ترکوں کے دیس میں (3) – احسان کوہاٹی

پچھلی قسط

ریحانلی ترکی کا سرحدی شہر ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے اپنے پاکستان کے بنّوں اور کوہاٹ یا ڈیرہ اسماعیل خان۔ یہاں سے شام کی سرحد اتنی قریب ہے کہ بندہ کھڑے ہو کر سامنے پہاڑ پر ترکی اور شام کو تقسیم کرنے والی سڑک دیکھ سکتا ہے۔ سرحد سے قریب ہونے کی وجہ سے شامی مہاجرین کی پہلی جائے پناہ یہی علاقے ہوتے ہیں۔ ریحانلی کا یتیم خانہ بھی سرحد کے قریب ہی ہے اور کئی ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں ہر وہ سہولت ہے جس کا میں اور آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہ بچے جنگ زدہ علاقوں سے آئے ہیں اسی لیے ان کی نفسیاتی الجھنوں اور کیفیت کو سامنے رکھا گیا ہے۔

بچوں کے لیے پاکستانیوں کے عطیات سے بنایا گیا، خبیب فاونڈیشن کے ذریعے یہاں پہنچنے والی امداد سے بننے والا یہ اسکول شامی بچوں کے لیے ہی نہیں، یہاں آنے والے ہر شخص کے لیے پاکستان کا تعارف بھی ہے۔ اس وقت اسکول کے سامنے بچیاں ہاتھوں میں رنگین غبارے لیے اپنے محسنوں کو معصومانہ انداز سے دیکھے جا رہی تھیں۔ سیلانی سے رہا نہیں گیاوہ پروگرام چھوڑ چھاڑ کر بچیوں کے پاس چلا گیااور ان کے ساتھ زمین پر ہی بچہ بن کر بیٹھ گیا۔ بچیوں کی اساتذہ بھی زیادہ تر شامی مہاجرین ہی ہیں۔ انہوں نے سیلانی سے بچوں کا تعارف کرایااور بتایا کہ یہ الباکستان سے ہیں۔ چار پانچ سال کے بچوں بچیوں کو پاکستان کا کیا پتہ؟ وہ تو اس محبت اور شفقت کو پہچانتے ہیں جو ان سے چھین لی گئی۔ سیلانی بچیوں کے ساتھ بیٹھ کر اسی محبت کی زبان میں باتیں کرنے لگا ۔ اس کی چھوٹی موٹی شرارتوں سے بچیاں بھی اس سے بے تکلف ہو گئیں۔ ایک بچی کے بال سیلانی کی طرح ہی گھنگھریالے تھے۔ وہ اک طرف خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی سیلانی اس کے پاس چلا گیاا ور اس کے بال کو ہاتھ لگا کر اشاروں کی زبان میں بتایا کہ اس کے اور میرے بال ایک جیسے ہیں بچی اشارہ سمجھ گئی اور کھکھلا کر ہنس پڑی۔بچیوں نے خوبصورت ٹیبلو پیش کیا۔ ایک نیلی آنکھوں والی بچی نے جالی دار ربن میں بندھا ہواچھوٹا سا تحفہ سب کو دیا، جس میں غالباً کوئی ٹافی یا چاکلیٹ ہوگی۔ سیلانی نے تو اسے یادگار کے طور پر پاس رکھ لیا اور کھول کر دیکھا تک نہیں۔ ٹیبلو کے بعد پاکستانی انصارین کو اسکول دکھایا گیا۔ کیا ہی شاندار اسکول بنایا گیا تھا۔ صاف ستھرے کلاس روم،ائیر کنڈیشنر اور ہیٹر کا انتظام،چھوٹے چھوٹے ڈیسک اور کھیلنے کے لیے چھوٹا سامیدان،یہ پورا کمپلیکس چار دیواری میں ہے۔ مضبوط چار دیواری اور سیکیورٹی کا بہترین سسٹم۔ یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے اور سیلانی دعوے سے کہہ سکتا ہے کہ اتنا اچھا، خوبصورت اورسہولتوں سے آراستہ کم ازکم اپنے ملک میں تو شاید ہی کوئی ادارہ ہو۔ ترک اعلٰی ذوق رکھنے والی قوم ہے۔ صفائی ستھرائی تو اس کی گھٹی میں پڑی ہے۔ تعمیرات بھی ان کا خاصہ ہے ۔

