ون ڈے کرکٹ نئے دور میں کیسے داخل ہوئی؟ (4)

ترجمہ و تلخیص: عبدالستارہاشمی

پچھلی قسط یہاں پڑھیں

متنازع کیری پیکر نے جو کچھ کیا، اس پر الگ سے بحث کی جاسکتی ہے، لیکن کرکٹ کی دنیا کو جو رنگینیاں اس نے فراہم کردیں، وہ قابلِ تعریف ہیں۔ اس نے اس کھیل کو ایک نئی جدت دی۔ یہ وہ تبدیلیاں ہیں جن پر آج کی کرکٹ کی عمارت کھڑی ہے۔ اس زمانے میں کیری پیکر نے کھلاڑیوں کو جو مراعات اور پُرکشش معاوضے آفر کردئیے تھے وہ ناقابلِ یقین تھے، کرکٹ کا ایک نیا باب بھی تھا۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا جب مارچ 1977ء میں پاکستان کے خلاف سیریز ہورہی تھی۔ ٹونی گریگ نے یہاں ورلڈ سیریز کرکٹ کے قائم مقام ایجنٹ کا کردار ادا کیا۔ اس نے کئی معروف کھلاڑیوں اور کپتانوں کے رابطے کروائے۔ اس نے کلائیولائیڈ سے بات کی اور کلائیولائیڈ نے یہ پیش کش اینڈی رابرٹس، مائیکل ہولڈنگ اور میرے سامنے رکھی۔ ہمیں بتایاگیا کہ آسٹریلیا کے ایک چینل کے مالک نے غیر معمولی معاوضوں کی پیش کش کی ہے۔ اس مالک کا نام کیری پیکر ہے۔ مجھے اس وقت 75 ہزار آسٹریلوی ڈالر کی پیش کش کی گئی۔ ہم نے اس پیش کش کو کلائیو لائیڈ پر اعتماد کا اظہار ثابت کردیا۔ تمام خفیہ دستاویزات پر دستخط کردئیے اور دو کاغذات کپتان کے حوالے کردئیے۔ مجھے صرف یہ ڈر تھا کہ کیری پیکر ان دستاویزات کو میڈیا کے حوالے نہ کردے۔ اس صورت میں میری کاؤنٹی سمر سیٹ نے سخت ردِ عمل دینا تھا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ معاہدہ طے پا گیا اور اس کی بھنک اخبارات کو مہینوں بعد پڑی۔ کیری پیکر نے ورلڈ سیریز کرکٹ کا یہ خوبصورت اور رنگین منصوبہ کرکٹ کی محبت میں نہیں بنایا تھا بلکہ یہ تو اس پھڈے کا نتیجہ تھا جو پیکر کے چینل نائن اور آسٹریلوی براڈ کاسٹ کمیشن کے درمیان ہوا تھا۔ کچھ آسٹریلوی کھلاڑیوں کو یہ اندازہ ہو گیا تھاکہ پیکر کرکٹ کی پہلی سیریز دنیائے کرکٹ میں ایک تشویش ناک اختلاف رائے کا پیش خیمہ ثابت ہوگی مگر ویسٹ انڈین، پاکستانی یا انگریز کھلاڑی اس بارے میں کسی قسم کے شکوک و شبہات میں مبتلا نہیں تھے۔ آسٹریلین کرکٹ بورڈ یہ کس طرح برداشت کرسکتا تھا کہ اس کی سرزمین پر ایک متوازی ٹیسٹ سیریز کھیلی جائے۔ ہم میں سے بیشتر کا خیال تھا کہ کوئی ایسا معاہدے طے پا جائے گا جس کے تحت کیری پیکر کے آسٹریلیا بمقابلہ ورلڈ الیون کے منصوبے کو بھی قبول کرلیا جائے گا۔

ہمیں اس بات کا قطعاً خدشہ نہیں تھا کہ عنقریب کرکٹ کی دنیا ایک بھیانک جنگ سے دوچار ہونے والی ہے۔ جہاں تک میری بات ہے پیکر کرکٹ کا مجھے کافی فائدہ ہوا۔ پیکر کی انتظامیہ نے کھلاڑیوں کو انفرادی طور پر متعارف کروانے کے ایسے ایسے طریقے اپنائے جن کا استعمال پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ انہوں نے اپنا کام کیا اور میں نے اپنے میدان میں کارکردگی کے ذریعے۔ اس وقت سے میڈیا کے ذریعے کھلاڑیوں کی تشہیر، چاہے اس کا اثر اچھا ہو یا بْرا، نئی بلندیوں کی طرف گامزن رہی ہے۔ اس تشہیر کی بنیاد کھلاڑیوں کی کامیابیوں ہی کی مرہون منت تھی۔ باقی جو کچھ بھی حاصل ہوتا، وہ میرے خیال میں محض حادثاتی تھا۔ پیکر کرکٹ کی وجہ سے کھیل کی دنیا میں کئی انقلابی تبدیلیاں آئیں۔ کھلاڑیوں کی حفاظت کے سامان کی صنعت میں ترقی ورلڈ سیریز کرکٹ میں تیز بالروں کی بھرمار کا براہ راست نتیجہ تھا۔ بیٹسمینوں کا زخمی ہونا معمول بن گیا اور اس امر کی اشد ضرورت تھی کہ جلد از جلد انہیں حفاظت مہیا کی جائے۔ ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں کی تعداد بھی ڈرامائی حد تک بڑھ گئی۔ سڈنی میں کھیلے گئے پہلے نائٹ میچ سے قبل کھلاڑی اور منتظمین اس بات کا انتظار کر رہے تھے کہ اس عجیب و غریب کھیل کو کیا ردِعمل موصول ہوتا ہے۔ نائٹ کرکٹ کو اس قدر کامیابی ہوئی جس کا کسی نے سوچابھی نہ تھا۔ میدان میں ایک ایک سیٹ بِک گئی تھی اور تماشائیوں کا ذوق و شوق دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ ورلڈ سیریز کرکٹ کی وجہ سے کرکٹ کا کھیل بھی دوسرے کھیلوں کے تجارتی تقاضوں کے اپنائے مطالبے لے کر سامنے آیا۔ کھلاڑیوں کی تنخواہیں ڈرامائی طور پر بڑھ گئیں اور صرف ٹیسٹ کھلاڑیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ دوسرے فرسٹ کلاس کھلاڑیوں کے لیے بھی کھیل سے زیادہ آمدنی ہونے لگی کیونکہ پیسہ لگانے والے اور اشتہار دینے والے لوگوں کو اس کی تجارتی اہمیت کا احساس ہوا۔ کھیل میں پیسے کی اس آمد سے یہ بھی فائدہ ہوا کہ نوجوان باصلاحیت کھلاڑی اب کرکٹ کو اپنا کیریئر بنانے کے بارے میں سوچنے لگے۔

