ہنی نے پرندوں کا پیچھا کیوں کیا؟ ‌حنا نرجس

اتنی بلندی سے گرنے کی وجہ سے اس کی ایک ٹانگ فریکچر ہو گئی تھی، سر پر چوٹ آئی تھی اور ایک پر بھی ڈھیلا ہو گیا تھا. کچھ دیر کے لیے تو اس کے ہوش و حواس ہی جاتے رہے تھے. جب ذرا حالت سنبھلی تو سب سے پہلا خیال ممی کا آیا. پھر ان کے ساتھ کل رات ہونے والی باتیں بھی یاد آنے لگیں.

"ممی، کل جب پرندے یہاں سے گزریں گے تو میں بھی ان کے ساتھ جاؤں گی."

"نہیں ہنی بالکل بھی نہیں. تم یہ فضول کی ضد چھوڑ کیوں نہیں دیتی ہو. روزانہ اسی ایک بات پر اصرار کیوں کرتی ہو؟"

"کیونکہ مجھے ان کے ساتھ بادلوں تک جانا ہے اور بہت بلندی پر اڑنا ہے. آپ تو زیادہ اوپر لے کر نہیں جاتیں. مجھے آسمان کو بھی قریب سے دیکھنا ہے اور یہ جو جہاز اڑتے ہیں نا، ان میں بیٹھے ہوئے انسانوں کو جہاز کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھنا ہے. آہا کتنا مزہ آئے گا... میں اوپر ہی اوپر جاؤں گی..." وہ خوش ہوتے ہوئے اچھلنے اور گول گول گھومنے لگی.

" خوش تو یوں ہو رہی ہو، ہنی، جیسے میں نے تمہیں اجازت دے ہی دی ہو."

"آپ تو کبھی اجازت نہیں دیں گی لیکن میں اب ہر صورت جاؤں گی. پرندے یہاں سے گزرتے ہیں تو روزانہ میرا دل للچاتا ہے."

"پرندوں کو اللہ تعالٰی نے ہوا میں مسخر کیا ہے، تو وہ بلندی پر ہواؤں میں ہی اڑیں گے نا. وہ انہیں ہوا میں تھام کر رکھتا ہے. جبکہ ہمارے ذمے باغوں میں جانا اور پھولوں کا رس چوس کر شہد بنانا ہے. سفر تو ہم بھی ہوا میں ہی کرتے ہیں لیکن اچھے پھولوں کو تلاش کرنے اور ان کا رس چوسنے کے لیے ہمیں تو زمین کے قریب رہنا ہوتا ہے."

"لیکن مجھے پرندوں کے ساتھ بادلوں میں جانا ہے." ہنی کا لہجہ ضدی تھا.

"دیکھو کبھی بھی کالونی کے کسی بچے نے ایسی ضد نہیں کی. صرف آپ ہی..."

"ہاں ہاں صرف میں ہی... کیوں کہ میں سب سے مختلف ہوں. مجھے بہت سی چیزوں کے بارے میں جاننا ہے." ہنی نے بد تمیزی سے ممی کی بات کاٹتے ہوئے کہا.

" لیکن بیٹا، ہر مخلوق کو اپنی فطرت کے مطابق ہی زندگی گزارنی ہے نا اور وہی کام کرنے ہیں جو اس کے ذمے لگائے گئے ہیں."

اب کے ہنی نے یوں ظاہر کیا جیسے بات اس کی سمجھ میں آ گئی ہو لیکن دل ہی دل میں وہ کل پرندوں کے ساتھ جانے کا پکا ارادہ کیے ہوئے تھی.

یہ بھی پڑھیں:   روپیہ کی کہانی - ُ پروفیسر جمیل چودھری

رات بھر وہ سیر کے خیالوں میں کھوئی رہی اور ٹھیک سے سو بھی نہ سکی. اگلی صبح جیسے ہی پرندوں کی چہچہاہٹ اور ان کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ اس کے کانوں میں پڑی وہ چپکے سے بستر سے نکل آئی. ممی اپنے کمرے میں ابھی تک گہری نیند سو رہی تھیں. وہ جلدی جلدی منہ ہاتھ دھو کر پرندوں کے ساتھ ہو لی. وہ ان سے تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر چل رہی تھی.

وہ سب اڑتے اڑتے بہت دور نکل آئے تھے. راستے میں ایک جگہ رک کر سب نے کھانا کھایا. پرندوں نے تو دانے دنکے سے پیٹ بھرا جبکہ ہنی نے کچھ پھولوں کا رس چوس لیا. پھر سب ایک جگہ پانی پینے کے لیے رکے. ہنی کو پیاس نہیں لگی تھی اس لیے اس نے پانی نہیں پیا. ایک بار وہ بادلوں کے بہت قریب سے گزرے. ہنی نے بادلوں کو چھو کر بھی دیکھا. روئی کے نرم گالوں جیسے تھے وہ. ایک ہیلی کاپٹر بھی پاس سے گزرا. ہنی تو ڈر ہی گئی تھی کہ کہیں اس کے گول گول گھومتے ہوئے بڑے بڑے پر اسے ٹکر مار کر گرا نہ دیں.

