جہیز، ضرورت یا لعنت؟ - تنزیلہ یوسف

برصغیر میں ہندوؤں کے قبول اسلام کے ساتھ ساتھ بہت سے ہندووانہ رسوم و رواج بھی یہاں کے مسلمانوں میں در آئے، انہی میں سے ایک رسم جہیز کی بھی ہے۔ جہیز کے نام پر بہت سا غیر ضروری سامان دینے کا رواج روز بروز وبا کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ ایک لڑکی کو شادی کے موقع پر اگر اس کے گھر والے جہیز کے نام پر دنیا بھر کا سامان آسائش دے کر رخصت کرتے ہیں تو یہ دوسری غیر شادی شدہ لڑکیوں کے لیے اس بات کا اعلان ہے کہ ان کو بھی اتنا یا اس سے بھی زیادہ سامان آسائش ملنا چاہیے۔

جہیز دینے کی رسم کو بہت سے لوگ جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے عقد مبارک سے جوڑتے ہیں۔ یہ مثال پیش کرنے والوں کے علم میں یہ بات بخوبی ہونی چاہیے کہ متذکرہ نکاح میں جہیز کے نام پر ضرورت کی چند اشیاء حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے دلہن کو تحفتاً دی تھیں نہ کہ اپنی صاحبزادی کے والد ہونے کی حیثیت سے۔ اگر ایسا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دوسری بیٹیوں کو بھی ضرور جہیز دیتے نہ کہ اولاد کے مابین انصاف کی بجائے ناانصافی کا طرز عمل روا رکھتے۔ کم سنی میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علیؓ کو اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا اور اس حیثیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا کردار بخوبی نبھایا۔ امہات المومنین میں سے کوئی بھی اپنے ساتھ جہیز کے نام پر کچھ نہیں لائیں۔ اس سے اس تصور کی نفی ہوتی ہے کہ اسلام میں جہیز کے وجود کا تصور ملتا ہے۔

ہندوؤں میں لڑکیوں کو وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کسی ہندو لڑکی کی شادی ہوتی ہے اسے جہیز کے نام پر بہت سا غیر ضروری ساز وسامان دیا جاتا ہے۔ یہ عمل "دان" کرنا کہلاتا ہے۔ یہ تصور پاکستانی معاشرے میں بھی پختہ ہوتا جارہا ہے۔ لڑکیوں کو ان کے وراثتی حق سے یہ سوچ کر محروم کردینا کہ شادی کے وقت جہیز ہی ان کا وراثت میں سے حصہ تھا، سراسر غلط ہے۔

جہیز کا لفظ عربی زبان میں جہز سے نکلا ہے۔ اس کے معنی روانہ کرنا، تیار کرنا۔ اب یہ روانگی اور تیاری کسی مجاہد کی میدان جنگ میں بھی ہوسکتی ہے اور مسافر کی سفر پر روانگی بھی کہلائی جاسکتی ہے، دلہن کو نکاح کے بعد لڑکے کے گھر بھیجنے کے لیے تیار کرنا بھی ہوسکتا ہے غرض یہ کہ مختلف مواقع پر اس کے کئی معنی و مطالب لیے گئے ہیں۔

جہیز اگر دیا جائے تو اس میں لڑکی اور لڑکے پر احسان کا عمل کرتے ہوئے وہ سامان مہیا کرنا جس کی انہیں آئندہ زندگی میں ضرورت پیش آسکتی ہے، بہترین عمل ہے۔ اس عمل کو خاموشی کے ساتھ ہی ادا ہونا چاہیے نہ کہ نمودونمائش کا پہلو ظاہر ہو، تاکہ جو اتنا سامان نہیں دے سکتے ان کے دلوں میں احساس کمتری نہ پیدا ہونے پائے۔

شادی بیاہ میں بارات والے دن تمام مہمانوں کے سامنے سامان کا دکھاوا محض ریاکاری ہے۔

بعض لڑکے والے لڑکی والوں سے جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ ماں باپ اپنی بیٹی کو ہی دیں گے یا یہ کہ ان کی بیٹی نے ہی استعمال کرنا ہے اگر دے رہے ہیں تو کیا ہوا؟

بعض گھرانوں میں جہیز کے نام پر بہت سا غیر ضروری سامان دیا جاتا ہے جس کو رکھنے کے لیے لڑکے والوں کےہاں جگہ بھی نہیں ہوتی اور سامان خراب ہونے لگتا ہے۔ لڑکی والے اگر صاحب حیثیت ہیں اور بیٹی کو دنیا بھر کا سامان آسائش دے سکتے ہیں تو اس سے اسی خاندان کے متوسط گھر کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔یہ تاثر عام ہوجاتا ہے کہ فلاں خاندان کے لوگ بہت سا جہیز دیتے ہیں۔ اس بھرم کو قائم رکھنے کے لیے لڑکی والے جہیز دینے کے لیے قرض بھی لینا پڑے تو لیتے ہیں۔ قرض حسنہ نہ ملے تو سود پر بھی قرض لینے سے دریغ نہیں کیا جاتا۔ ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ شادی کی رسومات ادا کرنے کے لیے سود پر قرض لیا گیا اور بعد میں قرض وہیں کا وہیں ہے اور لڑکی کے باپ بھائی سود اتارنے میں لگے ہیں۔ والدین اس لیے بھی بیٹی کو بہت سا جہیز دیتےہیں کہ سسرال میں طعنے نہ سننے کو ملے۔

لڑکے کی مالی حیثیت دیکھ کر اگر جہیز کی بجائے اس کی مالی معاونت کردی جائے تو زیادہ بہتر ہے اور یہ کام اگر خاموشی سے کیا جائے محض ثواب کی نیت سے تو احسن عمل ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جب نکاح مشکل اور زناعام ہوجائے تو اس معاشرے کو تباہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ جہیز جیسی قبیح رسم کی وجہ سے بھی بہت سی لڑکیاں والدین کے گھر بیٹھی رہ جاتی ہیں۔ جہیز سے دوسرے خاندانوں کا استحصال نہیں ہونا چاہیے، اگر ضرورت ہے تو مستحسن عمل یہی ہے کہ ریا کاری نہ لگے، ساتھ ہی اور بہت سی بااخلاق لڑکیوں اور ان کے والدین کا استحصال ہو۔

Comments

تنزیلہ یوسف

تنزیلہ یوسف

تنزیلہ یوسف نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامک اسٹدیز میں ایم اے کیا ہے۔ ہاؤس وائف ہیں۔ دلیل سے لکھنے آغاز کیا۔ شعر کہتی ہیں، اور ادب کے سمندر میں قطرے کی مانند گم ہونے کے بجائے اپنی پہچان بنانا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.