حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کے فضائل و مناقب - محمد ضیاء اللہ زاہد شجاع آبادی

آپ کا نام عمر بن خطاب،لقب فاروق اعظم جبکہ کنیت ابو حفص ہے۔ لقب اور کنیت دونوں نبی کریم ﷺ کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرمﷺ سے جا ملتا ہے۔آپ ﷺ کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے مرہ اور عدی ہیں۔ رسول اللہﷺ مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر عدی کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت واقعہ فیل کے تیرہ برس بعد ہوئی۔آپ رضی اللہ عنہ کی رنگت سرخی مائل سفید، شکل و صورت کے لحاظ سے آپ خوبرو اور بارعب، دراز قد، داڑھی مبارک قدرتی طور پر ہلکی جبکہ مونچھیں قدرے گھنی تھیں۔ جسمانی طور پر آپ رضی اللہ عنہ طاقتور پہلوان، چاق وچوبند، مستعد اور انتہائی باہمت انسان تھے۔

چار چیزیں جو آپ رضی اللہ عنہ کے خاندانی اوصاف میں سے ہیں وہ آپ کو ورثے میں ملیں، جن میں سے ایک یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ انساب کے بہت بڑے ماہر تھے اس لیے آپ رضی اللہ عنہ لوگوں کے اخلاقی حیثیتوں کو عام لوگوں کی نسبت زیادہ جانتے تھے، دوسری یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ نے بارہا سفارتی امور کے منتظم اعلیٰ کی حیثیت سے سفر فرمائے، تیسری آپ فصیح و بلیغ جامع اور معنی خیز گفتگو کرنے والے پرجوش خطیب، بے مثل ادیب تھے۔ آپ کی باتوں میں حکمت و دانائی چھلکتی تھی، چوتھی خداداد جسمانی طاقت کے باعث آپ رضی اللہ عنہ کو پہلوانی میں ممتاز مقام حاصل تھا۔

آپ رضی اللہ عنہ بچپن ہی سے بے باک، نڈر، شجاع، دلیر اور حق گو تھے۔آپ قریش کے ان چند لوگوں میں سے ایک تھے جو پڑھنا، لکھنا جانتے تھے۔ اس کے علاوه آپ عرب کے دستور کے مطابق فن سپہ گری، گھڑ سواری، شمشیر زنی اور دوسرے جنگی وعسکری مہارتوں میں درجہ کمال تک پہنچے ہوئے تھے۔ دیگر رؤساء قریش کی طرح آپ کا بھی ذریعہ معاش تجارت تھا جس کے لیےآپ رضی اللہ عنہ نے یمن، شام کے علاوه دیگر کئی دور دراز کے سفر بھی کیے۔

جب حضور اکرم ﷺ نے تبلیغِ اسلام شروع کی اور قریشِ مکہ کی طرف سے نبیِ کریم ﷺ اور مسلمانوں پر ظلم و تشدد روز بروز بڑھنے لگا تو نبی کریم ﷺ نے دین اسلام کی عزت اور مشن نبوت کے فروغ کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اشد ضرورت محسوس کی اور غلافِ کعبہ کو تھام کر اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں دعا فرمائی:

اللھم اعز الاسلام بعمر بن الخطاب "اے اللہ! عمر بن خطاب کے ذریعہ اسلام کو غلبہ عطا فرما"۔

اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی دعا کو شرفِ قبولیت سے نوازا اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نبوت کے چھٹے سال حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے یہی وجہ ہے کہ آپ کو مرادِ رسول ﷺ بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کے قبولِ اسلام سے مسلمان مَردوں کی تعداد چالیس ہوگئی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ " جب سے عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ اسلام لائے، یہ دین روزبروز ترقی کرتا چلا گیا"۔

امام ابن حبان رحمہ اللہ نےاپنی الصحیح میں حدیث ذکر فرمائی ہے : "سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر ایمان لائے تو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺ ! عمر کے اسلام لانے پر اہلِ آسمان یعنی فرشتوں نے بھی اظہارِ مسرت فرمایا۔"

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میرے قبولِ اسلام پر دارِ اَرقم میں موجود مسلمانوں نے خوشی میں اس زور سے تکبیر بلند کی کہ اسے تمام اہلِ مکہ نے سنا۔ میں نے دریافت کیا، یا رسول اللہ ﷺ ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ فرمایا، کیوں نہیں، یقیناً ہم حق پر ہیں۔ میں نے عرض کی،پھر ہم پوشیدہ کیوں رہیں؟ چنانچہ وہاں سے تمام مسلمان دو صفیں بنا کر نکلے۔ ایک صف میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے اور ایک میں، مَیں تھا۔جب ہم اس طرح مسجد حرام میں داخل ہوئے تو کفار مکہ کو سخت صدمہ پہنچا۔ اس دن سے رسول کریم ﷺ نے مجھے فاروق کا لقب عطا فرمایا کیونکہ اسلام ظاہر ہو گیا اور حق وباطل میں فرق پیدا ہو گیا۔

امام طبرانی رحمہ اللہ المعجم الکبیر میں حدیث ذکر فرماتے ہیں:"سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر کا قبول اسلام ہمارے لیے ایک فتح تھی اور ان کی امارت ایک رحمت تھی، خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔ پھر اس قابل ہوئے کہ ہم نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھی۔"

ہجرت کے موقع پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارا نہیں کیا چنانچہ آپ نے تلوار ہاتھ میں لی کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا " تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہوجائے اس کے بچے يتيم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے" مگر کسی کافر کی ہمت نہ ہوئی کہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا راستہ روک سکتا۔ مواخات مدینہ میں قبیلہ بنو سالم کےسردارعتبان بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ کوآپ کا بھائی بنایا گیا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ تمام غزوات بشمول غزوۂ بدر،غزوہ احد،فتح مکہ اور حجۃ الوداع میں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ رہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں،آپ کا شمار علماء و زہاد صحابہ میں ہوتا تھا۔

خلیفة الرسول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور تھے، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا کہ پوری انسانی تاریخ میں عدلِ فاروقی ایک مثال بن کر رہ گیا۔ آپ سے پانچ سو اُنتالیس (539) احادیث مروی ہیں۔ آپ کی صاحب زادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو حضور ﷺ کی زوجہ ہونے کا شرف حاصل ہے

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دورِ خلافت میں دمشق، بصرہ،اردن، مدائن، حلب، انطاکیہ، بیت المقدس،نیشاپور،مصر،اسکندر یہ،آذربائیجان، طرابلس، اصفہان، مکران، عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران،خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ ہی کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم یعنی فلسطین فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباًً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جس طرح اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام انصرام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کو جس خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا وہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عبقریت کی دلیل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بطل ِ جلیل - صلاح الدین فاروقی

بحیثیت خلیفۃ المسلمین آپ رضی اللہ عنہ نے کئی مفتوحہ علاقوں کا دورہ کیا، ان علاقوں میں کھلی کچہریاں لگوائیں، فوری انصاف کو یقینی بنایا، عوام الناس کی شکایات کو دور کرنے کے نہ صرف احکامات جاری کیے بلکہ ان کی مشکلات حل فرمائیں۔ عوام کے دکھ درد اور مسائل کو سمجھنے کے لیے راتوں کو گلی محلوں کے گشت کیے، عوام کی حفاظت کے پیش نظر بذاتِ خود پہرے دیے، روٹی کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضرورتوں کو عوام کی دہلیز تک پہنچایا اور ضرورت مندوں کی ضروریات پورا کرنے کے لیے خود ان کے دروازوں تک پہنچے، رعایاپروری کے لیے رات اور دن ایک کردیا۔زمانہ قحط میں رعایا پروری کی ایسی مثال قائم کی کہ ان کے دُکھ درد میں برابر کے شریک رہنے کے لیے اپنی خوراک میں اس قدر سادگی اختیار کی کہ گھی اور زیتون کا استعمال تک چھوڑ دیا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں کئی ایسی اصلاحات نافذ کیں کہ جنہیں رہتی دنیا تک یاد کیا جاتا رہے گا۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہی نے سب سے پہلے اسلامی تقویم کا آغاز ہجرت نبوی سے شروع فرمایا اور اس کی ابتدا ء محرم سے فرمائی۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ حکومتی نظم ونسق کے لیے دفاتر وانتظامی شعبے قائم فرمائے۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مساجد میں روشنی کا مناسب انتظام کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ماہِ رمضان میں ایک مسجد میں قندیل روشن دیکھی تو فرمایا، اللہ تعالٰی عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قبر کو روشن فرمائے کہ انہوں نے ہماری مسجدوں کو روشن کر دیا۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ اکثر صوف کا لباس پہنتے جس میں چمڑے کے پیوند لگے ہوتے۔ اسی لباس میں دُرّہ لیے ہوئے بازار تشریف لے جاتے اور اہلِ بازار کو ادب وتنبیہہ فرماتے۔ سادہ غذا کھاتے، عوام کے حالات جاننے کے لیے راتوں کو گشت کرتے۔ جب کسی کو عامل (گورنر) بناتے تو اس کے اثاثوں کی فہرست لکھ لیا کرتے نیز اسے عوام کی فلاح کے لیے نصیحتیں فرماتے اور اپنی یہ شرائط سنا دیتے تھے : گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا۔عمدہ کھانا نہ کھانا۔باریک کپڑا نہ پہننا۔حاجت مندوں کی داد رسی کرنا۔اگر اس کے خلاف ہوتا تو سزائیں دیتے۔

آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ ایسے حاکم تھے کہ لوگوں کے اعتراضات بھری مجلس میں سماعت فرماتے، ان کا جواب دیتے اور کبھی برا نہیں مناتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ اے عمر! ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ کہاں سے آیا ہے؟ کیونکہ بیت المال سے جو کپڑا ملا وہ اس سے بہت کم تھا تو عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ اس کا جواب میرا بیٹا دے گا۔چنانچہ عبداللہ بن عمر کھڑے ہوگئے۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔

ابن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن حضرت امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دروازے پر بیٹھے ہوۓ تھے کہ ایک کنیز گزری۔ بعض کہنے لگے یہ باندی حضرت کی ہے۔ آ پ (حضرت عمر) نے فرمایا کہ امیر المؤمنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے؟ میرے لیے صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہی خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی توجہ جمع و ترتیب قرآن کی طرف مبذول کرائی۔ آپ کی توجہ کہ بدولت قرآن کریم کوترتیب سے جمع کیا گیا۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مفتوحہ علاقوں میں قرآن کریم کی تعلیم کے لیے مکاتب و مدارس قائم کیے، قاری صاحبان اور ائمہ مساجد کی تنخواہیں مقرر فرمائیں۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع فرمائی، عرب و عجم کے سنگم پر کوفہ شہر آباد فرمایا، بیت المال تعمیر کرائے، یہودیوں کو جزیرہ عرب سے دیس نکالادیا۔

مورخین کے محتاط اندازے کے مطابق آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانہءِ خلافت میں 3600علاقے فتح ہوئے۔ 900جامع مساجد اور 4000 عام مساجد تعمیر ہوئیں۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی دیگر صحابہ رضی اللہ عنھم کی طرح مشورہ کرتے چنانچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ آئے تو فرمایا میں ان کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملوں گا۔

حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کی عظمت و مرتبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بارہا احادیث میں ان کے فضائل بیان فرمائے۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عثمان رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں،علی رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، طلحہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، زبیر رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں،عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، سعد رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، ابوعبیدہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   حضرت عمر فاروقؓ کادورِ خلافت، اسلام کا ایک جیتا جاگتا نظام حیات - اکرام الحق چوہدری

امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب جامع الترمذی میں حدیث نقل فرمائی ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” ہر نبی کے لیے دو وزیر اہل آسمان میں سے اور دو وزیر اہل زمین میں سے ہوتے ہیں۔ ”جبرائیل و میکائیل میرے دو آسمانی وزیر ہیں جب کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما میرے دو زمینی وزیر ہیں۔“

ایک دوسری حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب فرماتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”اے عمر! شیطان تم کو دیکھتے ہی راستہ کاٹ جاتا ہے۔“

ایک اور حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر کے بارے میں فرمایا کہ ”میری امت میں اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔“

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اپنی مسند میں حدیث نقل فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ سے پوچھا : آج کس نے جنازہ پڑھا ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نے۔ آپ ﷺ نےپوچھا : آج کس نے کسی مریض کی تیمارداری کی ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نے۔ آپ ﷺ نے پوچھا : آج کس نے صدقہ کیا ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نے۔ آپ ﷺ نے پوچھا : آج کون روزے سے رہا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی، واجب ہوگئی (یعنی عمر کے لیے جنت واجب ہو گئی)۔

