اپنے اندر امتیاز پیدا کریں - مفتی توصیف احمد

ہر دوسرا شخص آج کے دور میں پریشان نظر آرہا ہے جسے دیکھیں اس بات کا راگ الاپتا نظر آرہا ہے،نوکری نہیں، مناسب کام نہیں، کیا کریں؟ کدھر جائیں؟ لیکن اگر بغور اس بات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہم غلط شکوہ کناں ہیں، ہماری سمت درست نہیں۔ ہمارا گلہ بجا نہیں کیوں کہ ہم سطحی ذہنیت کے حامل ہیں، ہمارا لیول وہ نہیں جو ہونا چاہیے۔

ایک محاورہ ہے ’’الٹے بانس بریلی کو ‘‘یعنی جہاں جس چیز کی پہلے سے بہتات ہے، آپ مزید وہ چیز وہاں لے جائیں، نتیجہ صاف ظاہر ہے ۔ ’’مندی کا رجحان‘‘ تجارتی رجحان رکھنے والے لوگ جانتے ہیں، اس وقت استعمال ہوتا ہے جب مارکیٹ میں کسی چیز کی ویلیو نہیں ہوتی یا اس کی قیمت کم ہوجاتی ہے۔ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج معاشرے میں جس چیز کی ضرورت ہے، ہم وہ چیز نہیں پوری کر رہے جس کا لازمی نتیجہ اس چیز کی طلب کا بڑھنا ہے۔ہر شخص مارکیٹ میں وہ لارہا ہے جس کی مانگ نہیں اور پھر گلے شکوے الگ سے۔

اگر آپ پنجرہ بنانا جانتے ہیں اور اچھا پنجرہ بنانا آپ کی پہچان ہے تو لوگ آپ کے دروازے سے نہیں ہٹیں گے لیکن آگر آپ کا پنجرہ بھی عام لوگوں کی طرح ہے ، اس میں کوئی خاص جوہری فرق نہیں تو اپنے پاس رکھیے۔ اس کی سادہ مثال یہ بھی ہے ہمارے ہاں سرائے صالح میں سلیم بھائی کے’’ ترکی پکوڑے‘‘ بڑی شہرت کے حامل ہیں۔ ہر خاص وعام ان کی شہرت کو جانتا ہے۔ ہیں تو وہ پکوڑہ فروش لیکن ان کی شہرت کا عالم یہ ہے کراچی سے گلگت تک چلنے والی ہر گاڑی کا ڈرائیور اورمسافر اس بات کی خواہش کرتا ہے کہ وہاں کے پکوڑے کھائے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ انہوں نے پکوڑے بنانے میں امتیاز پیدا کیا اور بس، اس سے زیادہ کوئی بات نہیں۔

اسی طرح بہت سے لوگ حافظ قاری ہیں عالم اور مفتی ہیں لیکن رسمی اور روایتی علوم کے حامل،سبھی اس بات کے شاکی ہیں کوئی اچھا ادارہ نہیں، کوئی پرکشش تنخواہ نہیں، معاشرے میں عزت نہیں۔ بات یہ ہے کہ آپ کے پاس علوم کی گہرائی اور گیرائی نہیں،وہ علم نہیں جو لوگوں کو آپ سے مربوط رکھے۔ رسمی علوم اور واقعات کا سہارا لے کر آخر کب تک ڈھارس باندھیں گے کہ آ پ کا سکہ ہمیشہ رائج الوقت رہے گا؟ وہ علما کرام زمانے کی نبض پر جن کا ہاتھ ہے، حالات کے داؤ پیچ سے بخوبی واقف ہیں آج بھی زمانے کے امام ہیں، اچھی زندگی بھی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے محنت کی صرف، نحو، منطق، فقہ اور فلسفہ میں، جدید مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتے ہیں، زمانے کی ضرورت ہیں تو زمانہ ان کا محتاج ہے، ان کی مانگ میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ اس کی عام سی مثال مشاہدہ میں ہے کہ تعویذ گنڈے کرنے والے بھلے علم سے کورے ہوں لیکن لوگوں کی ضرورت ہیں، انہوں نے اس بات کو باور کیا کہ ہمارا علم اور فن امتیازی ہے جو کسی کسی کے پاس ہے۔اس کے برعکس وہ لوگ جن کے پاس کوئی امتیازی وصف اور خوبی نہیں ہمیشہ حالات سے شکوہ کناں رہتے ہیں۔

اسی طرح کلاس فور ملازم کی بھرتی کی لیے پورا شہر امڈ آتا ہے، پانچ سکیل کی بھرتی کے لیے آدھا شہر، دس سے اوپر کے لیے اس سے کم، ذرا اوپر جائیں تو اس تعدادمیں خاصی کمی واقع ہوجائے گی یہاں تک کہ اگر یونیورسٹی کے وائس چانسلر یا کسی ادارے کے انتظام و انصرام کو چلانے کے لیے کسی جگہ ضرورت ہو تو ایسے لوگ انگلیوں پرگنے جاسکتے ہیں۔ پہاڑ کی چوٹی پر جگہ خالی ہوتی ہے، ہجوم ہمیشہ نیچے کی جگہوں میں دکھتا ہے، ہسپتال میں نرسنگ سٹاف ہزاروں میں دستیاب ہوگا لیکن ڈاکٹر کی ویکینسی کے لیے اپلائی کرنے والے خال خال نظرآئیں گے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ فوج اور پولیس کے محکموں میں سپاہی اور اے ایس آئی کے لیے ہر دوسرا بندہ قابل اور معیار پر پورا اترتا ہے لیکن پبلک سروس کمیشن کے امتحان اور سی ایس ایس کے لیے محنت کرنے والے اور دن رات ایک کرنے والے لوگوں کی تعدادنہ ہونے کے برابر ہے۔ سکول میں پرائمری ٹیچر لگنے کے قابل ہزاروں لیکن پرنسپل کی پوسٹ کو الیفائی کرنے والے، متعلقہ مضمون میں سپیشسلسٹ تو بہت ہی کم ہیں۔ صحافت ایک مقدس شعبہ ہے ہر شخص اس سے جڑنے کی کوشش کرتا ہے، خود کو صحافی کہلاتا ہے لیکن رسمی رپورٹر، ایسا صحافی جو معاشرے کا کان ہو، حالات پر جس کی نظر گہری ہو، بے خوف اور بے باک رپورٹنگ جس کا طرّہ امتیاز ہو آتے میں، نمک کے برابر بھی نہیں۔

اپنی ضرورت کا احساس دلائیں اور بڑھتے چلے جائیں، منزل آپ کی منتظر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے اور کامیابی کا راز اسی میں ہے کہ آپ ڈاکٹر، وکیل، انجینیئر، طالب علم، سائنس دان، سیاستدا ن،عالم، مفتی اور جس فیلڈ سے بھی متعلق ہیں اپنے اندر اضافی خصوصیات لانے کی کوشش کریں۔ آپ کا اضافی وصف اور خوبی آپ کی پہچان بنے گا۔ آپ پہاڑ کی چوٹی پر بھی کریانے کی دکان ڈال کر ناکام نہیں کیوں کہ یہ سب چیزیں لوگوں کی ضرورت ہیں۔ آپ اور آپ کا فن لوگوں کی ضرورت ہو تو کہیں بھی ہوں آپ ہی آپ ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */