مفاد یا سیاست؟ - جاوید حسین آفریدی

گزشتہ کئی سالوں سے تحریک انصاف کی سیاست کا محور و مرکز صرف شریف خاندان ہے، ہر موڑ پر اس خاندان کی نااہلی اور مخالفت کے لیے جدوجہد اور کسی بھی طرح ن لیگ کے ساتھ کسی بھی نقطے پر عدم مفاہمت ! خواہ وہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل ہی کیوں نہ ہو، وہ مقابلہ کہ جس کی وجہ سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے چند روز قبل اپنی ورلڈ الیون بھیجی اور ان مقابلوں کی وجہ سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی امید پیدا ہوگئي ہے۔ خیر، ماضی میں کہا چلا گیا، حال میں واپس آتے ہیں کہ پاناما پیپرز آنے کے بعد عمران خان کی تمام تر سیاست کا محور و مرکز نواز شریف کی نااہلی بن گئی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کی اپنی جماعت میں بھی بڑے 'پاناما زدہ' موجود ہیں۔ پھر معاملہ سپریم کورٹ میں گیا اور اس کے فیصلے کا بھرپور کریڈٹ لیا گیا، جس کے وہ کافی حقدار بھی تھے لیکن ۔۔۔۔۔ گزشتہ روز ایوان بالا میں "وہی شخص" تحریک انصاف کے پورے 7 سینیٹرز کی غیر موجودگی کی وجہ سے صرف ایک ووٹ پر دوبارہ پارٹی صدارت کے لیے اہل ہو گیا اور یوں مستقبل کی سیاست کی راہ ہموار ہوگئی۔

کیا قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حاضری تحریک انصاف کے منشور کا حصہ نہیں ہے؟

کیا پارٹی صدارت کے لیے نااہل قرار دیے گئے شخص کا سینیٹ سے اہل ہونا سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین نہیں؟

عمران خان این اے-120 کے ضمنی انتخاب سے قبل ہر تقریر میں ایک ہی جملہ فرماتے تھے کہ یہ جنگ ایک نااہل شخص اور سپریم کورٹ کے درمیان ہے۔ یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ لاہور کا الیکشن تو عوام کی وجہ سے جیت گئے لیکن پارلیمنٹ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ چیلنج ہونا اور اسے جیتنا؟ کیا یہ بھی اسی لاہوری عوام کی وجہ سے ہے جو بقول مبشر لقمان کے 'کھوتے خور' ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   میں مریضِ وعشقِ رسول ہوں - حبیب الرحمن

اگر پارلیمنٹ سے غائب ہونا اور چوک چوراہے پر فیصلہ کرنا ہی تحریک انصاف کا منشور ہے تو کم از کم اپنے فیصلوں کا دفاع تو خان صاحب کو آنا چاہیے، جن کا وہ کریڈٹ لیتے ہیں۔

آخر میں ایک معصومانہ سوال، کہیں یہ 'پری پلانڈ' تو نہیں تھا؟ کیونکہ نااہلی کی تلوار تو خود خان صاحب کے سر پر بھی لٹک رہی ہے۔ 62، 63 سے گزرنا بھی کوئی آسان نہیں۔ اس لیے قوم کی خدمت کے لیے اور پارٹی چیئرمین رہنے کے لیے خان صاحب کا زندہ رہنا ناگزیر تھا اس لیے کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑا۔ اگر اس کو مفروضہ سمجھا جا سکتا ہے لیکن یہ بات ماننی پڑے گی کہ تحریک انصاف کی وجہ سے نواز شریف نااہل ہوئے تو اسی تحریک انصاف کی وجہ سے نواز شریف اہل بھی بنے۔