کیری پیکر نے کئی برس پہلے کرکٹ کے کھیل کو ’’سرکس‘‘ میں تبدیل کر کے اس کھیل کو جس نئی ہیئت سے شناسا کیا، وہ جادو اب سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ کرکٹ پر صرف انگریزی زبان میں کمنٹری نشر ہوتی تھی جبکہ اس میں جدت پیدا کرنے اور عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت میں بالتر تیب اردو اور ہندی زبانوں میں بھی کمنٹری کا رواج ڈال دیا گیا تو عام لوگوں کی دلچسپی بھی بڑھ گئی۔ اس دوران میں دنیا کی کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ان کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے آگے بڑھ کر سرمایہ کاری شروع کردی۔ خصوصاً دنیا کی مشہور مشروبات اور سگریٹ بنانے والے بین الاقوامی برانڈز نے ان کھیلوں کی سرپرستی کے نام پر اپنی پراڈکٹس کو ترقی دینا شروع کردی جس کے بعد کھلاڑیوں کے معاضوں میں بھی اضافہ کرنے کا رجحان بڑھ گیا۔ تاہم مغربی دنیا میں تو یہ معاوضے خاصے حوصلہ افزا ہوتے تھے مگر پاکستان اور بھارت میں معاوضے بڑھنے کی رفتار سست روی کا شکار رہی۔ پھر منظریوں بدلا کہ کیری پیکر نام کے ایک شخص نے، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ یہودی تھا، کرکٹ کو پیسے کا کھیل بنادیا۔ اس نے دنیا کے مختلف ملکوں کے چوٹی کے کرکٹ کھلاڑیوں کو مروجہ معیار سے کئی گنا زیادہ معاوضوں پر بک کیا اور ان کی کئی ٹیمیں ترتیب دے کر ہر ٹیم کو مختلف رنگوں کا لباس پہناکر ان کے مابین میچز کروانے کا سلسلہ شروع کیا، اس منصوبے کو موصوف نے ’’کیری پیکر سرکس‘‘ کا نام دیا کیونکہ کھلاڑیوں کو جو لباس پہنایا گیا وہ بالکل سرکس میں کام کرنے والوں کی طرح کا تھا۔ آج یہ جو مختلف ملکوں میں سپر لیگ کھیلتے ہوئے کھلاڑی رنگا رنگ لباس میں ملبوس نظر آتے ہیں یہ اسی کیری پیکر کی اختراع ہے، کیری پیکر کے ساتھ معاہدے کرنے والے کھلاڑیوں کو ان کی قومی ٹیموں سے نکالنے کی نہ صرف دھمکیاں دی گئیں بلکہ کئی ملکوں میں اس پر عمل در آمد بھی کیاگیا۔ مگر کھلاڑیوں کے معاوضے اس قدر زیادہ تھے کہ انہوں نے ان دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں کی لیکن اس سے پوری دنیا میں ایک بھونچا ل آگیا۔

ہوا کیا تھا؟ براڈ کمیشن نے چینل نائن کی بڑی بڑی پیش کشوں کو مسترد کرکے مقامی چینل کو میچز اور سیریز کے حقوق دے دیے۔ جس پر کیری پیکر نے دنیا بھر کی کرکٹ کو اپنی مٹھی میں لینے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اس نے دنیا کے پانچ مختلف ممالک سے 35 سے زائد کھلاڑیوں سے تین سالہ معاہدے کیے۔ ہمیں بتایا گیا کہ پہلے سیشن میں 54 دن کرکٹ کھیلنی ہے جس میں ون ڈے اور ٹیسٹ میچ شامل ہوں گے۔ اس شیڈول نے پاکستان اور آسٹریلیا کی قومی ٹیموں کو امتحان میں ڈال دیا۔ اس دوران پاکستان نے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا نے بھارت کا دورہ کرنا تھا اور اس کے بعد انہوں نے ویسٹ انڈیز میں سیریز کھیلنی تھی۔ کیری پیکر نے آسٹریلیا کے 17 معروف کھلاڑیوں میں سے 13 کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ یہ وہ کھلاڑی تھے جنہوں نے حال ہی میں انگلینڈ کا دورہ کیا تھا۔ انگلینڈ کے جو کھلاڑی کیری پیکر کی چمک کا شکار ہوئے، ان میں سے گریگ کو تو انگلش بورڈنے فوراً اپنی ٹیم سے نکال دیا جبکہ ایلن ناٹ، جان سنو اور ڈیرک انڈروڈ کو بھی شوکاز نوٹس دے دیے گئے۔

چینل نائن اور آسٹریلوی براڈکاسٹنگ ٹیم کے مابین لندن میں بےنتیجہ مذاکرات ہوئے اور یہ لڑائی عروج کی طرف بڑھنے لگی۔ اس پر انٹرنیشنل کرکٹ کانفرنس کے نمایندے نے واشگاف اعلان کیا کہ جو کھلاڑی اکتوبر 1977ء کے بعد کسی نجی کمپنی کے لیے کرکٹ کھیلے گا، اس کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند کردیے جائیں گے اور یہ کھلاڑی اپنے اپنے ممالک میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے بھی اہل نہیں ہوں گے۔ اس پر کیری پیکر کی طرف سے رچی بینو کے بیان نے دنیا کی کرکٹ اسٹیبلشمنٹ کو پریشان کردیا کہ کھیل کے آغاز میں دفاعی فیلڈ کھڑی ہونے پر پابندی ہوگی۔ نائٹ میچز کا انعقاد ہوگا جس پر سائٹ اسکرین بلیک ہوں گی۔ رنگین یونیفارم کے ساتھ ساتھ سفید گیند متعارف ہوگی۔

