میاں نوازشریف کا مخمصہ - محمد اشفاق

اگر آپ یہ دیکھیں کہ جناب عمران خان جیسی شخصیت کو سیاست کے دشت کی سیاحی کرتے اکیس برس ہو چکے اور تاحال اقتدار کا ہما ان کے سر پہ نہیں بیٹھ پایا، جبکہ میاں نوازشریف اپنے سیاسی کیرئیر کے ابتدائی بیس برس میں دو بار وزیراعلیٰ اور دو بار وزیراعظم بننے کے بعد فوجی آمر کے ہاتھوں جلاوطن بھی ہو چکے تھے، تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ میاں صاحب قسمت کے کتنے دھنی ہیں.

مسلم لیگ کی صدارت، دو مرتبہ کی وزارت اعلیٰ اور پہلی مرتبہ وزارتِ عظمیٰ تو میاں صاحب کو گویا طشتری میں پڑی ملی تھی، اس کے لیے انھیں کوئی خاص جدوجہد نہیں کرنا پڑی. یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میاں صاحب کے سیاسی کیرئیر کا اصل آغاز وزیراعظم ہاؤس سے ہوا. ایک معروف تجزیہ نگار کے الفاظ میں میاں نواز شریف اور عوام کا معاملہ ایک ارینجڈ میرج جیسا ہے. دونوں فریقوں کی اپنی مرضی کا جس میں عمل دخل نہیں تھا اور دونوں ہی ایک دوسرے کو جانتے یا سمجھتے بھی نہیں تھے، مگر یہ وہ ارینجڈ میرج ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رومانس میں ڈھل جاتی ہے. میاں صاحب نے اپنی خوش قسمتی کا ہمیشہ بھرپور فائدہ اٹھایا ہے، اور آج جب وہ اس ملک کے سب سے سینئر، سب سے تجربہ کار اور سب سے مقبول لیڈر بن چکے تو اچانک ان کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی گئی. کیا ان کی خوش قسمتی کا کوٹہ پورا ہو چکا ہے؟ یہ سوال وہ یقینا خود سے کرتے ہوں گے.

جے آئی ٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی جس طرح انھوں نے اور ان کے حواریوں نے شورشرابہ کرنا شروع کیا، وہ ہم سب کے لیے ناقابل فہم تھا، مگر چند ماہ بعد ہی پتہ چل گیا کہ نواز شریف دیکھ چکے تھے کہ آگے ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، اور انہوں نے اس کی تیاری بھی کر لی تھی. اتنے بڑے سیاسی دھچکے کو مسلم لیگ نون نے جس طرح سہا ہے، جماعت جس طرح متحد رہی ہے، حکومت جس طرح بچا لی گئی ہے اور اپنے ووٹ بنک کو جیسے اپنے ساتھ رکھا گیا ہے، یہ سب غیرمعمولی تو ہے ہی، پاکستانی سیاست کے لیے ایک نیک شگون بھی ہے. برسراقتدار جماعت کی شکست وریخت ملک کو جس طرح کے عدم استحکام سے دوچار کر سکتی تھی، اس سے ہم بچ گئے.

میاں صاحب کی مشکلات کا مگر یہ آغاز تھا، اختتام نہیں. اس فیصلے پر ایک جارحانہ اور بھرپور مہم چلا کر انہوں نے اپنا ووٹ بنک تو بچا لیا ہے مگر کیا وہ خود کو بھی بچا پائیں گے؟ نیب ریفرنسز کی صورت میں ایک بہت بڑی آزمائش انہیں درپیش ہے، اگر وہ لندن میں قیام طویل کر لیتے ہیں تو یہاں پیشی بھگتانے، روز نئی ہیڈ لائنز بننے، ممکنہ گرفتاری سے بچنے میں تو وہ کامیاب ہو جائیں گے مگر عوام کے ساتھ ان کا وہ براہ راست رابطہ ٹوٹ جائے گا جو بڑے سالوں بعد ان کی برطرفی کے ساتھ بحال ہوا تھا. مسلم لیگ نون کی حکومت ایک یا دو بڑے فیصلوں کی مار ہے، نواز شریف کی اصل طاقت عوام ہیں. ہمارا مین سٹریم میڈیا ہمیں جو بھی دکھائے، حقیقت یہ ہے کہ ایک منتخب وزیراعظم کے اس طرح ہٹائے جانے کو عوام کی اکثریت نے سراہا ہرگز نہیں ہے. سندھ کے کسی گوٹھ کے چھپر ہوٹل میں بیٹھے چند لوگوں نے سندھی اخبار پڑھ کر تبصرہ کیا کہ اب "وہ" پنجابی وزیراعظم کو بھی نہیں بخشتے. بلوچستان میں کوئلے کی کان کے باہر سستاتے ہوئے مزدوروں میں کسی نے نفرت بھرے لہجے میں کہا کہ نواز شریف کو بھی آرمی نے اڑا دیا. پنجاب کی اکثریت اور خیبرپختونخوا کے عوام کی ایک معقول تعداد بھی اس فیصلے کو ہضم نہیں کر پائی. ہماری اربن مڈل کلاس کے نوجوان اور ان کی نمائندہ جماعت شاید یہ کبھی اندازہ نہ کر پائے کہ عوام اعدادوشمار، حقائق اور بیانیوں کے بجائے اپنی فیلنگز، اپنے محسوسات پر فیصلہ دیتے ہیں. ہمارے عوام کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ وہ قصے کہانیاں سننے میں دلچسپی رکھتے ہیں. اب میاں نواز شریف کے پاس سنانے کو ایک کہانی ہے، جس کا عنوان "مجھے کیوں نکالا" ہے، اور وہ جہاں بھی جائیں گے عوام کی ایک معقول تعداد انھیں سننے کے لیے نکلے گی، لیکن لندن میں دبک کر بیٹھ جانے سے نواز شریف یہ ایڈوانٹیج بڑی حد تک کھو دیں گے.

