سوشل میڈیا پر ہمارا عمومی رویہ - بشارت حمید

سوشل میڈیا آج کی اہم ضرورت بن چکا ہے اس کا استعمال بذات خود برائی نہیں‌ ہے، البتہ یہ یوزر پر منحصر ہے کہ وہ اس کا مثبت استعمال کرتا ہے یا منفی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا نے عام صارف کی پہنچ ان لوگوں تک آسان بنا دی ہے جن تک عام حالات میں‌پہنچنا اور رابطہ کرنا ہر ایک کے لیے آسان نہیں‌تھا۔ بہت سارے اہل علم دانشور اور اساتذہ فیس بک پر موجود ہیں‌اور ان سے عقیدت رکھنے والے ان سے کچھ سیکھنے والے ان سے بآسانی رابطہ کر سکتے ہیں۔ جس طرح‌کسی بھی چیز کا استعمال تعمیر اور تخریب دونوں‌کے لیےکیا جا سکتا ہے اسی طرح سوشل میڈیا پہ جہاں‌کچھ لوگ دوسروں کی کمزوریوں‌سے فائدہ اٹھا کر بلیک میلنگ کرتے ہیں‌ وہیں‌ بہت سارے لوگ علم و دانش سیکھتے اور سکھاتے بھی نظر آتے ہیں۔

ہمارے ہاں‌سیاسی مخالفت اور ہنگامہ آرائی کا ماحول سوشل میڈیا پر بھی اپنا اثر ڈال چکا ہے۔ لوگ سیاسی مخالفوں کی کردار کشی کے لیےفوٹو شاپ کی ہوئی تصاویر اور ویڈیوز بنا تصدیق شیئر کرتے جاتے ہیں‌اور اس گناہ بے لذت کو اپنے کھاتے میں‌ڈالتے جاتے ہیں۔ ہر فارورڈ ہونے والا میسج درست ہے یا غلط اس سے سروکار رکھے بغیر اسے اپنی لسٹ میں‌موجود احباب کو بھیجنا عین کار ثواب سمجھتے ہیں۔ ہر تھرڈ کلاس دوستی اور محبت کے اقوال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کیے جاتے ہیں‌یہاں تک کہ قرآن و حدیث کو بھی نہیں‌بخشا جاتا۔ ایسی ایسی من گھڑت باتیں‌حدیث کے نام پر پھیلائی جاتی ہیں‌جن کا حدیث سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں‌ ہوتا۔ ریفرینس مانگیں‌تو جواب ملتا ہے کہ مجھے تو ایسے ہی ملا تھا۔ اللہ کے بندو! ہر آنے والا میسج فارورڈ کرنا فرض نہیں‌ ہوتا کم از کم اس کی تصدیق تو کر لیا کرو! ایسے ہی اندھا دھند فارورڈ کرنے سے بہتر ہے کہ اسے اپنے تک ہی محدود رکھا جائے کہ کم سے کم جھوٹ پھیلانے کا گناہ تو نہ ملے۔

اسی طرح‌ فیس بک وال پر کی جانے والی کسی کی ذاتی پوسٹ پر بے تکے کمنٹس کرنا یا اس پر فتوے بازی شروع کر دینا کسی طور بھی درست نہیں ہے۔ جب تک ہم کسی بندے کو ذاتی طور پر نہیں‌جانتے تب تک اس کی کی گئی ذاتی پوسٹ پر بے جا اعتراض کرنا مناسب نہیں کیونکہ ہمیں نہیں‌ معلوم کہ اس نے یہ پوسٹ کس پس منظر میں‌کی ہے اور کیوں‌کی ہے؟ ہمیں‌ پسند نہیں‌تو اس کو اگنور کر دینا چاہیے ضروری نہیں‌کہ کسی کی وال پر جا کر لازمی ٹانگ اڑائی جائے اور خواہ مخواہ اسے زچ کیا جائے یا اس کو کفر و اسلام کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جائے۔ پھر اگر کوئی بحث سے گریز کرتا ہے تو اسے لایعنی بحث میں‌گھسیٹنے کی بجائے اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا زیادہ بہتر ہے۔ اگر کوئی بات ہمیں‌اچھی نہیں‌لگی تو سمجھانے اور اصلاح کی غرض سے ان باکس زیادہ مناسب جگہ ہے نہ کہ پبلک کمنٹس کر کے الٹا اسے مخالفت پر آمادہ کر دیا جائے۔

کچھ لوگ خود تقویٰ کے اعلیٰ درجے پر ہوتے ہیں، وہ اگر کہیں‌ سوشل میڈیا پر آ جائیں‌تو ان کو ہر پوسٹ میں‌کچھ نہ کچھ قابل اعتراض مواد نظر آجاتا ہے اور وہ اسی کو بنیاد بنا کر لوگوں کی اصلاح کرنے کی کوشش میں‌ نئی بحث کا دروازہ کھول دیتے ہیں ‌جس کا انجام سوائے بدمزگی کے کچھ نہیں‌ ہوتا۔ وہ ہر بندے کو فوری طور پر اپنے جیسا متقی بنانا چاہتے ہیں‌ لیکن یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کی عقل و فہم اور ایمان کا لیول دوسرے انسانوں‌ سے مختلف ہے۔ یہاں ‌سب گنہگار ہیں ‌اور اپنے رب سے دور بھی۔ اگر ان کو ایک ہی نشست میں‌ سارا سبق انڈیل دیا جائے تو اس سے اصلاح کی بجائے بگاڑ بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ تبلیغ کے لیے حکمت کا استعمال بہت ضروری ہے، دوسرے کی چھوٹی چھوٹی باتوں‌کو نظر انداز کرکے ہی اصلاح کی طرف قدم بڑھایا جا سکتا ہے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */