الیکٹرانک میڈیا، شریعت اور دعوت - علی عمران

میڈیا کا رسوخ جس طرح ہماری عمومی زندگی اور معاشرتی امور پر بڑھتا جارہا ہے وہ کسی اہل نظر سے چھپا ہوا نہیں۔ ایسے میں اسلام پسند قوتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس میڈیم کو اپنے دعوتی اور اصلاحی کاموں کے لیے حتی المقدور استعمال کریں اور اس بارے میں شریعت کی عطاکردہ سہولت سے خاطرخواہ فائدہ اٹھائیں۔

ہماری دینی قوتوں کی حالت یہ ہے کہ وہ فتویٰ دینے میں سو سال پیچھے دیکھتی ہیں، مگر عرف اور مستقبل کے احوال کے بارے میں عمومی طور پر آنکھیں بند رکھتی ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب کچھ وقت بعد وہی فتویٰ بدلنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو بادل نخواستہ عوام کی سنائی بجھائی کے بعد وہی کچھ کرتی هے کہ جس کی اجازت ان کو تب بھی حاصل تھی اور شریعت کا دامن ان کوتب بھی یہ وسعت دے رہا تھا۔ مگر انہوں نے زمانے کےعرف اور مستقبل کے واقعی احوال کی بجائے ماضی کو ہی سامنے رکھا ۔

میں یہ نہیں کہتا کہ ایسا کرنا کوئی غلط کام ہے کیونکہ فتوے کا دامن جیسے اس دوسری صورت کی اجازت دیتاہے تو اس سے بڑھ کر اس پرانی صورت کی بھی اجازت دے رہا ہوتا ہے، جس پر ان کاحال کا فتویٰ مبنی ہوتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ جب آپ کے سامنے دو شکلیں ہو کہ ایک میں آپ کو 20 سال بعد فتویٰ تبدیل کرنا پڑے، اتنا ہی نہیں حاملین فتویٰ دوسرے گروہ کو معصیت کار، خطاکار اورگناہ گار بھی قرار دیتے رہیں اور دوسری شکل وہ هو کہ جس میں آپ کا فتویٰ کم از کم ڈیڑھ، دو سو سال عوام کو گناہ سے بچاتا رہے تو میرے نزدیک بہتر یہ ہے دوسری شکل کو ہی اختیار کیا جائے، جیسے تصاویر کا مسئلہ ہے۔

مشکوۃ کے سال میں محترم مفتی زاہد صاحب کی شرح مشکوۃ میں تصویر کی حرمت کی بحث پڑھی تھی کہ جس میں انہوں نے آئمہ اربعہ کے مذاہب کی جو تفصیل کی تھی۔ اس کے مطابق تین آئمہ کے نزدیک تصویر حرام اور مجسمے جیسا ہے جبکہ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مکروہ تنزیہی ہے۔ پھر جب میں نے اپنے آپ کودیکھا، تو مجھے اپنا آپ تصویروں کے اندر پھنسا نظر آیا۔ دوائی کی بوتل سے لے کر چپس کے پیکنگ اور ٹافی کے ریپر پر مجھے تصویر ہی تصویر دِکھی۔ میں نے جب اپنے آپ کو تصویر کی حرمت والی شکل پر رکھ کر سوچا، تو مجھے ہر طرف حرام ہی حرام دِکھا۔ سو تب میں نے سوچا کہ مالکی فکر میں عافیت ہے، کیونکہ یہاں میں خود کو اور امت کو گمراہ سمجھے بغیر بھی دائرۂ شریعت میں رہ سکتا ہوں کیونکہ علمائے شریعت کا کم ازکم دائرہ یہ ہے کہ حق آئمہ اربعہ میں محدود ہے۔ سو جب ایک امام کے قول سے ہی دلیل لی جائے گی اور وہ بھی شدید ترین بلویٰ کی بنیاد پر، تو یہ عین شریعت ہوگی۔

اس وقت کی ضرورت ہے کہ ہمارا دیندار طبقہ میڈیا کے استعمال کو سمجھے، بوجھے، جانے اور درست طریقے سے، حدود شریعت میں رہتے ہوئے اسے استعمال کرے۔

بچپنے میں چند فوجی ڈرامے دیکھے تھے، اسٹیبلشمنٹ کے بدترین کرتوت دیکھنے کے باوجود پاک آرمی سے وہ قلبی تعلق دل سے نکل نہیں پاتا ۔ اب بھی جب آرمی کا کانوائے سامنے سے گزرتا ہے، تو بےاختیار اٹینشن ہوجاتا ہوں۔ کسی خوف کی وجہ سے نہیں، بےاختیار دل کی لگی کی وجہ سے۔