دارالیتامیٰ میں الجزائر کے ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی جو سائیکالوجی میں پی ایچ ڈی ہے۔ وہ اللہ کا بندہ صرف ان بچوں کی خاطر اپنی فیملی چھوڑ کر ریحانلی کے اس یتیم خانے میں ٹھہرا ہوا ہے۔ اس نے بتایا کہ یہ بچے جنگ زدہ علاقوں سے آئے ہوئے ہیں ان کی نفسیاتی کیفیت عام بچوں سے بہت مختلف ہوتی ہے یہ اونچی آواز سے ڈرتے ہیں، انہیں ایک خوف سا رہتا ہے ماں باپ کا سایہ ان کے سروں سے اٹھ چکا ہے۔ اس لیے یہ محبت اور شفقت کی کمی بڑی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ ہم ان بچوں میں سے شدید ذہنی دباؤ والے بچوں کو پہچان لیتے ہیں، انہیں بھرپور توجہ دیتے ہیں۔ اسکول میں اساتذہ تو بتا دیتے ہیں، یہاں تک مسجد میں بھی خطیب کو اس بچے کے حوالے سے آگاہ کر دیتے ہیں، وہ اس پر خصوصی توجہ دیتاہے، اس کی ہمت بندھاتا ہے، حوصلہ دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ دنیا تمہارے لیے ہے، اس میں تم نے نام پیدا کرنا ہے۔

پاکستانیوں نے اس کمپلیکس میں اسکول گود لے کر یہاں پاکستان کی سفارتکاری کا آغاز کر دیا ہے۔ یہاں پڑھ کر نکلنے والا ہر طالب علم اور طالبہ پاکستان کی سفیر ہو گی۔ جہاں بھی پاکستان کا نام آئے گا وہ اٹھ کھڑی ہوگی۔

ریحانلی میں اسکول کے دورے کے بعد دل پر عجیب بوجھل پن سا تھا، ساتھ ساتھ خوشی بھی تھی کہ ان یتیموں کے لیے اتنا شاندار ادارہ بنایا گیا ہے۔ لیکن یہ تو کچھ نہیں شام کی خانہ جنگی نے دس لاکھ بچے یتیم کر دیے ہیں جو جانے کس حال میں کس طرح پل رہے ہیں؟ بشار الاسد کی ننگی جارحیت کے شکار بچوں سے ملنے کے بعداگلی منزل ریحانلی میں آئی ایچ ایچ کالا جسٹک سیل تھا۔ یہاں سے شام کی سرحد کے اندر بنائے بفرزون اور شامیوں کے کیمپوں میں خوراک، ادویات، راشن اور دیگر سامان روانہ کیا جاتا تھا۔ اس اہم ترین لاجسٹک سیل کا انچارج ارحان نامی نوجوان ہے۔ ہلکی ہلکی بھوری داڑھی اور پرسوچ آنکھوں والے ارحان نے سرحد پار کر کے ایمرجنسی کے کاموں میں حصہ لیا ہے، کٹی پھٹی لاشیں اٹھائی ہیں، خون آلود جسم اٹھائے ہیں، اس نے جنگ ک تباہ کاریوں کو اتنے قریب سے دیکھا ہے کہ مسکرانابھول گیا ہے۔ ہر وقت کسی گہری فکر میں ڈوبا رہتا ہے۔ ارحان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جتنا اس وقت کا م ہو رہا ہے، اس سے سو گنا زیادہ کام کی ضرورت ہے۔ سانحہ، المیہ بہت بڑا ہے اوراس کے اثرات نئی نسل میں منتقل ہورہے ہیں۔ ارحان ترکی میں بیان کر رہا تھا اورخبیب فاؤنڈیشن کے سربراہ ندیم احمد اس کا اردو ترجمہ کر رہے تھے۔ ارحان بتانے لگا اس وقت شام میں محصور علاقوں میں گندم کا دانہ تک نہیں پہنچ پارہا۔ لوگ عرصہ دراز سے پتے اور سبز ٹہنیاں چبا چبا کر پیٹ کی آگ بجھا رہے ہیں۔ ارحان نے ایک علاقے کا نام لے کر کہا کہ حال یہ ہے کہ شام کے علماء نے وہاں لوگوں کو بلیاں کھانے کی اجازت دے دی ہے۔ علماء نے فتویٰ دیا ہے کہ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے اب بلیاں ذبح کر سکتے ہیں۔ اس علاقے میں درختوں کے پتے ختم ہو چکے ہیں، گھاس پھوس نہیں رہی کہ وہاں لوگ اک عرصے یہ سب کچھ غذا کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ ارحان نے بتایا کہ جو ہجرت کرکے آگئے ہیں ان کی حالت بھی زیادہ اچھی نہیں، ان کے مسائل ختم نہیں ہوئے، البتہ نوعیت تبدیل ہوچکی ہے۔ ارحان نے بتایا کہ اندرکیمپوں میں ایک ایک خیمے میں دس، دس افراد رہ رہے ہیں۔ وہ اس طرح سوتے ہیں جس طرح تسبیح ساتھ ساتھ رکھ د ی جائیں۔ ارحان کہنے لگا کہ وہاں ہمارے دفاتر کنٹینروں میں ہیں جب ہم وہاں خیموں سے کنٹینروں میں منتقل ہونے لگے تو ایک شامی نوجوان میرے پاس آیا اور کہے لگا مجھے آپ سے علیحدگی میں کچھ بات کرنی ہے۔ میں اس کو ساتھ لے کر ایک طرف چلا گیا تو وہ مجھ سے کہنے لگا کیا مجھے یہ کنٹینر ایک دن کے لیے مل سکتا ہے؟اگر اس کا کوئی کرایہ بھی ہے تو میں کہیں نہ کہیں سے رقم کا بندوبست کرلوں گا۔ میں نے اس سے کہا کہ کیا تمہارے پاس خیمہ نہیں ہے؟وہ کہنے لگا خیمہ ہے جس میں اپنے بچوں اور بوڑھی ماں کے ساتھ رہتا ہوں لیکن مجھے یہ کنٹینر ایک دن یا رات کے لیے دے دو، میں اس میں قیام کرنا چاہتا ہوں۔ میرے اصرار اور بار بار پوچھنے پر اس نے سر جھکا کر کہا کہ میں خیمے میں ۴ برسوں سے اپنی بیوی کے قریب نہیں جا سکا۔ ہم دونوں بہن بھائیوں کی طرح خیمے میں رہ رہے ہیں۔ آج یہ کنٹینر دکھائی دیا تو میں آپ سے درخواست کرنے آگیا۔

ارحان یہ کہہ رہا تھا اور سیلانی بت بنا سن رہا تھا۔ شامی مہاجرین کس حال میں ہیں اس بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ جہاں لوگ پیٹ بھرنے کے لیے درختوں کی شاخیں چباتے ہوں، جہاں علماء اجازت دے دیں کہ اب بلیوں کو ذبح کرکے پیٹ کی آگ بجھائی جا سکتی ہے، وہاں زندہ رہنے کو زندگی کہنا چاہیے؟

سیلانی ترکی میں یہ سطور تحریر کر رہا ہے اور اس کے سیل فون میں ابھی ابھی ایک شام کے شہر غوطہ سے سحر نامی بچی کی لاش کی تصویر آئی ہے۔ یہ شہربھی محاصرے میں ہے اور حالت یہ ہے کہ کھانے پینے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ کمزور وجود کے ساتھ جب مائیں بچے جنم دیں گی تو ان کی صحت کہاں سے اچھی ہوگی؟ ماؤں کی چھاتیاں خشک ہوچکی ہیں، معصوم وجود ان خشک چھاتیوں پر منہ مار مار کر بلکتے بلکتے سو جاتے ہیں۔

ارحان سے تفصیلی بریفنگ کے بعدسیلانی کے دل پر بوجھ آگیا۔ سچ ہے کہ شام میں بڑا المیہ جنم لے چکا ہے، دمشق جب سے آباد ہوا ہے تاریخ گواہ ہے کہ کبھی نہیں اجڑا لیکن اب اجڑ چکا ہے۔ ارحان سے بریفنگ کے بعد سیلانی اور وفد اگلی منزل کے لیے روانہ ہوگیا اب ان کی منزل کلیس کا قدیم شہر تھا۔ کلیس جاتے ہوئے گاڑی کسی صنعتی علاقے میں داخل ہونے لگی۔ وہان بڑے بڑے پلاٹوں اور عمارتوں کی بناوٹ سے پتہ چل رہا تھا کہ یہ صنعتی علاقہ ہے۔ لیکن سمجھ یہ نہیں آرہا تھا کہ صنعتی علاقے میں بھلا ہمارا کیا کام؟ ہم نے کسی ترک سیٹھ سے تو نہیں ملنا اور نہ ہی میزبانوں نے ایسی کسی ملاقات کا ذکر کیا تھا۔ سیلانی اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ اس کی نظر کھڑکی سے باہر پڑی اور وہ چونک گیا باہر ایک عمارت کی چھت سے دو پرچم لٹکائے ہوئے تھے۔ جن میں سے ایک پرچم ترکی کا تھا۔ یہاں ترکی میں کوئی ہوٹل ہو، اسکول یا گھر، اس کے دیوار دروازے پر ترکی کاسرخ پرچم لازمی لگا ہوگا۔ چوک چوراہے تو سرخ پرچموں سے ایسے سجے رہتے ہیں جیسے ترکی کا قومی دن ہو۔ وطن سے محبت کا یہ اظہار صرف بڑے شہروں میں نہیں بلکہ دوردراز کے دیہاتوں میں بھی ترکی کا سرخ پرچم جگہ جگہ دکھائی دے گا لیکن وہاں سیلانی کے چونکنے کی وجہ ترکی کا پرچم نہیں بلکہ اس کے ساتھ سبز ہلالی پرچم تھا۔ اپنے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ترکی کے پرچم کے ساتھ تھا۔ سیلانی ابھی اس یکجائی کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ خبیب فاؤنڈیشن کے ندیم خان صاحب نے خوشی سے تمتماتے چہرے کے ساتھ وفد کواس فیکٹری میں چلنے کی دعوت دی،فرمانے لگے ’’یہ ہے جناب پاکستان بیکری؟‘‘

’’بیکری؟‘‘

سیلانی کو سمجھ نہیں آیا کہ اس بیکری سے ہمارا کیا تعلق اور پاکستان کا کیا تعلق؟ وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ندیم صاحب کی آواز آئی سیلانی صاحب! تشریف لائیں روٹی پلانٹ نہیں دیکھنا؟‘‘۔’’یہ روٹی پلانٹ ہے؟‘‘۔ جی یہ روٹی پلانٹ ہے مکمل آٹومیٹک روزانہ ایک لاکھ روٹیاں پکاکر مہاجرین کے کیمپوں میں یہاں سے بھیجی جائیں گی او ر خوشی کی بات یہ کہ یہ پاکستانیوں کے عطیات سے بنا ہے ، لگ بھگ دو کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔

سیلانی اتر کرتیزی سے بیکری میں چلا گیا۔ ترکی میں اسے بیکری ہی کہتے ہیں۔ اندر بڑے سے ہا ل میں پکی پکائی تازہ روٹی کا پلانٹ لگا ہوا تھا۔ ایک بڑی سی کیف میں کئی من آٹا ڈالا ہوا تھا۔ آٹومیٹک مشین سے خود بخود پیڑے بن کر ایک پٹے پر گرتے۔ آگے مشین کا دوسرا حصہ اس کو تھوڑاسا بیل کرآ گے سرکا دیتا اور آگے وہ باقاعدہ گول گول بیل کر برنر میں چلی جاتی، جہاں سے دوسرے طرف سے گرم گرم نان سرکتے جاتے۔ جسے وہاں کھڑے ملازم تھیلیوں میں پیک کر ٹرک پر لوڈ کر دیتے۔ سیلانی کو یہ سب دیکھ کر دلی خوشی ہوئی اطمینان ہوا کہ الحمدللہ! پاکستان بھی اس کار خیر میں ترک بھائیوں کے ساتھ شریک ہے۔

روٹی پلانٹ کے بعد اگلی منزل کیلس تھی، جہاں رات میں گزارنی تھی جس کے بعد آگے شانلی عرفا بڑھ جانا تھا۔ شانلی عرفا یعنی شان والا عرفا حضرت ایوب اورحضرت ابراہیم علیہم السلام کا شہر ہے۔ یہ وہی شہر ہے جہاں حضرت ابراہیم کے لیے نمرود نے آگ کا الاؤ دہکایا تھا اور یہاں حضرت ایوب علیہ السلام نے بیماری کے ایام ایک غار میں گزارے تھے۔ یہاں وہ کنواں بھی ہے جس کے پانی سے سے حضرت ایوب علیہ السلام نے غسل کرکے بحکم ربی شفا پائی تھی۔ (جاری ہے)

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */