غیرت کے نام پر انوکھا قتل، خبردار ہوجائیں! - ڈاکٹر شفق حرا

شاعر مشرق علامہ اقبال نے غلام قادر روہیلا کی جانب سے مغل بادشاہ شاہ عالم کی آنکھیں نکلوانے اور مغلیہ خاندان کی شہزادیوں کے رقص سے لطف اندوز ہونے پر یہ مشہور شعر کہا تھا کہ

مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے

اس شعر کا اصل واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ غلام قادر روہیلا نے شاہ عالم کی آنکھیں نکلوانے کے بعد ایک جانب عام شہریوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم رکھا تو دوسری جانب وہ مغل شہزادیوں کو اپنے سامنے رقص کا حکم دیتا تھا۔

ایک دفعہ اس نے اپنے تخت کے پاس خنجر رکھا اور مغل شہزادیوں کو حسب معمول رقص کا حکم دیا۔ مغل شہزادیوں کے رقص کے دوران غلام قادر روہیلا نے آنکھیں موند لیں اور سوتا بن گیا۔ کئی گھنٹے گزر گئے لیکن مغل شہزادیوں نے موقع سے فائدہ اٹھائے بغیر رقص جاری رکھا۔ یہ منظر دیکھ کر غلام قادر روہیلا نے کہا کہ مجھے لگتا تھا کہ مغل خون میں کچھ غیرت اور حمیت ہوگی اور مغل شہزادیاں موقع سے فائدہ اٹھاکر مجھے قتل کرنے کی کوشش کریں گی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس واقعہ پر علامہ اقبال نے اپنی کتاب بانگ درا میں غلام قادر روہیلہ پر نظم لکھی جس میں یہ تاریخی شعر لکھا۔

یہ واقعہ دو سو سال قبل کا ہے لیکن اگر غیرت اور حمیت کی بات کی جائے تو ہم میں شاید یہ آج بھی عنقا ہے۔ میں یہ داستان گوئی قومی غیرت اور حمیت جگانے کی غرض سے نہیں کررہی بلکہ اس کی وجہ چند روز قبل فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ کا ایک واقعہ ہے۔ میڈیا میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ملزمہ رقیہ بی بی نے اپنے شوہر غلام قمر کو اجنبی عورت کے ساتھ دیکھا تو وہ مشتعل ہوگئی اور اس نے کلہاڑی کے وار کرکے اپنے شوہر کو ہلاک اور اس کے ساتھ موجود خاتون کو زخمی کردیا۔ پولیس نے رقیہ بی بی کو گرفتار کرلیا ہے۔ پاکستان میں غیرت کے نام پر خاتون کے ہاتھوں اپنے شوہر کے قتل کا شاید یہ منفرد واقعہ ہے۔ زیادہ تر واقعات میں مرد غیرت کے نام پر عورت کو بھینٹ چڑھاتے ہیں اور پھر اس کا پورے معاشرے میں ڈھنڈورا پیٹ کر اپنی کھوئی ہوئی غیرت واپس لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار بھٹو کیوں؟ ابو محمد

مجھے لگتا ہے کہ جس طرح سے تیمور کے گھر سے حمیت اور غیرت رخصت ہوئی، اسی طرح سے کسی مرد کا عورت یا عورت کا مرد کو غیرت کے نام سے قتل کرنا غیرت واپس نہیں لاسکتا۔ پاکستان میں سرگرم انسانی حقوق کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2013ء سے سال 2016ء تک تین سال کے دوران 2300 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ 2013 میں غیرت کے نام پر 869 خواتین کو قتل کیا گیا۔ 2014ء میں 1005، 2015ء میں 1096 جبکہ 2016ء کے وسط تک 220 خواتین غیرت کی بھینٹ چڑھائی گئیں۔ اس رپورٹ کے مطابق قتل کی تیس فیصد وارداتوں میں شوہر جبکہ بیس فیصد وارداتوں میں بھائی ملوث تھے اور زیادہ تر خواتین کو پسند کی شادی کی بناء پر قتل کیا گیا۔ غیرت کے نام پر قتل کے آدھے سے زیادہ واقعات پنجاب میں ہوئے جبکہ پنجاب میں زیادہ تر واقعات کا تعلق فیصل آباد سے تھا۔

انسانی حقوق کمیشن کی دی گئی رپورٹ صرف تین سال کے میڈیا میں شائع ہونے والے واقعات کی آئینہ دار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں غیرت کے نام پر زیادہ تر قتل پولیس تک پہنچنے سے قبل ہی دبا دیے جاتے ہیں کیونکہ قاتل اکثر و بیشتر خونی رشتہ دار ہوتے ہیں۔ کچھ واقعات میں ماؤں نے شوہر اور بیٹوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی بیٹیوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے جبکہ بعض جگہ بھائیوں نے شادی شدہ بہنوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا ہے۔ زیادہ تر واقعات میں قاتلوں کو قصاص اور دیت کے قانون کے تحت رہائی مل جاتی ہے اور حوا کی بیٹیاں دہائیوں سے اس ظلم کی چکی میں پس رہی ہیں۔

غیرت کے نام پر قتل کا جب بھی تذکرہ ہوتا تھا تو ایک سوال اکثر کیا جاتا تھا کہ کیا غیرت صرف ابن آدم کی ہے اور حوا کی بیٹیاں خدانخواستہ غیرت کے جرثوموں سے خالی ہیں۔ فیصل آباد کا واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب حوا کی بیٹیوں میں بھی غیرت کے جرثومے جنم لینا شروع ہوگئے ہیں اس لیے مردوں کو بھی محتاط رہنا ہوگا۔ اس واقعہ کے بعد کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر ہماری خواتین کی غیرت جاگنا شروع ہوگئی تو شاید یہاں مردوں کا قحط پڑجائے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان ڈر گئے؟ ڈاکٹر شفق حرا

غیرت کی حمایت یا مخالفت الگ بات ہے لیکن غیرت کے نام پر قتل چاہے مرد کا ہو یا عورت کا، بلاشبہ قابل مذمت ہے۔ لفظ غیرت کو بنیاد بنا کر ہمارے معاشرے کے مردوں نے بہت سے مالی فوائد اٹھائے ہیں۔ کبھی شوہر نے بیوی سے جان چھڑانے کے لیے غیرت کا بہانہ بناکر اسے قتل کیا تو کبھی بھائیوں نے بہن کے نام پر زمین ہتھیانے کے نام پر غیرت کے بیانیہ کو فروغ دیا۔ حیرت تو یہ ہے کہ ہماری ریاست بھی غیرت کے اس بیانئے سے کچھ ماہ قبل تک متفق تھی اور غیرت کے نام پر قتل کے بعد قاتل کو قصاص اور دیت کے تحت معافی حاصل کرنے کی اجازت تھی۔

پارلیمنٹ چند ماہ قبل غیرت کے نام پر قتل روکنے کے لیے قانون سازی کرچکی ہے اور اب ایسے واقعات میں مقتولہ کے ورثاء کے ساتھ ساتھ ریاست کو بھی فریق بنایا جائے گا تاکہ قصاص اور دیت کے قانون کا غلط استعمال رک سکے۔ بدقسمتی سے یہ قانون بننے کے باوجود ملک میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات جاری ہیں۔ رقیہ بی بی کے ہاتھوں اپنے شوہر کے قتل کا واقعہ ایسے ہی واقعات کی ایک کڑی ہے، لیکن یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے مردوں کے لیے ایک وارننگ ہے کہ اگر انہوں نے غیرت کے نام پر خواتین کی تذلیل کی روش نہ بدلی تو پھر شاید ملک میں لاقانونیت کا وہ منظر ہوگا جس میں ہمارے معاشرے کے مرد بھی غیرت کے اصول کے ہاتھوں ہی لقمہ اجل بنیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحثیت مجموعی غیرت کے اصولوں کو دوبارہ وضع کریں اور اپنی بہن بیٹیوں کو بھی وہی اعتماد دیں جوکہ ہم بیٹوں کو دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل تب ہی رک سکے گا جب ہم پسند کی شادی کو غیرت کا مسئلہ بنانے کی بجائے کھلے دل سے قبول کرنے پر آمادہ ہوں گے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہماری غیرت اور حمیت اسی طرح سے واپس نہیں آسکے گی جس طرح سے تیمور کے گھر سے نکلی غیرت اور حمیت آج تک بے گھر ہے۔

Comments

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ پی ٹی وی نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ویو کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتی ہیں، اور اپنے منفرد انداز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں