مودی کی قیادت اور وزارت عظمی خطرے میں

خبر ہے کہ مودی ان دنوں امت شاہ اور یوگی آدتیہ ناتھ کے درمیان بڑھتی قربت سے ناراض ہیں۔ 5 اکتوبر کے روز انہوں نے مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی کی معیت میں امت شاہ سے ملاقات کرکے گجرات ،کیرالہ اور ہماچل پریش کے آنے والے اسمبلی الیکشنوں کی دہائی دیتے ہوئے انہیں یوگی سے ’دوری‘ برتنے کی تلقین کی ہے ۔ بی جے پی کے اندرونی ذرائع کے مطابق فی الحال تو معاملہ ٹل گیا ہے مگر آنے والے دنوں میں یوگی سے ’قربت‘ اور ’ دوری‘ کی یہ بات کوئی نہ کوئی گل ضرور کھلائے گی ۔

مودی نے امت شاہ کو بتانے کی کوشش کی ہے کہ 2019ء کے لوک سبھا الیکشن کو بہت دن نہیں رہ گئے ہیں، کیرالہ، گجرات اور ہماچل پردیش میں یوگی جیسے کٹر ہندوتوادی کو انتخابی مہم کے لیے استعمال کرنا بی جے پی کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ خبر ہے کہ انہوں نے خود اپنی مثال پیش کی کہ انہیں ’ہندوہردیہ سمراٹ‘ کی اپنی ساکھ کو تبدیل کرنے میں بڑی ہی مشقت اٹھانی پڑی ہے، فی الحال الیکشن میں کامیابی کے لیے ’ڈیولپمینٹ‘ کے ایجنڈے سے بہتر ’ہندوتوا‘ کا ایجنڈا نہیں ہے۔ مگر بی جے پی کے اندرونی حلقوں میں مودی، شاہ اور جیٹلی کی ملاقات موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے۔ حالاں کہ امت شاہ نے یوگی سے دوری بنانے کی واضح ہدایت کے باوجود یوپی کے وزیراعلیٰ سے ’قربت‘ کم نہیں کی ہے۔ اس کی ایک وجہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)کے سربراہ موہن بھاگوت کی یوگی کو ملنے والی پشت پناہی ہے۔ شاہ نے بھاگوت کو رام کرنے کے بعد ہی کیرالہ اور گجرات کے اسمبلی الیکشنوں میں یوگی کواتارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یوگی نے بھی آر ایس ایس کے اشارے پر ہی کیرالہ جاکر ’لوجہاد‘ اور ’مسلمانوں کی منھ بھرائی‘ کے موضوعات پر خوب اشتعال انگیزی کی ہے۔ یوگی کو خوب پتہ ہے کہ مودی ان سے خوش نہیں ہیں مگر انہیں یقیناً اس کی پروا نہیں ہے۔ انہوں نے ’آر ایس ایس اور بھاگوت سے اپنی قربت کا بار بار مظاہرہ کرکے مودی کو پیغام بھیج دیا ہے کہ وہ چڑھتا ہوا سورج ہیں اور آر ایس ایس کے منظور نظر بھی۔

سوال یہ ہے کہ مودی اور یوگی کے درمیان ناچاقی کی وجوہات کیا ہیں؟ اس سوال کا سیدھا ساجواب تو یہ ہے کہ جس طرح ’فرقہ پرستی کے گھوڑے پرسوار‘ مودی نے ایک پرچارک سے وزیراعلیٰ کی گدّی اور وہاں سے وزیراعظم کی گدّی تک کا سفرکامیابی سے طے کیا ہے، یوگی بھی اسی طرح بلکہ ان سے کہیں بڑھ کر یہ سفر طےکر رہے ہیں۔ مودی کی کامیابی کے پس پشت گجرات 2002ء کے مسلم کش فسادات تھے تو یوگی کے پیچھے گورکھپور کے فسادات ہیں۔ یوگی، مودی سے کہیں بڑھ کر ’مسلم اور اقلیت دشمنی‘ کی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے یوپی کے وزیراعلیٰ کے طور پر صرف یہ نہیں کیا کہ گائے، بیل اور بچھڑے اور بیف کے نام پر شدید قسم کی پابندیاں لگاکر مسلمانوں کی معاشی کمر توڑدی بلکہ انہوں نے مدرسوں کو بھی کچھ اس طرح سے نشانہ بنایا ہے کہ آزادی کے بعد ملک میں پہلی بار مدارس کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ ’وندے ماترم‘ کو انہوں نے ہندتوا کا موضوع بنا دیا ہے۔گورکھ ناتھ مندر کے مٹھادھیش یا سربراہ کی حیثیت سے ان کی ایک ’دھارمک ساکھ‘ بھی ہے۔ وہ مودی کے مقابلے کم عمر ہیں، تجربات کے لیے ان کے پاس ایک عمر پڑی ہے۔ یوگی پوری طرح سے مودی کے حریف بن کرابھرے ہیں اور آر ایس ایس کی چھترچھایا نے بی جے پی کے اندرونی حلقوں میں انہیں ایک خاص حیثیت عطا کر دی ہے۔

اگر کیرالہ، گجرات اور ہماچل پردیش میں یوگی کی الیکشن مہمات کو عام لوگوں کی قبولیت حاصل ہوتی ہے تو وہ بی جے پی کے ایک بہت ہی اہم لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آجائیں گے۔ شاہ کو ہمیشہ سے مودی کا ’خاص‘ سمجھا گیا ہے۔ کہا یہی جاتا ہے کہ گجرات کے مودی اور شاہ کی جوڑی کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔ مگر یہاں یہ بھی ملحوظ رہے کہ امت شاہ کے بی جے پی صدر بننے کے بعد بی جے پی کو مختلف الیکشنوں میں جو کامیابیاں ملی ہیں، انہیں میڈیا میں اکثر ’شاہ کی کرامت‘ ہی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حالاں کہ بی جے پی کی اب تک کی ساری کامیابیوں کا سہرا مودی اپنے سرباندھتے ہیں، مگر اس میں شاہ کا جو کردار رہا ہے وہ اسے نظرانداز نہیں کرسکتے۔گویا کہ شاہ ایک طرح سے مودی کے ہم پلّہ ہیں، اور وہ بھی مستقبل میں مودی کے حریف ہوسکتے ہیں۔ تو دو ممکنہ حریفوں میں ’قربت‘ مودی کے لیے نیک فال نہیں ہے ۔

مودی اپنی ایک عوامی امیج بنانا چاہتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے حال کے دنوں میں گئورکشکوں پر بھی تنقید کی ہے اور تشدد کی سیاست کے خلاف بھی بات کی ہے ۔آر ایس ایس نے کھل کر مودی کی مخالفت نہیں کی ہے مگر یوگی کو آگے بڑھا کر یہ واضح اشارہ دے دیا ہے کہ اسے ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو ’ہندوتوا‘ کی جیتی جاگتی علامت ہو۔

