دھیرج خان صاحب دھیرج - راجہ وحید احمد

آپ 1985ء سے لے کر اب تک ہر سال پاکستان کے دس خوش قسمت ترین انسانوں کی فہرست مرتب کریں پھر تمام 32 سالوں کی فہرستوں کا آپس میں موازنہ کریں تو مجھ کو یقین ہے کہ آپ کی تیار کردہ تمام فہرستوں میں ایک شخصیت کا نام ضرور ہو گا اور وہ شخصیت ہے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان! قسمت کی دیوی ہر میدان میں اُن پر مہربان رہی کھیل، خدمت خلق اور سیاست۔ پاکستان میں کھیلوں کے میدانوں میں چمکتے ہوئیں ستاروں کا اگر جائزہ لیں تو جہانگیر خان اور جان شیر خان کی خدمات پاکستان کے لیے ناقابل یقین ہیں۔ یہ دو شخصیات جن کی وجہ سے پاکستان کو پوری دُنیا میں بے انتہا شہرت ملی، جنہوں نے ایک بار نہیں دس، دس بار ورلڈ ٹائٹل جیتا لیکن جتنی شہرت عمران خان کے حصے میں آئی اُس کا دسواں حصہ بھی جہانگیر خان اور جان شیر خان کو نصیب نہ ہوا۔ پاکستا ن میں خدمت خلق کے میدان میں ایک شخص ایسا بھی گزرا جن کی زندگی کااوّلین مقصد ہی صرف انسانیت کی خدمت تھا جنہوں نے اپنی تما م زندگی ایک کالی شلوار قمیض اور ایک بوسیدہ سی جوتی میں گزار دی۔ مصیبت کی ہر گھڑی میں وہ پاکستا نی عوام کے ساتھ کھڑے رہے، بغیر کسی لالچ اور طمع کے۔ نہ عہدے کی خواہش، نہ پروٹوکول کی۔ وہ شخصیت تھی جنا ب عبدالستار ایدھی صاحب کی، لیکن ایک شوکت خانم ہسپتال کی وجہ سے اس ملک کی عوام نے جو رتبہ خان صاحب کو دیاوہ اگر ایدھی صاحب سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں۔ سیاست کے میدان میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا تو قائد اعظم اور ذوالفقار علی بھٹو کے بعدعوام کی نظروں میں ایک طلسماتی شخصیت، جس کے سحر میں گرفتاراس ملک کی نوجوان نسل جن کی نظر میں خان صاحب ایک سیاستدان سے زیادہ لیڈر ہیں۔

لیکن لیڈر اور سیاستدان میں ایک فرق ہوتا ہے۔ لیڈر اپنی آنے والی نسلوں کا سُوچتا ہے اور سیاستدان اگلے الیکشن کا۔ لیکن اس ملک کی بدقسمتی کہ خان صاحب نہ لیڈر بن سکے اور نہ ہی سیاستدان۔ کرپشن کی راجدھانی پر راج کرنے کی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے، ماسوائے سندھ سے، خاتمے کے بعد اور اس ملک کے طاقتور حلقوں کی آشیرباد کے ساتھ جب خان صاحب ایک سیٹ والی جماعت سے ملک کی دوسری سب سے بڑی سیاسی جماعت اور ایک صُوبے کے حکمران بن گئے تو خان صاحب کو ایک فیصلہ کرنا تھاکہ اُنہوں نے لیڈر بننا ہے یا سیاستدان۔ اگر اُنہوں نے لیڈر بننا ہوتا تو اُن کی منڈیر پر بیٹھے ہوئے تمام پرندے موسمی نہ ہوتے جیسے فواد چوہدری،علیم خان اور فردوس عاشق اعوان بلکہ صاف شفاف کردار کے حامل لوگ جیسے جسٹس(ر) وجہیہ الدین احمد، حامد خان اور جاوید ہاشمی اُن کی جماعت کا سرمایہ ہوتے، تعلیم یافتہ اور ایماندار نوجوانوں اور غریب لوگوں کو سیاست میں آگے لانے کی کوشش کرتے، خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کے بعد تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات لاتے،احتساب کا ایک ایسانظام متعارف کرواتے جو مثالی ہوتا،کرپشن کی روک تھام کے لیے قانون سازی کرتے،غربت کے خاتمے اور بے روزگاری میں کمی کے لیے لوگوں کے سامنے اپنا منشور پیش کرتے، پارلیمنٹ میں اپنے ممبران کی حاضری کو یقینی بناتے،ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرتے، الیکشن کمیشن اور نیب کا قبلہ درست کرنے کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کے تحریک چلاتے،تحریک انصاف کو جمہوری طرز پر چلاتے، میرٹ کی بنیاد پر خواجہ جمشید امام جیسے ورکرز کو اپنی سیاسی جماعت میں آگے آنے کا موقع دیتے،اداروں پر کیچڑ نہ اُچھالتے بلکہ اُن کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالتے،ملک کی معشیت کو تباہ کرنے کے لیے دھرنے نہ دیتے بلکہ اس کے معاشی استحکام کے لیے اپنی پارٹی کے اسد عمر جیسے لوگوں پر مشتمل ایک گروپ بناتے جو اس ملک کی معاشی ترقی کے لیے گورنمنٹ کو اپنی سفارشات پیش کرتا،سول نافرمانی جیسی تحریک کا اعلان نہ کرتے بلکہ بیرون ملک میں بسنے والے پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے، پارلیمنٹ میں پیش ہونے والی قراردادکشمیر کا بائیکاٹ نہ کرتے بلکہ پارلیمنٹ میں اُس کی بھرپور حمایت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کشمیریوں کے حق میں آواز اُٹھاتے،اس ملک کو عزت دینے والے بین الاقوامی کھلاڑیوں کو "پھٹیچر" کا خطاب نہ دیتے بلکہ ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے اپنے تعلقات کا استعمال کرتے۔

