ملالہ پر ایک اور حملہ - کنیز نور

ملالہ یوسف زئی پر تنقید کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے لیکن یہ نشتر برسانے والا ہر شخص پہلے ملالہ کے علاقائی پس منظر سے آگاہی حاصل کرے تو زیادہ بہتر ہے۔ وہ لاکھ ہمارے لیے ایک مغربی ایجنڈا ہو لیکن اس کا اعتماد اور عمل ہماری بے عمل، بے کار و بد زبان زندگی سے لاکھ درجے بہتر ہے۔

ملالہ کی جینز ہو یا ماریہ طور کا یونیفارم، ہمیں اس طرح کے معاملات کو زیر بحث لانا پسند ہے۔ اس سے کوئی غرض نہیں کہ ملالہ کس یونیورسٹی میں ہے، وہ وہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرے گی اور زیادہ بہتر انسان بن کر ابھرے گی۔ ہمیں یہ بھی نہیں جاننا کہ ملالہ وہاں کیا پڑھے گی؟ آخر ہمیں کیا سروکار کہ جدید دنیا میں کیا علوم پڑھائے جا رہے ہیں اور دنیا کس نہج پر سوچتی ہے؟ یہ سب باتیں اہمیت نہیں رکھتیں، اہم ہے تو بس ملالہ کی جینز ہے۔ اس کا دوپٹہ ہمیں نظر تو آیا لیکن ایک خواہش ابھری کہ کاش یہ بھی نہ ہوتا تو اس نوجوان لڑکی پر حملہ مزید لطف دیتا۔ طالبان نے ملالہ پر ایک حملہ کیا تھا، ہم بار بار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم خود کو متوازن مسلمان اور شہری سمجھتے ہیں، ہم دین اور دنیا کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، ہمیں یہود و نصاریٰ کی سازشوں کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے اور ہم ان کے ہر وار کا بے ربط لفظوں میں بخوبی جواب بھی دیتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ ہمیں بے لباس کرنا چاہتے ہیں اور ملالہ کی جینز اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ہمارا دین عورت کے لباس سے شروع ہوتا ہے اور وہیں اٹکا رہتا ہے۔ اپنے معاشرے کی خود اعتماد با عمل عورت کا ہر عمل ہمیں اپنی روایات کے منافی لگتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ لباس کے چناؤ سے لے کر کسی عورت کو کیا سوچنا اور کیا کرنا چاہیے؟ یہ سب اسی دائرے کے اندر رہے جو ہم نے اپنے تئیں مرتب کر رکھا ہے۔

کتنا اچھا ہو اگر ہم دوسروں پر بے جا تنقید کی بجائے اپنے حصے کا کام محنت اور لگن سے کریں؟ اور منفی پروپیگنڈے کی بجائے مثبت طرز عمل اپنائیں؟