پولیس اور چھرا مار - عباس احمد

میونخ جرمنی کا کثیر آبادی والا شہر ہے۔ جرمن پولیس سروس دنیا کی بہترین سروسز میں سے ایک ہے مگر گزشتہ کچھ دنوں سے جرمن پولیس ایک چھرا مار چھلاوے کو قابو کرنے میں کامیاب نہیں ہو پارہی۔ جس طرح کراچی میں ایک چھلاوا شہریوں کو زخمی کرتا پھر رہا ہے، بالکل اسی طرح جرمنی کے شہر میونخ میں بھی ایک چھلاوا آگیا ہے جو اب تک آٹھ افراد کو زخمی کرچکا ہے، جن میں ایک بارہ سالہ بچہ بھی شامل ہے۔

جرمن پولیس کے مطابق انہوں نے ایک مشکوک فرد کو پکڑا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ وہ ملزم ہو۔

کراچی والے چھرا مار کے پاس لال موٹرسائیکل ہے تو میونخ کا چھرا مار کالی سائیکل پر آتا ہے۔ میونخ پولیس نے کہا ہے کہ شہری چھرا مار سے بچنے کے لیے اپنے گھروں میں رہیں۔

اگر یہ بات کراچی پولیس نے کہی ہوتی تو اب تک سوشل میڈیا پر ہم نے ان کی دھجیاں یہ کہہ کر اڑادینا تھیں کہ خود تو کچھ نہ کرسکے اور الٹا شہریوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

کراچی پولیس نے 200 موبائل فون سمز کا ڈیٹا چیک کیا، 1500 فون کالز کو ٹریس کیا، گلستان جوہر میں لال رنگ کی 1500 موٹرسائیکلوں کی نگرانی شروع کردی، علاقے کے رہائشی 30 نفسیاتی مریضوں کی نگرانی کی۔ رینجرز کے 100 اور پولیس کے 300 سادہ لباس اہل کار تعینات کردیے گئے، لیڈی پولیس اہل کار تعینات کردی گئیں، ہر آنے جانے والے کی تلاشی لی جارہی ہے مگر چھرا مار ہاتھ نہ آیا۔

کراچی پولیس نے میونخ پولیس سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا مگر میونخ اور کراچی میں ایک فرق وہاں کے عوام اور صحافیوں کے رویّے کا ہے۔ جب میونخ میں یہ سب ہورہا ہے تو صحافی پولیس تفتیش کے پہلو اجاگر کررہے ہیں، شہری محتاط ہیں اور پولیس کو ہر اطلاع فراہم کررہے ہیں، پولیس کے ہر عمل میں شہری ساتھ دے رہے ہیں اور کراچی میں ہر آدمی صبح گالیاں دیتا ہوا اٹھتا ہے اور رات گالیاں دیتا دیتا سوجاتا ہے، جس کا نیتجہ یہ ہے کہ ہم خود ایک گالی بن چکے ہیں۔

مثبت سوچیں اور خود پر احسان کریں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */