عقیدت کے چند آنسو - جمال عبداللہ عثمان

شہر میں ایک قافلہ ٹھہرا تھا۔ وقت کے حکمران نے اپنے ساتھی سے کہا: ’’آئیے! آج رات اس قافلے کی پہریداری کرتے ہیں۔‘‘ حکمران اور ساتھی نے پہرہ دینا شروع کیا۔ ایک چکر لگایا اور اس کے بعد نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔ اس دوران میں حکمران کے کانوں میں بچے کے رونے کی آواز آئی۔ انہوں نے رکعات پوری کیں۔ اس گھر کے قریب گئے اور کہا: ’’اللہ کا خوف کریں۔ اپنے بچے کو سنبھالیں۔‘‘ دوبارہ آکر قافلے کا چکر لگایا، نماز میں مشغول ہوگئے۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی۔ بچے نے پھر رونا شروع کردیا۔ حکمران دوبارہ گئے اور گھر کی طرف آواز دی: ’’اللہ کا خوف کریں۔ اپنے بچے کو سنبھال لیں۔ دوسرے لوگوں کی نیند اور عبادتوں میں خلل پڑرہا ہے۔‘‘ کچھ ساعت بعد رونے کی آواز پھر سماعتوں سے ٹکرائی۔ حکمران تیسری مرتبہ اس گھر کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’کیسے نالائق لوگ ہو، بچہ اتنی دیر سے رورہا ہے اور تم لوگوں کو پروا نہیں؟‘‘ بالآخر اندر سے آواز آئی: ’’اے اللہ کے بندے! آپ نے ہمیں تنگ کردیا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ بچے کا دودھ چھڑایا جارہا ہے اور وہ دودھ کے لیے بے قرار ہے۔‘‘

حکمران کو تشویش ہوئی۔ پوچھا: ’’بچے کی عمر کتنی ہے؟‘‘

کچھ مہینے بتائے گئے۔ حکمران نے سوال کیا: ’’دودھ اتنی جلدی کیوں چھڑایا جا رہا ہے؟‘‘

آواز آئی: ’’امیر المومنین اس وقت تک وظیفہ جاری نہیں کرتے جب تک بچہ دودھ پیتا ہو۔‘‘ حکمران نے بتایا: ’’اس کا دودھ بند نہ کریں۔ اللہ بہتر کارساز ہے۔‘‘

صبح ہوئی، حکمران نے فجر کی نماز پڑھائی۔ گفتگو شروع کی۔ آواز بھرائی ہوئی تھی۔ آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ اپنے آپ کو کوسنے لگے: ’’تجھ پر افسوس ہے، تم کتنے مسلمان بچوں کے قتل کا سبب بنے ہو؟‘‘ پھر اعلان کرایا: ’’آج کے بعد ہر بچے کی پیدائش پر وظیفہ مقرر ہوگا اور یہ حکم پوری سلطنت کے لیے ہے۔‘‘

جس حکمران کا تذکرہ ہے، اس کا نام ’’عمرؓ بن خطاب‘‘ ہے۔ وہی عمرؓ جن کی آمد سے اسلام کو عزت ملی، جن کے قبولِ اسلام پر آسمان میں فرشتوں نے خوشیاں منائیں اور جن کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دُعائیں مانگی تھیں۔ کل اسی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت ہے۔ یکم محرم کو آپؓ شہادت کا تاج سجائے اللہ کے حضور حاضر ہوئے۔ میں اسی نسبت سے اس عظیم شخصیت کی یاد تازہ کررہا ہوں۔ میرے سامنے ان کی سیرت پر مبنی کتابیں ہیں۔ ان میں بیسیوں واقعات ہیں۔ ایک ایک واقعہ ایسا ہے جسے پڑھ کر آنکھیں تر ہوجاتی ہیں۔ میں سوچتا ہوں کتنے خوش قسمت تھے وہ لوگ، جن کے سروں پر عمرؓ بن خطاب جیسی ہستیاں حکمران تھیں؟ ایسے حکمران جو قافلوں کی پہریداری کرتے تھے، جو رعایا کے بچوں کے رونے پر بے قرار ہوجاتے تھے۔ جنہیں دن کو سکون ملتا نہ رات کو آرام کی نیند لیتے۔ جن کے حلق سے اس وقت تک لقمہ نہ اُترتا جب تک رعایا کے بارے میں یقین نہ ہوجاتا۔

میری آنکھوں کے سامنے ایک منظر آتا ہے۔ اسلامی سلطنت میں قحط پڑا ہے۔ امیر المومنین عمر بن خطابؓ نے کھانا انتہائی معمولی کردیتے ہیں۔ اس کھانے سے آپ کے چہرے کا رنگ سیاہ پڑتا ہے۔ آپ پر کمزوری غالب آتی ہے۔ قریبی لوگ کہتے ہیں: ’’امیر المومنین! آپ کیوں اپنے آپ کو مشکل میں ڈالتے ہیں؟ آپ امیر ہیں۔ آپ کو اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔‘‘ آپ فرماتے ہیں: ’’کیا یہ مناسب ہوگا کہ میری رعایا بھوک پیاس سے مرے اور میں طرح طرح کی غذائیں کھاؤں؟‘‘

بندہ عرض کرتا ہے یقیناًعبادات لازمی ہیں۔ عبادات انسان کے اندر روحانیت پیدا کرتی ہیں۔ عبادت سے انسان سکون حاصل کرتا ہے، لیکن کوئی مسلمان محض عبادت سے نہیں پہچانا جاتا۔ مسلمان کا امتحان تب شروع ہوتا ہے جب معاملات اس کے سپرد کیے جاتے ہیں۔ جب اس کے سرپر سرکار کا عہدہ آجاتا ہے۔ آج آپ اپنے اردگرد دیکھ لیں۔ کیسے کیسے صاف ستھرے لوگ ہوتے ہیں، لوگ جن کی شرافت کے گن گاتے ہیں، جیسے ہی حکمرانی یا حکمرانوں کے قریب ہوتے ہیں، ان کی زندگی کا رنگ بدل جاتا ہے۔ ان کی اصلیت سامنے آجاتی ہے۔ ان کی دیانت کافور ہوجاتی ہے۔ ان کی خوشبو بھری زندگی سے بدبو آنا شروع ہوجاتی ہے۔ اور پھر جب انہیں سرکاری عہدوں سے علیحدہ کیا جاتا ہے، ان کے چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں۔ وہ اس قدر غمزدہ ہوتے ہیں کہ لگتا ہے دل پھٹ جائے گا۔ ایک وہ لوگ تھے جو ذمہ داریوں سے لرزتے تھے، جو اپنی اولادوں کے لیے وصیت کرکے جاتے تھے، انہیں کوئی ذمہ داری نہ دی جائے۔

جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا وقت قریب تھا۔ آپ نے بھی یہ وصیت کی: ’’میری اولاد کو خلافت یا خلافت میں کوئی ذمہ داری نہ دی جائے۔‘‘

واقعی سلطنت اور ریاست کو چلانا انتہائی مشکل ترین کام ہے۔ اگر یہ فائدے کی چیز ہوتی، عمر فاروقؓ اپنے بیٹوں کے لیے اسے ناپسند نہ کرتے۔ کون ہے جو اپنی اولاد کو فقروفاقہ اور تنگ دستی میں دیکھنا پسند کرتا ہے؟ لیکن انہیں معلوم تھا یہ نفع کا نہیں، خسارے کا سودا ہے۔ یہ آسانی کا راستہ نہیں، کانٹوں بھری شاہراہ ہے۔ ’جسے یہ ذمہ داری ملی، گویا وہ اُلٹی چھری سے ذبح کردیا گیا۔‘ یہ لوگ آخرت کی جوابدہی سے ڈرتے تھے۔ جی ہاں! یہ لوگ آخرت کی جوابدہی سے ڈرتے تھے، اسی لیے دنیا میں جوابدہی کے لیے پیش ہوتے تھے۔

آج کا دن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عقیدت میں چند آنسو بہانے کا ہے۔ وہ واقعہ بھی سن لیجیے جب آپ منبر پر آئے اور فرمایا: ’’لوگو! میری بات سنو۔‘‘ ایک شخص اُٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ’’ہم آپ کی بات نہیں سنیں گے۔ پہلے اس بات کا جواب دیں، آپ کے پاس دو کپڑے کہاں سے آئے؟ باقی سب کو مالِ غنیمت سے ایک ایک کپڑا ملا اور آپ کے تن پر دو ہیں؟‘‘

یہ سوال اس عمرؓ بن خطاب سے کیا جا رہا ہے، جن کے رُعب ودبدبے سے لوگ لرزتے تھے۔ جن کے بارے میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ڈرایا گیا تھا۔ جب ابوبکرؓ نے عمرؓ بن خطاب کی خلافت کے بارے میں رائے دی۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا: ’’عمر بہت تیز مزاج کا مالک ہے، رعایا بہت مشکل میں پڑجائے گی۔‘‘ آج اسی عمر بن خطاب سے ایک عام شخص کہتا ہے: ’’ہم آپ کی بات نہیں سنیں گے جب تک آپ ہماری بات کا جواب نہیں دیں گے۔‘‘ مگر عمرفاروقؓ کے چہرے کا رنگ بدلتا ہے، نہ ہاتھ پیر کانپنا شروع ہوتے ہیں۔ وہ پرسکون رہتے ہیں۔ اپنے بیٹے کو بلاتے ہیں۔ کہتے ہیں انہیں جواب دے دو۔ بیٹا جواب دیتا ہے: ’’ایک چادر مجھے ملی تھی اور ایک میرے والد کو۔ میں نے اپنی چادر والد کو دے دی۔ یہی وجہ ہے ان کے تن پر آپ کو دو کپڑے نظر آرہے ہیں۔‘‘ تب وہ شخص مطمئن ہوتا ہے اور کہتا ہے: ’’ہاں! اب آپ بات کریں، ہم بات سنیں گے۔‘‘ آج 58 اسلامی ممالک کے سربراہان دور کی بات، کسی نچلے درجے کے مشیر سے سوال کرکے دیکھیں۔ وہ زمین کی تہ تک پہنچادے گا۔ ایسا نہ کرسکا تو احتجاج کرے گا اور اسے ذاتی معاملات میں مداخلت قرار دے گا، مگر عمر فاروقؓ نے بات سنی اور اطمینان دلایا۔

میں عمرؓ جیسے حکمران کا سوچتا ہوں تو دل اُداس ہوجاتا ہے۔ سوچتا ہوں ہم ایسے حکمرانوں سے کیوں محروم ہیں؟ ہم کیوں ایسی ہستیوں کی رعایا نہیں؟ پھر اپنے گریبان میں جھانکتا ہوں، سب حقیقت عیاں ہوجاتی ہے۔ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: ’’ابوبکرؓ وعمرؓ کا زمانہ پُرامن اور پُرسکون تھا۔ آپ کا دور اس جیسا نہیں۔‘‘ علی المرتضیٰؓ نے فرمایا: ’’ابوبکرؓ وعمرؓ کی رعایا ہم جیسے لوگ تھے اور میری رعایا تم جیسے افراد پر مشتمل ہے۔‘‘

لاریب! ٹھیک فرمایا جیسے اعمال ہوتے ہیں، ویسے ’’عمال‘‘ ہوتے ہیں۔ جیسی رعایا ہوتی ہے، ویسے ان کے سروں پر حکمران مسلط ہوتے ہیں۔ آج ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے حکمرانوں کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن اپنے گریبانوں میں نہیں جھانکتے۔ ہم بدلی ہوئی دنیا چاہتے ہیں، اپنی ’’دنیا‘‘ بدلنے پر تیار نہیں ہوتے۔ پھر ہم کیسے عمر فاروقؓ جیسے حکمرانوں کی توقع کیسے کرسکتے ہیں؟ آئیے! آج اپنے آپ کو بدلتے ہیں۔ یقیناًہماری قسمت میں عمرؓ جیسے حکمران پھر بھی نہیں میسر نہیں آسکیں گے کہ وہ ایک ہی تھے، مگر آج جو ظلم وستم ہے۔ جو بے چینی اور بے سکونی ہے۔ جو پستی ہے، اس میں کچھ تو کمی آئے گی۔ کچھ تو فرق پڑے گا!

کم خوری شیوہ تھا تاکہ بھوک کا احساس ہو
اور یتیموں، مفلسوں کے درد کا کچھ پاس ہو

بے کسوں پر مہرباں تھا ظالموں پر سخت گیر
گویا تیرے کام میں ایمارِ قدرت تھا مشیر

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.