جماعت اسلامی: ایک غیر سیاسی تجزیہ - ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی

"اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے"، کیا لوگ اس جملے کو شعوری طور پر ماننے اور اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں؟ یا یہ بات صرف اسلامیات کا پرچہ حل کرنے تک محدود ہے؟ یا وہ لوگ جو سیاسی طور پر اس کے دعویدار ہیں، خود پر اس عمل کرتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اپنے بچوں کے لیے ایوان کا اور سادہ لوح افراد کے لیے جنگی میدان کا راستہ ڈھونڈتے ہیں؟ کیا اسلام کا مطلب چند فوجداری قوانین کا نفاذ ہے یا اس کا کوئی معاشی نظام بھی ہے؟ اگر ہے تو کہاں ہے؟

جن مسلمان مفکرین نے اس جملے کو تراشا تھا، ان کے سامنے تین، چار صدیوں کی شکست خوردہ یا نیم شکستہ امّت تھی۔ وہ اس کو پھر پٹری پر ڈالنا چاہتے تھے۔ ان کو ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام کا چیلنج درپیش تھا تو دوسری جانب اشتراکی نظام کا فکری مقابلہ کرنا تھا۔ پھر یہی نہیں اسلام کو بطور متبادل نظام بھی پیش کرنا تھا جو اپنے علم و حکمت کا ورثہ کھو چکا تھا۔

برصغیر میں تین قسم کی تحریکیں اٹھیں، ایک وہ جو "روایت" سے ہٹنے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ اسلام کو صرف ایک مذہب کے طور پر ماننے اور سکھانے پر مُصرتھے۔ یہ دارلعلوم دیوبند والوں کا نقطہ نظر تھا اور ان کے پیروکاروں کا اب بھی غالب تصوّر ہے۔ دوسرے طبقے کو ذہنی توانائی سر سید احمد خان سے مل رہی تھی۔ وہ بنیادی طور پر عقل پرست تھے اور وحی کو عقل کی کسوٹی پر جانچنے کے قائل تھے اور یہی یورپ میں بھی ہوا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دین و سیاست جدا ہوگئے۔ اب ہمارے کالجوں اور یونیورسٹی میں بھی یہی رحجان غالب ہے اور جتنی بھی غیر مذہبی سیاسی جماعتیں ہیں، وہ بھی اسی کی قائل ہیں۔ تیسری تحریک کو روحانی توانائی فکرِ اقبال سے ملی اور مولانا مودودی نے اس فکر کو سلیس اردو میں بیان کیا اور ایک جماعت بنا کر اس تحریک کو منظّم انداز میں چلانے کی کوشش کی۔ اس تحریک کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ عقل سے جتنا ہو سکے فائدہ لے لو، لیکن وحی کے بتائے ہوئے اصولوں کی روشنی میں۔

اس تحریک کو سمجھنا آسان نہیں تھا۔ اس کو سمجھنے کے لیے تاریخ، فلسفہ، سائنس اور مذہب عالم کا بنیادی علم ضروری ہے۔ اس لیے جماعت اسلامی شروع سے علمی لوگوں کی جماعت رہی۔ وہ بے شک کم تھے لیکن علمی اعتبار سے سب پر بھاری تھے۔ پھر وہ کردار کے لوگ تھے اور مخالفین بھی ان کے کردار کے قائل تھے۔ بدقسمتی سے کچھ معروضی حالات ایسے پیدا ہوگئے جن کی وجہ سے تحریک کو کچھ عارضی فائدے تو حاصل ہوئے لیکن انجام کار نقصان ہوا اور جماعت دِیر کی وادیوں میں محصور ہو کر رہ گئی۔ جس جماعت کو علمی کارنامے سر انجام دینے تھے اور اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر ثابت کرنا تھا، وہ اشتراکی نعرے کو اسلامی رنگ دینے پر مجبور ہوگئی۔ کیونکہ قیادت میں علمی استعداد نہیں کہ اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات ثابت کر سکے، اس لیے غربت کو بطور آلہ استعمال کر رہی ہے۔

اگر جماعت اسلامی کی قیادت کو یقین ہے کہ ملک میں کوئی اسلامی تبدیلی لانی ہے، پھر اسلامی کو اپنانا ہوگا اور جماعت کو ثانوی حیثیت دینی ہوگی

وہ معروضی حالات کیا تھے جن کی وجہ سے تحریک کو کچھ فائدے حاصل ہوئے؟ افغانستان پر روس کا حملہ۔ روس کا مقابلہ کرنے کے لیے باہر سے امداد آنا شروع ہوئی تو اپنے لیے دنیاوی جنت اور دوسروں کے لیے اخروی جنت کا خیال زور پکڑتا گیا۔ اس خام خیالی کا نتیجہ یہ ہوا کہ وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھے جانے لگے۔ قد آدم تصاویر راستوں پر آویزاں ہونے لگیں۔ تحریک کو "عوامی" بنایا گیا لیکن جماعت اسلامی عوامی نہ بن سکی اور نقصان یہ ہوا کہ اپنی خواص والی خاصیت بھی کھو بیٹھی۔

افغانستان پر روسی یلغار کے ساتھ ہی پاکستان میں ضیاء ازم کا دور دورہ ہو گیا۔ شروع شروع میں جماعت اسلامی کو ایک حد تک ریاستی سرپرستی حاصل ہوگئی جو آہستہ آہستہ دوسروں کی طرف منتقل ہوگئی۔ کراچی، جہاں علم والوں کی اکثریت تھی اور اس بناء پر تحریک کو وہاں تقویت بھی ملی تھی، وہ قوم پرستوں کا گڑھ بن گیا اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ چونکہ پاک فوج بلاواسطہ افغان جنگ میں حصہ نہیں لے سکتی تھی اور بالواسطہ جنگ کے لیے اس کو جہادی جذبے والے نوجوانوں کی ضرورت تھی، اور یہ ضرورت جماعت پوری کر رہی تھی، اب اسے بدقسمتی سمجھیں (سوچ سمجھ کر لکھ رہا ہوں) کہ روس کو شکست ہوگئی اور امریکا 'رستم زماں' کی حیثیت سے میدان میں رہ گیا اور دنیا کو اپنی مٹھی میں بند کرنے کے خواب دیکھنے لگا۔ امریکا کے تھنک ٹینکس کو معلوم تھا کہ روس کی شکست کے بعد جو چنگاریاں اسلام کو بطور نظام حیات پیش کرنے کے لیے ادھر ادھر سے اٹھ رہی ہیں، ان کو بجھانا ہوگا تاکہ سرمایہ دارانہ نظام کے لیے راستہ ہموار ہو۔ اس دہشت گردیاں کروائی گئیں تاکہ اسلام ایک نظام کے طور پر نہ ابھر سکے۔ ہاں! مسجدوں میں مقیّد رہے تو خیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کے لیے مہربانوں کے تیار کردہ 5 ٹریپ! - وسیم گل

چونکہ جماعت اسلامی کا تعلق ضیاء الحق اور جہاد افغانستان کے ساتھ رہا ہے، اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، اس لیے مغرب کی نظروں میں مشکوک ہے اور غیر مذہبی جماعتیں اس شک کو یقین میں بدلنے اور اپنے آپ کو روشن خیال، ترقی پسند، کثیر الثقافتی (بشمول ہم جنس پرستی و آزاد خیالی) اور عوامی ثابت کرنے کے لیے امریکا اور مغرب کی سرپرستی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ دوسری طرف اسلامی تصور شہادت سے عوامی فائدہ اٹھانے کے لیے شہید کو کبھی سابقہ اور کبھی لاحقہ استعمال کرتے ہیں۔ ان سے کوئی یہ پوچھے کہ جب دین اور سیاست جدا ہیں تو شہادت چہ معنی دارد؟

جماعت اسلامی کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ بہت سے اکابرین سے محترم مودودی صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ سیاست میں بلاواسطہ حصہ لینے کے بجائے ذہن سازی، کردار سازی، خدا شناسی پر توجہ دی جائے اور موقع آنے پر انتخابی سیاست میں حصہ لیا جائے۔ ذاتی طور پر میری پرورش ایسے گھر میں ہوئی ہے جس میں دو ناموں کا اکثر ذکر ہوتا تھا، اقبال اور مودودی۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ مودودی صاحب کو ایک خط لکھنے پر عموماً ایک ہفتہ لگتا تھا کیونکہ میرے والد ہر لفظ اور ہر جملہ سوچ سمجھ کر اور اردو صرف و نحو کے اصولوں کی روشنی میں لکھنے کے عادی تھے اور چار، پانچ مرتبہ 'رف' لکھنے کے بعد خط کو حتمی شکل دیتے تھے۔ اس بات کو یہاں لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ جماعت سے وابستہ لوگ اسلام کو شعوری طور پر سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کے ساتھ دن رات اپنی علمی و لسانی صلاحیتوں کو ترقی دینے میں مصروف رہتے تھے۔ ان کے اسلام کے علاوہ جغرافیہ، تاریخ، سائنس اور معاشیات کے مطالعے کا شوق تھا۔وہ علمی لوگ تھے، سیاسی نہیں تھے۔ اس لیے مخالف پارٹیوں کے لوگ بھی ان کی عزت کرتے تھے اور ان کی علم دوستی کی قدر کرتے تھے۔

جس سال میرے والد فوت ہوئے، اس سال اکثر ان کو (بحث و مباحثے کے دوران) یہ کہتے ہوئے سنا کہ "بیٹا! آپ کی مرضی، میں مولانا مودودی کو امام مانتا ہوں اور خدا کے حضور گواہی دوں گا کہ انہوں نے ہمیں اصل اسلام سے آگاہ کیا۔" مولانا سے اتنی محبت رکھنے والے انسان نے کبھی مجھے یہ نہیں کہا کہ جماعت اسلامی کو ووٹ دو۔ مجھے ان کی کتابیں اور اقبال کا کلام پڑھنے اور ان سے اسلام سیکھنے کو ضرور کہا۔ خلاصہ کلام یہ کہ جماعت اسلامی کی پہچان علم دوستی تھی، سادگی تھی اور منکرات سے پرہیز تھا۔ اپنے والد یا ان کے دوستوں کو کسی کے خلاف غلط زبان استعمال کرتے نہیں سنا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہتے تھے کہ خدا انہیں ہدایت دے۔

اب حالات بہت بدل گئے ہیں۔ اس زمانے میں جماعت کے کسی رکن سے بات کرتے ہوئے دشمن بھی ڈرتے تھے کہ کہیں علمی یا لسانی غلطی نہ ہو۔ اب امیروں کا یہ حال ہے کہ اردو ایسی بولتے ہیں کہ اردو دانوں کی روح تڑپ جاتی ہوگی۔ اصل اسلام والی بات کتابوں میں گم ہوگئی اور سیاست کا غلبہ ہوگیا۔ امیروں کی بات سے بھی اشتراکیت کی بو آ رہی ہے کیونکہ اصل اسلام ان کی زندگی میں نہیں تو دوسروں کو کیا پیغام دیں گے؟ سیاسی طور پر جب اشتراکیت ناکام ہوگئی تو اس کے نعروں کو استعمال کرنا کوئی علمی کارنامہ نہیں اور نہ کوئی موثر سیاسی حکمت عملی ہے۔ جہاں تک سیاسی حکمت عملی کا تعلق ہے تو مولانا فضل الرحمٰن صاحب صحیح راستے پر گامزن ہیں۔

اگر جماعت اسلامی کی قیادت کو یقین ہے کہ ملک میں کوئی اسلامی تبدیلی لانی ہے، پھر اسلامی کو اپنانا ہوگا اور جماعت کو ثانوی حیثیت دینی ہوگی کیونکہ اوّل ایک مسلمان کا مقصد حیات صدر یا وزیر اعظم بننا نہیں اور نہ ہی یہ فرائض میں شامل ہے، بلکہ اس کا مقصد حیات حتی المقدور حق و صداقت کی حمایت ہے اور اللہ کی راہ میں جان و مال کو خرچ کرنا ہے۔

