ذاتی معاملہ - ڈاکٹر عزیزہ انجم

دنیا بھی عجیب ہے بلکہ عجائبات سے بھری پڑی ہے۔ اٹلی کا پیسا ٹاور ہی دیکھ لیں، دنیا اسے عجائبات میں شمار کرتی ہے کیونکہ وہ ٹیڑھا ہے، ترچھا ہے اور اس کے باوجود اپنی جگہ قائم ہے۔ اگر سیدھا ہوتا تو شاید عجائبات میں شامل نہ ہوتا۔ ویسے تو ہندوستان کا تاج محل اور قطب مینار بھی سیدھے کھڑے ہیں لیکن انہیں اپنی حسنِ تعمیر کی ندرت اور پس منظر کی وجہ سے عجائبات کہا جاتا ہے۔ بس اسی طرح اس دنیا میں انسانوں کے رویے بھی عجائب ہیں، behavior اور reactions کے عجائب، human feeling اور sensitivity کے عجائب۔ جس لطیفے پر میں نہیں ہنسا، وہ مزاح نہیں اور جس دکھ پر میرے آنسو نہیں نکلے وہ غم نہیں۔ ہر معاملے میں معیار میں خود ہوں۔

ایک عورت جیسے کپڑے پہنے،چاہے ادھورے ہوں، سرِ راہ شراب پیے یا سگریٹ، ہندو مرد کے ساتھ وقت گزارے یا مسلمان یا عیسائی کے ساتھ، آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ آپ اعتراض کرنے والے ہوتے کون ہیں؟

غیرت مند بھائی کا طعنہ دینے والے اور سگریٹ اور شیشہ پینے پر پیٹ ٹھوکنے والے کہتے ہیں یہ عورت کا ذاتی معاملہ ہے اور مرد کے سگریٹ پینے پر اعتراض نہیں تو عورت پی لے تو کیا برائی ہے؟

ویسے غیرت مند بھائی جو بھی ہیں، اور جہاں بھی ہیں، ان کی خدمت میں عرض ہے آپ نے لکس کے قدآدم بل بورڈز نہیں دیکھے۔ہم ٹی وی کا ایوارڈ شو HSY اور پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونے والی cat walks نہیں دیکھیں اور اگر دیکھ کر خاموش رہے ہیں تو اس تصویر پر اتنا شور کیوں؟

لیکن عجیب بات یہ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایک عورت پورے کپڑے پہن کر خود کو ڈھانپ لے، سر کے بال چھپالے تو یہ اس کا ذاتی معاملہ نہیں۔ ایک لڑکا ہلّا گلا چھوڑ دے، سنجیدہ اطوار اپنا لے اور عین عالمِ جوانی میں بجائے کنسرٹ کے مسجد جانے لگے، تو یہ اس کا ذاتی معاملہ نہیں۔ یہی نہیں بلکہ ایسا معاملہ ہےکہ ریاست اس میں دخل اندازی کرے۔ اس معاملے میں ریاست ایکشن لے گی، تھانے میں رپورٹ لکھی جائے گی، پولیس تفتیش کرےگی پوچھا جائے گا کہ خیریت؟ اچھی بھلی زندگی گزارتے گزارتے یہ "ابنارمل" رویہ کیوں اختیار کر لیا؟" اس وقت سنجیدہ نیوٹرل اور صحافت کی مسند پر بیٹھے ہوئے بھی ذاتی معاملے کا بیانیہ بدل دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   زیادتی اور ہمارا بےحس معاشرہ - شیبا خان