یہ بھی پڑھیں:   جن پہ تکیہ تھا - ثریا ملک

کون کہتا ہے کہ میڈیا کا اثر نہیں ہوتا؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ شریعت کی دی ہوئی اجازت سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اصالتاً تو ہر جگہ پر عورت کی موجودگی ضروری ہی نہیں، جہاں پر کردار کا مطالبہ ضروری ہو، تو وہاں بھی شریعت کی دی ہوئی اجازت کہ جسے باہر دیکھنا جائز ہے، اسے سکرین کے اندر بھی دیکھنا جائز ہے، سے فائدہ اٹھایا جاسکتاہے ۔

اسی طرح عورت کے چہرے کا پردہ نہ ہونا خود امّت کے اندر ہی ایک بڑے طبقے کا اس پر عمل ہے۔محض سکارف جن کے نزدیک پردے کے حکم میں ہے، ان کے قول سے فائدہ اٹھایا جاسکتاہے ۔آخر غیرسودی بینکاری کے لیے جس طرح ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کر اور یہاں وہاں سے توڑ موڑ کر دلائل اکھٹا کرتےہیں، اس کے لیے تو اتنی زیادہ محنت کی بھی ضرورت نہیں اور دلائل بھی غامدی صاحب وغیرہ کی تجدّد زدہ آوازوں سے نہیں، بلکہ اہل السّنت کے ہاں سے ہی لینے ہیں۔

سکرین کا دماغ پر، فکر اور احساسات پر جو شدید ترین اثر ہوتا ہے، اس کا ادنیٰ سا ثبوت وہ رپورٹس ہیں، جن کے مطابق رشتہ داروں کے ساتھ جنسی ہراسگی کے واقعات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

آپ جانتےہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟

فحش ویب سائٹس پر بس ایک کیٹگری ہوتی ہےقریبی رشتوں کے ساتھ تعلق کی۔ درحقیقت، وہ صرف کردار ہوتے ہیں، ان کا آپس میں کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا لیکن دیکھنے والا ان کی غلیظ حرکات دیکھتا ہے تو رشتوں کی تقدیس پر چوٹ پڑتی ہے، یہاں تک کہ وہ چکناچور نہ ہو جائے۔

پھر ہمارا اور آپ کا رونا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟

پاکستان میں 2002ء سے مسلسل تبلیغی اسفار میں گھومنے سے ہر صوبے بلکہ ضلع کی عوام کی دینی حالت میرے سامنے ہے۔ یہ درست ہے کہ ہرجگہ صالحین کی بھی ایک جماعت ہے، مگر اکثریت ان لوگوں کی ہے، جو جمعہ کو بھی تب آتےہیں، جب جماعت کھڑی کی جارہی ہوتی ہے اور مولوی صاحب کا سامنا عید پر بھی نہیں کرپاتے۔ جب ان کے پاس تبلیغ والے احباب بھی جاتے ہیں، تو آگے سے نوکر کے ذریعے پیغام دیا جاتا ہے کہ صاحب یا صاحبزادہ گھر پر نہیں۔ ایسے لوگوں کو آپ نے کیسے سنبھالنا ہے؟ اپنی جماعت کے ساتھ نہیں جوڑنا، اللہ کے دین کے ساتھ کیسے جوڑے رکھنا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   میرے پاس اسلام ہے- بینش صابر

دوسری طرف یاد رکھیے کہ الیکٹرانک کی دنیا میں انقلاب آچکاہے اور 'سی پیک' کا طوفان آپ کے چرواہوں کے ہاتھ میں بھی پاور بینک اور سمارٹ موبائل دے دے گا۔ سو اس سے پہلے کہ طوفان ہمارا آشیانہ اجاڑ کر لے جائے، ہمیں سوچنا پڑے گا کہ ہم قوم اور ملک و ملت کے لیے کیا کرسکتےہیں؟

آپ کا مولوی، آپ کا تبلیغی، آپ کا اصلاحی لائن سے لگا ہوا، ہر فرد امّت اس میڈیا کے شکنجے میں پھنسا ہوا ہے۔ اس نے استعمال تو کرنا ہے۔ اب یہ آپ کے اوپر ہے کہ اس کے لیے کچھ وہ مواد پیش کرتے ہیں، جو اسے دین سے جوڑے رکھے، اخلاقیات، اسلامی ثقافت سے جوڑے رکھے یا پھر اس کو شیطان اور نفس کا شکار بننےکھلا چھوڑنا ہے!

عین ممکن ہے کہ پچاس سالوں بعد آپ یہ سب کچھ کرنے پر راضی ہوجائیں، مگر یاد رکھیے پھر قوم آپ سے دو سو سال آگے بڑھ چکی ہوگی ۔ تب یہ آوازیں بھی اس کو متوجہ نہیں کرسکیں گی۔

سو جو کرنا ہے، آج ہی کرنا ہے!

Comments

علی عمران

علی عمران

علی عمران مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز کے فاضل ہیں۔ تخصص فی الافتاء کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامک کمرشل لاء میں ایم فل کے طالب علم ہیں. دارالافتاء والاحسان اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں افتاء کے علاوہ عصری علوم پڑھنے والے طلبہ اور پروفیشنل حضرات کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.