نااہل افراد کو مسترد کریں! عابد محمود عزام

لاہور میں کل اپنے آفس بوائے سے پوچھا ووٹ کس کو دیا ہے؟ کہنے لگا ”فلاں“ جماعت کو۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ برسوں سے ہم اسے ہی ووٹ دیتے آرہے ہیں۔ میں نے کہا یہ تو کوئی وجہ نہ ہوئی۔ اگر کوئی کسی جماعت کے نظریے، سوچ، پالیسی، ملک و قوم اور عوام کی خدمت کے حوالے سے مطمئن ہے تو ضرور اسے ووٹ دینا چاہیے۔ میں یہ بالکل نہیں کہتا کہ ووٹ فلاں جماعت کو دیں، فلاں کو نہ دیں، جس کو چاہیں دیں، لیکن کسی معقول وجہ سے اور کم ازم کم یہ کوئی معقول وجہ نہیں کہ برسوں سے اسے ہی ووٹ دیتے آرہے ہیں، اس لیے اب بھی انہیں کو دیں گے۔ ملک میں ایک بڑی تعداد اسی طرح ووٹ دیتی آرہی ہے کہ برسوں سے فلاں جماعت کو دیتے ہیں، اب بھی اسے ہی دیں گے۔

ملک کی تمام سیاسی جماعتیں انیس بیس کے فرق سے تقریباً ایک سی ہی ہیں۔ سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ عوام ان تمام جماعتوں کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ سب عوام کے تعاون کی محتاج ہوتی ہیں اور عوام بھی مختلف وجوہ سے ان میں سے کسی نہ کسی جماعت سے محبت کرتے ہیں۔ یہ عوام کا حق ہے، جسے چاہیں پسند کریں اور اسے ووٹ دیں، لیکن عوام کو اتنی اخلاقی جرات پیدا کرنی چاہیے کہ جب جماعت یا جماعت کا کوئی رہنما یا نامزد امیدوار کچھ ایسا کرے جس کو آپ ٹھیک نہیں سمجھتے تو ضرور اس پر تنقید کرنی چاہیے۔ ضرور عقل و شعور کا استعمال کرنا چاہیے۔ ان کے غلط کو ٹھیک نہیں کہنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر تمام جماعتوں کے ایسے کارکن ایک بڑی تعداد میں ہیں، جو اپنی جماعت کی اندھی تقلید کرتے ہیں اور اپنی جماعت کے کسی غلط فعل سمجھتے ہوئے بھی اس پر تنقید نہیں کرتے، خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا پھر اس غلط کام کا بھی دفاع کرتے ہیں۔ جماعتیں تو چاہتی ہیں کہ ہمیں ایسے کارکن ملیں جو ہماری خامیوں پر بھی انگلی نہ اٹھائیں اور ہمیشہ آنکھیں بند کرکے واہ واہ کرتے رہیں۔ ایسے کارکن ہی حقیقت میں جماعت کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اس طرح کرنے سے جماعت کا اگرچہ فائدہ ہوتا ہے، لیکن یہ رویہ ملک و قوم کے لیے فائدے میں نہیں ہے اور خود عوام کے اپنے لیے بھی نقصان دہ ہے، کیونکہ جب عوام ہمیشہ آنکھیں بند کرکے انہیں کو ووٹ دیتے ہیں تو انہیں یقین ہوجاتا ہے کہ ہم عوام کے لیے کچھ کریں یا نہ کریں، ووٹ تو ہمیں ہی ملے گا اور اس طرح وہ منتخب ہونے کے بعد اگلے الیکشن میں ہی عوام سے ملتے ہیں۔

ہمارے علاقے مانانوالہ میں ایک جماعت کا ایم این اے تقریبا پندرہ بیس سال سے منتخب ہوتا آرہا ہے۔ لوگ جماعتی بنیاد پر اسے ووٹ دیتے ہیں، لیکن میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان پندرہ بیس سال میں اس نے ہمارے علاقے کا ایک بھی چکر نہیں لگایا۔ عوام کے کچھ بھی بنیادی مسائل حل نہیں کیے اور جب عوام کے لیے کچھ کیا نہیں تو عوام کے لیے ملنے والا فنڈ یقینا جیب میں ہی ڈالا ہوگا۔یہ صرف ایک ایم این اے کا حال نہیں ہے، ملک میں ایسے کئی علاقے ہیں جہاں کسی ایک ہی جماعت کا امیدوار برسوں سے منتخب ہوتا آرہا ہے، لیکن منتخب ہونے کے بعد کبھی علاقے کا چکر تک نہیں لگاتا، کام کروانا تو بہت دور کی بات ہے اور عوام کے نام پر فنڈ لے کر اپنی جیبوں میں بھرتے ہیں۔ میں نے سندھ کے کئی علاقے دیکھے ہیں، جو انتہائی پسماندہ ہیں۔ عوام کو بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں، لیکن وہاں بھی برسوں سے ایک ہی جماعت کا امیدوار منتخب ہوتے آرہے ہیں۔کے پی کے اور بلوچستان میں بھی یقینا ایسے کئی جماعتوں کے منتخب نمائندے مل جائیں گے۔ ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ایسے عوام خود ہی ہیں جو نااہل افراد کو منتخب کرتے ہیں، جو چاہے کسی بھی جماعت سے ہوں۔ اپنی جماعت کی محبت میں اپنے علاقے کے جرائم پیشہ افراد تک کو بھی کامیاب کروا دیتے ہیں۔ جماعتوں کو مضبوط ضرور کریں، لیکن اگر جماعت کسی غلط شخص کا انتخاب کرتی ہے تو اس کا بائیکاٹ کریں، تاکہ جماعت آئندہ نااہل لوگوں کو آگے نہ لائے اور اگر جماعت ہی غلط راستے پر چل پڑے تو اسے بھی مسترد کریں۔ ملک و قوم کے مفادات افراد اور جماعتوں کے مفادات پر مقدم رکھنے چاہیے۔ اگر تمام جماعتوں کے ہمدرد اور ملک بھر کے عوام یہی پالیسی اپنالیں تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ملک میں بہتری آتے دیر نہیں لگے گی، لیکن افسوس ہم لوگ دوسری جماعت کی مخالفت میں اپنی خامیاں بھی دور کرنا بھول جاتے ہیں، بلکہ اپنی خامیوں کی نشاندہی کرنے تک کو برا سمجھتے ہیں۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.