اسلام میں لیڈر بننے کے لیے تقویٰ شرط ہے۔ چرب زبانی، جوڑ توڑ کی سیاست، بیان بازی، امیروں کی سیاست، غریبوں کی سیاست، عورتوں کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔ ضروری نہیں غریب مسلمان ہی سچا ہو، یا حق پر ہو، یا ضروری نہیں کہ امیر حق پر ہو۔ تقویٰ کے لیے ایمان داری، اصول پسندی، اکل حلال، منکرات سے پرہیز ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ صلاحیتیں ضروری ہیں جن کو اقبال نے 'نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز' کہا ہے۔

علم مؤمن کی میراث ہے اور علم کے بغیر مدلّل بات کرنا مشکل ہے اور پہلی وحی میں بھی اسی بات پر زور دیا گیا ہے۔ قلم، بیان، شعور، بصیرت، حکمت، معاملہ ٖفہمی، مردم شناسی اور فراست علم کے بغیر میسر نہیں ملتیں- لہٰذا اگر جماعت کو پٹڑی پر ڈالنا ہے تو اس کی علم دوستی کی روایت کو نہ صرف زندہ کرنا ہوگا بلکہ اس کے ساتھ تحقیق کو بھی ایک مربوط انداز میں ترقی دینا وقت کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ تحقیق مذہبی موضوعات تک محدو د نہ ہو بلکہ اس کا دائرہ کار سائنس، فلسفہ، ادب، لسانیات، تاریخ اور بشریات تک وسیع ہو اور اس کا معیار بین الاقوامی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ جماعت کا اپنی ٹی وی چینل ہونا چاہیے، جس کے ذریعے علمی پروگرام نشر کیے جائیں اور صراط مستقیم کا درس دیا جائے ۔

یہ بھی پڑھیں:   مجلس عمل کی بحالی، نتائج کیا نکل سکتے ہیں؟ - محمد عامر خاکوانی

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ عوامی ووٹ کے ذریعے اسلامی حکومت بنانا ایک پر خطر راستہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں عوام کی اکثریت بے شعور ہے، ان کو رسمی اسلام سے نکال کر نظریاتی اسلام میں لانے کے لیے وقت اور محنت درکا ر ہے۔ مولانا مودودی صاحب نے رسمی اسلام والوں کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کرنا پسند نہیں کیا، اس لیے الگ جماعت بنائی اور انہی رسمی اسلام والوں نے ان کی صلاحیتوں کو ایسے سوالات پر صرف کرنے پر مجبورکیا جو اکثر خیالی تھے، یا استثنائی تھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انتخاب کے راستے کو ترک کرنا ہے لیکن بذریعہ "حلوا" کے بجائے انتخاب بذریعہ تقویٰ ہونا چاہیے- اس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت کی قیادت اعلان کرے، آئندہ دس سالوں تک سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے، پھر دیکھتے ہیں کتنے جان نثار جماعت اسلامی میں رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور کتنے ناظم، نائب ناظم یا ممبر بننے کے خواب دیکھنے والے جماعت اسلامی کو چھوڑ تے ہیں۔

میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ اگر کسی انسان میں تقویٰ ہو تو اس کے لیے کسی سابقے یا لاحقے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ تقویٰ اس کی صدارت ہے اور اس کی ممبر شپ ہے۔ ہر جگہ اس کی عزت ہوتی ہے اور اس کی بات میں وزن ہوتا ہے اور لوگ ان کے مشورے پر عمل کرنے میں اپنا فائدہ سمجھتے ھیں۔ اس کو ممبر بننے کی ضرورت نہیں۔ یہاں تک مخالفین بھی اس کی بات کو بلا تردّد مانتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ یہ بندہ مخلص ہے، ایماندار ہے اور مفاد پرست نہیں ہے۔

