لڑکیاں لکڑیاں ہوتی ہیں - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

لڑکیاں لکڑیاں ہوتی ہیں، سلگتی لکڑیاں جو بن جلے راکھ بن جایا کرتی ہیں. دھواں اول تو اٹھتا نہیں جو سماج کی آنکھیں جلائے، جو کہیں اٹھ بھی جائے تو اسے ہوا میں اڑا دیا جاتا ہے، تاکہ دوسری سلگتی لکڑیاں دھواں بننے کی ہمت نہ کریں. نہیں تو گم جائیں گی گما دی جائیں گی. لکڑیاں سلگیں، ضرور سلگیں، سلگتی رہیں، اندر ہی اندر بھسم ہوتی رہیں، کس نے روکا ہے، راکھ بنیں یا کوئلہ. کوئی نہیں پوچھے گا، کوئی انگلی نہیں اٹھے گی، پر خبردار دھواں نہ نکلے ورنہ شملہ گر جائے گا، ریت رواج کے بلند و بالا محل کی بنیادوں میں گڑگڑاہٹ کی عظیم آواز کے ساتھ ایسا زلزلہ آئے گا کہ سماج کھڑے قد سے زمیں بوس ہو جائے گا. ایک جلتی لکڑی سے نکلتے دھویں کی یہ قیمت بہت بڑی ہے، بن دھویں کے سلگتی لکڑی سماج کو اچھی لگتی ہے، سو دفعہ قبول ہے، اور دھویں دار لکڑی سے بغاوت کی بو آتی ہے، لہذا اسے تین طلاق.

ان گیلی سوکھی لکڑیوں کو سلگانے والی تیلی کہاں سے آتی ہے. خود بخود تو یہ سلگ نہیں سکتیں. اسی دھارمک سماج کے دھرم واسی ان نوخیز ہری گیلی ادھ سوکھی بےخبر بھولی بھالی لکڑیوں کو سلگاتے ہیں، تیلی لگاتے ہیں، ہلکا ہلکا لوبان چھڑکتے ہیں، میٹھے میٹھے جاپ منتر کا ورد کرتے ہیں، سلگن کی حرارت سے سکھ شانتی، سرور و تسکین پاتے ہیں، لیکن جیسے ہی کوئی سلگتی لکڑی بھاپ دینے لگے، خوشبودار مرغولے اڑانے لگے یا گاڑھا سیاہ بادل سا دھواں سلگن سے حظ اٹھاتے دھارمک کے سفید سر میں سیاہی بھرنے لگے تو وہیں وہ جلتی بھانبڑ لکڑی سماج کے لیے چتا مان لی جاتی ہے، اور سارا سماج اپنے ریت رواج کے کند اوزار تیز کیے اس پر پل پڑتا ہے. جلتا بھانبڑ اپنی ہی چتا کی آگ میں بھسم کر دیا جاتا ہے. ایسی سلگتی برہن نہ کوئلہ بنتی ہے نہ راکھ. بس گم جاتی ہے، چپ کرا دی جاتی ہے.

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.