نظام کے بگاڑ کی اصل وجوہات - امجد طفیل بھٹی

کون کہتا ہے کہ پاکستان میں ابھی بھی سفارش چلتی ہے ، اب تو سفارش کے نام سے بھی لوگوں کو چڑ ہے ، نہ تو اب کوئی کسی کی سفارش کرتا ہے اور نہ ہی کوئی کسی سے سفارش کرواتا ہے۔ ایک دور تھا کہ لوگ کبھی کبھار اپنا کام نکلوانے کے لیے کسی سہارے کی تلاش میں مارے مارے پھرتے تھے اور اگر کوئی بااثر شخص کسی پر رحم کھانے پر آتا تو پھر اس کے تو وارے نیارے ہی ہو جاتے کیونکہ اس بااثر شخصیت کے نام کی سفارش کسی کی بھی زندگی کی کایا پلٹ سکتی تھی۔ مگر آج ہم لوگ اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اب سفارش نامی کسی بھی گھٹیا اور قابل نفرت شے کا وجود نہیں ہے۔

جیسے جیسے دنیا ترقی کی منازل طے کرتی جا رہی ہے ہم لوگ بطور پاکستانی بھی اس ترقی کو پانے کے لیے سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں چاہے ہمیں اس کے لیے کتنے ہی قانون توڑنے پڑیں۔ لیکن آج ہم جدید ٹیکنالوجی کو ہاتھوں میں لیے ایسے گھوم رہے ہیں جیسے کہ یہ ہمارے گھر کی کھیتی ہے ، شاید اس لیے اب ہماری اصطلاحیں بھی بدل گئی ہیں۔ پہلے دور میں سفارش کو سفارش ہی کہا جاتا تھا مگر آج اسکو ہم نے “ ریفرنس “ کا نام دے دیا ہے ، پہلے ہم رشوت کو رشوت ہی سمجھتے اور کہتے تھے مگر آج ہم لوگ رشوت کو “ گفٹ “ کہتے ہیں اور تحفہ لینے سے تو محبت بڑھتی ہے اس لیے ہم لوگوں کے لیے اب یہ بری چیز نہیں رہا کہ کوئی بھی کام جائز ناجائز کام نکلوانے کے لیے جہاں پہلے ہمیں رشوت جیسے ناسور سے واسطہ پڑتا تھا اب بڑے ہی مہذب اور جدید طریقے سے ہم لوگ کام کروانے کے لیے “ گفٹ کلچر “ کا سہارا لیتے ہیں۔ اب یہ گفٹ کتنا بڑا ہو؟ یہ منحصر ہے کام پر اور کام کروانے والے ریفرنس پر کہ اس کی حیثیت کیا ہے ؟ کہیں پر تو یہ گفٹ کوٹی چھوٹی سی چیز ہوتا ہے تو کہیں پر یہ گاڑیوں اور بنگلوں تک پہنچ جاتا ہے۔ جہاں تک تحفے ملنے کا تعلق ہے تو اگر کسی کا کوئی سگا رشتہ دار یعنی بھائی ، بہن ، ماں ، باپ ، میاں ، بیوی یا پھر چچا ، ماموں وغیرہ کوئی بھی تحفہ دیتے ہیں تو وہ تو بنا کسی مفاد یا مطلب کے ہوتا ہے مگر اگر یہ اوپر گنوائے جانے والے رشتوں کے علاوہ کسی سے موصول ہو تو پھر لازما کوئی نہ کوئی مطلب ہوتا ہے جس کو پانے کی قیمت ادا کی جا رہی ہوتی ہے۔

اب آتے ہیں اصل بات کی طرف یعنی سفارش کی طرف ، اصل میں سفارش اور رشوت جڑواں بہنیں ہیں ، جہاں ایک ہوتی ہے وہاں دوسری کی پرچھائی ضرور دیکھی جا سکتی ہے ، اسی لیے تو جب بھی بات سفارش کی ہورہی ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ساتھ رشوت کا ذکر نہ ہو یا پھر رشوت کا ذکر ہو اور سفارش کو کوئی بھول جائے۔

چونکہ میں پہلے بھی ذکر کر چکا کہ اب جدید دور ہے اور اس کے جدید تقاضے ہیں اس لیے اب سفارش کو ہم لوگوں نے منوں مٹی تلے دفن کر دیا ہے اور اس کی جگہ جدید اصطلاح “ ریفرنس “ کی متعارف کرا دی گئی ہے جس کے اردو لغوی معنی توسط، یا سہارا کے ہیں مگر اس کے ذریعے بڑے سے بڑے کام بھی بڑی آسانی کے ساتھ نکل سکتے ہیں۔ چاہے کسی کی نوکری لگوانی ہو ، یونیورسٹی میں داخلہ کروانا ہو ، سرکاری دفاتر سے کوئی کام کروانا ہو یا پھر کسی بڑے ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لینی ہو ریفرنس کے بغیر ناممکن ہے۔

آج کل جس دور سے ہم گزر رہے ہیں بلکہ یوں کہیں کہ جس دور سے پاکستان گزر رہا ہے اس دور میں ریفرنس اور تعلق کے بغیر کسی بھی کام خاص طور پر سرکاری کام کا ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اخبار میں سرکاری نوکری کا اشتہار دیکھنے کے بعد عام عوام کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ کون سا ہم لوگوں نے اس نوکری پر بھرتی ہو جانا ہے اس لیے اس پر اپلائی کرنا ہی سب سے بڑی بے وقوفی اور ٹائم اور پیسے کا ضیاع ہے جبکہ دوسری طرف جن لوگوں کو کہیں سے کوئی “ آسرا “ ہوتا ہے وہ اس نوکری کے حصول کے لیے دوڑے چلے آتے ہیں۔ بس یہ ٹیسٹ اور میرٹ وغیرہ تو عام لوگوں کے لیے ہے ،اصل میرٹ تو ہمارے “ بڑوں “ کے پاس ہے جو کہ کبھی تو اپنے ووٹ بینک اور کبھی اپنے ذاتی تعلقات کو بچانے کے لیے غریبوں کا حق مارنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ویسے بھی سرکاری اداروں کو نوکری کا اشتہار دینا قانونی طور پر مجبوری ہے اس لیے کسی بھی “اپنے “ کو نوازنے کے لیے یہ اشتہار دینا ضروری ہوتا ہے۔

چونکہ ہم لوگوں نے اس سفارش اور ریفرنس کلچر کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے اس لیے سرکاری تو سرکاری پرائیویٹ اداروں نے بھی خود کو اسی رنگ میں رنگ لیا ہے۔ اب تو پرائیویٹ اداروں میں بھی نوکری حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ، جب تک اچھا خاصا اور تگڑا “ریفرنس “ نہ ہو کہیں بھی جگہ نہیں بن سکتی۔

لیکن سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کی بھرتی میں یہ فرق ضرور ہوتا ہے کہ پرائیویٹ ادارے کے مالکان کچھ نہ کچھ قابلیت کو ضرور دیکھتے ہیں کیونکہ وہ کسی کی سفارش کی خاطر اپنے ادارے کا نقصان برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے جبکہ اس کے مقابلے میں سرکاری اداروں کا کسی نے فائدہ دیکھنا ہوتا ہے نہ نقصان اسی لیے دھڑا دھڑ بھرتیاں کی جاتی ہیں اور وہ بھی میرٹ کے خلاف ، اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ محنتی اور قابل لوگ نظر انداز ہو جاتے ہیں۔

ہمارے ملک میں دنیا کو دکھانے کے لیے مختلف اداروں نے مختلف قسم کے ٹیسٹ رکھے ہوئے ہیں ، چاہے کسی ادارے میں بھرتی ہو یا پھر کسی یونیورسٹی میں داخلہ ہو ، ٹیسٹ دیے بغیر ناممکن ہے۔ ان ٹیسٹوں کی اصل حقیقت تو تب کھلتی ہے جب کوئی بڑا اسکینڈل منظر عام پر آتا ہے جس میں ٹیسٹ لینے والے خود ہی لاکھوں روپے لے کر ٹیسٹ پیپرز آؤٹ کرتے ہیں اور یوں کسی بھی نوکری یا داخلے کی بنیاد ہی رشوت کے ذریعے پڑ جاتی ہے ، اب جو شخص رشوت یا سفارش سے کوئی بھی پوسٹ حاصل کرے گا وہ کیسے اپنے آپ کو صادق اور امین کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.