یہ بھی پڑھیں:   پوائنٹ آف نو یوٹرن - قادر خان یوسف زئی

لیکن، اس ملک کی بدقسمتی کہ وہ لیڈر تو دُور کی بات اچھے سیاستدان بھی نہ بن سکے کیوں کے اگر وہ سیاستدان ہوتے تو سیاسی مسائل کو سپریم کورٹ میں نہ لے کر جاتے،دھرنے کے دوران اپنے کچھ مطالبات کی منظوری کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیتے،آرمی پبلک اسکول میں ہونے والوں دھماکوں کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے شہدا کا دکھ بانٹنے کی بجائے اپنی شادی کے شادیانے نہ بجاتے،بلدیاتی الیکشن سے صرف ایک دن پہلے ریحام خان کو طلاق نہ دیتے،ہر ادارے کے سربراہ کی پہلے تعریفوں کے پُل نہ باندھتے اور پھر اُس پر کیچڑ نہ اُچھالتے،جب اُن کے ورکر اٹک کے پُل پر مار کھا رہے تھے، اُس وقت وہ خوشامدیوں کے نرغے میں پش اپس نہ لگا رہے ہوتے بلکہ اپنے ورکرز کے آگے ایک دیوار کی طرح کھڑے ہوتے۔ اپنے ایک بیان میں آف شور کمپنی کو جائز اور دوسرے ہی بیان میں ناجائز نہ قرار دیتے۔ کے پی کے میں اپنے ہی اتحادیوں کو صبح کرپٹ اور شام کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش نہ کرتے۔ اپنی تقریروں میں عدلیہ، الیکشن کمیشن، نیب اور دیگر ملک کے اہم اداروں کو لعن طعن نہ کرتے۔ اگر وہ سیاستدان ہوتے تو این اے 120 میں علیم خان، جانگیر ترین، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور چوہدری سرور کو الیکشن کے موقع پر یک جان دو قالب بناکر ڈاکٹر یاسمین راشد کی کامیابی کی صورت میں لاہور کا قلعہ فتح کرنے کا جشن منانے میں بھی کامیاب ہو جاتے اور اگر وہ سیاستدان ہوتے تواس طرح کے بیانات نہ داغتے کہ پنجابی بے وقوف لوگ ہیں، ان کو شرم آنی چاہیے اورنہ ہی عائشہ گلالئی جیسے گل کھلاتے۔

کاش خان صاحب سیاستدان ہوتے اور سیاست کی کچھ چالیں اپنے ہی دوست شیخ رشید سے سیکھ لیتے۔ مسلم لیگ (ن ) کی تنزلی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے خاتمے کے بعد اس ملک کی اس بات میں ہی بہتری ہے کہ خان صاحب اب لیڈر نہیں تو سیاستدان ضرور بن جائیں۔ یہ نہ ہو 2018ء میں جب پاکستان کے بد قسمت ترین انسانوں کی فہرست مرتب کی جائے تو سب سے سر فہرست خان صاحب کا نام ہو اور لوگ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ خان صاحب کی قسمت بھی "پھٹیچر" نکلی!