میڈیا اور ہمارا نفسیاتی استحصال - ڈاکٹر مہوش فاطمہ

میڈیا معاشرے کے کرداروں کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور ہماری نفسیات پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ انسان کے نفسی تشخص کو بنانے یا بگاڑنے کا میڈیم ہے تو غلط نہ ہو گا۔آج ہمارا میڈیا جسےاسلامی تہذیب و تمدن کا آئینہ دار ہونا تھا، اخلاقی حدود سے تجاوز کر چکا ہے۔

ڈراموں کی بات کریں تو ہمارے چینلز پر اپنے ڈرامے کم اور پڑوسیوں کے زیادہ دکھائے جاتے ہیں۔ کبھی تو یہ گمان ہوتا ہے کہ آیا یہ ہمارا چینل ہے بھی کہ نہیں؟ پچھلے دنوں ایک عجیب الخلقت ڈرامہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔جس میں انسان ناگ،ناگن اور نیولوں کے کردار نبھا رہے تھے۔جب خواتین ناگنیں بنتیں تو ناگن کی پوری کھال میں ہوتیں، پر جب انسان بنتیں تو نیم عریاں حالت میں ہوتیں۔ جسے دیکھ کر ہم آنکھیں بھینچ کر پہلو ہی بدل پائے، اس لیے کہ ریموٹ کے بٹن چل نہیں پا رہے تھے۔ہمارا خیال ہے کہ اس ڈرامے کا نام" ناگن" کی جگہ عریانیت کے سبب "ننگن "ہونا چاہیے تھا۔ اس ڈرامے کو دیکھ کر کچھ سیکھیں نہ سیکھیں ، بچے انسانی اعضاء کے نام باآسانی سیکھ سکتے ہیں۔ اس ڈرامے کو دیکھ کر یہ سوچنے لگے کہ جو مرد حضرات یہ ڈرامہ دیکھتے ہوں گے ان کی نظریں ٹی وی سیٹ کے اندر ہی چسپاں ہی ہو جاتی ہوں گی۔

ابھی یہ سوچ ہی رہے تھے کہ ہمارے تاثرات کو بھانپ کر ہمشیرہ نے ہماری معلومات میں اضافہ کیا کہ اس ڈرامے کا پاکستانی ورژن بھی آ چکا ہے۔ ہم حیران تھے کہ اس ڈرامے کی نقل؟ گویا سچ کہا ہے کے نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہے اور اس ڈرامے کی نقل کرنے والے عقل سے تو پیدل ہی ہوں گے۔ ہماری ہمشیرہ نے یقین دلانے کی غرض سےاس ڈرامے کا پاکستانی ورژن بھی دکھایا۔ عقل پر ماتم کرنے کا مقام تھا۔ ہمارے یہاں کے مسلمان ڈرامہ نگاروں نےہندوانہ نظریے کو فروغ دیا اور ان کی تہذیب اور نظریہ سے اسقدر متاثر ہوئے کہ اپنی خواتین کو ان ناگنوں کے روپ میں دیکھ کر داد بھی دے بیٹھے۔ ہمارے ناگن ورژن میں ایک خاتون ایسا واہیات رقص پیش کرتی ہیں کہ ان کی حرکات کو دیکھ کر اصل ناگن شرما جائے اور اپنی صنف سے ہی انکار کر دے۔ اس ڈرامے میں خواتین جب ناگن کا روپ دھارتی ہیں تو کیچڑ کی سی آواز آتی ہے گویا یہ کیچڑ دیکھنے والوں کی عقل پر مار رہی ہوں۔

میڈیا پر چلنے والے اشتہار بھی پیچھے نہیں رہے۔ایک کنوارے موصوف ایک اشتہار سے بہت متاثر ہوئے۔ اسی برینڈ کے بلیڈ سے شیو کر کہ اسی طرح پڑوسیوں کے بچے کو گود میں اٹھائے دوپہر کی دھوپ میں نکل پڑے کہ شاید کہیں سے کوئی فرزانہ، شبانہ یا رخسانہ ان کی شیو سے متاثر ہو کر ان کے نرم و گداز گالوں کو چھو کر داد دے اور ان کی مردانگی بھی جی اٹھے۔پر سب کچھ الٹا ہو گیا۔ اب موصوف کی گود میں تھا پاکستانی بچہ جس نے گرمی کی وجہ سے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیا تھا اور لوگ انہیں بچہ چور سمجھ کر تھانے لے گئے۔ بعد میں معاملہ دے دلا کر رفع دفع ہوا۔ شرمندگی سے لال پیلی رنگت لیے ہفتہ بھر کسی کو منہ دکھانے کے قابل ہی نہ رہے۔

جو چیزیں پہلے ہمارے لیے ناقابلِ بیان تھیں،چھپائی جاتی تھیں۔جن پر بات کرتے ہوئے ہماری بڑی بوڑھیاں بھی احتیاط برتتی تھیں۔آج وہ عام سی بات ہو گئی ہیں۔ سپورٹ دینے والے سامان سے لے کر گیلے اور سوکھے ہونے کا احساس سب اجاگر کیا جا رہا ہے اور ہماری نسل کو تمام تر معلومات تفصیل کے ساتھ بتائی جا رہی ہے۔جو موضوعات ہمارے لیے معیوب سمجھے جاتے تھے، وہی ڈراموں میں ریٹنگ لانے کا جواز بن گئےہیں، جیسے رومانس یا ریپ۔ پہلے بھی یہ موضوعات ہمارے ڈراموں میں ہوتے تھے لیکن صرف ایک امپیکٹ کے طور پر انہیں فلمایا جاتا تھامگر آج پوری تفصیل کے ساتھ ہی نظر بند کیا جاتا ہے تاکہ جو نہیں جانتا وہ اچھی طرح جان لے۔ جرائم کی تصویر کشی ایسے کی جاتی ہے کہ کوئی نفسیاتی شخص ان تکنیک کو تسکین کا ذریعہ بنا کر عمل پیرا بھی ہو جائے۔ کراچی کا چھرا بردار بھی اسی کا ایک شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔

میڈیا نے ہمارے فیشن پر بھی بڑا اثر ڈالا کہ عورت اور مرد کی تفریق کو بھی چیلنج دے دیا۔مردوں کے بال کھڑے کر دیے، گھٹنے پھاڑ دیے اور گلے میں چین ڈال دی۔تو عورتیں پہلے دوپ ٹہ لیس ہوئیں، پھر سلیو لیس اور اب بیک لیس۔ آگے اللہ رحم ہی کرے۔ اب فیشن ایسا ہے کہ خواتین جینز میں ایسی نظر آتی ہیں گویا ازل سے یہی ان کا لباس ہے اور اب تو ان محترماؤں کی جینز کے بھی گھٹنے پھٹ چکے ہیں اور ٹخنوں سے ایک گز اوپر بھی۔ ایک فیشن شو دیکھنے کا اتفاق ہوا، جس میں لباسِ عروسی پر واک چل رہی تھی، اچانک کچھ مرد عورتوں کے شراروں غراروں میں ملبوس نظر آئے۔ ہمیں اپنی نظر پر تھوڑا شک ہوا، عینک نکال کر آنکھیں صاف کیں، پھر عینک بھی اور دوبارہ دیکھا پر منظر میں تبدیلی واقع نہ ہوئی۔گمان ہوا کہ شاید لوڈ شیڈنگ کے سبب غلطی سے کپڑے تبدیل ہو گئے ہوں گے۔پر ہم غلط ثابت ہوئے کیونکہ جو مرد ماڈلزخواتین کے شراروں غراروں میں ملبوس تھے، اسے جدید فیشن کا نام دیا جارہا تھا اور اس تشہیر پر وہاں موجود لوگ تالیاں بجا کر داد دے رہے تھے۔ہمارے دماغ میں ایک سکیچ سا بنا، جس میں ہمارے ہونے والے شوہرِ نامدار ہمارا شادی کا غرارہ پہنے واک کر رہے تھے۔ جسے دیکھ کر منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی اور لا حول پڑھ بیٹھے۔

اس کے چینل تبدیل کر کے کارٹون چینل لگا لیا، یہ سوچ کر کہ یہ معصوم چینل فطرت کے قریب ہو گا۔ لیکن اس وقت ہماری آنکھیں پھٹ گئیں جب فطرت کے کچھ زیادہ ہی قریب دیکھا۔مکی ماؤس پریشانی کے سبب چکر کاٹ رہا تھا کیونکہ منی ماؤس حاملہ تھی اور ڈلیوری کا وقت قریب تھا۔مطلب آپ کا بچہ ٹی وی پر کیا دیکھ سکتا ہے اس بات سے قطع نظر، کارٹونز اتنے واہیات ہو گئے ہیں کہ الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ ڈوریمون میں نویتا، شیزوکا کے عشق میں گرفتار رہتا ہے اور اسی سے مستقبل میں جا کر شادی ہوتے ہوئے بھی دیکھ لیتا ہے۔ جس کے بعد میرے پڑوس کا بچہ اپنی کلاس کی بچی کے بارے میں یہی سوچتا ہے۔

ہمارا نفس تو ہے ہی کتا، جو اس دنیا کی ہر شے حاصل کرنے کے لیے بھونکتا رہے گا مگر اس پر لگامیں ہمیں ہی ڈالنی ہے۔ میڈیا نے ہمارے نفسوں کو ہڈی دکھا کر اس کا سویا ہوا جانور جگا دیا ہے۔ اس کی مثال ہمارے مارننگ شوز ہیں، جو صرف شادی بیاہ پر فصول خرچی کروانے کے لیے بنائے گے ہیں۔پیسہ تو جیسے درختوں پر لگتا ہے اور پاکستان کی آبادی تو گویا لینڈ لارڈ کی اولادیں ہیں، جدی پشتی امیر!

ہمارے بچپن میں ڈرامے تاریخی ہیروز پر بنائے جاتے تھے۔ مجھے یاد ہے محمد بن قاسم کا ڈرامہ جس میں بابر علی نے قاسم کا کردار ادا کیا تھا۔ٹیپو سلطان کا ڈرامہ بھی تھا۔اللہ کی راہ میں ان سورماؤں کی کاوشیں دیکھ کر ایمان تازہ ہوتا تھا۔ہم آپس میں کھیل بھی ایسے ہی کھیلتے تھے۔ کوئی محمد بن قاسم بنتا تھا تو کوئی ٹیپو سلطان۔ لیکن آج کا بچہ ڈوریمون اور شیزوکا کو دیکھتا ہے۔ میڈیا ہمیں ایک ایسی کھائی کی طرف لے جا رہا ہے،جہاں سےنکلنا ہمارے لیے ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ محبت میں امر ہونے کے لیے بچوں کی خودکشیاں بھی ہماری آنکھیں نہ کھول سکیں۔ ہمارے چینلز آج بھی وہی سب کچھ دکھا رہے ہیں، ہماری نفسیات سے کھیل رہے ہیں اور تباہی کی طرف گھسیٹ رہے ہیں۔