آپ فی الوقت ان دونوں پارٹیوں کے سوتیلے ہیں - حامد کمال الدین

دینی جماعتوں کو سیاست میں مؤثر آواز بنانا اپنی جگہ ایک پراجیکٹ ہے، اگرچہ طویل یا کسی قدر پیچیدہ لگے۔ پچھلے چند عشروں سے عالمی ہوائیں کچھ اس بےرحمی سے دنیا کے صرف ایک ’مذہب‘ کے پیچھے پڑ گئی ہیں کہ یہ ایک خاصا مشکل ہدف ہو چکا۔ بدھ، ہندو اور عیسائی جماعتیں اپنےاپنے ملکوں کی ’’سیاسی مین اسٹریم‘‘ بنتی دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ عالم اسلام کی دینی جماعتیں کہیں پس زنداں، تو کہیں گمنامی کی نذر۔ اگرچہ کہیں کہیں اپنی کوتاہیوں کی اسیر بھی ہیں۔ گو اِس موخر الذکر صورت کو عالمی ابلاغ ’پولیٹیکل اسلام‘ کے حوالہ سے نمایاں بنا کر پیش کرتا ہے۔ جس سے نہ صرف دوسرے ملکوں میں اسلامی جماعتوں پر ہونے والے مظالم سے توجہ پھیرنے میں ایک گونہ مدد ملتی ہے بلکہ ’شہر میں غالب کی آبرو‘ کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اِس لحاظ سے، ہماری یہاں کی مذہبی جماعتیں عالم اسلام کا ایک خاصا بڑا وزن اٹھائے کھڑی ہیں۔ یہاں زیادہ تر دینی طبقے اپنےاپنے لیے جو ایک ’حتمی‘ پوزیشن لے چکے، اس نے بات کی زیادہ گنجائش چھوڑ ہی نہیں رکھی، سوائے ایک ’’قولِ معروف‘‘ کہہ دینے کے جس کی ہم کوشش کر لیتے ہیں۔ تھوڑی بہت فائدے کی تعلیق یا تجویز پھر بھی گوش گزار کر ہی دی جاتی ہے (تمام تر ’’ممکنہ‘ ردعمل کا خطرہ مول لیتے ہوئے!)۔ یہ ہے پس منظر ہمارے یہ کہنے کا کہ: دینی جماعتوں کو یہاں سیاست میں ایک مؤثر آواز بنانا کسی قدر ایک مشکل اور طویل پراجیکٹ ہے؛ اور اُس پر کام کا اپنا الگ محور۔

بطور اسلامی سیکٹر، البتہ مجھے اپنے آپشن زیر غور لانا ہیں۔ ایک چیز ذرا وقت طلب ہے، تو بھی اِس دوران مجھے سرنڈر بہرحال نہیں کرنا۔ اپنے سیکولر/لبرل حریف کے ساتھ آخری دم تک مجھے لڑنا ہے، معاشرتی زمین کے چپےچپے پر اُس کی راہ روکنی اور ایک ایک مسئلے میں اُس کے مقابلے پر اپنے دینی ایجنڈے کو نصرت دلانی ہے۔ خاص اِس حوالہ سے، یہ معاملہ قارئین کے سامنے آج ایک ایسی جہت سے سامنے لایا جا رہا ہے جو کسی قدر غیر روایتی ہے تاہم حالیہ صورتحال میں ناگزیر۔ مگر اس سے پہلے یہ صراحت کر دی جائے کہ: لاکھ پسپائی کے باوجود دینی جماعتوں کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے، اور اس معنیٰ میں کوئی چیز ان کا متبادل نہیں۔ کل کیا ہوتا ہے؟ اللہ اعلم۔البتہ آج کی تاریخ تک کوئی شے ان کا قائم مقام نہیں۔ یہاں جو چیز بیان ہونے جا رہی ہے اس کو محض ایک ’سپلیمنٹری‘ (supplementary) شے سمجھیے؛ جو ’’موجود‘‘ کا توڑ کرنے کے لیے نہیں بلکہ کسی قدر اس کا ’’کیس‘‘ مضبوط کرنے کے لیے اختیار ہونی چاہی
ے۔ خصوصاً جبکہ وہ شے اپنی جگہ ہے اور فی الحال رہے گی، خواہ آپ اُس کو پسند کریں یا ناپسند۔ خواہ آپ اُس سے اپنے کاز (cause) کے لیے کچھ فائدہ لیں یا اس سے الجھنے کو ہی اپنی ترجیح بنا لیں، وہ بہرحال ہے۔

اس تمہید کے بعد میں اصل موضوع پر آتا ہوں۔ ’’ختم نبوت‘‘ کے تعلق سے چلنے والی حالیہ سوشل میڈیا کیمپین ذہن میں رہے تو بات اپنے مقصود یا نوعیت واضح کرنے کے معاملہ میں زیادہ متعلقہ relevant رہے گی۔


غور فرمائیں تو خاص مذہبی لیبل کے ساتھ میدان میں اترنے والی جماعتوں کا وزن حالیہ سیاست میں بہت زیادہ نہیں۔ ہمارا مذہبی عنصر دراصل ایک اور راستے سے حالیہ سیاست میں اس سے بڑھ کر دخیل ہے اور وہ ہے ان دو بڑی پارٹیوں (نون لیگ اور تحریک انصاف) کے اندر اسلام پسندوں کا ایک اچھی خاصی تعداد میں موجود ہونا، جو کچھ اور قسم کے حالات میں شاید ایک گونہ قابل اعتراض بھی ہوتا مگر اندریں حالات ایک خوش آئند امر ہے۔ بہت اوپر کی سطح پر نہ سہی، پیندے میں یہاں بہت سا اسلامی عنصر موجود ہے۔ لوگوں کا اپنااپنا نقطۂ نظر ہے، میں اس کو حد سے بڑھ کر اہمیت دیتا ہوں۔ ’’دستیاب مواقع‘‘ کا یہ پہلو کلیتاً نظرانداز کرنے کا نہیں۔ گو یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے اور اس کے بعض جوانب ہماری کچھ آئندہ تحریروں میں آ سکیں گے، ان شاء اللہ۔

تاوقتیکہ ہماری دینی جماعتیں سیاسی اکھاڑے کے مین پلیئرز (main players) نہیں بنتیں جوکہ تاحال ایک خواب ہے، یا جب تک کوئی اردگان ٹائپ اسلام دوست مگر مذہبی پیکنگ کے بغیر ایک پارٹی سامنے نہیں آتی (جوکہ میرے نزدیک بوجوہ ضروری ہے اور روایتی دینی جماعتوں کی نسبت صورتحال کے لیے مناسب تر)... تاوقتیکہ ایسی کوئی مطلوبہ لینڈ سلائڈ ڈیویلپمنٹ (land-slide development) سامنے نہیں آتی، یہاں کی ’’غیر مذہبی‘‘ جماعتوں (مانند نون لیگ و پی ٹی آئی) میں موجود یہ ’’مذہبی‘‘ عنصر میرے نزدیک بسا غنیمت ہے۔ یہ نہ ہو تو عالمی اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ اور استشراقی مافیا کے چھانٹے ہوئے خرانٹ لبرل، بہت تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود، یہاں ہمیں ایک گھڑی میں پٹخ دیں۔ اُن کا لبرل ایجنڈا فی الحال اپنے بہت سے ارمان پورے کرنے سے قاصر ہے، اور جوکہ اللہ کے فضل سے ایک حقیقت ہے، تو اس بات کے بہت تھوڑے بلکہ نہ ہونے کے برابر نمبر سیاست میں ’مذہبی‘ نعرے کے ساتھ اترنے والے عنصر کو جاتے ہیں۔ زیادہ نمبر میری نظر میں اُس خاموش مذہبی عنصر کو جاتے ہیں جو خود نون لیگ اور پی ٹی آئی وغیرہ ہی کی صفوں کے اندر موجود ہے؛ اور جن کا ڈر ان کی قیادتوں کو یہاں کی مذہبی جماعتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اِنہی کے کردار کو، اِن کا یا اِن کی پارٹیوں کا کوئی نقصان کیے بغیر، موثر تر بنانا، اِس وقت کا ایک اہم ہدف۔ میں اپنے آپ کو ’’اسلامی سیکٹر‘‘ کے طور پر دیکھوں تو میرا ایک بہت بڑا اثاثہ اِس وقت یہی طبقہ ہے۔ لبرل سویرے کے راستے کی ایک بہت بڑی رکاوٹ میرے یہی لوگ ہیں۔ (علاوہ کچھ دیگر اسلامی عناصر جو سیاست کے ماسوا میدانوں میں، جوکہ ہو سکتا ہے سیاست سے بھی اہم تر ہوں، اِس تہذیبی توازن کو بہتر رکھنے میں ایک بڑا کردار رکھتے ہیں۔ تاہم یہاں ہماری بات خاص سیاست میں موجود اِس خادمِ دین عنصر پر ہو رہی ہے)۔

یہ غلط فہمی تو میں بالکل نہیں رکھتا کہ نون لیگ اور پی ٹی آئی کی ٹاپ قیادتیں اسلام کے لیے ذرا فکرمند ہیں، نہ میں یہ گمان رکھتا ہوں کہ اِس تہذیبی معرکے میں دینِ محمدؐ کے لیے اِن دونوں کو ادنیٰ درجے کی کوئی پریشانی یا کوئی تشویش ہو سکتی ہے۔ البتہ یہ میں ادراک رکھتا ہوں کہ ان دونوں قیادتوں کو اپنی اپنی پارٹی میں موجود اس عنصر کو کھو دینے کی پریشانی حد سے بڑھ کر ہو سکتی ہے جو بہرحال اسلام کے لیے پریشان ہوتا ہے اور جس کے لیے اس ملک میں اسلامی تہذیب کو پسپا ہوتا یا لبرل اور قادیانی ایجنڈا کو پیش قدمی کرتا دیکھنا ناقابل برداشت ہے۔ بطور اسلامی سیکٹر، یہ خاموش عنصر اس ملک میں میری بہت بڑی سٹرینتھ (strength) ہے اور اس سے کام لے کر مجھے اس تہذیبی معرکے میں کئی ایک ہدف سر کرنے اور کئی ایک بلائیں اپنے دین اور امت سے دفع کرنی ہیں۔ یہ بات میرے لیے اضافی طور پر خوش آئند ہے کہ ان دو بڑی پارٹیوں کی ٹاپ قیادتیں کسی بھی معنیٰ میں کوئی نظریاتی قیادتیں نہیں۔ ان کے نظریاتی ہونے پر میں ضرور خوش ہوتا اگر یہ اسلامی ہوتیں۔ ہاں غیر اسلامی ہوں اور پوری طرح نظریاتی ہوں، اس سے مہلک آفت اِس ملک اور قوم کے حق میں بھلا کیا ہو گی؟ (مشرف کے حوالہ سے کسی قدر اس بات کا امکان نظر آتا تھا، جس سے اللہ نے جان چھڑا دی)۔ مگر یہ دونوں قیادتیں اگر اسلامی نہیں تو نظریاتی بھی نہیں، جوکہ میری مشکلات کو فی الوقت یہاں کم کرتا ہے، اور یہ بھی اِس وقت تو غنیمت ہی ہے۔ ان میں سے ایک نرا اپنے مفاد کا ہے اور دوسرا اپنی ذات کو منوانے اور کوئی اچیومنٹ (achievement) کر دکھانے کا، البتہ نظریاتی ترجیحات ان دونوں کے ہاں نہیں پائی جاتیں۔ جس کا مطلب ہے، نہ یہ اسلامی ایجنڈا کے حوالے سے کوئی ’’اپنی‘‘ پوزیشن لیں گی اور نہ لبرل/قادیانی ایجنڈا کے حوالے سے۔ دونوں متحارب نظریاتی ایجنڈوں کے حوالے سے، ان کی جو پوزیشن ہو گی وہ دراصل ان کی سیاسی ترجیحات کی پوزیشن ہو گی۔ ’’اسلام بمقابلہ لبرل/قادیانی‘‘ کشمکش میں یہ ہر موقع پر ’’تیل اور تیل کی دھار‘‘ ہی دیکھیں گی، جبکہ ’’تیل‘‘ ہمارے حریف کے پاس فی الحال وافر ہے اور وہ اس کی اعلیٰ سے اعلیٰ ’’دھار‘‘ بھی بنا سکتا ہے۔ تاہم ہمارے کارڈز بھی کچھ ایسے کم نہیں جنہیں ہمیں حوصلے اور دانشمندی کے ساتھ کھیلنا ہے، جس میں کامیابی کے بےپناہ امکانات ایک آپ کی حالیہ سوشل میڈیا کیمپین سے ہی عیاں ہیں۔ (مراد ہے انتخابی امیدوار فارم میں ’’ختم نبوت‘‘ کے حوالے سے جو ترمیم ہوئی، اس کے خلاف چلنے والی سوشل میڈیا کیمپین، جو بہت جلد اپنا اثر دکھانے میں کامیاب ہوئی، اور جس کا سہرا یہاں بہت سے مخلص طبقوں کے سر جاتا ہے)۔

چنانچہ یہ خاصی حد تک درست ہے کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ اور اس کے مہمیز دیے ہوئے مقامی فیکٹرز اس وقت بہت زیادہ مضبوط اور ان کے ہاتھ بہت لمبے ہیں، لہٰذا وہ یہاں کے سیاستدان کو اُس کی اپنی ترجیح و دلچسپی کے فریم ورک میں بہت اچھی آفر کرنے کی پوزیشن میں ہیں، اور اِس لحاظ سے ہم اسلام پسند اپنے سیاستدان کے گرد منڈلاتے اُس لبرل خریدار کو کسی بڑی سطح پر فی الوقت آؤٹ بِڈ (outbid) نہیں کر سکتے۔ نہ ہی میرا مشورہ ان پارٹیوں میں موجود نبیﷺ کے وفادار طبقوں کو یہ ہو گا کہ وہ اپنی قیادتوں پر ’’اسلامی‘‘ دباؤ ڈالنے میں ایک خاص حد سے بڑھیں، کیونکہ یہ کوئی بہت مختصر کھیل نہیں ہے اور شاید بہت کچھ یہاں آنے والے مشکل وقتوں کے لیے بچا رکھنا ضروری ہے؛ اور فی الوقت تو گراؤنڈ مضبوط کرنا بڑی ترجیح۔ علاوہ شعور بیدار کرنے کے، جوکہ علی الاطلاق سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے، اور جس میں بڑا حصہ ان آزاد مؤثر آوازوں کا ہونا چاہیے جو ان بڑی سیاسی پارٹیوں کا حصہ نہیں مگر وہ ان کی حریف بھی بہرحال نہیں۔ (یہ ایک الگ مبحث ہے، جس پر آئندہ کسی فرصت میں روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی)۔ یہاں جو چیز مقصود ہے وہ ہے اپنی قوت کے ایک بہت بڑے پوائنٹ کی نشاندہی a potential point of our strength۔ یہ ہے ملکی سطح پر ایک ’’بڑی جماعت‘‘ (main-stream party) بننے کی خواہشمند یہاں کی کسی بھی پارٹی کی مجبوریاں؛ جوکہ اللہ کے فضل سے یہاں ہمیں ڈھیروں راستہ دلوانے والی ہیں۔ ایک بات سمجھ لیجئے، لبرل اور قادیانی یہاں کی کسی جماعت کو ’’بڑی پارٹی‘‘ نہیں بنا سکتے۔ ہاں جب کوئی پارٹی ایک ’’بڑی پارٹی‘‘ ہو جائے، اور وہ ظاہر ہے میرے اور آپ کے دم سے ہو گی، تو اس کے بعد البتہ وہ (لبرل اور قادیانی) اس پارٹی کا مول لگا سکتے ہیں؛ اور تب چاہے وہ اس کو سونے میں تول دیں۔ پھر، اس کی یہ قیمت ’مارکیٹ‘ میں اُس وقت تک ہے جب تک وہ معاشرے کے زیادہ سے زیادہ طبقوں کو اپنے ساتھ چلانے کی یہ صلاحیت برقرار رکھے۔ البتہ جیسے ہی وہ ایک ’’بڑی پارٹی‘‘ یعنی ’’معاشرے کے تمام یا بیشتر طبقوں کو اپنے ساتھ چلا سکنے والی پارٹی‘‘ کی سطح سے نیچے آئے گی، اُس وقت وہ لبرل کے کام سے بھی چلی جائے گی؛ اور لبرل ساہوکار تب اس سے ہاتھ اٹھا کسی اور کا مول لگانے چل دے گا۔ خوب جان رکھیے، آپ کا دشمن یہاں صرف دودھیل جانور کا بیوپاری ہے؛ نرا چارا کھلانا نہ کبھی اُس کا شوق رہا اور نہ اُس کے وارے کا۔ اس بات سے لاعلم نہ رہنا چاہیے کہ یہاں کی کسی بھی ’کامیاب‘ پارٹی کو اِدھر اُدھر کی اعلیٰ آفرز تب تک ہی ہیں جب تک وہ معاشرے کے میکسیمم (maximum) طبقوں کی پارٹی ہے جن میں سے ایک، آپ اسلام پسند بھی ہیں۔ آج کا پاکستان ساٹھ یا ستّر کی دَہائی کا پاکستان نہیں ہے جہاں کسی وجہ سے نظریات کی بنیاد پر انسان بٹنے لگے تھے اور جہاں کمیونزم کا ایک جھوٹا نعرہ بھی کام دے جانے والا تھا۔ آج کے ڈائنامکس بالکل اور ہیں؛ جن پر کسی اور وقت تفصیل سے بات ہو سکتی ہے۔ پس آج کی یہ ملغوبہ پارٹیاں اگر کسی درجے میں ’ہماری‘ مجبوری ہیں تو اس سے بڑھ کر اللہ کے فضل سے ہم ’’ان کی‘‘ مجبوری ہیں۔ سیاناپن البتہ یہ ہے کہ ہم اِن پارٹیوں سے اپنے مذہبی مطالبات یا توقعات کرنے میں وہاں تک رہیں جہاں تک ہم ان کی ’ضرورت‘ ہی رہیں اور اس کو حد سے بڑھے ’بوجھ‘ (liability) میں نہ بدلنے دیں۔ ہاں اس پوائنٹ تک جانے سے آپ کو احتراز کرنا ہو گا، جیسا کہ پیچھے کہا جا چکا؛ اور یہ ایک نپا تلا بیلنس بہرحال قائم رکھنا ہو گا۔ اتنی مہارت بلا شبہہ درکار ہے۔ البتہ یہ ایک ایسی زبردست بات ہے جو ہمیں دانشمندی کے ساتھ بہت سے شاٹ (shot) کھیلنے کی اعلیٰ بنیاد فراہم کرتی ہے۔ میں آپ سے عرض کروں، اصل مسئلہ ہمارے یہاں شعور کی کمی ہے؛ جس کے باعث ہم بیگار دینے کے کچھ زیادہ عادی ہو گئے ہیں۔ نتیجتاً؛ ہم نے موقع پرستوں کے لیے ’’سیاست‘‘ کچھ زیادہ آسان کر دی ہے۔ اس کے علاوہ، اپنی اہمیت (significance) اور سٹرینتھ (strength) سے ناواقفیت۔ خاص طور پر ہمارے بہت سارے لوگوں کا اِس وقت یہ سمجھنا کہ جو دیندار (اللہ و رسولؐ کا وفادار) یہاں کی مذہبی سیاسی جماعتوں میں نہیں وہ دین کے کس کام کا! حالانکہ کیا بعید وہ ہم سے بڑھ کر دین کے کام کا ہو؛ اللہ نے نبیﷺ کے ہر امتی میں خیر رکھی ہے، ہاں البتہ اس خیر کو برآمد کرانا اور اس کو حق کی ایک طاقت اور دھارا بنانا ایک باقاعدہ عمل ہے جو اپنی پشت پر کچھ اعلیٰ عقول کے آنے اور اشیاء کو سٹرٹیجائز (strategize) کروانے کا ضرورتمند رہتا ہے۔ ہر میدان کے کچھ رِجال ہوتے ہیں اور یہاں بھی آپ کو رِجال لانا ہوں گے۔ اس کی طلب (demand) جب موجود ہے، اور میرے خیال میں بڑھتی جا رہی ہے، تو فراہمی (supply) بہت دیر تک رکی نہیں رہ سکتی۔ البتہ اس کے اندر جلدی کر لینے اور کوالٹی لے آنے میں ہم سب کا فائدہ ہے۔


اس نتیجہ پر پہنچنا میں اپنے لیے چنداں مشکل نہیں پاتا کہ سیاستِ پاکستان کا موجودہ مرحلہ خالصتاً ’ملغوبہ پارٹیوں‘ کا ہے۔ یعنی ایک ایسی پارٹی جو معاشرے کے سب طبقوں کی پارٹی ہو اور جس پر کسی ایک طبقے کی بہت واضح چھاپ ہرگز نہ ہو؛ اور اس کا عمومی رنگ بھی اس وقت وہی ہو جو کسی قدر معاشرے کا رنگ ہے؛ یعنی ملا جلا؛ نہ خالصتاً مذہبی اور نہ خالصتاً غیرمذہبی۔ کم از کم ڈسپلے (display) کی حد تک یہ ضروری ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں، نظریاتی نعرے خود نظریاتی جماعتوں میں اس وقت بیک فٹ پر چلے گئے ہیں؛ (اور مسلسل ہائبرنیشن موڈ (hibernation mode) پر رہنے کے باعث، کیا بعید دم بھی توڑ جائیں)۔ اب وہ (شدید نظریاتی) جماعتیں بھی کامیابی اسی میں ڈھونڈنے لگی ہیں کہ سیاست میں وہ کچھ غیرنظریاتی نعرے ہی لے کر چلیں یعنی کرپشن، مہنگائی وغیرہ ایسے عوام کی دلچسپی کے ایشوز ہی اٹھائیں (حالانکہ جس وقت یہ نظریاتی جھگڑے لے کر کھڑی تھیں اُس وقت بھی کرپشن اور مہنگائی وغیرہ ملک میں ہوتی ہی تھی! بات اصل میں دَور دَور کی ہے، جسے شاید ہم تسلیم کرنا نہیں چاہتے)۔ آئندہ دنوں میں ہو سکتا ہے بڑی بڑی کٹر اسلامی سیاسی جماعتوں کو عیسائیوں، ہندوؤں اور سکھوں کے لیے اپنی ممبرشپ کھولنی پڑے۔ (ایک ایسے ملک میں جہاں اللہ کا شکر ہے مسلمان ہی مسلمان ہیں! یہ ہے دَور دَور کا فرق)۔ ان سب حقیقتوں کو ہم اس وقت کن انکھیوں سے دیکھ تو رہے ہیں لیکن ان کو ہیڈ آن (head on) لینے سے کترا رہے ہیں۔ ہاں جب ایک ضرورت پر بیس سال گزر جائیں تو اس کے لیے ’دلائل‘ وغیرہ میں گنجائش ڈھونڈنے کی نوبت آئے گی اور کوئی دس سال ’اجتہاد‘ میں بھی لگ جائیں گے۔ تب دنیا اُس سے چالیس سال آگے جا چکی ہو گی۔ یوں مسلسل ہم دنیا کے پیچھے بھی جا رہے ہوں گے لیکن اس کو اپنے رخ پر لانے کی بجائے اُس سے ’’پیچھے‘‘ بھی رہیں گے؛ اِس بات کو اپنے ’مذہبی‘ ہونے کا تقاضا جاننے کے تحت! یعنی ایک چیز کی قیمت دینی ہے لیکن اس سے وصول کچھ نہیں کرنا! اور مسلسل اِسی ڈھب سے چلنا ہے! بحرانوں کو ہاتھ ڈالنا اِسے نہیں کہتے حضرات۔ اس کے لیے جو نظر اور جرأتمندی چاہیے اُس کا بندوبست کرنا ہی ہو گا۔ ورنہ دنیا کو پچاس سال کا مارجن دے کر اُس کے پیچھے چلتے جائیے اور یہ یقین رکھیے کہ کسی دن یہ آپ کے پیچھے آ جائے گی؛ اور دنیا بہرحال گول ہے!