ان سب باتوں میں مودی کو سیاسی طور پر ختم کرنے کی منصوبہ بندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مگر مودی نے اپنی جو ایک ’امیج‘ بنائی ہے، جس کے بَل پر واقعی بی جے پی کو بڑی کامیابیاں ملی ہیں، اس سے چھٹکارہ حاصل کر پانا سنگھ پریوار کے لیے ناممکن نہ سہی آسان نہیں ہوگا۔ یہ سچ ہے کہ مودی پر ان دنوں چاروں طرف سے یلغار ہے، ان کی ’معاشی پالیسی‘ بالخصوص نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر لوگ کھل کر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے دوبڑے لیڈروں یشونت سنہا اور ارون شوری نے مودی کی ’معاشی پالیسیوں‘ کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔ ارون جیٹلی ایک ناکارہ وزیرمالیات کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔ شوری نے یہ کہہ کر کہ ملک کی معاشی پالیسیاں ڈھائی آدمی، مودی، امت شاہ اور جیٹلی طے کرتے ہیں، جیٹلی کو مذاق کا موضوع بنا دیا ہے۔ اس کا نتیجہ بھی سامنے آیا ہے، مودی سرکار جی ایس ٹی میں تبدیلیوں پر مجبور ہوئی ہے، مگر یہ تبدیلیاں ان بڑے صنعت کاروں کو پسند آئیں گی یہ سوال ہنوز برقرار ہے، جو بی جے پی اور سنگھ پریوار کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں۔ گجرات اسمبلی الیکشن بھی مودی کے لیے ایک چیلنج ہے، بلکہ یوپی سے بھی بڑا چیلنج کہ یہ ان کی اپنی ریاست ہے۔ یہ ریاست امت شاہ کے لیے بھی ’انا‘ کا معاملہ ہے۔ لہٰذا گجرات میں کامیابی کے لیے مودی اور امت شاہ اپنے درمیان یوگی کے معاملے کو حائل نہیں ہونے دیں گے، یہ یقینی بات ہے، مگر اس کے باوجود وہاں مسائل منھ پھاڑے کھڑے ہوئے ہیں ۔

کوئی پندرہ سالوں سے گجرات میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ پندرہ برسوں میں اس نے جو مثبت کام کیے ہیں اس کا اسے فائدہ تو پہنچے گا مگر اس کے منفی کام اس کے آڑے آئیں گے بلکہ آڑے آنے لگے ہیں۔ نئی معاشی پالیسیوں سے گجرات کے چھوٹے تاجر متاثر ہوئے ہیں، بے روزگاری میں زبردست اضافہ ہوا ہے، پٹیل برادری کی’ریزرویشن‘ کی مانگ اس کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہاردک پٹیل مرکز کی مودی اور گجرات کی وجے روپانی سرکار کے لیے ایک بڑے خطرے کی صورت میں ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ ڈیولپمینٹ کے کام وہاں رکے ہوئے ہیں۔ وجے روپانی آر ایس ایس کے آشیرواد سے وزیراعلیٰ تو بن گئے ہیں مگر ان میں نہ مودی والی بات ہے اور نہ ہی آنندی بین پٹیل والی۔

عام آدمی پارٹی (آپ) گجرات میں سیاسی گرمیاں تیز کر رہی ہے۔ مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی وہاں موجود ہے، اور کانگریس ایک مرتبہ پھر وہاں اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کامیاب ہے۔ پچھلے اسمبلی الیکشن میں گجرات میں کانگریس کا ووٹنگ فیصد تقریباً 33 رہا ہے۔ دلت طبقہ بی جے پی سے شدید ناراض ہے۔ بچھڑے طبقات کو شکایت ہے کہ بی جے پی کی سرکار نے اس کے مفادات کو نظر انداز کیا ہے، تو یہ مسائل ہیں جن سے مودی کو نمٹنا ہے، اور اگر مودی پر اندرون پارٹی دباؤ برقرار رہا اور گجرات بی جے پی کے ہاتھ سے نکل گیا تو مودی آسانی کے ساتھ سارا الزام ’اندرونی اختلافات‘ پر ڈال سکتے ہیں۔ کیرالہ میں بی جے پی کی جیت ممکن نظر نہیں آتی۔ ہماچل پردیش میں بھی پارٹی کے اندر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

مودی کو سیاسی طور پر ختم کرنا آسان نہیں ہے۔ ایک ہی صورت ہے کہ مودی کے سامنے ان سے بھی کہیں زیادہ کٹر ’ہندوتوادی‘ لیڈر کو کھڑا کرنا، اور سنگھ کی نظر میں اس کے لیے یوگی موزوں ہیں۔ اب مودی بمقابلہ یوگی میں فتح چاہے جس کی ہو، یہ بات یقینی ہے کہ بی جے پی کے لیے آنے والے الیکشن میں فتح کی راہ بہت آسان نہیں ہوگی۔

(مضمون نگار ممبئی اردو نیوز کے ایڈیٹر ہیں)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com