اس پر جس طرح دنیا بھر کے کرکٹ بورڈز نے ردّ عمل کا اظہار کیا، اسی طرح ویسٹ انڈیز کی کرکٹ انتظامیہ نے جانے والے کھلاڑیوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ سب سے پہلے ڈیرک مرے، ڈیسمنڈ ہینز اور رچرڈز پسٹن کوٹیم سے فارغ کیا تو کلائیو لائیڈ نے کپتانی سے استعفیٰ دے دیا۔ جول گارنر جنہیں مذاکرات کے فن سے آگاہی تھی، نے کھلاڑیوں کی جانب سے کرکٹ بورڈ سے طویل نشستیں کیں۔ اس وقت میں اور اینڈی رابرٹس اینٹی گوا میں مقیم تھے اور میں یہاں جانا چاہتا تھا لیکن جول نے مجھے اور رابرٹش کو یہاں ہی قیام کا مشورہ دیا۔

ادھر یہ بات چیت چل رہی تھی اور ادھر کیری پیکر خود سینڈی لین ہوٹل بار باڈوس آپہنچا اور اس نے ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کو لنچ پر مدعو کرلیا۔ یہاں تک کہ تمام کھلاڑیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اس نے اپنا نجی طیارہ بھی دے دیا۔ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کے لیے یہ بات بڑی ہی خوش آیند تھی کہ اس میلے میں جنوبی افریقہ سے کسی کھلاڑی کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

انہی مذاکرات اور لڑائیوں میں کیری پیکر سیریز شروع ہوگئی۔ یہ خالصتاً مقابلوں کو فروغ دینے والی کرکٹ تھی۔ طے شدہ معاوضے تو پہلے ہی ادا کیے جاچکے تھے البتہ انعامی رقومات جیتنے والی ٹیم کو ملنی تھیں اور یہ رقومات بھی بہت پُرکشش تھیں۔ کیری پیکر نے دنیا بھر سے کرکٹرز کی شاندار کریم اکٹھی کرلی تھی۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کیری پیکر سے مشکل کوئی دوسری سیریز نہیں ہے۔ تین برس تک یہ سیریز جاری رہی۔ تمام کرکٹ بورڈز اس صورت حال سے نکل نہیں رہے تھے۔ آئی سی سی اور پیکر کے مابین درجنوں میٹنگز ہوچکی تھیں۔ کیری پیکر کو ان کی شرائط پر تمام سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ دس برس کے معاہدے چینل نائن کے نام ہوئے اور سب سے بڑی بات یہ کہ کیری پیکر نے یہ شرط منوائی کہ اس کے ساتھ جن کھلاڑیوں کے معاہدے کیے تھے، ان میں سے کسی کو بھی نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

ون ڈے کرکٹ نئے دور میں داخل ہوگئی اور کھلاڑیوں نے بہت کچھ کماکر بھی کچھ کھویا نہیں۔ انہیں بین الاقوامی کرکٹرز کے جھرمٹ میں اپنا آپ منوانے کا موقع ملا اور اتنا پیسہ بھی کمالیا کہ وہ ساری عمر نہ کماپاتے۔

میں اور ٹیسٹ کر کٹ:

1974ء میں 22 برس کی عمر میں مجھے ٹیسٹ کیپ دے دی گئی۔ میرا ڈیبیو بھارت کے خلاف تھا۔ سفر پر روانگی سے قبل میرے والدنے مجھے بتایا کہ جس دیس میں تم جا رہے ہو وہاں کا سپن اٹیک نہایت ہی مؤثر ہے اور دنیا بھر میں ان سپن بالرز کی کوئی نظیر نہیں۔ اس لیے سپن باؤلنگ کے خلاف اپنے ہتھیار تیز کرکے جانا۔ میرے والد کرکٹ کو خوب سمجھتے تھے اور بھارت روانگی پر انہوں نے ایک اور پتے کی بات کہی کہ بھارت کی سپن وکٹوں سے لوٹوگے تو تمہارا نیا امتحان آسٹریلیا کی تیز وکٹیں ہوں گی۔ دراصل ان کا یہ کہنا تھا کہ سپن باؤلنگ کے فوراً ہی بعد آپ کو آسٹریلیا کی تیز وکٹوں پر تیز باؤلرز کا سامنا کرنا ہو گا۔