پس اصل چیز تو یہ ہے کہ اسلامی سیکٹر بھی یہاں سیاست کو کوئی ’’مین سٹریم پارٹی‘‘ دے۔ یعنی اردگان ایسی ایک سیاسی پارٹی جو مذہبی پیکنگ میں ہرگز نہ ہو اور وہ یہاں کی عام عورتوں مردوں پر مشتمل ویسی ہی ایک پارٹی ہو جیسی یہاں کی مین سٹریم پارٹیاں ہیں؛ بس ذرا قدروں کی پابند رہتے ہوئے۔ یہ پارٹی سرے سے کسی دینی نعرے کے ساتھ سیاست میں نہ اترے۔ ہاں یہ دین کے لیے سیاست میں، جہاں تک اس کو حالات اجازت دیتے جائیں، راہ ہموار کرے۔ اور جہاں اس کو حالات اجازت نہ دیں وہاں یہ عام پارٹیوں ایسی ایک پارٹی؛ نہ کسی نعرے سے پیچھے ہٹنے کی نوبت اور نہ کومپرومائز کی کوئی بحث۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر والی بات بہرحال ختم ہونی چاہیے؛ یہ نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ آپ کے مین سٹریم پارٹیوں کی ٹکر کی ایک پارٹی ہونے میں فی الحقیقت مانع بھی ہے؛ کیونکہ مسئلہ ہماری اپنی خواہشوں کا نہیں سامنے مقابلہ جیتنے کا ہے؛ اور وہاں آپ کو معاشرے کے میکسی مم طبقوں کی جماعت ہی ہونا ہو گا، ایک صاف بےساختہ انداز میں نہ کہ کسی تکلف کے ساتھ۔ کیونکہ یہ تکلف آپ اِس مذہبی پیکنگ کے ساتھ کر بھی لیں، جیسا کہ اس وقت کرنے کی کوشش میں ہیں، لوگ آپ کے ساتھ نہیں کر سکیں گے؛ اور وہ فاصلے جو اِس وقت ہیں برقرار رہیں گے۔ اس لیے؛ آپ کو ’’سیاسی پارٹی‘‘ کا فارمیٹ ہی یکسر مختلف لانا ہو گا اور اس کے لیے چہرے ہی کٹر مذہبی سے ہٹ کر لانا ہوں گے۔ یہ ہے اسلامی سیکٹر کے ہاتھوں لانچ کروائی جانے والی ایک ’’مین سٹریم سیاسی پارٹی‘‘۔ جبکہ ’’اسلامی تحریک‘‘ معاشرے میں اپنی اصل ٹھیٹ شکل و صورت میں اور اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ برقرار رہے؛ اور وہ البتہ اپنی جدوجہد اور لائحۂ عمل کو ’’انتخابی سیاست‘‘ سے ایک وسیع تر تناظر میں لے۔ وہ دوسرے میدانوں کی طرح ’’سیاست‘‘ پر بھی بھرپور اثرانداز ہو، بغیر اس کے کہ ’’سیاست‘‘ کو اپنے پر ذرہ اثرانداز ہونے دے۔ (اس مبحث کے لیے، ہمارا مضمون ’’کلاسیکل ڈسکورس اور انقلابی ڈسکورس کا فرق‘‘ نظر سے گزار لینا کسی قدر مفید رہے گا)۔ یہ موخر الذکر وہ چیز ہے جو ترکی تجربے میں بھی ہمیں خاصی حد تک مفقود نظر آتی ہے۔ اس بنا پر؛ ترکی تجربہ کچھ وقتی کامیابیاں دینے کے باوجود، اپنے اسلامی لانگ رَن میں اگر خدانخواستہ ناکام رہا یا بہت زیادہ کامیابی نہ دکھا سکا، تو اس کی یہی وجہ ہو گی جو اِس موخر الذکر پوائنٹ میں بیان ہوئی؛ کیونکہ یہ کمی ہمیں بہرحال وہاں نظر آتی ہے؛ یعنی سیاست سے باہر ایک ٹھیٹ اسلامی تحریک کی موجودگی۔ ایسی ایک ٹھیٹ اسلامی پیراڈائم پر کھڑی دینی تحریک البتہ ایک ’’مین اسٹریم سیاسی پارٹی‘‘ میدان میں لانے سے بڑھ کر ہماری نظر میں ضروری ہے۔ اس کے بغیر سیاست میں ہاتھ پیر مارنے کی کوئی کوشش وقتی فائدہ مند ہو بھی جائے، وہ اسلامی سیکٹر کی کوئی لانگ ٹرم انوسٹمنٹ بہرحال نہ کہلا سکے گی اور ہو سکتا ہے آخر میں کوئی بڑی چیز ہاتھ نہ آئے۔ یہ پوائنٹ کسی قدر ہم نے اپنے پانچ برس پرانے ایک مضمون ’’معاشرتی فرنٹ کی تحریکوں خصوصاً جماعت اسلامی کی خدمت میں‘‘ میں واضح کر رکھا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والی ایک نہایت خوش آئند پیش رفت ’’ملی مسلم لیگ‘‘ بھی اگر ان گزارشات کو درخور اعتناء جانے، یا پہلے سے ان کے پاس کچھ اس قسم کا وِژن ہو، تو کیا بعید اللہ ایک بند راستہ پورے اسلامی سیکٹر پر کھول دے۔ دیانت، جذبۂ عمل اور قربانی کی استعداد جس قدر اس وقت آپ کے پاس ہے، بخدا کسی کے پاس نہیں ہے اور نہ دور دور تک اس کا امکان۔ ایک نظر میدان میں لے آئیے تو شاید کوئی آپ کے سامنے کھڑا تک نہ رہ سکے۔ ہم مار کھائیں گے، خدانخواستہ، تو اس جگہ سے۔


تاوقتیکہ اسلامی سیکٹر معاشرے کے ایک عام آدمی (جس کی اکثریت اِس وقت معروف معنوں میں ’غیر مذہبی‘ ہی ہے) کی پارٹی بن سکنے والی کوئی سیاسی پیش رفت میدان میں نہیں لاتا، اور جس کے بغیر ہم یہاں سیاست میں سرگرم ایمبیشیئس (ambitious) عنصر کو پیش کرنے کے لیے اپنے پاس کچھ نہیں رکھتے... میرے خیال میں ہم اپنے سب باصلاحیت لوگوں پر یہ پابندی نہیں لگا سکتے کہ وہ یہاں کی مین سٹریم پارٹیوں میں کھل کر اپنی صلاحیت کے جوہر نہ آزمائیں۔ یا تو آپ سیاست پر پابندی لگا دیں۔ ورنہ سیاست کے وہ کم از کم ڈائنامکس ایک شخص کو ڈھونڈنے دیں جہاں کامیابی کا کچھ نہ کچھ امکان اُسے بہرحال دِکھتا ہو؛ اُس صورت میں جب آپ اس کو وہ ڈائنامکس مہیا کرنے پر آمادہ نہیں۔ سیاست اور کاروبار وغیرہ اشیاء میں کچھ نہ کچھ آؤٹ کم (outcome) کی امید رکھنا، اس سرگرمی کے صحتمند طور پر جاری رہنے کے لیے عام آدمی کی ضرورت ہے۔ ناکامی کے قطعی یقین کے ساتھ ایسی کسی سرگرمی کو جاری رکھنا کچھ غیر طبعی رویّوں کو جنم دے سکتا ہے۔ بنا بریں، جب تک اسلامی سیکٹر ایسی کوئی مین سٹریم پیش رفت میدان میں نہیں لاتا (اور جوکہ ناممکنات میں نہیں اگر کچھ اہل علم و بااثر حضرات اس پر غور فرما لیں) یا جب تک وہ معاشرے کے پورے پیندے ہی کو اپنی ایمانی شرطوں پر پورا اترنے والا نہیں بنوا لیتا (جوکہ اقتدار کے بغیر ناممکنات میں ہے)... تب تک میں تو اس حق میں نہیں کہ ہم اپنے ایک دین پسند باصلاحیت آدمی کو اپنی سیاسی استعداد کا کوئی مؤثر مصرف ڈھونڈنے سے منع کرتے چلے جائیں۔ اور اگر منع کر بھی لیں تو آپ کی سنتا کون ہے؟ ہر دو صورت میں ایک بڑی تعداد ایسی رہے گی جو پوٹینشلی (potentially) یہاں کی مین سٹریم (غیر مذہبی) سیاسی پارٹیوں کی روحِ رواں بن سکتی ہے۔ اب بجائے اس کے کہ میں انہیں اس پر فرائضِ دین سے منحرف یا ’راندۂ درگاہ‘ وغیرہ ٹھہراؤں، میں ان سے کہوں گا کہ تم اپنی اِس پوزیشن میں بھی اپنے نبیؐ اور اپنی امت کا کچھ نہ کچھ محاذ ضرور سنبھال لو۔ اور یہ صرف اتنا کام ہو گا جو خوش گوار طور پر ان کے کرنے کا ہو نہ کہ وہ جو ان کو وہاں سے آؤٹ کروا دے؛ کیونکہ اُن کا وہاں سے آؤٹ ہونا اُن سے پہلے میرا نقصان ہے۔ إذا أردتَ أن تُطاع، فاسأل ما يُستَطاع. ایسے ایک وژن کے ساتھ ان کو دینی ایجنڈا کے کچھ اہداف دیے جا سکتے ہیں۔ اس کے لیے اب ایک خاص انداز کا دینی خطاب سامنے لانا ہو گا اور ایک خاص ضرورت کا مذہبی کلچر ڈویلپ کرنا ہو گا (اور ایسا ایک ’’یُسر‘‘ پر قائم مذہبی کلچر سامنے لانے کی ضرورت تو، یہاں کے تعلیمی اداروں اور سرکاری و نجی شعبوں میں موجود دین پسند طبقوں کو سامنے رکھتے ہوئے، پہلے سے موجود ہے)۔ کچھ رجالِ علم کو میرا خیال ہے ضرور اِس تہذیبی ہدف کو سر کرنے کے لیے میدان میں اترنا ہو گا۔ ورنہ ہو گا یہی کہ ایک اور میدان، بےپناہ امکانات رکھنے کے باوجود، ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا اور ہم پھر ’گورے‘ کو کوستے رہ جائیں گے۔ اور جب تک ہم اس کے جواز و ضرورت پر شرحِ صدر پائیں تب تک ہمارے حق میں یہ میدان اجڑ چکا اور کسی ایسے مشکل تر میدان میں بدل چکا ہو گا جس کے دلائل کے لیے ہمیں مزید کچھ وقت درکار ہو!