کافی وقت بیت گیا. اب ہنی تھک چکی تھی. لگتا تھا پرندوں کا تو ابھی رکنے کا کوئی موڈ نہیں ہے. وہ اکیلے رک بھی تو نہیں سکتی تھی نا. اسے راستوں کا علم نہیں تھا. پرندوں کا ساتھ چھوڑتی تو واپس کیسے جاتی؟ وہ یہی سب سوچ رہی تھی جب اچانک ہی اس نے خود کو قلابازیاں کھاتے نیچے ہی نیچے جاتے پایا. اس کے پر اس کے قابو میں نہیں آ رہے تھے. اور پھر اسے کچھ ہوش نہ رہا.

پتہ نہیں کتنا وقت گزر گیا تھا. پھر لان میں واک کرتی رافعہ آنٹی کی چیخ نما آواز اسے ہوش و حواس کی دنیا میں کھینچ لائی.

"ہائے اللہ! یہ شہد کی مکھی کہاں سے آ گئی؟ ابھی یہ میرے پاؤں تلے آنے والی تھی. یہ تو بہت چھوٹی سی ہے. اس کے امی ابو بھی نظر نہیں آ رہے. یہ اکیلے یہاں کیسے آ گئی. مجھے اسے پانی پلانا چاہیے یا نہیں؟ کہیں کاٹ ہی نہ لے. لگتا ہے اسے چوٹ آئی ہے. ابھی تو شکر ہے یہ گھاس پر ہی گری ہے. پکی روش پر گرتی تو اس سے بھی زیادہ شدید چوٹ آتی. اس کی جان بھی جا سکتی تھی. اچھا میں ذرا واک کا ایک چکر اور مکمل کر لوں پھر دیکھتی ہوں اس کی مدد کیسے کی جا سکتی ہے." وہ خود سے باتیں کرتے کرتے آگے بڑھ گئیں.

یہ بھی پڑھیں:   روپیہ کی کہانی - ُ پروفیسر جمیل چودھری

اور یہی وہ وقت تھا جب ہنی کو اپنی ٹانگ کے فریکچر، سر کی چوٹ اور پر کے ڈھیلے ہونے کا علم ہوا. اسے یاد آیا اسے اڑتے اڑتے نیند کا ایک جھونکا آیا تھا اور پھر وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی تھی.

اب وہ لگی زار و قطار رونے... پھر رونا سسکیوں میں بدل گیا... ممی کی باتیں یاد آنے لگیں... سورج بس تھوڑی دیر میں غروب ہونے کو تھا... پرندوں کا کچھ پتہ نہ تھا... شاید اب تک واپس جا چکے تھے... سسکتے سسکتے اسے یقین ہو گیا کہ اب وہ کبھی اپنے گھر واپس نہیں جا سکتی تھی... اکیلے ہونے کا خیال اور پھر آنے والی رات اسے خوفزدہ کر رہے تھے...

اچانک اسے پیچھے سے آواز سنائی دی،
"ہنی بیٹا!"
وہ ایک دم پلٹی. ممی کے ساتھ پاپا، آنٹی بی اور انکل ڈرون بھی تھے. وہ ممی سے لپٹ کر رونے لگی.

"مجھے پتہ تھا، بیٹا، تمہارا تجسس تمہیں ضرور پرندوں کے ساتھ لے جائے گا. جب تم مجھے سوتا سمجھ کر گھر سے نکلی، میں پوری طرح جاگ رہی تھی. ہم سب بھی خاموشی سے تمہارے پیچھے ہو لیے تاکہ تمہارا خیال رکھ سکیں اور اللہ نہ کرے اگر کوئی مشکل پیش آ جائے تو تمہاری مدد کر سکیں."

"لیکن ممی، آپ سب کو تکلیف ہوئی. آپ نے میری وجہ سے اتنا سفر کیا. آپ مجھے منع بھی تو کر سکتی تھیں. مجھے آنے والے خطرات سے..." مارے شرمندگی کے وہ جملہ بھی نہ پورا کر سکی.

"میں نے تمہیں بار بار سمجھایا تھا، ہنی، لیکن تم بضد تھیں. حالانکہ بڑے ہمیشہ چھوٹوں کی بھلائی ہی چاہتے ہیں. پھر ہم نے مشورہ کیا کہ تمہیں تجربہ کر لینے دیا جائے کیونکہ تمہیں ہماری باتوں کا یقین نہیں تھا."

"جی ممی لیکن..." اب وہ شرمندہ شرمندہ نظروں سے پاپا، آنٹی بی اور انکل ڈرون کو دیکھ رہی تھی جیسے نظروں ہی نظروں میں سوری کر رہی ہو.

پاپا فرسٹ ایڈ باکس بھی ساتھ لائے تھے. انہوں نے ہنی کی مرہم پٹی کر کے اسے واپس جانے کے قابل بنایا. اور پھر سب احتیاط سے اسے اپنے گھیرے میں لیے ہوئے گھر کی جانب روانہ ہو گئے.

آنٹی رافعہ واک کا چکر مکمل کر کے آئیں تو شہد کی مکھی وہاں سے غائب تھی. انہوں نے ادھر ادھر تلاش کیا لیکن وہ کہیں نظر نہ آئی. وہ حیران تھیں کہ وہ اڑنے کے قابل تو تھی نہیں، پھر آخر کہاں چلی گئی.

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.