے قریب ہوتی ہیں۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.