جماعت کی قیادت کو یقین ہے کہ تبدیلی لانے کے لیے تعداد کی ضرورت ہے۔ میں کہتا ہوں تعداد کی نہیں تقویٰ کی ضرورت ہے۔ رحمت اللعالمینﷺ جو تبدیلی لائے، ووٹ کے ذریعے نہیں لائے بلکہ اپنے اعلیٰ اخلاق اور کردار کے ذریعے ان لوگوں کے اندروں کو ایسا گرما دیا کہ وہ دور جہالت کی اقدار کو نہ صرف چھوڑنے پر آمادہ ہوئے بلکہ اپنا سب کچھ لٹا کر اعلائے کلمۃ الحق کے لیے میدان میں اتر گئے۔ اگر مودودی صاحب ایوب خان کے مقابلے میں کھڑے ہوتے تو میرے خیال میں اپنا وقت اور توانائی ایک فضول کام میں گنوا دیتے اور جو تبدیلی وہ اپنے قلم کے ذریعے معاشرے میں لائے اور علمی کارنامہ سرانجام دیا، وہ ادھورا رہ جاتا ۔

لہٰذا اگر پاکستانی معاشرے میں اسلامی نظریہ حیات کے غلبے کے لیے کام کرنا ہے تو تقویٰ کو بطور مرکزی اصول اپنانا ہوگا اور اس کو ثابت بھی کرنا ہوگا۔ تقوے کو بنیاد بنا کر مندرجہ کام کرنے ہوں گے

-ایک ایسا مالی ادارہ بنانا ہوگا جو بینکنگ نظام کا نہ صرف متبادل ہو بلکہ اس سے موثر بھی ہو اور فائدہ مند بھی ۔ اس کے بغیر اسلام کا معاشی نظام ایک نعرہ ہی رہے گا۔

- مسلمان نو جوان رضاکاروں کی مضبوط تنظیم ہونی چاہیے جو صحت اور ماحول کے شعبے میں معاشرے کی خدمت گزاری میں شب و روز مصرو ف رہے۔

-علم و تحقیق کا ایسا ادارہ ہونا چاہیے جو نہ صرف دوسرے اداروں کو قابل اعتبار اعداد و شمار فراہم کرے بلکہ معاشرے کے ڈیموگرافکس پر مسلسل نظر رکھے اور متعلقہ ماہرین کی مدد سے ان پر تحقیق بھی جاری رکھے۔ یہ خالص علمی ادارہ ہونا چاہیے، اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہ ہو اور اس میں کام کرنے والے لوگ بھی علمی صلاحیتوں کے مالک ہوں۔ ادارے کا سر براہ متقی مسلمان ہو، تعصب اور تنگ نظری سے پاک ہو ادارہ علمی، تحریری اور تقریری مقابلوں کا بھی انعقاد کرے۔ اس ادارے کا کام یہ بھی ہو کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مقابلے کے امتحانوں کے لیے بھی تیار کرے۔

-ایک ادارہ عورتوں کی تعلیم و تربیت، صحت، اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مختص ہو اور اس کی سربراہ ایک متقی خاتون کو ہونا چاہیے۔

- چونکہ اسلامی نظریہ تجارت اور مالی امور بحیثیت رسمی علوم پڑھائے جاتے ہیں، ضروری ہے کہ الگ ادارہ ہو جو اس میدان کو ترقی دینے کے لیے کوشاں ہو۔

- ایک ادارہ نرم ٹیکنالوجی کو اسلامی نقطہ نگاہ سے ترقی دینے کے لیے وقف ہو، جس کا کام 'بلو وہیل' جیسے کھیلوں کو بھی روکنا ہو اور بچوں کے لیے ایسے کھیل ایجاد کرنا ہو جو ان کی ذہنی نشوو نما کو فروغ دینے میں ممدو معاون ہوں۔

Comments

ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی

بالائی چترال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اسماعیل ولی کی ایم-اے سے لے کر پی ایچ ڈی تک تمام ڈگریاں انگریزی زبان و ادب میں ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ ولیم شیکسپیئر کے ایک طربیے پر ہے جبکہ ایم فل مقالہ میتھیو آرنلڈ کی شاعری پر تھا۔ سرکاری ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور میں درس و تدریس کر رہے ہیں۔ اسلام، فلسفہ، مغربی ثقافت، نفسیات اور تصوف کا مطالعہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں