بسوں کے عوامی تجزیہ کار - عبد الباسط بلوچ

لاہور میں بسوں کے سفر کے دوران کچھ ایسے "تجزیہ کاروں" سے واسطہ پڑتا ہے جن کی باتیں سن کر کبھی اپنا سر پھوڑنے کا دل کرتا ہے تو کبھی بے اختیار ہنسنے کا۔ ان کے "بے لاگ" تبصرے سنیے اور سر دھنیے۔

ضمنی انتخاب کے بعد میٹرو میں سفر کر رہا تھا ، جس میں دو ادھیڑ عمر بابے اونچی آواز میں تبصرے کر رہے تھے۔ ایک نے کہا "بڑی سہولت بن گئی ہے میٹرو"، دوسرے نے کہا "یہ نواز اور شہباز نے کاموں کے جال بچھا دیے ہیں، عوام ان کے ساتھ ہے، ویکھیا نہیں کل الیکشن وچ؟ عمران خان لحاف لے کے سویا ہوا ہے ہارنے کے بعد! اگلی حکومت بھی ان کی ہے، عمران تے ملک تباہ کر دینا اے!"

ان "بے لاگ" تبصروں سے ان کی سیاسی نظر کا ثبوت مل رہا تھا۔ ایک اور بس میں سفر کر رہا تھا جس میں دو بظاہر پڑھے لکھے افراد میرے پیچھے محو گفتگو تھے اور بات ریلوے کی زمینوں سے نکلی اور منڈی کی جگہ پر کیا بنے گا، یہاں تک پہنچی۔ ایک نے کہا اس جگہ پلازہ بنے گا، اس کی وجہ سے زمین پر بوجھ پڑے گا جو کہ خطرناک ہے۔ لوگ سائنس کے اصولوں کو مانتے نہیں، حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔آبادی بڑھ رہی ہے۔ میرے آگے بیٹھے بابا جی کا سٹاپ بھی قریب تھا اور وہ اس کی بات کا جواب بھی دینا چاہتے تھے۔ بولے، کچھ نہیں ختم ہونے والا، تم لوگوں کو رب پر یقین نہیں رہا۔ کم بچے پیدا کرنا حل نہیں، رب کی مخلوق ہے ہر ایک کو دے رہا ہے۔ وہ بابا جی تو اتر گئے لیکن میرے پیچھے بیٹھے تجزیہ کاروں کو نیا موضوع مل گیا، وہ بھی بابا جی کی عدم موجودگی میں۔ بات مہنگائی، وسائل اور حالات پر آ گئی۔ان کے مطابق بجلی کے بحران میں بھی کمی وقتی طور پر آئی ہے۔ مہنگا بے تحاشہ ہے اور بل بھی آسمان کو چھو رہے ہیں۔ جوکارخانے داروقت کے حاکم کی تصویر لگائے، اسے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ڈائریکٹ کنڈے لگانے والوں کے بل بھی عوام دیتے ہیں۔ ایک بولا مہنگائی ضیاء دور میں کنٹرول میں تھی، اس کے بعد جو بھی آیا اس نے لوٹا ہی ہے عوام کو۔دوسرا بولا اس ملک میں فوجی ہی بہترین حکومت کر سکتے ہیں۔

میرا بھی دل کر رہا تھا کہ شریک گفتگو ہو جاؤں لیکن ان کا جارحانہ انداز دیکھ کر خاموشی میں ہی عافیت جانی۔ سفر ختم، تجزیہ ختم اور اذیت بھی!