عوامی ایشوز پر اتنا سناٹا کیوں؟ - محمد عمیر

ایک وقت تھا کہ عوامی ایشوز بھی سیاست دانوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے تھے۔ مگر اب ہر پارٹی اپنی اپنی سیاست میں مصروف ہے۔ ن لیگ میاں نوازشریف کو دوبارہ اپنی جماعت کا صدر بنوانے، تحریک انصاف جلسے جلوس کرنے اور پیپلز پارٹی سابق صدر پرویز مشرف سے محاذ آرائی میں مصروف ہے۔ باقی کوئی ایسی جماعت بچتی نہیں جو کسی عوامی ایشو کو ملکی سطح پر اجاگر کرسکے۔ پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد این اے 120کے الیکشن کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا۔یہ الیکشن کے فیوض وبرکات تھیں کہ لوڈ شیڈنگ بھی غائب تھی، بجلی کے نرخ بھی نہیں بڑھ رہے تھے، پٹرول کی قلت بھی نہیں تھی، پیاز اور ٹماٹر کے نرخ بھی عام آدمی کی پہنچ میں تھے اور پھر یہ حسین خواب ٹوٹ گیا۔ الیکشن ہوگیا ساتھ ہی لوڈ شیڈنگ کا جن بوتل سے باہر نکل آیا،نیپرا نے بجلی کے ریٹ بڑھا دیے، اچانک لاہور جیسے شہرمیں پٹرول کی قلت ہوگئی اور پھر پیاز و ٹماٹر کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ ایک اندازے کے مطابق بجلی کے نرخ بڑھنے سے جس شہری کو پہلے 1400روپے بل آتا تھا، اب 2100 روپے آیا کرے گا۔

یقینی طور پر مہنگائی کا یہ طوفان خودبخود پیدا نہیں ہوا۔اس "جن" کو محض الیکشن تک قابو میں کیا گیا تھا، اس کے بعد عوام کی چنداں ضرورت نہیں رہی تو اسے بوتل سے باہر نکال دیا گیا۔الیکشن جیتنے والے، جتوانے والے سب بیرون ملک ہیں،ملکی پالیسیاں لندن میں طے پارہی ہیں تو عوام کس سے پوچھے کہ "اتنا سناٹا کیوں ہے؟"

پیاز کی قیمت 20روپے سے 100اور ٹماٹر فی کلو کی قیمت 200روپے تک پہنچ گئی ہے۔حکومت نے اس پر سخت ایکشن لیتے ہوئے ڈائریکٹر زرعی مارکیٹنگ کے تبالے کافیصلہ کیا ہے۔ امید ہے اس تبادلے سے پیاز اور ٹمام شرم سے ڈوب مریں گے،نیپرا والے منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے اور لوڈشیڈنگ اپنی موت آپ مرجائے گی۔

حکومت کو تو اس وقت چلیں اور بہت سے ضروری کام ہیں جن میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ کو چھپانا،نواز شریف کو دوبارہ سے ن لیگ کا صدر بنوانا،مختلف ترقیاتی منصوبوں کے ریکارڈ جلانا شامل ہیں، مگر یہ اپوزیشن کیوں خاموش ہے؟دھاندلی کے لیے دھرنا دینے والی تحریک انصاف کو عوامی ایشوز کیوں نظر نہیں آرہے؟ہر دوسرے دن پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کرنے والی پیپلز پارٹی کیوں آنکھیں اور منہ بند کیے ہوئے ہے؟جماعت اسلامی کو تو رہنے دیں، وہ ابھی این اے 120میں لگنے والے 592کے وی کے جھٹکے سے ہی باہر نہیں آپائی ہے۔

البتہ خان صاحب اور زرداری صاحب سے عرض ہے کہ جلسے جلوس بعد میں ہوسکتے ہیں،مشرف کو جواب بعد میں دیا جاسکتا ہے، مگر وقت کی ضرورت یہ ہے کہ عوامی ایشوز پر آواز اٹھائی جائے۔ بجلی کے نرخوں میں 3روپے 90پیسے کا اضافہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اس اضافے سے پیدا ہونے والا طوفان غریب آدمی کی کمر توڑنے کو کافی ہوگا۔مان لیا کہ سیاست کرنا زیادہ ضروری ہے مگر یہ سیاست جن لوگوں کے نام پر کی جارہی ہے ان کے لیے آواز اٹھانا بھی آپ ہی کا فرض ہے۔اگر ایک دوسرے کو جواب دینا ہی آپ کا فرض ہے تو عوام کے حقوق کی بات کون کرے گا؟ عام آدمی کے لیے کون کھڑا ہوگا؟

Comments

محمد عمیر

محمد عمیر

محمد عمیر کا تعلق لاہور سے ہے۔ روزنامہ اہکسپریس لاہور سے بطور رپورٹر وابستہ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی شعیہ ابلاغیات سے جرنلزم میں ماسڑ ڈگری کی ہوئی ہے۔ سیاست او حالات حاضرہ سے متعلق لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!