پہلے ہی دورے میں بھارتی سپن باؤلرز کا سامنا کرکے 1975-76ء میں آسٹریلیا آئے تو یہ ایک عجیب سا تناسب تھا۔ یہاں میرا سامنا ڈینس لِلی، تھامسن، گیری گلمور اور میکس والکر سے تھا۔ بھارت میں شروع میں تو مجھے خاصی مشکلات کا سامنا رہا۔ پہلی تین ٹیسٹ اننگز میں میرے رنز کی ترتیب یوں تھی، 0، 12 اور 12، آسٹریلیا میں میرا خیال تھا کہ یہاں کی ہارڈ اور تیز وکٹیں میرے لیے مددگار ثابت ہوں گی۔ یہی وہ دورہ تھا جہاں میں نے بیک فٹ پر جاکر کھیلنا شروع کیا۔ اس پریکٹس سے مجھے گیند کو سمجھنا آسان ہوگیا۔ میری اگلی تینوں اننگزمیں بہتری کی طرف سفر تھا۔ میں نے 41، 36 اور 44 رنز بنائے تھے۔ یہ بہتری دوسروں کے لیے تو اچھی ثابت ہوئی جیسے سلیکٹرز کو میرا چناؤ کرنا آسان ہوگیا لیکن خود کو تومیں جانتا تھا اور تین ٹیسٹ کے بعد کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دینے کا خواہاں تھا۔ مجھے تو اپنی کمزوریاں صاف نظر آرہی تھیں۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ مڈل آف دی بیٹ سے شارٹ کھیلتا جو فیلڈر پکڑ لیتا۔ اس موقع پر میں نے اپنی بلے بازی کو جارحانہ بنانے کا سوچ لیا۔ میں اپنی ٹیم کے ہمراہ سفر کرنے والے ماہر نفسیات روڈی ویبسٹر سے ملا اور اپنی مشکلات کا تذکرہ کیا۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ کچھ ایسا بتائیں کہ میری توجہ کھیل پر مرکوز رہے اور میں اچھے رنز بنا پاؤں۔ روڈی نے مجھے کچھ ٹپس دیں۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ اننگز کے دوران اپنی بلے بازی کو بہتر بنانے کے بارے میں سوچا کریں۔ جو بھی کھیلیں اس کا تجزیہ ساتھ ساتھ کریں تا کہ خامیوں کا ادراک ہوسکے اور انہیں خوبیوں میں بدلنے کے لیے ہوم ورک کیا جائے۔