یہ بھی پڑھیں:   الجھن بمقابلہ الجھن - خرم اقبال اعوان

میاں نواز شریف کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ان کی ممکنہ سیاسی وارث مریم نواز شریف نے کھڑا کر دیا ہے. مریم نواز اور ان کی تیارکردہ سوشل میڈیا ٹیم نے جو تندوتیز اور جارحانہ رویہ اپنایا ہے، میاں صاحب کے لیے وہ مشکلات بڑھا دے گا. اگر جی ٹی روڈ ریلی سے آپ میاں صاحب کے خطاب یاد کریں اور ان کا موازنہ مریم نواز شریف کی این اے 120 کی تقاریر سے کریں تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ لیڈر اور کارکن میں کیا فرق ہوتا ہے؟ نواز شریف کچھ کہے بغیر بھی وہ کچھ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہے جو ان کا مقصد تھا، جبکہ مریم نواز نے کھلم کھلا جارحانہ رویہ اپنا کر کسی ممکنہ سمجھوتے، یا مفاہمت کے امکان کو بھی کھٹائی میں ڈال دیا، یہ بات پارٹی کے جہاندیدہ سیاستدان بھی محسوس کر رہے ہیں. غالب امکان ہے کہ میاں صاحب مریم نواز کی ایک معقول حد تک زبان بندی کر دیں گے، شفقت پدری اپنی جگہ، ان کی پہلی محبت مگر اقتدار ہے. مریم نواز فی الحال عمران خان کے لیول کی سیاستدان ہیں، نواز شریف کے لیول پر پہنچنے میں انہیں بہت وقت لگے گا. پارٹی کے اندر بھی یہ احساس بڑھ گیا ہے کہ وہ ابھی سیاسی نابالغ ہیں اور جماعت کی قیادت کے لیے ناموزوں.

نوے کی دہائی میں ہمارے ایک استاد محترم نے محترمہ بینظیر بھٹو اور نوازشریف کے بارے میں فرمایا تھا کہ دونوں اتنے اچھے وزیراعظم نہیں، جتنے اچھے اپوزیشن لیڈر ہیں، اس لیے ان کی رسہ کشی کبھی ختم نہیں ہوگی. بی بی تو شہید ہو کر امر ہو گئیں، نواز شریف کو آج اپنی حکومت ہوتے ہوئے ہی اپوزیشن کا رول دوبارہ مل گیا ہے، جسے شاید وہ عام انتخابات تک جاری رکھنا پسند کریں گے. یہ ایک سنہری موقع ہے، ایک جانب وہ اپنی حکومت کی تمام تر کامیابیوں کا کریڈٹ لے سکتے ہیں، دوسری جانب ان کی تمام ناکامیاں "مجھے کیوں نکالا" کی گرد میں گم ہو گئی ہیں، تیسری جانب وہ اگلے عام انتخابات کے لیے عوام کو ایک پرکشش نعرہ دینے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں. بیرونی دنیا کے چند طاقتور دارالحکومتوں کی خاموش حمایت بھی ان کے ساتھ ہے. خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے قوم پرستوں، کراچی کی نمائندہ لسانی جماعت اور مولانا فضل الرحمان کو ساتھ ملا کر، ایک تندوتیز اور جارحانہ مہم چلا کر وہ نہ صرف اگلے عام انتخابات جیتنے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں بلکہ حقیقی مقتدر قوتوں اور اکثر ان کا آلہ کار بننے والے آئینی اداروں کو بھی ان کی حدود میں رہنے پر مجبور کر سکتے ہیں. ان سب امکانات کے آگے مگر ایک بہت بڑی رکاوٹ کھڑی ہے اور وہی میاں نواز شریف کا اصل مخمصہ ہے.

یہ بھی پڑھیں:   ماہر ہ اور مریم - اسماعیل احمد

"میاں صاحب بھٹو بننے کا شوق تو رکھتے ہیں مگر انہیں مرنے سے ڈر لگتا ہے."