سوال کی حرمت کا سوال ہے - رضوان اسد خان

پہلا منظر:
چوزے سے کھیلتا سات سال کا بچہ اپنی لبرل ماں سے:
"ماما یہ چوزہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟"
ماں: "بیٹا مرغا مرغی کی ہیلپ کرتا ہے، اور وہ انڈہ دیتی ہے جس میں سے چوزہ نکلتا ہے."
بچہ: "ماما، کیا میں بھی انڈے سے نکلا تھا؟"
ماں (ہنس کے): "نہیں بیٹا. ماما جس کے ساتھ رہتی ہیں، وہ ماما کی ہیلپ کرتے ہیں اور ماما کی بیلی میں بے بی بن جاتا ہے."
بچہ (معصومیت سے): "لیکن ماما، بابا تو انگلینڈ ہوتے ہیں اور آپ تو بہت سے انکلز کے ساتھ رہتی ہیں، تو آپ کی ہیلپ کون سے انکل نے کی تھی؟"
"چٹاخ" (تھپڑ کی آواز)
ماں (غصے سے): "بدتمیز! ہر سوال پوچھنے والا نہیں ہوتا."
...............
دوسرا منظر:
ایک لبرل کا نکاح ہو رہا ہے:
لبرل (مولوی صاحب سے): "مولانا، یہ شادی کرنے پر دلہن کو پیسے کیوں دیتے ہیں؟"
مولوی صاحب: "بیٹا یہ اللہ کا حکم ہے. اسے حق مہر کہتے ہیں کیونکہ یہ دلہن کا حق ہوتا ہے."
دولہا: "لیکن ایسے تو لگتا ہے جیسے ہم اسے خرید رہے ہیں."
مولوی صاحب: "بیٹا یہ قیمت نہیں، تحفہ ہے."
دولہا (ساتھ بیٹھے باپ سے): "یہ نکاح، مہر، گواہ وغیرہ کیوں ضروری ہیں پاپا؟ لڑکا لڑکی کو ویسے ہی آزادی ہونی چاہیے کہ جس کے ساتھ چاہیں رہیں، ویسٹ کی طرح. پتہ نہیں ہم ترقی کب کریں گے."
باپ (غصے سے): "بکواس بند کر. ہم نے بہو لانی ہے، رکھیل نہیں. جو منہ میں آتا ہے بک دیتا ہے.
ہر سوال پوچھنے والا نہیں ہوتا...!!!"
.........
تیسرا منظر:
لبرل استاد کلاس میں پڑھا رہا ہے:
استاد: "مسلمانوں نے خلافت کے لیے ایک دوسرے کا بڑا خون بہایا. اس لیے آج کل حکومت کا مہذب طریقہ جمہوریت ہے جس سے پرامن انتقال اقتدار ممکن ہے."
ایک بچہ: "تو سر! کیا جمہوریت کے لیے خون نہیں بہانا پڑتا؟"
استاد: "بالکل نہیں."
بچہ: "لیکن سر میں نے پڑھا ہے کہ امریکہ نے ویتنام، افغانستان اور عراق میں جمہوریت لانے کے لیے لاکھوں لوگوں پر بم برسا کر بہت خون بہایا ہے."
استاد: "وہ تو دہشت گردوں کو مارنے آئے تھے."
بچہ: "سر! کیا عیسائی مسلمانوں سے اچھے ہوتے ہیں؟"
استاد: "بالکل. مولویوں سے تو بہت اچھے ہوتے ہیں."
بچہ: "پھر آپ عیسائی کیوں نہیں بن جاتے؟"
استاد: "چپ کر بدتمیز. ہر سوال پوچھنے والا نہیں ہوتا.!"
...........
چوتھا منظر:
ایک کلین شیو، لمبے بالوں والا باڈی بلڈر ٹائپ لبرل لڑکا، کان میں بالیاں، گلے میں مالا، کلائیوں میں کئی کئی بینڈز اور چہرے پر ہلکا میک اپ کئیے ہوئے گنگنا رہا ہے.
اس کی ماں: "بیٹا میں چاہتی ہوں کہ تو ٹینا سے شادی کر لے. بڑی پیاری بچی ہے."
لڑکا: "لیکن ماما، میں جمی کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں. مجھے سب سے زیادہ محبت جمی سے ہے. میں اسے چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا."
ماں: "تو شادی کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ بندہ اپنے دوستوں کو چھوڑ دے."
لڑکا: "ماما آپ سمجھتی نہیں ہیں. وہ... وہ... جیسے امریکا میں ہوتا ہے، ویسے ہی کیا میں جمی کے ساتھ شادی نہیں کر سکتا؟"
ماں(غصے سے): "تیرا دماغ تو ٹھکانے ہے؟ پتہ نہیں کیا اول فول بکتا رہتا ہے. نگوڑ مارے کو اتنا بھی نہیں پتہ کہ اس طرح کا منحوس سوال پوچھنے والا نہیں ہوتا. ہونہہ...!!!"

یہ بھی پڑھیں:   لبرل ازم، میڈیکل سائنس اور ٹرانز جینڈرز - ڈاکٹر رضوان اسد خان

آخر میں ایک بیک گراؤنڈ آواز میں پیغام: "جی کیا سمجھے؟ ہر سوال پوچھنے والا نہیں ہوتا. قادیانی کے کفر پر بھی معصومیت سے پوچھا گیا مکارانہ سوال پوچھنے والا نہیں ہوتا.!"

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.