امام دیلمی رحمہ اللہ نے مسند فردوس میں حدیث نقل فرمائی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل جنت کا چراغ عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی الصحیح میں حدیث نقل فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بے شک تم سے پہلی امتوں میں مُحَدَّثْ ہوا کرتے تھے۔ اگر میری امت میں بھی کوئی مُحَدَّثْ ہے تو عمر ہے۔

نوٹ: مُحَدَّثْ کا معنی ہوتا ہے صاحبِ الہام یعنی جس کے دل میں حق بات من جانب اللہ ڈالی جاتی ہو۔

اسی طرح ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ”میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ ہوتے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ ”اگر دنیا کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں اور عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا پلڑا بھاری ہوگا۔ “

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ”عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زبان پر سکینہ بولتا ہے۔ وہ قوی و امین ہیں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مقام اللہ نے ایسا بلند فرمایا کہ آپ کی زندگی میں کئی کرامات کا ظہور ہوا۔ مصر کی فتح کے بعد وہاں کے گورنر عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مصریوں کو ان کے رواج کے مطابق ایک کنواری لڑکی دریائے نیل کی بھینٹ چڑھانے کی اجازت نہ دی تو دریائے نیل خشک ہو گیا۔اس پر گورنر نے آپ کی خدمت میں سب ماجرا لکھ بھیجا۔ آپ نے ایک خط لکھ کر ان سے فرمایا، اس خط کو دریا میں ڈال دو۔

خط میں لکھا تھا،" اللہ کے بندے امیرُ المومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی جانب سے دریائے نیل کے نام! معلوم ہو کہ اگر تو خودبخود جاری ہوتا ہے تو مت جاری ہو، اور اگر تجھے اللہ تبارک وتعالٰی جاری فرماتا ہے تو میں اللہ واحد وقہار ہی سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ تجھے جاری کر دے"۔جب یہ خط دریا میں ڈالا گیا تو دریا ایسا جاری ہوا کہ معمول سے سولہ گز پانی زیادہ چڑھ گیا اور وہ پھر آج تک کبھی خشک نہ ہوا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک لشکر ساریہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نامی شخص کی سربراہی میں جنگ کے لیے نہاوند بھیجا۔ کچھ دن بعد جمعہ کے خطبہ میں آپ نے تین بار فرمایا، "اے ساریہ! پہاڑ کی طرف"۔ جب لشکر کا قاصد آیا تو اس نے بتایا کہ ہمیں شکست ہونے کو تھی کہ ہم نے یہ آواز سنی، "اے ساریہ ! پہاڑ کی طرف"۔ چنانچہ ہم پہاڑ کی طرف ہو گئے۔ پس جنگ کا پانسہ پلٹ گیااور ہمیں فتح ہوئی۔ (مشکوٰۃ باب الکرامات)

26 ذی الحجہ 23ھ کو جب آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نماز فجر پڑھانے لگے تو ایک مجوسی غلام ابولولو فیروز نے آپ کو دو دھارے خنجر سے پے در پے کئی وار کر کے شدید زخمی کر دیا۔آپ نے خلیفہ کے انتخاب کے لیے ایک کمیٹی بنا دی جو چھ اکابر صحابہ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد، حضرت طلحہ اورحضرت زبیر رضی اللہ عنہم پر مشتمل تھی کہ یہ باہم مشاورت سے ان میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کر لیں۔زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے یکم محرم الحرام کو آپ کی شہادت واقع ہوگئی۔آپ کی خواہش پر اُمُ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اجازت سے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پہلو میں دفن کیے گئے۔ ( ماخوذ از تاریخ الخلفاء)۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بعد اتفاق رائے سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کو امیر المومنین منتخب کیا گیا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ شخصیت ہیں کہ غیر مسلم بھی جن کی عظمتوں کا برملا اعتراف کرتے ہیں۔ چنانچہ مشہور مورخ ایچ جی ویلز کا کہنا ہے کہ ”ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما تاریخِ اسلام کی دو شاہکار شخصیتیں ہیں۔"

برسہا برس سے مالی وسائل کی وسعتوں کے باوجود آج کی ترقی یافتہ حکومتیں ایسی طرز حکومت کی مثال پیش کرنے سے عاجز وبے بس ہیں جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نامساعد حالات میں قائم فرمائی چنانچہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نافذ کردہ اصلاحات، طے کردہ قواعد و ضوابط،مقرر کردہ اصول ہائے جہانبانی آج کے حکمرانوں بالخصوص مسلم دنیا کے حکمرانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ امتِ مسلمہ کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسا حکمران عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین!

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!