اب سوال یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی معاشرے کی، سوسائٹی کی، تہذیب کی کچھ بنیادی اخلاقیات بھی ہوتی ہیں یا نہیں؟ تہذیب مذہب پر بنیاد رکھتی ہے یا نہیں؟ ہر کلچر کے کچھ معاشرتی آداب ہوتے ہیں یا نہیں؟ درحقیقت انسانوں کی دنیا، انسانی زندگی اخلاقی لکیروں کے بغیر چل ہی نہیں سکتی۔ کہیں نہ کہیں آکر آپ رکتے ہیں، ٹھہرتے ہیں، غلط اور صحیح کا معیار قائم کرتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ سوسائٹی کی بقاء کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو جن معاشروں میں کروڑوں روپے خرچ کرکے فلموں میں بدکاری اور بےحیائی دکھائی جاتی ہے، وہاں 'ریپ' جرم نہ ہوتا، اس پر سزا نہ ہوتی اور ہزاروں لوگ اس کے خلاف مظاہرے نہ کرتے۔ اس لیے کہ اخلاقی حدود کو پامال کرنے اور اخلاقی لکیروں سے باہر آنے سے معاشرے کو نقصان پہنچتا ہے اور اس نقصان سے بچنے کے لیے ہی تہذیب اخلاقی دائرے متعین کرتی ہے اور، نام نہاد ہی سہی، سنسر بورڈ مغرب میں بھی ہوتا ہے، مشرق میں بھی۔

رہی بات ان معاشروں کی یا ان تہذیبوں کی جو خدا کا تصور رکھتی ہیں اور جن کے پاس تھوڑی یا زیادہ کتاب کی روشنی موجود ہے، وہاں اخلاق کی تعریف اور اس کی حدود فرد کا ذاتی معاملہ نہیں۔ ہندو مت، عیسائیت، یہودیت، سب مذاہب میں modesty یا عفت و پاکدامنی اعلیٰ انسانی صفت ہے اور حیا کی پاسداری مرد اور عورت دونوں کے لیے باعثِ افتخار۔

جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اسلام میں فرد کا کوئی معاملہ اس کا ذاتی معاملہ نہیں۔ انتہائی پرسنل اور نجی معاملات میں بھی اسلام فرد کا رشتہ اس کے ربّ سے جوڑتا ہے۔ ایک مسلمان اپنی خلوت اور جلوت دونوں میں زندگی کے ہر گوشے اور ہر شعبے میں اللہ کی بنائی ہوئی حدود کا پابند ہے اور آخرت میں اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل کے لیے اللہ کے آگے جوابدہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   کمائی ہوئی نیکی کیا ہے؟ - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

آپ برطانیہ جاتے ہیں، وہاں کے قوانین پر عمل کرتے ہیں امریکہ جانے سے پہلے immigration laws پڑھتے ہیں، جہاز پر بیٹھنے سے پہلے پرس میں سے وہ چیزیں نکال دیتے ہیں جو ہینڈ کیری میں لےجانا منع ہے، پاکستان میں بائیں سمت گاڑی چلاتے ہیں یورپ میں دائیں ہاتھ۔ اس لیے کہ آپ پر وہاں کی حدود و قوانین کی پابندی لازم ہے اور آپ بغیر سوال اٹھائے اس پابندی پر عمل کرتے ہیں اور میرا ذاتی معاملہ کہہ کر قانون شکنی نہیں کرتے، سوچتے بھی نہیں۔ لیکن مسلمان ہوتے ہوئے آپ عمل کرنا تو درکنار آپ اسلام کے اصولوں کو خاطر میں ہی نہیں لاتے۔ اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہیں اور کندھے اچکا کر اپنا ذاتی معاملہ کہتے ہیں ۔

جہاں تک عورت اور مرد کے لیے الگ پیمانے کی بات ہے تو عورت کو تو آپ نے خود لذت کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس کے جسمانی خدوخال کو نمایاں کرکے کروڑوں تو آپ کما رہے ہیں، 16 سال کی لڑکی تو آپ ڈھونڈ کر لاتے ہیں اسکرین چمکانے کےلیے۔

اس لیے عورت ہو یا مرد، جو اخلاق باختہ کام کرےگا تو حرف تو آئے گا۔ دنیا کتنی بھی بدل جائے بےحیائی ذاتی معاملہ نہیں، نفس پرستی ہے اور اللہ کہتا ہے خواہش نفس اور ہوائے نفس کے مارے ہوؤں سے برا اس زمین پر کوئی نہیں۔

Comments

Avatar

عزیزہ انجم

ڈاکٹر عزیزہ انجم 30 سال سے بطور فیملی فزیشن پریکٹس کر رہی ہیں۔ شاعری کا مجموعہ زیرِ طباعت ہے۔ سماجی اور معاشرتی موضوعات پر طویل عرصے سے لکھ رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.