رنگ باتیں کریں - نورین تبسم

"ہر انسان رنگیلا بھی ہے رنگساز بھی۔ چاہےتو رنگوں کی پچکاریاں اِدھراُدھر پھینک کررنگ بکھیردے اور نہ کر سکےتو کوئی ایک رنگ اوڑھ کر رنگیلا بن جائے"۔

ہمارے رشتے ہمارے تعلق زندگی کے بکھرے رنگ ہی توہیں۔ رنگ وجود نہیں رکھتے، لمس نہیں رکھتے، بس احساس دلاتے ہیں اپنی موجودگی کا اوریہ اتنا جامع اوربھرپور ہوتا ہے کہ وجود بھی معدوم ہو جاتا ہے۔

رشتے ہماری روح ہیں، روح کے بغیر جسم بےمعنی ہے۔اسی طرح رنگ تصویر کی جان ہیں،رنگ نہ ہوں تولگتا ہے جیسے آسمان بنا بادل کے، اُداس، تنہا، بےکراں۔ رنگ برسیں تو بادل یوں سمٹ سمٹ کر باتیں کرتے ہیں کہ دوریاں نزدیکیوں میں بدل جاتی ہیں اور کبھی جب بادل گھٹاؤں کا روپ دھار لیتے ہیں تو رنگوں کی برسات یوں چھما چھم برستی ہے کہ ہرطرف جل تھل ہوجاتا ہے۔یہ قدرت کی کاریگری ہےانسان بھی اپنی سعی میں اسی طور گرفتار ہے۔ایک رنگریزکی مشقّت ہے جو شب و روز جاری ہے۔آس پاس بکھرے رنگوں میں اپنے رنگ کی کھوج ہے،رنگ سے رنگ ملانے کی کوشش ہے۔

انسان نادان ہےنہیں جانتا کہ کچھ رنگ کچے ہوتے ہیں،کبھی بدل بھی جاتے ہیں۔

کچھ بھٹی میں پکنے کے بعد وہ نہیں رہتے، اپنا اصل دکھا دیتے ہیں۔

کوئی اتنے کچے ہوتے ہیں کہ ایک ہی دھلائی میں پانی پربنا نقش بن کرنظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔

کبھی کچے تو ہوتے ہیں لیکن اپنا اثر دوسرے رنگوں پر یوں چھوڑ جاتے ہیں کہ خود تو جان سے جاتے ہیں اور اُن کو بھی کسی قابل نہیں چھوڑتے۔

کچھ رنگ کبھی پکے ثابت نہیں ہوتے لیکن وہ اتنے پُرکشش دکھتے ہیں کہ انسان اپنی چولی بدل کر بےاختیارانہیں اپنانے کوتیار ہوجاتا ہے۔گرچہ اس کی قیمت چُکانا پڑتی ہے کہ وہ اپنا خراج مانگتے ہیں۔

زندگی کے کینوس پر بنتی بگڑتی تجریدی تصویر کے رنگوں کی اصلیت آزمائشوں کی بارش میں کُھل کر سامنے آتی ہے۔وقت کی گرد میں اَٹ کر جب اِن کی اصل سامنے آتی ہے تو پھرہمارے پاس حیرانی اور پشیمانی کے سِوا کچھ باقی نہیں بچتا۔

یہ بھی پڑھیں:   دراڑ - حنا نرجس

اس لیے زندگی کے کینوس پرجورنگ دل کوبھا جائے خاموشی سے اپنا لو۔جتنی اوقات ہے اتنی قیمت ادا کرو۔ وقت خود ہی اُن کے اصلی نقلی ہونے کا تعیّن کردے گا۔

ہماری زندگی میں کبھی ایسے کچے رنگ بھی شامل ہو جاتے ہیں جو سالوں کی بارشوں کے بعد بھی کچے ہی رہتے ہیں لیکن اپنی پہچان،اپنا مقام رکھتے ہیں۔ اُن میں جو نا آسودگی کی خوشبو اُترتی ہے وہ جسم و جان کی تسکین کے لیے پکّے رنگوں کی بھرپور خوشبو سے زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔

یہ کچے رنگ ہی ہیں جو زندگی کی قوسِ قزح بناتےہیں،اگروہ آخری اورمکمل رنگ کی تکمیل کے راستے پرہو تو یہی اصل کمائی ہے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.