چوری کی واردات کیسے ہوتی ہے؟ راؤ اسامہ منور

ایک جگہ پڑھا کہ دیہات میں چور، چوری کی واردات کے لیے ایک مخصوص طریقہ اپناتے ہیں۔ کسی ایک گھر کو ٹارگٹ کرلیتے ہیں اور آدھی رات کو اس گھر میں دو تین پتھر پھینکتے ہیں، ایسا دو تین راتیں کرتے ہیں، اگر گھر والوں کی طرف سے کچھ ری ایکشن ہو مثلاََ کوئی اونچی آواز میں پوچھے کہ کون ہے؟ یا لائٹ آن ہوجائے یا پھر کوئی چلتا پھرتا محسوس ہو تو چور اس گھر میں چوری کا اردہ ملتوی کر دیتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس اگر ان چھوٹے موٹے پتھروں کے جواب میں کوئی رد عمل نہ ہو تو چور پوری تیاری کے ساتھ آتے ہیں اور بھرپور کارروائی ڈال کر چلے جاتے ہیں۔

قاضی حسین احمد علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ کبھی کبھار جو ختم نبوت ﷺ پہ حملہ ہوتا ہے، کبھی شعائرِ اسلام کا مذاق اڑایا جاتا ہے، کبھی کسی جگہ مسلمانوں کا اجتماعی قتل شروع ہوجاتا ہے تو تم لوگ پوری قوت سے اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوا کرو اور آواز بلند کیا کرو۔ وجہ انہوں نے یہی بتائی کہ مخالفین تمہارے ایمان کی طاقت اور اسلام کے ساتھ تمہاری محبت کا اندازہ لگا رہے ہوتے ہیں کہ اس کی موجودہ حالت کیا ہے، اس لیے تمہارا ایمان، تمہاری نمازیں، تمہارا اخلاق و کردار جس حالت میں بھی ہو مخالفین اسلام کو اپنے ہونے کا بھرپور ثبوت دیا کرو۔

چونکہ میں طالب علم ہوں تو طلبہ اور تعلیمی اداروں کی ہی بات کروں گا۔ روز بروز یہ بات دیکھنے میں آرہی ہے کہ تعلیمی اداروں کے اندر فحاشی و عریانی بڑھتی جارہی ہے، قصور معاشرے کا ہے جس میں نوجوانوں کے لیے حلال کو مشکل اور حرام کو آسان بنا دیا گیا ہے، لیکن وہ غلطی جو معاشرہ مجموعی طور پہ کر رہا ہے اس کا خمیازہ غلطی کرنے والوں کو انفرادی طور پہ بھگتنا پڑتا ہے، خیر اشارہ ہی کافی ہے اگر تفصیل میں چلا گیا تو مشکل ہوجائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   کرونا وائرس کے مقابل دُعا اور محبّت کا وائرس - ہمایوں مجاہد تارڑ

اب ان معاملات کو جو نوجوانوں کے لیے حرام کاری کا راستہ آسان بناتے ہیں، روکنے کے لیے کوئی گروہ اپنی خدمات پیش کرتا ہے یا خود ہی یہ کام اپنے ذمے لے کر کچھ ایکٹ کرتا ہے تو اس پہ کسی شخص کو خصوصاً کسی مسلمان اور پاکستانی معاشرے کے فرد کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔

لبرل ازم اور سیکولرازم کا یہی بیانیہ ہے اور ایک عام انسان کے دل میں یہ بات سیدھی جا کر لگتی ہے کہ واقعی ریاست کو یا افراد کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی کے انفرادی معاملات میں خصوصاً جب وہ مذہبی کرپشن کے ہوں دخل دے۔

پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اسلام مخالف کلچر کو روکنے اور اس کا سدباب کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ اسی سے "نَھِی عَنِ الْمُنْکَر" کا فریضہ ادا ہوتا ہے۔ خواہ وہ نوجوانوں کا ناجائز تعلق ہو، شعائر اسلام کا مذاق اڑانا ہو، اسلامی و معاشرتی روایات کے برعکس کسی خرافات کا سرعام اظہار و استعمال ہو، طاقت ور کو اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ہر ایک کے خلاف آواز بھی اٹھانی چاہیے اور اسے روکنا بھی چاہیے۔

اسلام میں ان معاملات سے متعلق قوانین بھی موجود ہیں اور احسن راستے بھی، ان سب کا انکار گویا کفر کی حمایت ہے، مگر یہ سب اسلامی ریاست کے لیے ہیں، موجودہ معاشرے کے اندر رہتے ہوئے جتنی طاقت ہمارے ہاتھ میں ہے، اس کا استعمال جائز ہے اور جو طاقت ہے یہ غنیمت ہے، اس ساری گندگی و غلاظت کے خلاف جو اسلام دشمن عناصر ہمارے درمیان گُھسیڑنا چاہتے ہیں۔

یہ چور مختلف قسم کے پتھر مار کر ہمارے گھر یعنی پاکستان کی اندرونی حالت چیک کرنا چاہتے ہیں، انہیں نہ صرف آواز لگا کر بھگانا چاہیے بلکہ ہوسکے تو جوابی پتھر بھی پھینکنا چاہیے۔