کرب و بلا - نورین تبسم

کربلا ایک پیغام ہے اس کو ڈی کوڈ کرو اور جان لو۔
کرب وبلا ایک واقعہ نہیں ایک تسلسل ہے، ایک قسط نہیں ایک سیریل ہے جس میں کردار بدلتے جاتے ہیں، کہانی وہی چل رہی ہے۔

یاد کرنا اچھا ہے، اگر بھلانے کے ڈر سے نہ کیا جائے۔
ہاتھ ملنا اچھا ہے، اگر پیچھے رہ جانے پر کیا جائے، ورنہ آگے بڑھنے والوں کی منزل کھوٹی نہیں کرنی۔
ماتم جینز میں ہوتا ہے، ماحول اور اسباب بعد میں پیدا ہوتے ہیں۔
ماتم کچھ لوگوں کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے اورگریہ فطرت میں۔

ماتم بہترین ہے، اگر اپنی ذات کے کرب و بلا کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔
ماتم اپنی کمزوی پر ہو تو بہتر ہے۔
رونا گڑگڑانا رحمت ِخداوندی کے قرب کا ذریعہ ہے۔

آنسو اگر اندر کی طرف بہیں تو اندر کی صفائی کرتے ہیں اور باہر آ جائیں تو ہر شے دھندلا دیتے ہیں۔
ہم سارا سال روتے ہیں، کبھی اپنے اندر تو کبھی سب کے سامنے۔
ہر شخص شناخت چاہتا ہے، چاہے وہ عزاداری سے ہو یا شکر گزاری سے۔

ہم جن سے محبت کرتے ہیں، اُن کے قدموں کے نشان تو چومتے ہیں لیکن ان پر چلنے سے ڈرتے ہیں۔
اپنے پیاروں کے جانے کا گریہ تو کرتے ہیں لیکن اُن کی زندگی کی خوشی نہیں مناتے۔
اُن کی کامیابی کا ذکر نہیں کرتے۔ اُس راستے پر چل کر ابدی بقا کے طالب نہیں ہوتے۔

کربلا کیا ہے؟
کرب و بلا
ہم اس لفظ سے آگے نہیں بڑھتے، یہ نہیں سوچتے کہ جن پر گزرا انہیں کیا ملا؟
جسم کی حرمت بجا ہے، لیکن اگر روح بے قرار ہو جائے تو صدیوں بھٹکتی رہتی ہے۔

کربلا اگر موت ہے، خون ہے رشتوں کا، اُن کی تقدیس کا، عظمتِ انسانی کا
تو یہ حیات بھی ہے انسانی عزم و حوصلے کی، راضی با رضا رہنے کی، صبر کے پھل کی، رب العالمین کی عطا کی۔

محرم قیامت کا نام ہے اور قیامت نے ابھی آنا ہے۔
ہم مرنے سے پہلے مرنا نہیں چاہتے۔
محرم گزر جائے تو ڈھارس بندھ جاتی ہے کہ قیامت کا خطرہ ٹل گیا۔
ہر انسان اپنے اپنے کرب و بلا میں ہے
دیکھنا یہ ہے کہ وہ حسین بن کر نکلتا ہے یا یزید بن کر۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.