ملّا کی دوڑ - محمود زکی

پچھلے دنوں دوران سفر ایک جگہ گاڑی ایک نو تعمیر شدہ مسجد کے پاس روکی، نماز کے لیے اندر آگئے۔ مسجد اچھی خاصی جدید طرز تعمیر کا شاہکار تھی اور دروازے پر نام بمع بنانے والے فلاں حاجی صاحب کے جگمگا رہا تھا۔ صفیں درست ہوگئیں مگر امام صاحب ندارد حالانکہ مسجد اچھی خاصی آبادی والی جگہ پر تھی، آواز لگا دی گئی کہ کوئی صاحب نماز پڑھا دے۔ نماز کے بعد پاس بیٹھے شخص سے ویسے ہی پوچھا کہ امام صاحب کہاں ہیں؟ کہنے لگے ابھی تک رکھا ہی نہیں ہے۔ استفسار کیا کہ کیوں؟ کہنے لگے خرچہ زیادہ مانگ رہا تھا۔ مزید معلومات سے پتہ چلا کہ صاحبان مسجد امام صاحب کو 7 ہزار دینا اپنی دولت کا ضیاع سمجھ رہے تھے اس لیے مسجد تعمیر کے بعد سے امام صاحب کے بغیر چل رہی تھی۔ میں نے اندازہ لگایا تو تعمیر و تزئین پر لاکھوں صرف کردیے گئے تھے حالانکہ پاس سے کئی مساجد کے مینار جھانک رہے تھے۔

مذہبی طبقہ ہمیشہ سے اپنی محرومی، غریبی اور بے بسی کا رونا روتا رہا ہے، اہل مدارس و مساجد کو یہی گلہ ہے کہ معاشرہ ہمارے معاشی ضروریات کو یکسر نظر انداز کرکے ہمیں مزدور سے بھی کم مشاہرہ پر ٹرخا دیتا ہے۔ اس دعوے میں حقیقت بھی ہے لیکن اگر سوچا جائے کہ یہ حالات کیونکر پیدا ہوئے تو قصوروار بھی یہ خود نکلیں گے۔ حالانکہ بر صغیر بالخصوص پاکستان میں اس طبقے کو تقدیس کے ہالے میں لپیٹ کر بہت سی مراعات اور ڈھیل بھی دی جاتی ہیں۔

دور جدید کی تیز رفتاری نے ہر چیز کو ایک کاروبار کی شکل دی ہے، کسی بھی صلاحیت کو آج کل باقاعدہ ایک فن کی صورت دے کر اسے بیچا جاتا ہے اور وہ بکتا بھی ہے۔ ہمارے مگر مذہبی طبقے کی یہی خامی رہی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو کیش نہیں کر پا رہے بلکہ دنیا سے کئی سال پیچھے وہی مانگے تانگے کی بنیاد پر جی رہے ہیں۔ اندازہ لگایا جائے تو ایک اوسط ذہنیت کا حامل نوجوان جب کسی اوسط درجے کے ادارے سے کسی فن میں ڈگری حاصل کرتا ہے تو اس کا ایک اچھی آمدنی والی نوکری پانے کا امکان تقریباً 80 فیصد تک ہوتا ہے۔ مدارس میں اس کے بالعکس ہوتا ہے، ایک اچھی ذہانت کا حامل طالب علم ایک نمایاں مدرسے سے فارغ التحصیل ہوتا ہے لیکن اس کو اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے ہر جگہ پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور بالاخر کسی مسجد میں 5 سے 6 ہزار ماہانہ پر لگ جاتا ہے۔

مانا کہ مسجد و مدرسہ میں کام کرنا عین ثواب ہے لیکن پاپی پیٹ بھی مٹی نہیں کھاتا بلکہ انسان کی جبلت کے عین مطابق وہ اپنے سے برتر کو دیکھ کر کڑھتا ہی ہے۔ اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ جو انسان آٹھ سال عربی، صرف و نحو، منطق و فلسفہ، علم کلام و فقہ، تفسیر و حدیث جیسے علوم سے بہرہ ور ہو اور وہ فارغ التحصیل ہوتے ہی در در کی ٹھوکریں کھائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے خود ہی اپنے علم و فن کا ادراک نہیں ہے۔ یہاں ایک عام سی بات کو بھی باقاعدہ ضرورت بنا کر بیچا جاتا ہے لیکن جو علوم ایک آفاقی مذہب کی بنیاد ہو اور ایک ایسا ملک ہو جہاں مذہب پر لوگ مر مٹنے والے ہوں وہاں بھی یہ اتنی بے قدری کا شکار ہے۔

مثلا "موٹیوشنل سپیکنگ" کو ہی دیکھ لیجیے، امید افزا بولنا ہی تو ہے، مگر کس طرح اسے لوگوں کی ضرورت بنا دیا گیا ہے کہ لوگ باقاعدہ بھاری بھرکم فیسیں دے کر بڑے بڑے سیمیناروں میں شرکت کرتے ہیں تا کہ ان کو بڑا بننے کے لیے دھکا لگ سکے۔ لیڈر شپ، بزنس یا سیلف پروموشن ایک سیمنار کی چیز تھوڑی ہیں لیکن پھر بھی لوگ شریک ہوتے ہیں اور نفسیاتی طور پر اتنا اثر لے لیتے ہیں کہ موٹیویٹ بھی ہوجاتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا، صرف اور صرف اپنے بولنے کی صلاحیت کو پہچاننے اور اس کو لوگوں کی ضرورت بنانے سے ہوا۔

آٹھ سال وقت اور سرمایہ لگا ہے تو اب اس کی واپسی کا وقت ہے اور یہ واپسی با عزت طریقے سے ہو نہ کہ مانگے تانگے چندے کی بنیاد پر ہو۔ جو علم حاصل کیا ہے اس کو لوگوں کی ضرورت بنانا چاہیے نہ کہ ادھیڑ عمر ریٹائرڈ لوگوں کے آخری عمر کا شغل کے وقت گزاری کے لیے پاس آبیٹھے۔ یا تو معاش کے لیے باقاعدہ کوئی دوسرا فن و کاروبار سیکھنا چاہیے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر جو سیکھا ہے اسے آگے اپنی اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے کیش کرنا چاہیے۔ اگر انفرادی طور پر یہ بھی ممکن نہ ہو تو اپنے ان بڑے بڑے وفاقات کا گریبان پکڑنا چاہیے جو فیسیں لے کر ڈگری تو جاری کردیتے ہیں لیکن عملی طور پر اس کی حیثیت محض نمائشی ہوتی ہے جو کسی کام نہیں آتی۔ اپنی قدر کریں، تشخص بنائیں اور اپنی صلاحیت کو کیش کرنا سیکھیں کہ خدا کو اس کے نام پر کھانے والے سے زیادہ اپنے بازو کی طاقت سے کمانے والے زیادہ اچھے لگتے ہیں۔

ٹیگز