نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے - امجد طفیل بھٹی

ہم پاکستانی قوم بھی عجیب قوم ہیں کہ چاہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ دوسروں پر کڑی نظر رکھتے ہیں اور اپنی خبر نہیں ہوتی۔ دوسروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور اپنے اوپر تنقید کا ایک لفظ بھی برداشت نہیں کر پاتے۔ گھروں سے نکلتے ہیں تو ہر دوسرے شخص کے ساتھ سخت لہجہ اور بدزبانی سے پیش آتے ہیں اور دوسری طرف سب کو صلہ رحمی کا لیکچر دے رہے ہوتے ہیں۔ گھر والوں کے ساتھ بدسلوکی اور باہر والوں کو حسن سلوک کی تبلیغ ہمارا وتیرہ بن گیا ہے۔ اپنے گھر والوں پر بے جا پابندیاں اور باہر آزاد خیالی اور ماڈرنائزیشن کا سبق دیتے ہیں۔ خود سوشل میڈیا پر نت نئے دوست بنانا اور دوسروں کو سوشل میڈیا سے دوری کی تلقین کرتے ہیں۔

ہم لوگ ایک طرف تو مغربی کلچر کو اپنانا چاہتے ہیں اور دل میں یہی تمنّا لے کر نکلتے ہیں کہ آگے ہر چوک چوراہے پر فیشن زدہ اور ماڈرن لباس میں ملبوس دوشیزائیں نظر آئیں جبکہ اپنے گھر موجود خواتین کو سات پردوں میں بند رکھنے کو مشرقی کلچر کہہ کر جائز قرار دیتے ہیں۔ یہاں یہ مطلب ہر گز نہ نکالا جائے کہ سب کو بے شتر بے مہار چھوڑ دینا چاہیے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر ہم مشرقی تہذیب کو اپنانا چاہتے ہیں تو پھر مکمل طور پر اپنائیں کیونکہ مغربی کلچر کو ایک خاص حد تک اپنایا جا سکتا ہے، وہ اس لیے کہ ہمارا مذہب اسلام ہمیں حدود میں رہنے کا درس دیتا ہے جو کہ بالکل ٹھیک اور جائز ہیں اور ان حدود سے ہم انکار نہیں کر سکتے۔

یہ کالم لکھنے کا مقصد ہر گز بھی مذہب کو زیر بحث لانا نہیں ہے بلکہ مذہب سے ہٹ کر اپنی تہذیب، کلچر اور معاشرتی رویّوں کو موضوع بحث بنانا مقصود ہے۔ ہماری قوم نے مغربی روایات کو اپنے اوپر کچھ اس طرح سے حاوی کیا ہے کہ ہر دوسرا بندہ یورپ اور امریکہ کی خواہش دل میں لیے پھرتا ہے اور تاحیات امیگریشن کی کوششوں میں مصروف رہتا ہے، پھر بھی ہر فورم پر یہ گِلہ کرتا نظر آتا کہ نہ جانے بیرونی سرمایہ کاری پاکستان میں کیوں نہیں آ رہی؟ تمام کے تمام سیاستدان باہر کاروبار اور پیسہ رکھنے میں عافیت سمجھتے ہیں لیکن دوسری طرف بیرونی سرمایہ کاروں کو یہ ثابت کرنے میں لگے ہوتے ہیں کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے کتنا " محفوظ " ملک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عطار کے لونڈے - حبیب الرحمن

یہ تمام مثالیں بطور قوم ہمارے دُہرے معیار کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اختلاف رائے رکھنا ہر شخص کا بنیادی حق ہے لیکن اس کو اپنا حق ہی سمجھ لینا قطعی غلط ہے۔

کچھ لوگ بلکہ بیشتر لوگ دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانا اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔ اگر کسی پاکستانی اداکارہ نے غیر ملکی فلموں میں کام کر لیا تو پاکستان میں اس کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ کئی دفعہ تو جان سے مار دینے کی دھمکیوں اور فتووں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ دوسری طرف ہمارے اپنے کمپیوٹر اور موبائل فون غیر ملکی گانوں، فلموں اور تصاویر سے بھرے پڑے ہیں۔ اس وقت ہم ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں کہ ہم نہ پیچھے کی طرف جا سکتے ہیں اور نہ ہی آگے بڑھ سکتے ہیں، ایک طرف ترقی کی باتیں کرتے ہیں تو دوسری طرف اپنا کلچر بچانے کی بات کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم صرف دنیا کے ہو کر رہ جائیں اور مذہب کو پس پشت ڈال دیں یا پھر صرف مذہب کو اپنائیں اور دنیا کے کاموں سے ہاتھ کھینچ لیں کیونکہ مذہب اسلام تو دین اور دنیا میں برابری کا درس دیتا ہے یعنی دونوں کے درمیان ایک خاص تناسب رکھنا چاہیے۔

لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا کیونکہ ہم لوگ اپنی زندگیوں کو جدید خطوط پر استوار بھی کرنا چاہتے ہیں مگر مشرقی روایات کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں جو کہ یقیناً اچھی بات ہے مگر دونوں میں بیلنس نہیں رکھ پارہے، کبھی ایک جانب جھک جاتے ہیں تو کبھی دوسری طرف جھک جاتے ہیں۔

اس میں جہاں قصور معاشرے کا ہے تو وہیں پر حکومت اور ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ آئین پاکستان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرے اور کروائے۔ ہمارے عوام کی بدقسمتی ہے کہ ہمیں ایسے ایسے حکمران نصیب ہوئے کہ کسی نے ملک میں صرف اور صرف اسلام کی بات کی تو کسی نے صرف اور صرف لبرل ازم کی بات کی ہے، جبکہ کچھ حکمران صرف اور صرف اپنے اقتدار کو بچانے کے چکروں میں پڑے رہے اور نتیجتاً عوام اور معاشرہ اپنی مرضی سے چلتا رہا اور چل رہا ہے یعنی کہ ہر اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزار رہا ہے جس وجہ سے مختلف مسائل اور جرائم جنم لے رہے ہیں جن میں قابل ذکر جرم 'غیرت کے نام پر قتل' ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرتی مسائل کی ویسے تو بیسیوں وجوہات ہیں مگر سب سے اہم معاشی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے معاشرہ تقسیم کا شکار ہے کیونکہ جب غربت زیادہ ہو جاتی ہے تو غریب آدمی نہ تو دنیا کے برابر چل سکتا ہے اور نہ ہی مذہب کی پرواہ کر سکتا ہے، وہ اس لیے کہ دن رات تو اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی فکر میں رہتا ہے جس وجہ سے نہ نماز کا ہوش ہوتا ہے اور نہ ہی باقی فرائض پر پورا اترتا ہے۔ یعنی

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.