بنا بریں، میں تجویز کرتا ہوں کہ ’’اسلامی سیکٹر‘‘ کو اُن تمام عناصر تک باقاعدہ توسیع شدہ (extended) مانا جائے جو اپنے دین، اپنے نبیؐ، اپنی امت اور اپنی تہذیب سے پیار اور اپنے نبی کے دشمنوں سے بیر رکھتے ہیں البتہ اپنی سیاسی سرگرمی کے لیے یہاں کی ایسی پارٹیوں کا حصہ ہیں جو اپنے علی الاعلان نظریات میں مذہبی نہیں تو مذہب دشمن بھی نہیں۔ (غیر اعلانیہ ایجنڈا کے طور پر گو ایک پارٹی کچھ بھی ہو سکتی ہے اور اس کا لیڈر ہر خریدار کے ہاتھ اپنا مول لگوا سکتا ہے؛ اور وہاں البتہ ہمیں اپنے ان دیندار عناصر کے بل پر اثرانداز ہونا اور کم از کم بھی ایک توازن لانا ہے، یا کچھ نہیں تو ایک بڑی پارٹی کا کسی اسلام دشمن ایجنڈا کے ہاتھوں ہائی جیک ہونے کو مشکل بنانا ہے)۔ اپنے دین، نبیؐ اور امت سے وفادار ان طبقوں کو، جو یہاں سرگرم ہوں، اسلامی سیکٹر کا ایک باضابطہ سیگمنٹ (segment) مانا جائے اور دین کے باقاعدہ سپاہیوں میں گنا جائے۔ جس طرح یہاں کے غیراسلامی تعلیمی اداروں میں ہمارے لوگوں کا گھسنا ضروری ہے؛ کہ جہاں آپ کو بہت کچھ ’غیر اسلامی‘ برداشت بھی کرنا پڑتا ہے... اور جس طرح یہاں کے سرکاری و نجی محکموں میں ہمارے باصلاحیت دینداروں کا جانا ضروری ہے؛ اور وہاں پر کیسےکیسے بےدین افسروں کو اپنے اوپر برداشت نہیں کرنا پڑتا اور کہیں تو دیندار اور ایماندار لوگوں کی ترقی ہی ساری ساری زندگی رکی رہتی ہے مگر اس کے باوجود ہم وہاں کی سب غیر اسلامی اشیاء پر صبر ہی کرتے ہیں (اس صبر کے لیے مسلمان کی نیت محض ’نوکری‘ نہ ہونی چاہیے بلکہ اسلامی سیکٹر کو ان شعبوں میں وجود دلانا اور ممکنہ طور پر اوپر پہنچانا بھی آدمی کی نیت ہو تاکہ اس کا ثواب بڑھے)... عین اُسی طرح یہاں کی اِن غیر اسلامی سیاسی پارٹیوں میں بھی نبیؐ کے وفاداروں کا پایا جانا کوئی عیب نہیں۔ معاشرے پر اثرانداز آپ یہاں سے بھی ہوتے ہیں۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ہر نئے شعبے کو شرعی ’این او سی‘ دینے میں ہمیں کچھ عشرے لگ جاتے ہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ جہاں بھی جائیں صرف ’نوکری‘ نہ کریں بلکہ اپنی طاقت اور استطاعت کے اندر اندر، اور ایک لمبا چلنے کی پالیسی پر رہتے ہوئے، اپنے نبیؐ کی نصرت کریں؛ جس کے لیے پورا معاشرہ آج میدانِ جنگ ہے خواہ کہیں چلے جائیں آپ دانشمندی کا پابند رہتے ہوئے تہذیب کا یہ معرکہ لڑ سکتے ہیں۔ اور اگر نہ لڑنا چاہیں تو منبر و محراب پر بیٹھے ہوئے اِس جنگ سے غافل ہو سکتے ہیں۔ ایک بڑی پارٹی کے سٹیرنگ پر اثرانداز ہونا، خواہ وہ ایک فیصد کیوں نہ ہو، پورے ملک کی تقدیر پر اثرانداز ہونا ہے۔ اس میدان کو خالی کیونکر چھوڑا جا سکتا ہے، تا وقتیکہ ایسی کسی بڑی پارٹی کو سرے سے پچھاڑ لینے کی کوئی صورت سامنے نہ آ جائے۔

ایسے خدا پرستوں کو جو ان پارٹیوں کو اپنا میدانِ عمل بنائیں، یہ ادراک رکھنا ہے کہ چونکہ اسلامی ایجنڈا کو کچھ مخصوص سانچوں سے نکل کر نصرت دینے کی موثر کوششیں پچھلے ایک عرصے سے نہیں ہو سکیں، لہٰذا بہت کچھ معاملہ یہاں تلپٹ ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارا لبرل حریف ہو سکتا ہے اپنے ایجنڈا کے لیے یہاں بہت کچھ جگہ بنا چکا ہو۔ لیکن وہ ایک بدیسی پودا ہے۔ یہاں کی زمین جس قدر آپ کے لیے سازگار ہو سکتی ہے اُتنی اُس کے لیے نہیں۔ اُس کی سٹرینتھ (strength) کسی اور چیز میں ہے اور آپ کی کسی اور چیز میں۔ کرگس کا جہاں اور شاہیں کا جہاں اور۔ تاہم ایک میدان خالی رہنے کے باعث، بہت امکان یہ ہے کہ ان پارٹیوں کی اعلیٰ قیادتیں بھی فی الحال انہی عوامل کو زیادہ اہمیت دیں جو آپ کے حریف کے مہمیز دیے ہوئے ہوں۔ اس کے شواہد دیکھنا ہوں تو حالیہ ختم نبوت ایشو پر دونوں پارٹیوں کا موقع پرست رویہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ ان قیادتوں کو اپنے لوگوں میں پائے جانے والے مذہبی جذبات کو مطمئن تو بہرحال کرنا ہے، اور اس پر تو لبرل بھی انہیں چھوٹ دینے کے لیے آمادہ ہے، اور اس پر تو خود مکتب استشراق (orientalist’s desk) کو ابھی اپنا ڈھیروں ’تیزاب‘ کھپانا ہےجوکہ اُس کا ایک لانگ ٹرم پراجیکٹ ہے، اور جوکہ زیادہ تر تعلیم اور ابلاغ کے شعبوں سے متعلق ہے... البتہ اس وقت کے لیے آپ اس ملک میں جو کوئی گزارے لائق بھی اسلامی ایجنڈا متصور کر سکتے ہیں، وہ بھی ان قیادتوں کی کسی ادنیٰ ترین ترجیح میں نہیں آتا۔ آپ کے منہ کو اس کا کچھ لحاظ احترام بھی ہو تو فی الحال یہ اُن کے لیے سوتیلوں کے زمرے میں ہے۔ مگر اس پر دل نہیں چھوڑنا۔ ہماری طاقت جن چیزوں میں ہے، صبر اور محنت سے ان پر کام کیا جائے تو ہم اس سے کچھ بہتر خریداری پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔ اس پر ایک عرصہ تک کام ہی ہونا چاہیے۔ کیا بعید اسلامی سیکٹر کو جس غیرمذہبی پیکنگ کی مین سٹریم قیادتیں درکار ہیں وہ بھی اسے کل یہیں سے میسر آ جائیں۔ سماجی صلاحیتیں (social skills) کسی فیکٹری یا مدرسے میں تیار نہیں ہوتیں، یہ میدانِ عمل ہی میں آدمی کو تراش تراش کر بنائی جاتی ہیں۔ اور کچھ بھی نہ ہو، میں تو اس کو بھی اسلامی سیکٹر کی ایک انوسٹمنٹ کہوں گا۔ بیک بینچر (back-bencher) ہونے پر سمجھوتہ کرنا اور اس کو دینداروں کی قسمت جان کر ’صبر شکر‘ کیے جانا بہرحال ہمارے دین نے نہیں سکھایا؛ جبکہ شرق تا غرب یہ امت ہماری ہے؛ کسی کی جاگیر نہیں۔ کیا قیامت تک چند مذہبی سیٹوں کے ساتھ ہم یہاں کے کسی ’میاں صاحب‘ اور کسی ’خان صاحب‘ کا منہ دیکھا كریں؟ اللهم إني أعوذ بك أن اَذِلَّ أو اُذّلَّ.

يا بني اذهبوا فتحسسوا من يوسف وأخيه ولا تيئسوا من روح الله!

Comments

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین ایقاظ (ماہنامہ، ویب سائٹ) کے ایڈیٹر، اور 20 سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ دین سے وابستہ تحریک اور معاشرہ، اصولِ سنت، تجدید اور تجدد کے مابین خط فاصل کا بیان ان کا دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.