آسٹریلیا کا دورہ جیسے جیسے گزرتا جا رہا تھا، میری کارکردگی میں بہتری آتی جا رہی تھی۔ ادھر گورڈن گرینج آؤٹ آف فارم تھا اور برسبین ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گیاتھا۔ تیسری اننگز تک تبصرہ نگاروں نے دبے لفظوں میں اس خدشے کا اظہار کرنا شروع کیا کہ گرینج فاسٹ باؤلرز سے گھبرا رہے ہیں، لیکن کسی کو یہ نظر نہیں آیا کہ وہ امپائر کے متنازع فیصلوں کا شکار ہو رہا تھا اور اگر کسی بھی کام کی شروعات خرابی سے ہو تو اس کا انجام بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ادھر سلیکٹرز نے بھی سوچنا شروع کر دیا کہ گرینج اعتماد کھوچکا ہے، لہٰذا کسی اور سے اوپننگ کروانی چاہیے۔ میں نے اپنی خدمات پیش کردیں۔ یہ زونل میچز تھے۔ تسمانیہ کے خلاف میں نے دو سنچریاں جڑکر اپنے اعتماد کو پختہ کرلیا لیکن ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں صرف 30 رنز بنا پایا۔ مجھے تھامسن نے آؤٹ کیا جبکہ دوسری اننگز میں یہ کارنامہ للی نے سر انجام دیا۔ لیکن میں کرکٹ کے پنڈتوں کو 101 رنز بناکر یہ پیغام دے چکا تھا کہ اب میری باری شروع ہوچکی ہے اور آنے والا وقت میرا ہے۔ للی نے مجھے میلبورن ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں اپنا شکار بنایا۔ جہاں میں نے 50 اور 98 رنز بنا ئے تھے۔ میرا اعتماد بڑھ رہا تھا۔ ان دنوں مجھے یہ سمجھ نہ آئی کہ بطور اوپنر میرا کیرئیر جلد اختتام پذیر ہوسکتا ہے۔ شاید یہ جوانی کا دور تھا اور ہر کوئی مہم جو ہوتا ہے۔ اب میں کہتا ہوں کہ یہ جنون آپ کو ہیرو بناسکتا ہے اور ہیرو سے زیرو بننے میں دیر بھی نہیں لگتی۔

آسٹریلیا میں اپنی بیٹنگ کو نکھارنے کا موقع تو ملا لیکن اس کے ساتھ ساتھ دیگر کئی ایسے ایشوز بھی تھے جو میری سمجھ سے ہمیشہ بالاتر رہے، لیکن یہاں ان کی بابت سے کئی دھندلے تصورات واضح ہوئے۔میں نے یہاں چیپل برادرز سے ہلکی پھلکی گفتگو میں کافی کچھ سیکھا، میں ہمیشہ سیکھنے کے عمل سے خود کو گزارتا رہا۔ مجھے ان کے رویوں نے بہت متاثر کیا۔

یہاں للی اور تھامسن سے ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ دونوں تیز باؤلر تھے۔ بہت ہی تیز لیکن جس بلے باز نے اپنی اننگز کو مستحکم کرلیا پھر اس کے سامنے ان کی تیزیاں بے کار ہوجاتیں۔ میں نے ایک دو ٹیسٹ میچز کھیل کر جو مشاہدہ کیا وہ یہ تھا کہ یہ دونوں بالرز بے شک بہت تیز ہیں لیکن مائیکل ہولڈنگ جتنے نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کینگروز اپنے اثاثوں کو حفاظت سے رکھتے ہیں۔ وہ باؤلرز پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتے تھے کہ ان کا کیرئیر ہی ختم ہوجائے۔ ان کے برعکس ہمارے ہاں اگر کوئی باؤلر تیز گیندیں کروا رہا ہو اور عروج کو چھو رہا ہو تو ہم چاہتے ہیں کہ یہی موقع ہے اس باؤلر سے جو کچھ کما سکتے ہیں کمالو۔ کینگروز اپنی فزیکل فٹنس کا خیال رکھتے اور ہم باؤلرز کی کارکردگی کا۔ اس دورے سے نہ صرف میں نے بلکہ میری ٹیم انتظامیہ نے بھی یہی سیکھا کہ فاسٹ باؤلرز کا استعمال کیسے کرنا ہے اور ان کی حفاظت کیسے کرنی ہے۔

اسی دورے میں گریگ چیپل نے مجھے بتایا کہ میں ہمہ وقت مقابلے کے لیے تیار رہتا ہوں اور کسی قسم کے باؤلر کو خاطر میں نہیں لاتا اور دھلائی کر دیتا ہوں۔ اس موقع پر اس نے للی کے خلاف کھیلے گئے میرے چند اسٹروکس کی تعریف بھی کی لیکن ساتھ میں نصیحت بھی کی آخری وقت تک گیند سے نظر نہ ہٹانا ورنہ یہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ لاپروائی کوئی بہادری نہیں۔ چیپل نے کہا کہ ایک گلاس پانی کی خاطر کسی کو قتل کردینا بہادری نہیں بلکہ بزدلی اور خوف ہے۔ اس طرح کی بزدلی اور خوف سے ہمیشہ بچنا۔

پھر وہ وقت بھی آیا جب للی نے میرے دل کے نیچے گیند مار دی اور مجھے سانس لینے میں شدید دشواری ہوئی۔ درد اس قدر زیادہ تھا کہ اپنا ہوش گم ہوتا نظر آیا۔ مجھے بس روڈ مارش کی آواز سنائی دے رہی تھی: ’’رچرڈز، آپ ٹھیک ہو؟‘‘ میری تو آواز ہی نہیں نکل رہی تھی یہاں تک کہ میں اپنا سر بھی ہلانے سے قاصر تھا۔ اس مشکل گھڑی میں للی بالکل سپاٹ کھڑا تھا اور اس نے میرے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی کااظہار نہ کیا۔ جب میں نے اسے دیکھا تو وہ اپنے باؤلنگ مارک تک جاچکا تھا۔ میں درد سے کراہ رہا تھا اور للی نئی گیند کروانے کے لیے تیار کھڑا تھا اور تماشائی اسے ’’مار دو اسے مار دو‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس واقعہ کے برسوں بعد 1989ء میں ہم لوگ آسٹریلیا میں ساؤتھ ویلز میں کھیل رہے تھے۔ ایلن بارڈر کپتان تھے۔ میرے خلاف وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ ہونے کی زوردار اپیل ہوئی جسے امپائر نے مسترد کردیا۔ اسی دوران میرے خلاف کچھ تلخ آوازیں سنائی دیں۔ سٹیون ایکن آسٹریلوی وکٹ کیپر نے مجھے ’’لکی باسٹرڈ‘‘ کہہ ڈالا۔ یہ تکلیف دہ تھا۔ حد تو یہ ہوئی کہ ایلن بارڈر گالیاں بکتا میری طرف آیا تو میں نے اسے روکا کہ تم لوگ کیا رویہ اختیار کیے ہوئے ہو۔ لیکن وہ لوگ تو نجانے کیا سوچ کر بات کو بڑھا رہے تھے۔ یہاں تک کہ مجھے یہ بھی کہنا پڑا: ’’ایلن! تمہیں تو میں اس کھیل کے بعد نپٹوں گا۔‘‘ اس پر اس نے شعلے برساتی آنکھوں کے ساتھ جوابی حملہ کیا: ’’ جو دل کرتا ہے کرلینا۔‘‘ پھر مجھے سمجھ آئی کہ یہ لوگ کیا چاہ رہے ہیں۔ یقیناًوہ میرا دھیان بٹاکر مطلوبہ نتائج چاہ رہے تھے۔ کھیل ختم ہوا تو میں ڈریسنگ روم آیا۔ اپنی کلائی پر تولیہ لپیٹا اور ان کے ڈریسنگ روم کی طرف نکل گیا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، دروازہ کھولا تو اخبار نویس وہاں موجود تھے۔ غالباً ایلن بارڈر ان کو بتاچکا تھا کہ رچرڈز میچ کے بعد کچھ کرنے والا ہے۔ میں تو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور اگلے روز کے اخبارات میں جس کے منہ میں جو آیا، لکھا اور مجھے نہایت ہی جھگڑالو کردار کے طور پر پیش کیا گیا۔

میں نے آسٹریلیا کے خلاف جو بھی سیریز کھیلی وہ اسپیشل ہی رہی۔ میں ہمیشہ تیاری کرکے وہاں گیا۔ غالباً اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ میں پہلی مرتبہ اپنی ٹیم کے ہمراہ وہاں گیا تو یہ سیریز ہم لوگ 5-1 سے ہارے تھے۔ ڈینس للی نے 25 وکٹیں حاصل کیں اور جیف تھامسن کے حصے میں 29 وکٹیں آئیں۔ ان میں للی نے مجھے 5 مرتبہ آؤٹ کیا۔ اس وقت آسٹریلیا دنیا کی بہترین ٹیم تھی۔ ان کا باؤلنگ اسکواڈ بہت ہی جارحانہ تھا۔یہاں سے ٹیسٹ کر کٹ شروع ہوئی تو پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ بس کھیلتا ہی چلا گیا۔

(جاری ہے)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */